صحت اورانسانی بے بسی

صحت اورانسانی بے بسی
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
انسانی زندگی بھی کتنی عجیب ہوتی ہے اس کی ہر چیز مختصر ہوتی ہے۔اس کی ہوس و حرص کبھی کم نہیں ہوتی کہ جتنی خواہش رکھتا ہے ملتی ہوئی نعمتیں اتنی ہی کم محسوس ہوتی ہیں،زندگی دینے والااور اس نظام کو چلانے والا اپنے اندازے کے مطابق فیصلے کرتا ہے،اس میں ہمارے جذبات کچھ کام نہیں کرتے،بسا اوقات انسان کچھ ایسا کچھ کرتا ہے جس میں اس کی بہتری محسوس ہوتی ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے تلخی ہوتی ہے،کبھی اضطراری طورپر ایسا کچھ ہوتا ہے کہ بظاہر ناگوار لیکن اس کے نتائج خوشگوار ہوتے ہیں۔وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ۔البقرہ۔
۔کی عملی تصویر دن رات دیکھنے کو ملتی ہے۔زندگی کی ساری تگ و دو سے جتنے بھی تنائج برآمد ہوتے ہیں،وہ ایک لگے بندھے سلسلہ کی کڑی لگتے ہیں۔ہماری کاوشیں ہمیں اطمنان ضرور دلاتی ہیں،ضروری نہیں کہ ان کاوشوں کا من چاہے نتائج بھی برآمد کئے جاسکیں۔
اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہئے،شکر ہی سب سے بہتر طرز زندگی ہے،ہماری رونے چلانے سے نظام کائنات تو نہیں بدلتا یہ تو یوں ہی چلتا رہے گا،البتہ دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجاتا ہے،جب انسان اپنے رب کے سامنے سربسجود ہوکر دل کی بھڑانس نکال لیتا ہے ،آنسو بہاکر جمع شدہ آلودہ کو صاف کرلیا جاتا ہے تو دل کو قرار آجاتا ہے۔
انسان اتنی جلدی ہار ماننے والاکہا ں ہوتا ہے ،یہ بھاگتا ہے وسائل تلاش کرتا ہے ،طاقت آزماتا ہے۔تعلقات بروئے کار لاتا ہے،جب تک اس کی انرجی کام کرے سکون نہیں کرتا ،جیسے جہسے اس کی توانائی میں کمی ہوتی جاتی ہے وسائل و وسائط محض بےکار لگنے لگتے ہیں تو رب کی وحادنیت و کبرائی اتنی ہی پردہ اخفاء سے نمودار ہونے لگتی ہے۔یہی زندگی کا خلاصہ اور یہی جمع پونجی ہوتی ہے۔انسان ایک ہچکی کی تو مار ہوتا ہے ،جب سانس کی جگہ ہچکی لے لے تو پھر خالق کی کبرائی چھلکنے لگتی ہے، اور انسانی سوچیں اور اس کی نخوت پس پردہ سرکنا شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔۔ایک بلبلہ ہے جتنی جلدی بنا اس سے کہیں جلدی اسے پھوٹنے اور مٹنے کی ہوتی ہے۔۔یہ تو ایک وہم و دھوکہ ہے تعلق ہیں ،وسائل ہیں۔معاملات دنیا بہتر ہیں،سوائے خمار کے اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔نظام قدرت کی کارفرمائی کس دھیمے انداز میں اپنا احساس دلاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔
سانس سے ہچکی تک کا سفر کتنامختصر اور قلیل ہوتا ہے۔اس دوران انسان کیا کچھ نہیں سوچتا ،بشاط بھر کیا کچھ نہیں کرتا۔ہاتھ پائوں مارنے کا ہر ایک کا اپناپنا انداز ہوتا ہے۔
آج میرا بیٹا سعد یونس ہسپتال میں ہے کل اسے خون کی الٹی آئی اس الٹی سے کافی جما ہوا خوش کلاٹس کی صورت میں نکلا،مگر اس الٹی کے بعد اس کے پیٹ کا کھچائو کم ہوگیا ہے۔جنرل ہستال لے گئے انہوں نے ایمرجنسی میں کچھ ادویات دیں ،خون کے ٹیسٹ کرائے،رات تقریبا بارہ بچے کے قریب وارڈ میں شفٹ کردیا گیا۔۔رات مطمئن ہوکر گھر آگئے۔ سعدکےساڑھے پانچ بجے فون آیا کہ ابو مجھے ایک اور الٹی آئی ہے۔اس میں خون آیا ہے۔ہسپتال میں بیڈ کا مسئلہ بنا ہوا ہے ،وارڈ بوائے کبھی ایک بیڈ پر تو کبھی دوسرے بیڈ پر دھکیل رہے ہیں۔۔اس وقت میرا بھتیجا وقاص خورشید اس کے ساتھ ہے۔۔۔کافی پریشانی ہے۔اللہ تعالیٰ شفاء سے ہمکنار فرمائے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.