Hakeem Qari Younas حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

Hakeem Qari Younas حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

Properties and benefits of popular medicines

مشہور ادویات (عقاقیر)کے خواص و فوائد

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
علم العقاقیر(جڑی بوٹیوں کا علم) بہت قدیم علم ہے اس پر قبل از مسیح سے لیکر آج تک بہت سے لوگوں نے زندگیاں لگاکر تحقیق کی اور آنے والی نسلوں کے لئے گرانقدر سرمایہ چھوڑا،حکیم دیسقوریدوس،جالینوس،ابن بطار،ابوبکر محمدبن زکریا رازی ، بو علی سینا،علامہ نجم الغنی وغیرہ نے اس بارہ میں خصوصی مہارت کا مظاہرہ کیا۔یہ باب اس وقت بھی ایسا ہی کھلا ہوا ہے جیسا صدیوں پہلے کھلا ہوا تھا، حکماء اس ذخیرہ میں اضافہ کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ آپ بھی کوشش کریں تاکہ انسانیت کی خدمت میں آپ بھی اپنا حصہ ڈال سکیں یہ فہرست بہت مختصر ہے افادہ قارئین کی خاطر دی جارہی ہے۔

(1)اعصابی عضلاتی ۔۔۔سرد تر۔۔

وہ تمام دوائیں فعلی طور پر دماغ و اعصاب میں مشینی کیفیت پیدا کرکے قلب و عضلات میں تسکین پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔جگر و غدد میں تحلیل پیدا کرکے خلط بلغم پیدا کرنے ساتھ ساتھ خارج بھی کرتی ہیںجسم میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہیں  بلغمی رطوبات تیزی سے پیدا کرکے جسم سے خارج بھی کرتی ہیں ۔اگر بہت زیادہ مقدار میں کھالی جائیں تو جسمانی حرارت کویک دم کم کردیتی ہیں، جس سے دل ڈوبنے لگتا ہےگرمی کے امراض بخار وغیرہ کو دور کرنے کے لئے بے حد مفید ہیں پیشاب کی جلن اور یرقان کے لئے فوری الاثر ہیں خونی بواسیرہائی بلڈ پریشر کی شدید صورتوں میں مسیحائی دکھاتی ہیں،تمام غدی عضلاتی اور غدی اعصابی امراض کے لئے تریاق ہیں،اجوائن خراسانی، اروی، اراروٹ، ایسبغول، امرود خام،انار شیریں،برہمی۔بوٹی،بھنڈی،بہدانہ،بیر شیریں،بکن بو ٹی، بہی،برگ شیشم، بید مشک ،پھول گلاب،تربوز،تخم خرفہ،تخم کاسنی،تخم کدو،تخم خبازی۔تخم بالنگو، ٹینڈے جوکھار ، چوہا کنی،چاندی،چاول،زہر مہرہ خطائی، ساگوانہ، صندل، فرید بوٹی،کالا دانہ کنول کا پھول، کھیرا،کافور،ککڑی،گوند کیکر،گل گڑھل،گنا گل نیلوفر، گاجر ، مولی،ہاتھی سنڈی ۔

(2)اعصابی غدی۔ترگرم دوائیں

یہ دماغ میں کیمیاوی تحریک پیدا کرکے جگر میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتی ہیں ، خلط بلغم پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جمع بھی کرتی ہیں، تری کے ساتھ گرمی پیدا کرتی ہیں، گاڑھے خون کو پتلا کرتی ہیں،مقوی اعصاب و دماغ اور مفرح قلب ہیںصفراوی امراض میں تسکین پیدا کرتی ہیں،گاڑھی بلغم کو پتلا کرکے حدت خون کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوزشی امراض کی کامیاب دوائیں ہیں ،پیشاب زیادہ لاتی ہیں ،صفراو ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال پر لاتی ہیںنکسیر،خونی پیچس،بواسیر ،بدن کے کھچاؤ کے لئے کامیاب دوائیں ہیں تمام غدی عضلاتی ،عضلاتی غدی اور غدی اعصابی امراض کے لئے تریاق صفت ہیں آڑو شیریں ،آک ،ابریشم،اوٹنگن،الائچی سبز، املتاس،امرود پختہ ،بہمن،تالمکھانہ،تخم تربوز ، چھوٹی چندن،توردی،ثعلب مصری،چھوئی موئی،خربوزہ،چولائی،خطمی،ریوند چینی، زمرد ستاور ،سمندر سوکھ،سقمونیا،ست ملٹھی،سنبل،سیب شیریں، شکاعی،شلجم، کہربا ،کدو ،کیلا کھر نی ،کھویا،گل کیسو،گوندنی،گاؤ زبان،گرما،گلقند،لیچی،موصلی، سفید ، مریم پنجہ،موم ،مربہ سیب  ناگ کسیر ۔ناشپاتی۔

