افغان جہاد اور آیت قرانی کی تفسیر

افغان جہاد
اور آیت قرانی کی تفسیر

افغان جہاد
اور آیت قرانی کی تفسیر

افغان جہاد اور ایک آیت کی تفسیر۔

تحریر
حکیم قار ی محمد یونس شاہد میو

کچھ باتیں وقت سمجھاتا ہے جس وقت سورہ الحشر کی آیت پڑھی تھی ( ۤ وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ (الحشر)۔ اور ڈالا ان کے دلوں میں اللہ نے رعب۔ وہ اجاڑتے ہیں اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے۔ پس عبرت پکڑو اے آنکھیں رکھنے والو۔۔۔۔ سمجھ نہ سکا کہ اپنے گھروں اور ٹھکانوں کو اپنے ہاتھوں سے کون تباہ کرسکتا تھا /یا کرسکتا ہے؟
آج عالم کفر پے لرزہ طاری ہے سوشل میڈیا پر جب امریکیوں کو اپنے اسلحہ و قیمتی ساز و سامان کو اپنے ہاتھوں سے تباہ و برباد کرتے ہوئے دیکھا تو تیس سال پہلے پڑھی ہوئی آیت کا معنی و مفہوم کی حقیقی تصویر سامنے آگئی ۔

کل کے یہود کو بھی خطرہ تھا کہ کہیں ہمارے مال و جائیداد اہل اسلام کے ہاتھ نہ لگ جائیں،آج کے کفار کو بھی یہی ڈرہے کہ کہیں ان بوریہ نشینوں کے ہاتھ ہمارا ساز و سامان نہ لگ جائے۔انسان اپنی تدبیر کرتا ہے، اللہ اپنے فیصلے کرتا ہے مشاہدہ یہی ہے کہ اللہ کی تدبیر بہتر ہوتی ہے۔کل کے بے سروساماں بوریہ نشین،مفلوک الحال ،دنیا و مافیھا سے بے پروا جنہیں لوگ دہشت گرد کہتے نہیں تھکتی تھی آج ان کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ عالم معمورہ پر ہمہ تن گوش ہوکر سنا جاتا ہے۔ان کی چشم ابرو پر ابھر نے والے خدو خال دنیا کے ممالک کی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کررہے ہیں۔

دنیا کا قانون ہے یہاں مانگے سے کچھ نہیں ملتا،حق چھننا پڑتا ہے۔کمزور کو پنچائت یا عدالت میں بلایا جاتا ہے۔طاقتور کے گھر کمیشن جاتے ہیں۔کمزور کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے طاقتور کوانصاف کی ترازو تھمادی جاتی ہے۔زندگی کے تلخ ترین تجربات شاہد ہیں کہ خوبیاں اس وقت تسلیم کی جاتی ہیں جب ہاتھ میں بندوق یا مکہ میں جان ہو۔بصورت دیگر تمام ہنر عیب کے زمرے میں شمار کئے جاتے ہیں۔

کشمیر اور افغا نستان

آزادکشمیر اور افغانستان قدرے مشترک ہے کہ دونوں جگہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی رہی ہے اور کشمیر تاہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔کشمیر اور افغانستان دونوں میں جہاد جاری ہے۔کمشیر کو اقوام متحدہ کی چوکھٹ سے باندھ کر مار اگیا،کشمیری حق خود ارادیت کے لئے ہڑتالیں،احتجاج۔ریلیاں۔جلسے جلوس جیسے طلسموں میں نجات تلاش کرتے رہے۔جب کہ افغانوں نے کبھی اقوام متحدہ کی برف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔اور جب اقوام متحدہ کو آواز دی گئی تو وہ آواز برصحرا ثابت ہوئی۔آج اقوام متحدہ سے لیکر ویٹو پاوروں تک سب پشتو سیکھنے میں لگے ہوئے ہیں،کہ افغانی کہیں دبکے چھپے کوئی ایک لفظ منہ سے نہ نکال دیں جو ہماری سمجھ میں نہ آئے اور بعد میں پریشان ہونا پڑے۔

دوسری آیت۔اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗؕ-وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِۚ-وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ(آلعمران۱۴۰)

اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمادے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

عالم کفر نے یکبارگی میں جب سر زمین افغانستان پر کارپٹ بمباری کی تھی تو پوری دنیا پر خوف کا عالم طاری تھا۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب افغانیوں کے لئے حیات ثانی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگی۔ زمینی جبروت اپنی تدبیروں میں لگا ہوا تھا جدید ہتھیاروں کے تجربات اور جنگی ساز و سامان والی انڈسٹری کو حیات جاودانی دینے کی ترکیب کی جارہی تھیں اس وقت عالم بالا میں افغانوں کے خون کی بدولت کھربوں ڈالر کے رازوں کے افشاں ہونے کی تدابیر لکھی جارہی تھیں۔بیس سال خاک و خون میں غلطاں و پیچاں نادار لوگوں کے اخلاص کی دنیا میں قیمت حکومت اور حفاظت کے لئے جدید ترین اسلحہ کی صورت میں طے پاگئی تھی۔

یہ اللہ کے فیصلے ہیں کہ وہ دنیا میں جوچاہے حالات پیدا کردے۔جس اسلحہ اور جنگی ٹیکنالوجی کو کھروں ڈالروں سے پروان چڑھایا گیا تھا اللہ نے بوریہ نشینوں کو اس کا مالک بنا دیا۔عالم اسباب میں اگر چار دیہائیوں سے جنگ میں مبتلا افغان اس ٹیکنالوجی کوحاصل کرنے کی کوشش کرتے تو ناممکن تھا

کہ وہ اس میں درک حاصل کرپاتے۔آج انہیں جو قوت اور جنگی مہارت حاصل ہے وہ دنیا کے فیصلوں پر ضرو ر اثر انداز ہونگے،جس کے مکے میں جان ہو اس کی بات ہمیشہ غور سے سنی جاتی ہے۔اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗؕ-وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِۚ-وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۴۰)
اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمادے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.