ww.tibb4all.comکے ساتھ ایک حادثہ

www.tibb4all.com

کے ساتھ ایک حادثہ

ww.tibb4all.comکے ساتھ ایک حادثہ
ww.tibb4all.comکے ساتھ ایک حادثہ

 

ww.tibb4all.comکے ساتھ ایک حادثہ

تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

یوں تو انٹر نیٹ کی دنیا میں کرائم ہر آن و ہر لمحہ بڑھتے جارہے ہیں۔جرائم کی یہ دنیا دیوار کے اندر اور نرم گرم بستروں،یا آرام دہ دفاتر میں یا پھر کسی گمنام مقام پر کئے جاتے ہیں ،لیکن ان کے اثرات کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔کچھ لوگ ہیکنگ میں ہاتھ پائوں مارتے ہیں اور کچھ اس راہ کے شناسا مسافر ہوتے ہیں ۔جو کسی بھی راہ گیر کی گٹھڑی اچک لیتے ہیں،کسی بھی راہی کی جامہ تلاشی لے لیتے ہیں۔
ہیکنگ کا کام کتنا مشکل یا کتنا آسان ہے؟یہ تو ہیکر ہی بتا سکتے ہیں لیکن لٹنے والے معصومین کے آنسو دیدنی ہوتے ہیں ،ہر طلوع ہونے والا دن نئی آزمائشوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔عام ویب سائٹوں والے شاید ہیکنگ کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہوتے۔لیکن نقب لگانے والے کب اور کتنی دیر کے لئے ان کے ذاتی کمپیوٹر میں گھس آتے ہیں انہیں ادراک تک نہیں ہوتا۔۔
ابھی کل کی بات ہے میں اپنی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کی نمائندہ ویب سائٹ(www.tibb4all.com)ڈیٹا اپ لوڈ کیا۔کچھ کتابیں شئیر کیں،ایک دو آرٹیکل لکھے۔
راقم الحروف صبح تین چار بجےکے قریب بیدار ہوکے پڑھنے لکھنے یں مشغول ہوجاتا ہے۔یہ فرصت کے لمحات،یاد الہی،اورعلم و عمل،مطالعہ و تحریر کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے، الحمد اللہ سال ہا سال سے میرا یہی معمول ہے۔دن کے وقت بہت سے نادیدہ مصروفیات سر اٹھانے لگتی ہیں۔بہت سے ضروری و غیر ضروری کام درپیش ہوتے ہیں، اس لئے علمی کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔میں ان فرصت کے لمحات کو دنیا و مافیہا سے عزیز تر رکھتا ہوں۔یہی فرصت کی گھڑیاں کہ راقم الحروف پچاس ساٹھ کتب لکھ چکا ہے اور دسیوں موضوعات پر کام جاری ہے۔
قصہ کوتاہ۔25 دسمبر2021 کو میںنے www.tibb4all.com پر حسب دستور پوسٹیں کیں بعدمیں ایک مفتی صاحب کی کتاب مسودہ آیا ہوا تھا کےدیکھنے میں مشغول ہوگیا ۔دن کے وقتwww.tibb4all.com ٹھیک حالت میں رن کررہی تھی۔نماز عصر کے بعد میں نے ایک آرٹیکل پوسٹ کرنے کے لئے سائٹ اوپن کی تو۔گوگل نے مجھے چائنہ پہنچا دیا۔www.tibb4all.comپر عجیب وغریب کوڈنگ نمودار ہوئی۔میں بار بار کمپیوٹر بند کرکے چلایا ،جب کام سمجھ میں نہ آیا تو میں نے سعد یونس(اپنے بیٹے )کو بتایا کہ بیٹا www.tibb4all.comکیا آپ نے سائٹ کو کچھ کام کیا ہے۔وہ کہنے لگا ابو میں نے تو آج www.tibb4all.comپر کوئی کام پر کوئی کام نہیں کیا۔
