اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس

اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس

اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس

اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس
اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس

اسلام کا نظام صفائی۔اغیار کا اعتراف
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

جانٹ ملن مستشرق کا کہنا ہے :
اسلام پاکیزگی اور صفائی کامذہب ہے ۔تمام مذاہب اس سے اپنی پاکیزگی کا باب پورا کرتے ہیں ۔ اسلام کا طریقہ استنجاء بھی بے مثال ہے کہ اس سے جسم پر گندگی کا ذرّہ بھی باقی نہیں رہتا ۔ اگر کسی جسم کو پانی لگائے بغیر صاف کیا جائے تو تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ جسم کا حصہ کبھی بھی صاف نہیں ہوگا بلکہ مختلف بیماریوں کا پیش خیمہ بن جائے گا۔

پھر پانی کے استعمال سے تو جسم کے اس حصے (شرمگاہ) کا درجہ ِ حرارت نارمل ہوجاتا ہے ،جوکہ نہایت مفید ہے کہ اس سے بواسیر وغیرہ نہیں ہونے پاتی ۔ اگر پانی استعمال نہ کیا جائے تو حاجت کے وقت مخصوص اعضاء کے علاوہ تما م اعضائے جسم کا درجہ ِ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان مختلف بے شمار امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے “۔

ممنوعاتِ استنجاءکے سائنسی وطبی فوائد

رسول اللہ ﷺ نے پیشاب سے بچنے کے بارے میں پرزور احکامات ارشاد فرمائے ۔ اس کے علاوہ پیشاب کو روکنے ،کھڑے اور چلتے پانی میں پیشاب کرنے ،راستہ میں پیشاب کرنے ،سایہ دار اور پھلدار درخت کے نیچے پیشاب کرنے ،ہوا کے رُخ پیشاب کرنے ،بل اور سوراخ میں پیشاب کرنے ،غسل خانے میں پیشاب کرنے ،کھڑے ہو کر پیشاب کرنے ،لید ،گوبر،ہڈی سے استنجاء کرنے اور قبلہ رُخ منہ یا پیٹھ کرکے پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔

نیز طہارت کےلیے دایاں ہاتھ پانی ڈالنے اور بائیں ہاتھ سے صفائی کرنے ،قضائے حاجت کے بعد کسی چیز (صابن یا مٹی )سے ہاتھ دھو لینے اور قضائے حاجت کرتے ہوئے پردے کا سخت خیال رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا ۔ ان تعلیمات کے بے شمار سائنسی اور طبی فوائد ہیں ۔ ان تعلیمات میں سے ہر ایک کے مختصر مختصر چند فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔
1: احادیث میں کثرت کے ساتھ پیشاب سے نہ بچنے پر وعیدیں آئی ہیں ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عذاب ِقبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے “

مستشرق ” ڈاکٹر جانٹ ملن ” کہتا ہے :

خارش اور پھنسیوں ،پیڑو کی جلد کا ادھرنا،سرینوں اور اس کی اطراف کی الرجی اور عضوِ خاص کے زخم کے مریض جب بھی میرے پاس آتے ہیں تو میرا ان سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ ” کیا وہ پیشاب سے بچتے ہیں ؟”،ان میں سے اکثر پیشاب سے نہیں بچتے اور پھر لاعلاج اور مشکل امراض لے کر میر ے پاس آتے ہیں “۔
جینز اور پینٹ کی زنجیری اور بٹن کھول کر پیشا ب کرنے اور پھر بغیر استنجاء کے فوراً باندھ لینے کی صورت میں پیشاب کے قطرات اعضائے جسم پر گرتے رہتے ہیں جس سے جلدی امراض اور دیگر بے شمار امراض پیدا ہوتے ہیں
2: رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کور وکنے سے منع فرمایا اور فقہاء رحمتہ اللہ علیہم فرماتے ہیں :

پیشاب اگر سواری پر آجائے تو اسی وقت دیر کیے بغیر سوار ی کو روکے اور پہلے پیشاب کرے۔ اسی طرح اگر جماعت کا وقت ہوگیا ہے اور پیشاب آگیا ہے تو پہلے پیشاب کرے ،پھر وضو اور پھر جماعت کے ساتھ ملے۔کسی کام کو کرتے ہوئے پیشاب آجائے تو پہلے پیشاب سے فراغت حاصل کرنی چاہیے “۔

