اُ س بازار میں۔سورش کاشمیری

اُ س بازار میں۔سورش کاشمیری

اُ س بازار میں۔سورش کاشمیر ی

اُ س بازار میں۔سورش کاشمیری
اُ س بازار میں۔سورش کاشمیری

اُ س بازار میں۔سورش کاشمیر ی
یہ کتاب معاشرہ کے ان طبقات کے بارے میں ہے جن کے متعلق آج بھی لوگ بات کرنے میں کتراتے ہیں ، ان کے درد وکسک اور مجبوری وبے بسی بیان کرنے میں منہ چراتے ہیں ، یہ شورش کاشمیری کا ہی دل وگردہ تھا کہ اس نے مخالفت کے باوجود اس کتاب کو شائع کیا اور معاشرے کے ناسور روگ کو اجاگر کیا ۔کتاب کے ابتدائی ابواب میں مصنف نے طوائف، استلذاذ بالمثل یعنی امرد پرستی اور قدیم مذاہب میں جنسی خواہشات کے تسکین کے طور وطریقے سے بحث کی ہے ، اس کے بعد دہلی ، لکھنؤ ، لاہور اور کلکتہ کے قحبہ خانوں اور چکلوں کی دلخراش داستان رقم کی ہے ، کتاب مشہور ڈیرہ دارنی شمشاد کے ناچ اور بھانگڑہ کے ذکر پر ختم ہوتی ہے۔یوں تو پوری کتاب کی زبان نہایت عمدہ ہے لیکن شمشاد کے ناچ کی تصویر کشی کرتے وقت شورش کا قلم وہ سحر نگاری دکھاتا ہے کہ آدمی اسلوب کی دلکشی میں کھوجاۓ ، آپ بھی اس ادبی شہ پارہ سے حظ اُٹھائے ۔”اس کا ناچ نیز ہوتا گیا ، اس کی دھنیں پھیلتی گئیں ، اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو گیا ، اس کی ادائیں نکھرتی گئیں ، اس کے پھول کھلتے گئے ، اس کے شعلے ٹوٹتے گئے ، اس کا روپ سوا ہوتا گیا ۔ اس کی جوانی کا الاؤ بھڑکتا گیا ۔ کبھی لہروں کی طرح بڑھی، کبھی پنکھڑیوں کی طرح سمٹی ، کبھی خوشبو کی طرح پھیلی ، کبھی بجلی کی طرح کوندی ، کبھی مینا کی طرح چھلکی ، کبھی ساغر کی طرح کھنکی ، کبھی گلاب کی طرح مہکی، کبھی بلبل کی طرح چہکی ، کبھی گھٹاؤں کی طرح اٹھی ، کبھی میکدے کو نکل گئی ، کبھی بتکدے کو آگئی ، کبھی آغوش بن گئی ، کبھی امنگوں میں گھلنے لگی ، اور کبھی رنگوں کا پیکر بن گئی ۔ لیکن جیسے جیسے وہ ناچتی گئی ، اس کا ہر زاویہ سوال بنتا گیا ۔۔۔ فرشتوں کازہر خندــــــــ قدرت کا نوحہ”.اس کتاب کی تیاری کی خاطر شورش نے چھ سو طوائفوں سے ملاقات کیا ، اور ان سے ذلت بھرے کام اپنانے کے اسباب وجوہ معلوم کیا ، اکثر کا جواب یہ تھا کہ وہ معاشی تنگی اور تنگ دستی کی وجہ سے اس کوچۂ ننگ و عار میں آئی۔ایک بات کتاب کے مطالعہ کے دوران جو بہت زیادہ کھٹکی کہ شورش نے سرسید ، شبلی ، علامہ اقبال ، حکیم اجمل اور دیگر ادبا کے بارہ بغیر کسی ٹھوس دلیل کے طوائف کی باتوں کو من و عن نقل کردیا ، ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ٹھوس دلائل کی روشنی میں ان حضرات کے طوائف سے خوش وقتی کے واقعات درج کرتے ۔محمد اکرام الحق ندویکتاب یہاں سے حاصل کریں

کتاب یہاں سے حاصل کریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.