حیس۔۔حلوہ (کھجور کا حلوہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ کی شادی کی مٹھائیاں

حیس۔۔حلوہ (کھجور کا حلوہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ کی شادی کی مٹھائیاں

حیس
حیس

41 حیس۔۔حلوہ (کھجور کا حلوہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ کی شادی کی مٹھائیاں
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کے ماہرین کی زیر نگرانی۔قران و حدیث میں مذکورہ غذائوں اور جڑی بوٹیوں پر تحقیقی سلسلہ41

اثر خامہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

1) ایک کھانا جو گھی / کھجور / پنیر / ستو وغیرہ کو ملا کر بنایا جاتا ہے / ایک قسم کا حلوا۔
حیس ((ی لین) امذ)
2) ایک کھانا جو گھی ، کھجور ، بنیر ، ستو وغیرہ کو ملا کر بنایا جاتا ہے ، ایک قسم کا حلوا۔لایا کاسہ بزرگ حیس سے پس کھایا اوسے ناسیر ہوئے (۱۸۵۱، عجائب القصص (ترجمہ) ، ۶ : ۵۲)
٭حیس کا حلوہ (کھجور کا حلوہ)٭ نبی کریمﷺ کی شادی کی مٹھائی٭ “حیس” ایک حلوہ ہے جو کھجور، زرد تیل اور دہی سے بنایا جاتا ہے اور کچھ لوگ اس میں دہی کی بجائے تل ڈالتے ہیں، آہستہ آہستہ پیلا تیل ڈال کر گوندھتے رہیں، آخر میں تھوڑا سا دہی ڈال کر مکس کر لیں۔ ایک ہموار حلوہ.یہ حلوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی بیاہ میں استعمال کیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ کی شادی کی مٹھائیاں
حیس ایک حلوہ ہے جو کھجور، زرد تیل اور دہی سے بنایا جاتا ہے اور کچھ لوگ اسے دہی کی بجائے ڈنٹھل میں شامل کرتے ہیں، زرد کا تیل ڈال کر گوندھتے رہیں اور آخر میں تھوڑا سا دہی ڈال کر مکس کریں تاکہ ہموار حلوہ بن جائے۔یہ حلوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی بیاہ میں استعمال کیا ہے۔

طبی فوائد۔
عضلاتی غدی مزاج ہے۔جسمانی کمزوری دور کرتا ہے۔خفیہ طاقتں بحال کرتا ہے۔سوکھے سڑے جسموں کو تروتازی کرتا ہے۔طاقت کا خزانہ ہے۔
زچگی کے بعد ہونے والی کمزوری کو طاقت میں بدلنے والا ٹانک ہے۔جوڑ درد۔بلغلمی امراض میں بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ جن کے جوڑ اور رباط ڈھیلے اور نرم پڑجائیں انہیں خاص فائدہ ہوتا ہے۔شادی شدہ افراد کو کبھی کبھار اس کا استعمال زندگی کا معمول بنا لینا چاہئے۔