پیشاب کو نہ روکنے اور بروقت پیشاب کردینے کے درج ذیل طبی فوائد ہیں:

میڈیکل کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ جب بھی پیشاب یا پاخانہ آجائے تو اسی وقت اس سے فراغت حاصل کی جائے ۔ میڈیکل نے حاجتِ ضروریہ پیشاب اور پاخانے کو روکنے سے منع کیا ہے ۔ میڈکل فیلڈ کے ساتھ تعلق رکھنے والے سنئیر کہتے ہیں:

حاجت ِ ضروریہ کو روکناگونا گوں بے شمار امراض کاپیش خیمہ بن سکتا ہے ۔ اس میں زیادہ نقصان دماغ،معدہ، اعصاب اور گردوں کو ہوتا ہے ۔ بعض اوقات تو حاجت ِضروریہ کے روکنے سے قے اور چکر شروع ہو جاتے ہیں جوکہ نہایت ہی مضر ثابت ہوتے ہیں”۔طب و حکمت کیکتابوں میں لمبی چوڑی تفصیل موجود ہے بالخصوص ہندو ویدک کی کتاب” امرت ساگر” ،میں طویل بحث ہے کہ پاخانہ پیشاب کوروکنے سے کونسے امراض جنم لیتے ہیں۔

پھر ان کے علاج بھی تحریر کئے گئے ہیں۔آج کل امراض و گردہ و مثانہ اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ شمار مشکل ہے۔پیشاب روکنے کے متعلق ایک صاحب لکھتے ہیں۔”درحقیقت کچھ حالات آپ کے پیشاب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جیسے کہ : گردے خراب ہونا،پیشاب کی نالی کے انفیکشن،مثانہ کے غدودکا بڑھ جانا،مثانے کے کنٹرول کے مسائل ہونا، جیسے بے ضابطگی، زیادہ فعال مثانہ، نٹراسٹیشل سیسٹائٹس، یورینری ریٹنشن(ایک رکاوٹ جو مثانے کو خالی ہونے سے روکتی ہے )”۔
3: رسول اللہ ﷺ نےکھڑے ہوئے پانی میں پیشاب اور پاخانہ کرنے سے منع فرمایا ۔ اس کے طبی اور سائنسی فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
کنواں ،تالاب ،جوہڑ اور جھیل جیسے کھڑے پانی میں اگر قضائے حاجت کی جائے گی تو پانی میں جراثیموں کے داخل ہونے سے تمام پانی آلودہ او ر خطرناک امراض کا سبب بن جائے گا ۔ اب اگر کوئی ذ ی روح (پرندے ،جانور یا انسان وغیرہ) اس پانی کو پئے گا تو وہ کئی ایک مہلک امراض کا شکار ہو جائے گامثلاً تپ محرقہ،ٹائی فائیڈ ،جراثیمی یرقان،آنتوں کے کیڑوں کے انڈے کی پیدائش ،پیراسائٹ اور طفیلی کیڑوں کی پیدائش وغیرہ۔

اس کے علاوہ کھڑ ے پانی میں پیشاب کرنے والا خود بھی کئی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے مثلاً پیشاب کے چھینٹے اُڑنے کی وجہ سے ایک قسم کی بھاپ اٹھتی ہے جو پیشاب کرنے والے کو کئی بیماریوں میں مبتلا کرسکتی ہے ۔ اس بھاپ سے سونگھنے کی قوت سلب ہو سکتی ہے ،آدمی آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے اور دماغ وگلے پر بھی گہرا اثر پڑسکتاہے۔
4: رسول اللہ ﷺ نے چلتے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی سائنسی اور طبی وجہ ملاحظہ فرمائیں:
چلتا پانی جیسے دریا،نہریں اور نالے کیونکہ قریہ قریہ سےگزر کر جاتے ہیں ۔کئی انسان او ر جانور اس پانی سے نفع لیتے ہیں ۔اگر فضلے کی وجہ سے یہ پانی آلودہ ہو جائے تو چلتے چلتے جراثیم کا گڑھ بن جاتا ہے اور بیماریاں پھیلاتا جاتا ہے ۔ اگر کوئی آدمی اس نہر یا نالے وغیرہ کو پار کرنے کے لیے پانی سے گزرے گا تو اس کا جتنا جسم پانی میں جائے گا اس کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ اس پانی سے الرجی ،پھوڑے ،پھنسیاں اور وبائی خارش وغیرہ بھی پھیلتی ہے ۔ اس کے علاوہ جب کوئی شخص چلتے پانی میں پیشاب کرے گا تو اس سے بو اُٹھے گی جو کہ دماغ اور پھیپھڑوں کے لیے انتہائی مضر ہے ۔