(3)عضلاتی اعصابی۔خشک سرد۔

دل کو کیمیاوی تحریک دیتی ہیں۔جگر میں تسکین اوردماغ میں تحلیل پیدا کرتی ہیں ۔ خلط سودا پیدا کرنے کے بعد جسم میں جمع کرتی ہیں،خشکی سردی پیدا کرتی ہیں اس لئے مقوی قلب و مفرح جگر ہیں،بلغمی رطوبات کو ختم کرتی ہیں،قابض و مقوی بدن ہیں،خون پیدا کرتی ہیں لیکوریا، سرعت انزال۔ شدید کھانسی جس میں بلغم نکلتی ہو، جھاگ ہو ،غلفہ بنتا ہو میں نافع ہیں ، نوجوان مرد عورتوں اور بچوں کے لئے خاص دوائیں ہیں ،بوڑھوں کو احتیاط سے دینی چائیں کیونکہ بوڑھوں میں خشکی زیادہ ہو تی ہے۔ان کی خشکی میں اضافہ کا سبب بن کر تکلیف کا سبب بن سکتی ہیں۔عضلاتی اعصابی دوائیں تمام غدی اعصابی اور اعصابی غدی امراض و علامات کے لئے تریاق صفت ہیں، اگر دینی پڑیں تو بوڑھوں کے لئے عضلاتی غدی دوائیں دیں ، آلوبخارا ، آلو چہ، آملہ،آم خام، اقاقیا، ابرک،اتیس ،لوبیا، حرمل،انجبار،انار ترش بھنگ،بند گوبھی،بیلگری،بیج بند،طباشیر،بیخ مرجان، پیپل ،پھول گوبھی، پھٹکڑی تخم سر یا لہ، املی،انار،کڑا چھال،سرمہ،ہیرا کسیس،ست لیموں،جھاؤ،جامن ،چرس، گؤدنتی سلاجیت سمندر جھاگ،سم الفار، سنگجراحت ،سپی (صدف) کرنجوہ ،گل ارمنی ، گیرو،ہلیلہ سیاہ، ناسپال  موچرس ،مائیں مہندی۔دھتورہ۔

(4)عضلاتی غدی۔گرم خشک۔

قلب میں مشینی تحریک جگر میں تسکین دماغ میں تحلیل پیدا کرتی ہیں سودا پیدا کر نے کے ساتھ ساتھ خارج بھی کرتی ہیں، مصفی خون ہے۔بلغمی امراض کاخاتمہ کرتی ہیں۔اعصابی غدی۔اعصابی عضلاتی علامات و امراض کے لئے اعلی درجہ رکھتی ہیں حرارت عزیزی پیدا کرکے سن بدن کو فورا گرم کردیتی ہیں۔کثرت پیشاب میں بے حد مفید ہیں،ازراقی،بارہ سینگا،افسنتین،انجیر،بالچھڑ،بیر بوٹی،ہینگ، بلادر، جلوتری گھوگر ویل پیاز،پان،پنیر ڈوڈی،تانبا، تخم نیم،ٹماٹر، جدوار، لونگ، جائفل ،چرائتہ، کمرکس،ریگ ماہی،مال کنگنی،مصبر،گوگل،کنوار گندل،نیلا تھوتھا، کالے چنے، منسل، ہالیون،عود صلیب،سرنجان تلخ نیم،چاسکو،مردہ سنگ،گوشت کبوتر انڈے ،کاک جھینگا،کڑوا بادام، پالک، کریلے، ہرن کا گوشت لہسن کچنار، رال، خراطین ،شنگرف۔

(5)غدی اعصابی۔۔ترگرم۔

جگر میں مشینی ۔دماغ میں تسکین اور عضلات میں تحلیل پیدا کرتی ہیں۔صفرا کی پیدائش کے ساتھ خارج بھی کرتی ہیں ۔ گرمی کے ساتھ تری بھی پیدا ہوتی ہے ۔کاسر ریاح ہیں۔سوداوی امراض،سیاہ یرقان،خشک دمہ،بواسیر،مالیخولیا،فالج اسفل ،تپ دق،احتلام،وجع المفاصل میں کامیاب دوائیں ہیں۔تمام عضلاتی غدی اور عضلاتی اعصابی امراض و علامات میں اکیسر صفت ہیں،آم شیریں، ادرک، آکسن، ارنڈ، شہد، بسکھپر ا،بادام شیریں، باتھو، بادیان ،بند،بکری کا گوشت ،پھٹکنڈا ،گندنا ،تخم شلجم،بنولہ، کلتھی، مگھاں، روغن زیتون،مکو کالی مرچ،گڑ، کھجور،ریوند عصارہ،روغن اخروٹ،ریوند خطائی،زیرہ سفید،ہڑتال ورقیہ،تخم نیم ، بداری قند،سنا مکی،سورنجان شیریں،ہار سنگھار ، مروڑ پھلی، اشان، پتھر توڑ بوٹی، اڑوسہ، چرونجی،خربوزہ،اونٹ کٹارا،چلغوزہ،سرپھوکہ ،سنڈھ، شکر تیغال، نمک، نوشادر پستہ ۔ ہلدی
 

