Nuskha Sazi by Hakeem qari younas (حکیم قاری محمد یونس شاہد)نسخہ سازی

Nuskha Sazi by Hakeem qari younas

(حکیم قاری محمد یونس شاہد)نسخہ سازی

نسخہ سازی ماہر طبیب کا کام ہوتا ہے لیکن قوانین قدرت سے واقف طبیب آسانی کے ساتھ نسخہ تجویز کرسکتا ہے۔اگر آپ کے مطب میں طبی کتب موجود ہیں تو یہ معاونت کریں گی بصورت
دیگر آپ معروف ادویہ کی ایک فہرست بنائیں گے ساتھ میں ان کے مزاج بھی لکھیں گے۔جیسے گرم خشک ۔خشک گرم۔سرد تر۔سرد خشک۔تر سرد۔ وغیرہ جس قسم کا بھی مرض یا اسباب مرض دیکھنے کو ملیں انہیں میں سے موجود خوراک وادویہ تجویز کردے۔امید ہے کہ ضرورت پوری ہوجائے گی۔کچھ لوگ معروف ادویہ کو ہی بطور دوا کے استعمال کرتے ہیں لیکن بہتر انداز علاج یہ ہے کہ طبیب لوگ اپنے ارد گرد پائی جانے والی خوراکوں اور ادویہ پر غور کرے ۔پائی جانے والی جڑی بوٹیاں اور بطور خوراک پائی جانے والی اجناس کے بارہ میں معلومات حاصل کریں تاکہ تجویز علاج میں آسانی رہےہمارے علاقہ میں باتھو۔چولائی۔چوہا کنی۔ سرسوں۔تارا میرا ۔ مولی ۔ گاجر۔اجوائن۔بکائن۔پلاس پاپڑہ۔پودینہ۔دھنیا ۔میتھی رائی۔سنگ دانہ مر غ۔لال مرچ کٹائی خورد۔کنڈیاری۔ہرن کھری۔ادرک۔ ارنڈ آم۔ آکسن۔امربیل،باد آورد ۔بکن ۔ بنولہ ۔ پالک  ۔پھٹکنڈا ۔ سوئے ۔شلجم۔ کیلا ۔ گلو ۔ گیندے کا پھول ۔گندم ۔مکو۔ سونف۔ نمک۔ ہلدی۔ ٹاہلی ،کیکر۔ پیپل۔ بوہڑ گوکھرو۔ شورہ قلمی۔جوکھار۔سرکہ۔تلسی مکھی۔شہد کی مکھی۔ سہاگہ ۔ سرس ۔ سورج مکھی پھٹکڑی۔جونک۔آک۔بیربوٹی۔نیم۔سفیدہ۔امرود۔سٹابری۔ارجن ، گھوڑ ا سمی۔ نیلو فر ۔ شہتوت۔تربوز۔ خربوزہ۔وغیرہ اسی قسم کی دیگر کئی اشیاء آسانی کے ساتھ مفت یا معمولی قیمت دیکر حاصل کی جاسکتی ہیں جس طبیب کی پہنچ ان اشیاء تک ہو اسے کسی بھی دوا کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔جو طبیب اسی انداز میں سوچنے کا وطیرہ اختیار کرلیگا۔
ہر قسم کے طریق علاج میں جہلاء موجود ہوتے ہیں۔
کسی شعبہ میں دیکھ لیں باتوں میں اور عمل میں بہت زیادہ فرق پائیں گے۔عمومی طور پر بحث و مباحثہ میں بے جوڑ دلائل سے کام لیا جاتا ہے۔جب دین کی بات کی جاتی ہے تو دنیا کی مثال دی جاتی ہے اور جب دنیا کو لیں تو دین سامنے آجا ہے۔ آسان انداز میں یوں سمجھ لیں بہت سے معالج دوسرے طر ق علاج کو کسی نہ کسی انداز میں طعن و تشع کا شکار بناتے رہتے ہیں۔اپنی طرف سے عمدہ اور چنیدہ مثالیں پیش کی جاتی ہیں جب کہ دوسروں کے عیوب ظاہر کرنے کے لئے اس طبقہ کے کمزور یا کم علم لوگوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔درحقیقت جملہ شعبہ ہائے زندگی میں کم تجربہ کار سطحی ذہن والے اور اپنے کام میں کم توجہ دینے والے موجود ہوتے ہیں۔فرق مراتب ہر جگہ و ہر مقام پر موجود ہوتا ہے۔اس بات میں شک نہیں کہ عمومی طور پر لوگ منفی سوچ کو اپنا چکے ہیں اچھائیاں صرف وہ ہیں جو ہم یا ہمارے متعلقہ افراد کریں برائی و قباحت ان لوگوں میں ہے جو ہمارے کسی وجہ سے مخالف ہیں۔ کسی شعبہ میں اگر اچھی باتوں کو اپنایا جائے اور بری باتوں سے صرف نظر کیا جائے توپیچیدہ ولاینحل مسائل اس انداز میں حل ہونگے کہ ان کا وجود ہی باقی نہیں رہے گا۔دیسی طب میں اگر کچھ کم علم و سطحی سوچ والے لوگ منسلک ہیں تو میڈیکل کے شعبہ سے وابسطہ بہت سے افراد بھی اسی انداز میں زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں ایسے لوگوں کو دلیل و شواہد کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان سے بیزاری و لاتعلقی کا اظہار کیا جانا چاہئے اور اعلی کارکردگی والے مخلص و محنتی لوگوں کوقابل توجہ بنانا چاہئے۔اجتماعی انداز میں اس سوچ کو اپنانا چاہئے کہ اچھی باتیں جہاں سے بھی ملیں اپنا لیں اور برا کام ۔بری باتیں جہاں بھی ہوں جس انداز میں بھی ہو ان سے برأت اختیار کرنی چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.