5: رسول اللہ ﷺ نے گزرگاہوں اور راستوں میں پیشاب کرنے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ۔ اس کے طبعی ،طبی اور سائنسی فوائد درج ذیل ہیں:
راستہ سے ہرکوئی گزرتا ہے اور جب راستہ میں پیشاب کیا جاتا ہے تو پیشاب کی بُو اور جراثیم فضا ء میں معلق ہوجاتےہیں اور ہوا کی وجہ سے اس راستہ سے گزرنے والوں کے جسم میں سرایت کرجاتے ہیں جس سے سانس کی پرابلم پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ پیشاب کی بو اور جراثیم سے آلودہ ہوا اگر انسان کے اندر پہنچ جائے تو دل ، جگر او ر پتے کی بیماریوں کا بھی غالب گمان کیا جا سکتا ہے۔

6: احادیث اورفقہ میں سایہ دار اور پھلدار درخت کے نیچے پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ اس کے چند طبعی ،طبی اور سائنسی فوائد یہ ہیں:سایہ دار درخت لوگوں کے قیام او ر سکون کی جگہیں ہیں۔یہاں فضلہ کرنا انتہائی بُرا ہے اور اس سے یقیناً بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ اس درخت کے سائے میں بیٹھنے والے کئی قسم کی وبائی امراض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ نیز پھلدار درخت سے گرنے والا پھل بھی گندگی سے آلودہ ہو کر قابل استعمال نہ رہ سکے گا۔

7: احادیث اور فقہ میں ہوا کے رُخ پر پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ اس کے طبی و سائنسی فوائد درج ذیل ہیں۔
اگر ہو اکے رخ پیشاب کیا جائے تو ہوا کے دباؤ کی وجہ سے وہ پیشاب اُڑ کر جسم ،چہرے اور کپڑو ں پر پڑےگاجس سے جسم اور کپڑے پلید ہوجائیں گے ۔ نیز اس پیشاب کے جراثیم بھی مساموں کے راستے سے جسم میں داخل ہو کر الرجی ،خارش ،فسادِ خون اور کئی اورجلدی امراض پیدا کریں گے۔ آنکھوں میں پڑنے سے آنکھیں سوج جائیں گی،سرخ ہو جائیں گی ۔علاوہ ازیں آنکھوں میں خارش ہونے اور پانی کے بہنے کے ساتھ ساتھ کئی وبائی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں ۔ او ر اگر ہوا کی وجہ سے پیشاب اُڑ کر منہ میں چلاگیا تو اس سے منہ کی بیماری لاحق ہو نے کے ساتھ ساتھ منہ کا فالج بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ منہ میں زخم ،مسوڑھوں میں پیپ اور دانتوں کی بیماری بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ زبان اورگلہ بھی بُری طرح متاثر ہو سکتا ہے ۔

8: حضور نبی کریم ﷺ نے بل اور سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا اس کے بھی بے شمار سائنسی اور طبی فوائد ہیں ۔ مثلاً
اگر زہریلے جانور کے بل میں پیشاب کیا گیا تو اس جانور کے باہر نکل کر نقصان پہنچانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔بعض زمینیں کلرزدہ اور شورہ زدہ ہوتی ہیں اور ان کے بلوں اورسوراخوں میں تیزاب اور شورہ کے مادے جمع ہوتے ہیں ۔ اگر ان میں پیشاب کیا گیا تو پیشاب چونکہ خود ایک تیزاب ہے اور جب ایک تیزاب دوسرے تیزاب سے ملے گا توزہریلے بخارات اُٹھ کر جسم ِ انسانی کو نقصان پہنچائیں گے۔