(6)غدی عضلاتی گرم خشک

یہ دوائیں کیمیاوی اثرات رکھتی ہیں،گرمی خشکی کی پیدائش کا سبب ہیں،نہایت گرم رطوبت و تیزابیت کا خاتمہ کرکے بدن میں پیدا شدہ زہروں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ اگر دواؤں کے برابر نمک خوردنی شامل کردیا جائے تو اثرات میں 50گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ہیضہ دست قے جب کسی طرح بند نہ ہوتے ہوںتو یہ دوائیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔اگر مقدار میں زیادہ استعمال کرلی جائیںتو دل میں گھبراہٹ پیدا کرتی ہیں۔تمام اعصابی عضلاتی ۔عضلاتی اعصابی امراض و علامات کے لئے تریاق ہیں۔آسارون،اجمود، اجوائن، اخروٹ، اشق بٹیر ،بچھو،برنا،بکائن،بندال ڈوڈہ، بھنگرہ،پلاس پاپڑہ،پنواڑ،پودینہ،تارا میرا، تیتر، تیلنی مکھی ۔ تیندو،تخم کرملی ، ٹڈی،جل بھنگرہ،جگنو،جمال گوٹہ،جل دھنیا، چڑیا، چکور، چیڑ، چینوٹا، حسن یوسف ، خولنجان،دیودار،رائی،ذراریج،روغن تارپین،زعفران سازج،ساریقون سانپ ، سالٹ،ستیاناسی،سرسوں،سداب،سنگدانہ مرغ، سانول ،سونا، شیطرج، صنوبر، عقرقرحا ،عود بلسان،غاثف،کمون،کالی زیری، کباب، کٹائی خورد، کنڈیاری، کچور، کرفس، ککروندہ ،کندر  گندھک،مصطگی،سرخ مرچ، میلم، نرکچور،ہرن کھری۔
ادویہ بلحاظ درجہ بندی۔بمطابق مفرد اعضاء۔
اس ترتیب میں سب سے زیادہ اثرات والی دوا پہلے جب کہ دوسرے نمبر پر لکھی جانے والی دوا دوسرے درجہ کے اثرات کا حامل ہوتا ہے۔
(1)اعصابی عضلاتی تر سر
د(1)اروی،ایسبغول،انار شیریں،تخم کدو،توت سیاہ، تربوز دودھ بھینس، کھیرا ،چاول(2)تالمکھانہ،تخم تربوز،گوند کیکر،تخم خیاریں ،تخم کاسنی سمندر۔سدا سہاگن ،سہدیوی،موصلی سفید(3) کافور،روغن،بہدانہ،بالنگو،قلمی شورہ، کاہو ۔ صندل ، چھوموئی،میٹھا تیلیہ،اجوائن خراسانی،قلعی، چاندی، کافور۔
(2)عضلاتی اعصابی۔خشک سرد۔
(1)آلو بخارا،کچا آم،آملہ،انار ترش، سیب ،سنگترہ ۔ لوکاٹ،بینگن،جوار،شکر قندی ،مالٹا ،کنو ،دہی، لسی (2)اقاقیا،گل ببول، ہلیلہ،پوست انار پھٹکڑی، زرشک، سپاری ، سنگھاڑہ ، کاکڑا سینگی(3) خشخاش،اسرب،حجر یہود ،سلاجیت ،ہیرا کسیس، چلاپہ، ست لیموں (4) سنکھیا۔پوست خشخاش دھتورہ ،سندھور، افیون ، الماس ،خراطین۔
(3)عضلاتی غدی۔خشک گرم
(1)السی،انڈہ،چنا،سبوس گندم، شراب،۔ کبوتر، چوہا ر ے ،اخروٹ،چلغوزہ،پیاز کی چٹنی(2)اسطو خودوس،انجیر،خاکسی،خرما،مالکنگنی، دار چینی،خولنجان،سنبل الطیب ،عنبر، لونگ ، مین پھل (3) ابہل، تمہ،مصبر،بیر بوٹی، جائفل ، جدوار۔ چرائتہ، زعفران ، با رہ سنیگھا (4)کچلہ ۔ دار چکنا۔
(4)غدی عضلاتی۔گرم خشک۔
(1)بٹیر،خوبانی،گوشت مرغ،تارا میرا،سرسوں کا ساگ میتھی کا ساگ ،لہسن ، ادرک ( 2)اجوائن دیسی، اسارون،تگر، کٹائی خورد، رائی،کالی زیری،بابچی (3) افسنتین، جگنو،حلتیت، رسونت،کباب چینی،گھونگچی، گھیکوار(4)تیلنی مکھی،جمال گوٹہ، ہڑتال ورقیہ،سانپ کا زہر۔
(5)غدی اعصابی۔گرم تر۔
(1)آم شیریں،انگور شیریں،اونٹ کٹارا،بادام شیریں پستہ،چلغوزہ،ادرک،گوشت بکری،روغن زیتون (2)آنبہ ہلدی، افیون، بارود، سونف فلفل دراز،فلفل سیاہ، پھٹکنڈہ ، ہلدی ،شکر تیغال،سنا مکی ، پنبہ دانہ (3) بندق (ریٹھہ ) بیروزہ،روغن تارپین (4)آب لہسن ۔ رسکپور۔
(6)اعصابی غدی۔تر گرم
(1)بھنڈی توری،تخم توت،چربی،حلوہ گندم،شلجم، کدو نارجیل ،گنا،چینی ،ابریشم ،الائچی خورد،املتاس،رب السو س (2)دھنیا،زہر مہرہ خطائی سپستان ،ستاور، سہاگہ ،ملٹھی ، سونف، صندل،بندال ڈوڈہ (3) کہربا،گلو، کنگھی ،لوبان ، سر پھوکہ ،دودھی بوٹی، چنبیلی ،سقمونیا (4)آک کا دودھ، سونا ماکھی، کدو تلخ، مروڑ پھلی،مشک خالص 
ادویات کا استعمال:
(1)