عربی ادب سے ایک شعر
اذا تکون کریھة ادعی لھا ۔۔و اذا یحاس الحیس یدعی جندب
شعر کا ترجمہ : جس وقت کوئی لڑائی ہو تی ہے تو اس کے لئے میں بلا یا جا تا ہوں ۔۔اور جس وقت حلوا تیار کیا جا تا ہے تو جندب بلایا جا تا ہے۔
حیس(کھجور سے بناہواحلوہ)کچھ احادیث
ا عیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو“ تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہم کو پلاؤ“ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے) فرمایا: ”تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ“ وہ کہتے ہیں: تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ المساجد 6 (752)، الأدب 27 (3723)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، جب بھی آپ کہیں پڑاؤ کرتے خدمت کرتا۔ میں سنا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والعجز والكسل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والبخل والجبن وضلع الدين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“ (انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا۔ آخر جب مقام صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس (کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ) بنایا پھر مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوت ولیمہ تھی۔ پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا کہ اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا۔ اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما۔ ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔
اس روایت میں حیس(ملیدہ) بنانے کی ترکیب لکھی ہے۔
٭ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: “رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے شادی کی تو میری والدہ نے مجھ سے کہا: “انس بیٹا! رسول اللہ ﷺ نے نئی نئی شادی کی ہے۔ پتہ نہیں آج ان کے گھر میں کوئی ناشتہ وغیرہ بھی موجود ہے یا نہیں؟ ذرا وہ تھیلی لاؤ۔” میں ان کے پاس گھی کی تھیلی اور کھجوریں لے آیا۔ انھوں نے حیس تیار کیا، پھر بولیں: “بیٹا! یہ نبی کریم ﷺ اور ان کی دلہن کے لیے لے جاؤ۔” میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پتھر کے ایک برتن میں حیس لے کر گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: “اسے ایک کونے میں رکھ دو اور ابوبکر، عمر، عثمان اور علی کو بلا لاؤ۔” آپ نے کچھ اور صحابہ کے نام بھی لیے، پھر فرمایا: “مسجد والوں کو بھی اور راستے میں جو بھی ملے سب کو بلاؤ۔” مجھے بڑا تعجب ہوا کہ تھوڑا سا تو کھانا ہے اور رسول اللہ ﷺ اتنے افراد کو بلا رہے ہیں! پھر بھی مجھے اچھا نہ لگا کہ آپ کا کہا ٹالو۔ کمرہ بلکہ پورا گھر مہمانوں سے بھر گیا۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: “انس! کوئی رہ تو نہیں گیا؟” میں نے کہا: “نہیں، اے اللہ کے نبی!۔” پھر آپﷺ نے فرمایا: “وہ برتن اٹھالاؤ۔” میں نے برتن لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا۔ آپﷺ نے اپنی تین انگلیاں برتن میں ڈال دیں۔ حَیس پھولنے لگا اور پھولتے پھولتے اوپر آگیا۔ لوگوں نے کھانا شروع کردیا۔ سب نے خوب جی بھر کے کھایا اور فارغ ہوکر چلے گئے۔ برتن میں پہلے جتنا حیس باقی تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: “اسے زینب کے آگے رکھ دو۔” انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ثابت نے ان سے پوچھا: “کتنے لوگوں نے وہ کھانا کھایا ہوگا؟” انھوں نے جواب دیا: میرے خیال میں وہ اکہتر(71) یا بہتّر (72) آدمی تھے۔” ((صحيح مسلم، النكاح، باب زواج زينب بنت جحش رضي الله عنها، حديث: 1428)) .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علِیُّ بْنُ إِبْرَاهِیمَ عَنْ أَبِیهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عُمَیْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اَللَّهِ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ حِینَ تَزَوَّجَ مَیْمُونَةَ بِنْتَ اَلْحَارِثِ أَوْلَمَ عَلَیْهَا وَ أَطْعَمَ اَلنَّاسَ اَلْحَیْسَ.
امام صادق علیہ السلام: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث کی بیٹی کی بندر سے شادی کی تو آپ نے لوگوں کو کھانا دیا جس کا کھانا گھاس کا کھانا تھا۔ الکافی (ط – الإسلامیة)،ج5،ص368، المحاسن،ج2،ص418۔ تهذیب الأحکام (تحقیق خرسان)،ج7،ص409۔ وسائل الشیعة،ج20،ص95۔بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج22،ص190۔ دعائم الإسلام،ج۲،ص۲۰۴
👈أنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص تَزَوَّجَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ فَأَوْلَمَ وَ کَانَتْ وَلِیمَتُهُ الْحَیْس‏.