9: رسول اللہ ﷺ نے غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ اس سے بے شمار وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ فقہاء کرام رحمتہ اللہ علیہم فرماتے ہیں:” غسل کی جگہ پیشاب نہیں کرنا چاہیے ،کیونکہ اس سے عقل اور ذہن پر اثر پڑتا ہے ،یاداشت کمزور ہوجاتی ہے اور آدمی کئی وسوسوں میں پھنس کر شیطان اور بیماری کا شکار ہوجاتا ہے”۔

ایک سائنسی میگزین بنام ” سائنس اور صحت ” میں لکھا ہے :

غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے شہوتِ نفاسیہ کی زیادتی ہوتی ہے اور اس سے معاشرتی مہلکات پیدا ہوتے ہیں ۔ غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے انسان نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتا ہے ۔ غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے گردے میں پتھری پیدا ہوتی ہے ۔بہرحال غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے اور بھی بہت سے نقصانات کا قوی اندیشہ ہے۔

10: حضور نبی کریم ﷺ نےکھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ چونکہ پیشاب جراثیموں سے پُر ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں بعض امراض (سوزاک،آتشک،گردوں کا جراثیمی انفیکشن وغیرہ)کی وجہ سے پیپ بھی موجود ہوتی ہے ۔کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے اس کے چھینٹے بدن اور لباس کو آلودہ کردیتےہیں ،جس سے کئی امراض وجود میں آسکتے ہیں ۔ اس طرح پیشاب کرنے سے غدہ ِ قدامیہ پر بُرا اثر پڑتا ہے اوروہ متورم ہو کر بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے پیشاب بند ہو جا تا ہے ،قطرہ قطرہ آتا ہے او ر دھار بھی پتلی ہوجاتی ہے ، اس کے علاوہ اور بھی کئی امراض جنم لے سکتے ہیں۔

11: حضور نبی کریم ﷺ نے لید اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ لید میں بے شمار مہلک جراثیم ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک جانور کا فضلہ (پاخانہ ) ہے اور ہر پاخانہ جراثیموں سے پُر ہوتا ہے ۔لید میں تشنج اور تپِ محرقہ کے جراثیم بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔اگرلید سے استنجاء کیا جائے تو وہ جراثیم جسم میں منتقل ہو کر بیمار کرسکتےہیں ۔ اس کے علاوہ اس سے شرمگاہ کو بھی بہت سے بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ۔جیسے خارش ،جلن،پیپ کا پڑھنا اور شرمگاہ کا کینسر وغیرہ۔

ہڈی سے جب گوشت کھا کر پھینک دیا جاتاہے تو اس کوجانور کھاتے ہیں بعض جانوروں کے لعاب میں خطرناک جراثیم ہوتے ہیں مثلاً کتے کے لعاب میں ایک خاص جرثومہ ہوتا ہے جو اس کی کھائی ہوئی ہڈی پر لعاب کے ساتھ منتقل ہوجاتا ہے ۔مزید یہ کہ ہڈی پر مٹی ،گردوغبار او ر گندگی وغیرہ جم جاتی ہے اس گردوغبار میں گوناگوں جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ اب اگر یہ ہڈی استنجاء کےلیے استعمال کی جائے گی تو دیگر جراثیموں کے ساتھ ساتھ کتے کا خاص جرثومہ بھی جسم میں منتقل ہو جائے گا جس سے فسادِ خون ،دل ،جگر،پتا،انتڑیوں اور معدے کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں(کچھ تفصیل گزرچکی ہے)۔

12: رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کے مطابق قبلہ کی طرف تھوکنا ،پیشاب کرتے ہوئے پیٹھ اور منہ کرنا منع ہے ۔ ا س میں بھی کئی ایک طبی و سائنسی فوائد ہیں۔ چناچہ ڈاکٹر “ڈارون” ،ڈاکٹر ” لیڈ بیٹر” اور ڈاکٹر “الیگزنڈر” کی تحقیق کے مطابق “کاسمک ورلڈ” کا نظام انسانی زندگی پر حاوی ہے ۔ خانہ کعبہ کے چاروں طرف سے نکلنے والی مثبت شعاعیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ۔پیشاب ،پاخانہ اور تھوک جو کہ خالص منفی شعاعیں ہیں کعبہ کی طرف ڈالنے سے آدمی کے لیے مسلسل نقصان کا باعث بنیں گی۔