صحیح تشخیص کے بعد صحیح تجویز کی ہوئی دوا استعمال کرائیں جب تک تشخیص و تجویز میں شک ہو دوا استعمال نہ کرائیں، ایسی صوت میں بہتر یہ ہے کہ صرف غذا روک دیںتسلی ہونے پر دو ا استعمال کرائیں

(2)جہاں تک ممکن ہو مفرد دوا استعمال کرائیں،دوا میں بھی جب تک ہلکی دوا سے کام چلے تیز ادویہ کے استعمال کی کوشش نہ کریں
(3)جہاں تک ممکن ہو کم ادویہ کا نسخہ استعمال کریں
(4 ) زہریلی ادویات سے حتی الامکان پرہیز کریں
(5)جن ادویات کے خواص و کیفیات کا علم نہ ہویا جس مرکب کے اجزاء کوپوری طرح نہ جانتے ہوں اسے استعمال نہ کریں
(6)کسی مرض کو دور کرنے کے لئے اس وقت تک ہرگز دوا نہ دیں جب تک مریض کی کیفیات اور مزاج کو درست نہ کرلیں
(7)جسم میںموجود فاسد مواد و فضلات کی موجودگی میںمقویات کا استعمال ہرگز نہ کرائیںکیونکہ ایسی حالت میں یہ چیزیں مرض میں زیادتی کا سبب بن سکتی ہیں
(8)کسی عضو کی مقوی دوا اس وقت استعمال کریں جب اس عضو کو دوا جذب کرنے کے لئے تیار کرلیا گیا ہو
(9)بغیر سوچے سمجھے شدید مسہلات ، مدرات اور مقویات استعمال نہ کرائیں
(10)مواد کو اعضائے رئیسہ کی طرف امالہ کی کوشش نہ کریں
(11)مریض جس مرض یا علامت کا ذکر کر ے فوراََ اٹھا کر اس کی دوا نہیں دیدینی چاہئے بلکہ خود تشخیص کریں، پھر دوا تجویز کریں کیونکہ ممکن ہے جب مریض پیٹ درد کا ذکر کرے تو وہ درد جگر یا آنتوں وغیرہ میں ہو، اسی طرح یہ درد ریح بھی ہوسکتا ہے ، سوزش سے بھی اس مقام پر درد ہوسکتا ہے
(12) مریض اگر گرمی کی شکایت کر ے تو اس کے لئے بغیر سوچے سمجھے تدبیر تجویز نہ کریں کیونکہ بے چینی اکثر ریاح کی شدت اور کسی عضو کے انقباض کی وجہ سے ہوتی ہے ، ان کے لئے گرم ادویہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسے ہیضے کا مریض گرمی کی زیادتی اور پیاس کی شدت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے لئے ٹھنڈ پانی زہر قاتل ہے  ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.