قران کریم کا موضوع انسان ہے

قران کریم کا موضوع انسان ہے

قران کریم کا موضوع انسان ہے

The subject of the Holy Qur’an is man

موضوع القرآن الكريم هو الإنسان

احادیث مبارکہ سے اخذ کردہ طبی نکات۔

قران کریم کا موضوع انسان ہے

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

آسمانی کتابوں اور خصوصا قرآن کریم کا اصل موضوع انسان ہے اور اس کی ہدایت ہے، چوں کہ انسان کے دائرہ کار میں ایسے علوم وفنون بھی شامل ہیں، جن کی انسان کو ضرورت ہے اور وہ اس سے اپنا اشتعال رکھتاہے ، اس لئے قرآن کریم نے جگہ جگہ ایسی چیزوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ لیکن اس کا تذکرہ اسی مفہوم میں ہے کہ انسان اصل تو قرآن کریم کو قرار دے اور دوسرے علوم کو اس پر پر لکھے اور جانچے ،اگر وہ اس کے مطابق ہے تو درست قرار دے اور اگر ان کے خلاف ہے تو قرآن کریم کی تاویل و توجیہ کے بجائے ان علوم و فنون کو غلط سمجھے اور اس کی از سر نو تحقیق کرے ، قرآن کریم کو چھوڑ کر دوسرے علوم یا دوسری چیزوں کے ڈر یہ راہ راست کی تلاش کرتا سوائے گمراہی کے اور کچھ ہیں۔

امام ترمذی نے اپنی کتاب جامع ترمذی میں حضرت علی کے واسطہ سے رسول اللہ کی زبان مبارک کے در قرآن کریم کا تعارف یوں عمل فرمایا ہے :حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ (قرآن) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو (خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا (اور بے مزہ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی (و قیمتی) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب (انوکھا) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو“۔

سید قطب شہید فی ظلال القرآن میں لکھتے ہیں : ۔

إن مادة القرآن التي يعمل فيها هي الانسان ذاته ، تصوره و اعتقاده ، ومشاعره و مفهوماته ، وسلو که و اعماله ، وروابطه و علاقاته . (البقرہ:۱۸۵) قرآن کا موضوع خود انسان ہے، اس کا تصور و اعتقاداسی کا شعور و ادراک ، اس کارویہ اور طرنا اور اس کے تعلقات روابط ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ۔ (1) فی ظلال القرآن : ۱۸۱۔
قرآن کریم ایک مخصوص تصور ، ایک مخصوص نظام اور ایک مخصوص سماج پیدا کرنا چاہتا تھا ، وہ زمین میں ایک نئی امت برپا کرنے آیا ، جسے انسانیت کی رہنمائی کا ایک خاص کردار ادا کرنا تھا تا کہ یہ مت سماج کا ایک مخصوص نمونہ پیش کرے، جو اس سے پہلے بھی نہیں پیش کیا جا سکا تھا اور ایک ایسی زندگی گزار کر د کھلائے جو اس سے پہلے بھی نہیں گزاری تھی اور اس طرح اسی طرز زندگی کے اصول زمین میں قائم کر جائےاور انسانوں کو اس کی طرف لے آئے۔”
چنانہ قرآن کریم کا اصل موضوع تو انسان کی ہدایت بھی ہے، البتہ اللہ تعالی نے انسان کو ہدایت سمجھنے کے لئے عقل و شعور سے نواز اور قرآن کے ذ ریعہ۔ اس عقل کو بروئے کار لانے اور اپنی بساط بھر استعمال کرنے کا بھی حکم دیا۔ مگر عقل و علم و فیصل نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔

سید قطب شہید لکھتے ہیں : ۔ ۔اللہ تعالی سے( ہدایت ) اخذ کرنے کا طریقہ نہیں ہے کہ عقل دین کے ثابت شدہ حقائق کے مفہوم کو ٹھیک طور پر سمجھ لینے کے بعد ان کے مقابلے میں اپنی طرف سے طے کئے ہوئے کچھ حقائق لائے جنہیں اس نے منطقی مقدمات سے ترتیب دیا ہو، جو اس کے محد و مشاہدات اور ناقص تجربات کا نتیجہ ہوں صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ ثابت نصوص کو لے اور ان کی روشنی میں اپنے اصول کوتر تیب دےکیوں کہ یہ نصوص اس کے اپنے اصول سے زیادہ صحیح ہیں اور ان کا طریقہ اس کے ذاتی طریقے سے زیادہ درست ہے، وہ ذاتی طریقہ جسے دینی غور و فکر کے معیاروں کی روشنی میں نہ تر تیب دیا گیا ہو، معلوم ہوا کہ عقل دین کے ثابت شدہ حقائق کو جانچنے کے لئے اپنے وضع کردہ اصول کو معیار نہیں بنا سکتی۔”عمل خدا نہیں ہے کہ اپنے بنائے ہوئے اصول کو معیار بنا کر اللہ کے دیئے ہوئے أصول کو جانچے ، بلا شبہ عقل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی نص سے سمجھے ہوئے ایک انسانی مفہوم کے مقابلہ میں دوسرا مفہوم پیش کرے، ایسا کرنے میں کوئی مضائق نہیں اور نہ اس سلسلہ میں عقل پرکوئی پابندی عائد کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ کسی اصول کی بنیادپر اس کی گنجائش موجود ہو کہ اس نص کی مستعد وتاویلیں کی جاسکیں ( في ظلال القرآن ۸۰۷ / ۲۰ ، النساء:۶۵)

۔چنانچہ ان علمی اکتشافات اور نئے علوم وفنون سے فائدہ اٹھاتے وقت ہی پیش نظر ضرور رہنا چاہئے کہ ہماری معلومات کاذریعہ عقل ہے او عقل غلط بھی کر سکتی ہے اور صحیح بھی اس لئے اس سلسلہ میں ایک ایسی چیز کوکسوٹی اور معیار قرار دیا جائے، جس کے غلط ہونے کا ذرہ برابر بھی شبہ نہ ہو اور وہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب قرآن کریم ہی ہے۔
اس لئے ہماری نئی تحقیق اگر قرآن کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق اور اس سے ہم آہنگ ہے تو بلاتکلف ہم اس کی تائید کر تے ہیں لیکن اس میں ٹکراؤ اور تضاد کی شکل پائی جاتی ہے تو پھر ہم بلاکسی تردد کے قرآن کی حقانیت و صداقت پر ایمان رکھتے ہیں اور نئی تحقیق کی تغلیط کرتے ہیں ، یہ نئے علوم جہیں ہم سائنس سے تعبیر کرتے ہیں بلا شبہ انسانی علوم ہی کی ایک شاخ ہیں اور کائنات کے نظام کی جملہ چیزوں کی معرفت آہستہ آہستہ انسان کو ہوتی رہے گی ،

مولانا عبد الماجد دریا آبادی

مو لانا عبد الماجد دریابادی کی زبان میں ”وعلم آدم الأسماء كلها ‘‘ میں کلها‘‘ کی تصریح سے ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ تکوینی سلسلہ میں معرفت اشیاء ساری کی ساری انسان کو ہوکر رہے گی اور اسی لئے علوم کے سلسلہ میں ابھی اسے بے شمار منزلیں طے کرنا ہیں ۔ تفسیر ماجدی: ار۱۰۰، البقرۃ:۳۱۔

)
علامہ لطفی جمعہ

علامہ محمد لطفی جمعہ نے اپنی کتاب “فلسفہ اسلام”کے مقدمہ میں لکھا ہے”قران تقریبا تین سو علوم کا منبع ہے اور ان میں سے اکثر علوم کا ماخذ قران ہے اور دوسرے علوم قران کی خدمت کے لئے مدون کئے گئے ہیں”
شیخ طنطاوی

الجواہر فی تفسیر القران” کے مصنف شیخ طنطاوی لکھتے ہیں”قران میں آیات العلوم کی تعداد سات سو پچاس ہے،جن میں فلکیات،ریاضی،ہندسہ،طب،معدنیات،زراعت اور دوسرے علوم طبعی شامل ہیں”(جواہر القران)

Leave a Reply

Your email address will not be published.