مشہور پیراسائیکالوجسٹ ڈاکٹر کامن بیم نے اس بات کو اپنی تحقیقی زندگی کا حصہ بنایا ہے کہ مسلمانوں کے کعبہ کی طرف سے مسلسل مثبت شعاعیں پوری کائنات میں پھیل رہی ہیں اور اس طرح منفی شعاعوں (تھوک،پیشاب اور پاخانہ وغیرہ)کا رجحان ضرر کا باعث ہے ۔
13: رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ :
طہارت کے لیے پانی دائیں ہاتھ سے ڈالو او ر صفائی کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کرو۔خبردار دایاں ہاتھ استنجاء کے لیے استعمال نہ کرو۔ جب کوئی شخص قضائے حاجت کےلیے جائے تو اپنی شرمگاہ کو بھی اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوے”۔ (متفق علیہ)

استنجا بائیں ہاتھ سے کر نے کی حکمت۔

استنجاء فقط بائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے ۔ اسکی کئی وجوہات ہیں ۔ دائیں ہاتھ سے مثبت اور بائیں ہاتھ سےمنفی شعاعیں نکلتی ہی ۔ اگر استنجاء کے لیے دایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تو جسم کا شعاعی نظام بگڑ جائے گا اور اس کے بد اثرات دماغ اور حرام مغز پر پڑیں گے ۔ چیز کھانے کےلیےچونکہ دایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اگر استنجاء کے لیے بھی دایاں ہاتھ استعما ل کیا جائے تو پھرکھانا کھاتے وقت مادہِ نفرت کےپھیلنے کا ڈر ہے ۔

14: قضائے حاجت کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمیشہ مٹی پر ہاتھ رَگڑ رَگڑ کر دھوتے تھے۔ اس میں بھی بے شمار طبی فوائد ہیں ۔ مثلاً ہم مختلف اشیاء کو ہاتھوں سے ہی پکڑتے ہیں نیز ہاتھ ننگے رہتے ہیں اور اس طرح ہاتھوں پر مختلف بیماریوں کے جراثیم یا مختلف کیمیکلز موجود رہتے ہیں جو ہمارے ہاتھوں کو آلودہ کردیتےہیں ۔ اگر ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھا لیا جائے ،کھانے والے برتن میں ہاتھ داخل کردئیے جائیں ،کلی کرلی جائے یا ناک میں پانی ڈال لیا جائے تو یہ جراثیم باآسانی ہمارے کھانے ،منہ یا ناک کے ذریعے جسم کے اندر جاسکتےہیں اور جسم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرسکتے ہیں ۔

اسی لیے دنیا بھر میں ہاتھ دھونے پر بہت زور دیا جارہا ہے تاکہ مختلف آلائشیں ہمارے جسم کے اندر منتقل نہ ہو سکیں۔جب ہم ہاتھ دھوتے ہیں تو انگلیوں کے پوروں میں سے نکلنے والی شعاعیں ایک ایسا حلقہ بنا لیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے اندر دَور کرنے والا برقی نظام تیز ہو جاتاہے اور برقی رَو ایک حد تک ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے ۔ اس عمل سے ہاتھ خوبصورت ہوجاتے ہیں ۔ صحیح طریقہ پر ہاتھ دھونے سے انگلیوں میں ایسی لچک پیدا ہوجاتی ہے جس سے آدمی کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو کاغذ یا کینوس پر منتقل کرنے کی خفتہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ قضائے حاجت کے بعد ہاتھوں کو مٹی سے مَل مَل کر دھوتے تھے ۔چونکہ ہاتھوں کو جراثیم لگے ہوتے ہیں اور بعض جراثیم ایسے بھی ہوتے ہیں جو عام پانی سے ضائع نہیں ہوتے اس لیے ہاتھوں کو مٹی یا صابن وغیرہ سے صاف کرلینا ایک اہم سنت اور طبی و سائنسی اصول ہے ۔ مٹی اعلیٰ درجے کی ” انٹی سپٹک ” ہے حتیٰ کہ اس میں کتے کے جراثیموں (جو کہ سب سے زیادہ قوی جراثیم ہوتے ہیں )کو بھی مار ڈالنے کی قوت و طاقت موجود ہوتی ہے ، اس لیے یہ عام جراثیموں کو تو فوراً ہی ختم کردیتی ہے ۔

1 thought on “اسلام میں استنجاء کا طریقہ اور جدید سائنس

Leave a Reply

Your email address will not be published.