پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

tibb4all

دہی کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثرات
نوادرات

دہی کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثرات

دہی کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثراتناقل:۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوسعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺمقتبس:۔گلدستہ طب و صحت۔جسم کی پرورش کرنے والے اجزا سے بھرپور اور مکمل غذا ہے دودھ کو صدیوں سے ایک مکمل غذا تسلیم کیا جاتا ہے۔ بدنی ڈھانچہ کا

Uncategorized

جنگ نامہ میوات” ایک ادبی، تاریخی اور ثقافتی تجزیہ

جنگ نامہ میوات” ایک ادبی، تاریخی اور ثقافتی تجزیہحکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میوحصہ اول: تعارف اور سیاق و سباق یہ تحریرمحمد کمال الدین کمال سالار پوری کی تصنیف “جنگ نامہ میوات” کا ایک جامع ادبی، تاریخی اور ثقافتی جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کو محض ایک متن

بھنگ میں متعدد امراض کا علاج مضمر ہے۔
Uncategorized

بھنگ میں متعدد امراض کا علاج مضمر ہے۔

بھنگ میں متعدد امراض کا علاج مضمر ہے۔ناقل:۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میواقتباس:۔گلدستہ طب و صحتپھلوں سبزیوں اور جڑی بوٹیوں سے علاج(حصہ دوم)۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھنگ کا پودا ایشائی ممالک میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بری خودرو اگنے والی گھاس پھوس میلوں دور دور تک ہمیں نظر آتی ہے۔

نوادرات

نقش گوہر

نقش گوہرخورشید عالم گوہر قلم بفضله تعالى بقلم.خورشید عالم گوهر قلم حرف آغازمحمد المهر طاهر. صدر پاکستان کیلیگراف آرٹسٹس گلڈ لاہورفن خطاطی اسلام کا اعلیٰ اور جلیل القدر فن ہے۔ اور نقش گوہر ” اس فن کی صحیح معنوں میں امین ہے۔ نقش گوہر کا تازہ ایڈیشن ایسے انداز میں

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان۔
Uncategorized

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان۔ اسباب، عوامل اور اصلاحی امکانات از قلم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو سعد طبیہ کالج، کاہنہ نو، لاہور کبھی آپ نے کسی بزرگ کو یہ کہتے سنا ہے کہ “ہمارے زمانے میں تو طلاق کا نام سن کر گاؤں کانپ

Arabic Books عربی کتابیں

آیئنہ ان کا، عکس ہمارا۔قوموں کے عروج و زوال کی کہی اَن کہی داستان

آیئنہ ان کا، عکس ہماراقوموں کے عروج و زوال کی کہی اَن کہی داستانطبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد از قلمحکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوسعد ورچوئل سکلز پاکستان شام سے تعلق رکھنے والے معروف مسلم مفکر اور مصلح عبد الرحمن الکواکبی (1855–1902) کی ایک شاہکار اور انقلابی تصنیف ہے۔ یہ