میرے پاس دوسرےکام بہت زیادہ تھے،اس لئے ۔لوگوں کے آرڈ ز اتنے زیادہ تھے کہ اس طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہ ملی۔(ڈومین۔ہوسٹنگ کے نئے آرڈرز اتنے تھے کہ بہت سے کسٹمرز سے معذرت کرنی پڑی )میں نے www.tibb4all.com کھولنے کا کہا تومیری طرح سعد بھائی بھی بغیر ٹکٹ چائنہ پہنچ گئے۔عجیب و غریب کوڈنگ آرہی تھی۔
سعد بھائی کی ماہرانہ انگلیاں کی بوڑد پر چلنے لگیں ٹھیک پانچ منٹ میں بتا دیا کہ کسی مہربان نے پانچ پہلے جی میل آئی ڈی کا پاسورڈ چوری کیا تھا۔اور ڈومین ہیک کرنے میں لگا ہوا تھا ،جب وہ کامیاب نہ ہوسکا تو ایک وائرس چھوڑ دیا ہے جو www.tibb4all.comکو اوپن نہیں ہونے دے رہا۔
سعد بھائی نے سب پہلے تو جی آئی ڈی کا پاس ورڈ تبدیل کیا۔اس کے بعدسائٹ ڈیٹاریکور کرنے میں مشغول ہوگیا۔www.tibb4all.comہم دونوں باپ بیٹوں کی پانچ سال کی محنت کا نتیجہ تھی۔
الحمد اللہ سعد بھائی نے اسے ڈزائن کیا،خود ہی کسٹامائز کیا۔اور بھی نہ جانے کتنی ویب سائٹوں کو ترتیب دیا تھا ۔کیونکہ سعد بھائی کے پاس ڈومین اور ہوسٹنگ کا کام اتنا زیادہ ہے کہ بہت سے کسٹمرز سے معذرت کرنی پڑتی ہے۔
قصہ کوتا ہ کہ رات گئے تک ویب سائٹ اپنے مکمل ڈیٹا کے ساتھ بحال کردی گئی تھی۔اب تہجد میں حسب معمول بیدار ہوا،دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ ادا کیں۔پھر کمپیوٹر کھولا تو خوش گوار انداز میں زبان سے سبحان اللہ نکلا۔کیونکہwww.tibb4all.com اپنی اصلی حالت پر بھال ہوچکی تھی۔
سعد کے لئے بھی دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اس کے علم و عمل میں برکت عطاء فرمائے،نظر بد سے بچائے۔میں نے کمپیوٹر لائن میں سعد بھائی پر کئی لاکھ انویسٹ کئے تھے،یقین ہوگیا کہ میری انویسٹ منٹ غلط نہ تھی۔
سعد بھائی کی محنت ومہارت میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی یوں ہزاروں کتب کا ڈیٹا ضائع ہونے سے بچ گیا۔
یاد رہے سعد بھائی نے دوچار دن پہلے ہی مجھ سے ایک لاکھ روپے لیکر کچھ لیپ ٹاپ خریدیں ہیں۔تقریبا اتنے ہی پیسے اس نے اپنا الگ سے کمرہ تیار کرانے میں خرچ کئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ میں ویب ڈومین اور ہوسٹنگ،فری لانسسنگ،فائر ور وغیرہ وغیرہ پر کام کرونگا۔کچھ لوگ مجھے بطور معاون ملازم رکھنے پڑیں گے۔کیونکہ الحمد اللہ کام اتنا زیادہ ہے کہ سنبھالا نہیں جارہا۔
دوسری بات یہ کمپیوٹر لیب،میں تربیت کے لئے نادار و غریب کم وسائل والے طلباء جن میں میو قوم کے طلباء کو ترجیح دی جائے گی،
کچھ ایسے کورسز کروانے کا ادارہ ہے کہ تین چار ماہ میں انہیں متعلقہ فیلڈ میں تکنیکی مہارت دیدی جائے تاکہ آنے والے وقت میں انہیں با عزت روزگار مل سکے۔ الحمد اللہ تتم الصالحات۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.