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے شادی کی تو آپ نے ولیمہ میں حیس کھانے میں دیا۔ علل الشرائع،ج1،ص65.۔ بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج32،ص346۔ البرهان فی تفسیر القرآن،ج4،ص482
👈…قَالَ عَلِیٌّ ثُمَّ قَالَ لِی رَسُولُ اَللَّهِ یَا عَلِیُّ اِصْنَعْ لِأَهْلِکَ طَعَاماً فَاضِلاً ثُمَّ قَالَ مِنْ عِنْدِنَا اَللَّحْمُ وَ اَلْخُبْزُ وَ عَلَیْکَ اَلتَّمْرُ وَ اَلسَّمْنُ فَاشْتَرَیْتُ تَمْراً وَ سَمْناً فَحَسَرَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ عَنْ ذِرَاعِهِ وَ جَعَلَ یَشْدَخُ اَلتَّمْرَ فِی اَلسَّمْنِ حَتَّى اِتَّخَذَهُ حَیْساً وَ بَعَثَ إِلَیْنَا کَبْشاً سَمِیناً فَذُبِحَ وَ خُبِزَ لَنَا خُبْزٌ کَثِیرٌ …
علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا: اے علی! شادیوں اور گھر والوں کے لیے بہت سا کھانا تیار کرو، پھر فرمایا: میں تمہیں گوشت، روٹی، کھجور اور تیل دوں گا، اس نے اسے تیل میں ڈالا اور اس کوحیس” کہا اور ایک موٹی بھیڑ ذبح کی اور تیار کیا۔ روٹی کا ایک بڑا سودا.
الأمالی (للطوسی)،ج1،ص40۔ بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج43،ص95۔ عوالم العلوم ،ج11،ص438
بحار الانوار میں “حیس” کا ذکر ہے اور امالی میں اس کے بجائے “خبیس” کا ذکر ہے۔یہ ایک خالص پیسٹری ہے جو زرد تیل اور کھجور سے تیار کی جاتی ہے اور اس میں دہی نہیں ڈالا جاتا۔
👈و مِنَ اَلْمَنَاقِبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَ سَلْمَانَ اَلْفَارِسِیِّ وَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَلَیْهِ السَّلاَمُ وَ کُلٌّ قَالُوا:…أَخَذَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ مِنَ اَلدَّرَاهِمِ اَلَّتِی سَلَّمَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَدَفَعَهَا إِلَى عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلاَمُ وَ قَالَ اِشْتَرِ سَمْناً وَ تَمْراً وَ أَقِطاً فَاشْتَرَیْتُ وَ أَقْبَلْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اَللَّهِ فَحَسَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ عَنْ ذِرَاعَیْهِ وَ دَعَا بِسُفْرَةٍ مِنْ أَدَمٍ وَ جَعَلَ یَشْدَخُ اَلتَّمْرَ وَ اَلسَّمْنَ وَ یَخْلِطُهُمَا بِالْأَقِطِ حَتَّى اِتَّخَذَهُ حَیْساً.
… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو جو رقم دی تھی اس میں سے دس درہم واپس لے کر مجھے دیے اور فرمایا: جاؤ اور تیل، کھجور اور دہی خرید لو۔ میں نے ان کو خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا۔ اس نے اپنی آستینیں لپیٹیں اور دسترخوان اور کھجور اور دہی کو آپس میں ملا کر ایک کھانا بنایا جسےحیس کہتے ہیں۔ بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج43،ص132۔ عوالم العلوم ،ج11،ص422
عدْنَا إِلَى مَا أَوْرَدَهُ اَلدُّولاَبِیُّ وَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ: … وَ لَقَدْ أَوْلَمَ عَلِیٌّ لِفَاطِمَةَ عَلَیْهَا السَّلاَمُ فَمَا کَانَتْ وَلِیمَةُ ذَلِکَ اَلزَّمَانِ أَفْضَلَ مِنْ وَلِیمَتِهِ رَهَنَ دِرْعَهُ عِنْدَ یَهُودِیٍّ وَ کَانَتْ وَلِیمَتُهُ آصُعاً مِنْ شَعِیرٍ وَ تَمْرٍ وَ حَیْسٍ .
اسماء بنت عمیس کے ناموں سے منقول ہے: اور علی (ع) نے شادی کی رات جو ولایت دی تھی وہ اس وقت کی بہترین ولایت تھی اور آپ نے اسے شمعون یہودی کے پاس اپنی زرہ کے رہن سے حاصل ہونے والی رقم سے فراہم کی تھی۔ روٹی جو، کھجور اور گھاس تھی۔ بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج43،ص138. عوالم العلوم ،ج11،ص414
٭ حیض کا حلوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ مٹھائیوں میں سے ایک رہا ہے:
👈عنْ أَنَسٍ قَالَ: … وَ کَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ یَأْکُلُ اَلْحَیْسَ وَ کَانَ یَأْکُلُ اَلتَّمْرَ وَ یَشْرَبُ عَلَیْهِ اَلْمَاءَ وَ کَانَ اَلتَّمْرُ وَ اَلْمَاءُ أَکْثَرَ طَعَامِهِ…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی محسوس کرتے اور کبھی کھجور کھاتے اور اس پر پانی پیتے اور کھجور اور پانی ان کی سب سے زیادہ خوراک تھی۔ وسائل الشیعة،ج25،ص34۔ مکارم الأخلاق،ص29۔ بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج63،ص119
👈و کَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ یَأْکُلُ اَلْحَیْسَ…
رسول اللہﷺ حیس کھایا کرتے تھے( مکارم الأخلاق،ص29۔بحار الأنوار (ط – بیروت)،ج16،ص244 و ج63،ص287

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.