Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim

Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim

Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim

Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim
Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim

تاریخی پس منظر ۔محمد ابن قاسم کا دور
Historical background: The era of Muhammad Ibn Qasim
الخلفية التاريخية: عصر محمد بن قاسم

حکیم المیوات۔قاری محمد یونس شاہد میو

برصغیر پاک و ہند میں عربوں کے تجارتی تعلقات کا سلسلہ آغاز اسلام سے بہت پہلے ملتا ہے ،مگر ظہور اسلام کے بعد عہد خلافت ہی مسلمانوں کے قدم مغربی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پہنچ گئے تھے ۔سن 93ھ۔بمطابق 712 عیسوی میں سب سے پہلے محمد ابن قاسم نے سندھ میں اسلامی حکومت کا سنگ بنیاد رکھا ،اسلامی ثقافت و مذہب اور نئے نظام حکومت نے اس علاقے میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ سندھ کے پسماندہ لوگوں کو انسانی حقوق ملے اور وہ راجاؤں ،ٹھا کروں ،پر وہتوںاور برہمنوں کی چیرہ دستیوں اور جبرو استبدادسے آزاد ہوئے،

محمد ابن قاسم نے فتوحات اور قیام حکومت کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کی طرف بھی پوری توجہ دی،تربیتی ادارے اور مساجد و مدارس قائم کئے اس سلسلے میں اس کو حجاج ابن یوسف کی واضح ہدایات تھیں ۔ ہریک ر ابکلمہ اسلام استدعادہ کنید وہر کہ بعز اسلام مشرف گردداورا تربیت کنید۔(چچ نامہ،از علی ابن حامد کوفی،مرتبہ ڈاکٹر عمران بن محمد داؤد پوتا،حیدرآباد دکن1939۔صفحہ126)
یعنی ہر ایک کو کلمہ اسلام کی دعوت دیجئے اور جو کوئی اسلام سے مشرف ہو جائے اس کی تربیت کیجئے۔
اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور یہاں آبادی کا بڑا حصہ مسلمان ہو گیا دیبل کی فتح کے بعد وہ مسجد تعمیر کی گئی اور مسلمانوں کی آباد کاری کا انتظام کیا گیا(فتوح البلدان۔احمد بن یحییٰ بلاذری۔بیروت 1917۔صفحہ161)
محمد ابن قاسم کے بعد کے حکمرانوں نے بھی حتی الوسع تبلیغ اسلام میں دلچسپی لی بلکہ کبھی کبھی تو براہ راست دربار خلافت(بغداد) سے برصغیر پاک و ہند کے راجائوں اور زمینداروں کو تبلیغی خطوط پہنچتے تھے ۔اور ان کا اچھا اثر ہوتا تھا ۔99ہجری ،بمطابق 717 عیسوی میں خلیفہ عمر ابن عبدالعزیز تخت خلافت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے اکثر راجاؤں کو خطوط لکھے ان میں سے بعض نے اسلام بھی قبول کرلیا (فتوح البلدان 630)
اسی طرح جب 158ھ774 عیسوی میں مہدی برسرآرائے حکومت ہوا تو اس کے تبلیغی خطوط کے جواب میں 15 راجائوں نے اسلام قبول کیا (تاریخ سندھ ،ابو ظفر ندوی اعظم گڑھ 1947، صفحہ 161)
ظاہر ہے ان راجائوں کا قبول اسلام انفرادی حیثیت سے نہ ہوا ہوگا بلکہ ایک بڑے خاندان ،ایک بڑی جماعت، اور ایک بڑے گروہ نے اسلام قبول کیا ہوگا بلکہ پھر تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعض راجاؤں کو خود اسلامی تعلیمات وعقائد کی تحقیق کا شوق پیدا ہوا چنانچہ کشمیر بالا وزیریں کے علاقے کے راجہ مہروک بن رائک(یا رائق)کی درخواست پر منصورہ کے حاکم عبداللہ ابن عمر نے270ھ بمطابق883ءمیں راجہ کے پاس ایک عراقی نژاد فاصل نوجوان بھیجا جس نے راجہ کی شان میں قصیدہ کہا اور قرآن کی تفسیر لکھی اور خیال ہے تو وہ راجہ مسلمان ہو گیا (ہندوستان عربوں کی نظر میں۔صفحہ193تا195)ہند پاکستانی زبان میں قرآن کریم کی پہلی تفسیر تھی ۔

غزنوی عہد ۔

برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا دوسرا دور غزنویوں کے زمانے سے شروع ہوا۔ محمود غزنوی،431ھ۔1030ءنے مغربی پاکستان کا ایک حصہ زمین کی حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ غزنویوں کے عہد میں لاہور میں شیخ حسین زنجانی شیخ علی ہجویری ،شیخ اسماعیل محدث ملتان میں ۔یوسف گرویزی ،اوچ میں صفی الدین گا زرونی اور شا ہ کوٹ میں سلطان سخی سرور مشہور صوفی گزرے ہیں،جنہوں نے تذکیر و تبلیغ کے فرائض انجام دے کر ان علاقوں میں اسلام کو سربلند کیا اور ان صوفیاء کی کوششوں سے مختلف قومیں اور قبیلے مشرف بہ اسلام ہوئے ۔مغربی پاکستان کے اکثر علاقے غزنوی حکومت میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کو بخوبی تقویت حاصل ہوئی اور لاہور ۔جلد ہی ایک اسلامی شہر بن گیا ۔

غوری عہد ۔

سلطان معز الدین محمد بن سام غوری کی فتوحات سے پاکستان اور بھارت میں مسلمانوں کا تیسرا دور شروع ہوا۔ اس دور میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کی باقاعدہ داغ بیل پڑی ۔سلطان نے راجپوتوں کے مشہور راجہ پرتھوی راج کو ختم کرکے نہ صرف دہلی کو فتح کرلیا بلکہ راجپوتوں کا زور توڑ دیا ۔دو سال بعد قنوج کے راجہ جے چند کو بھی بیچ میدان شکست دی۔ اس کے سپہ سالار محمد بن بختیار خلجی نے فتوحات کا دائرہ بنگال تک وسیع کردیا ۔شمالی ہند میں قطب الدین ایبک نے فتوحات کو وسیع تر کیا ۔سلطان غوری کے قتل کے بعد 602ھ بمطابق1206ءمیں قطب الدین ایبک لاہور میں تخت نشین ہوا ،اگرچہ قطب الدین ایبک کا زیادہ وقت فتوحات اور جنگی مہمات میں گزرا لیکن اس کے زمانے میں اسلام کو خوب ترقی ہوئی ۔مساجد، مدارس اور خانقاہیں تعمیر ہوئیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے مبارک شاہ فخرمدبر لکھتا ہے ۔
کافران قوی،درایا ن بزرگ و بسیار یار فیل ولشکر را بر انداخت بعضے را در ربقئہ اطاعت آورد و مسلمان کرد و شہرہائے کفر بلاد اسلام گشت وبرجائے صنم،صمد را۔۔می پرستند و بت خانہا،مساجد و مدارس و خانقاہ شد و ہر سال ہزار ہا، ہزار کفر ہ را باسلام می آرند تابو حدانیت حق بگووند و مسلمانی رزند تا مستوجب بہشت گردند۔۔
طاقتور اور کافروں، بڑے راجائوں ،بہت سے ہاتھیوں اور فوج کو اکھاڑ پھینکا کچھ لوگوں کو مطیع کیا اور مسلمان کیا ،کفر کے شہر اسلام کے شہر بن گئے۔ (اب لوگ)بتوں کی جگہ خدا کو پوچھتے تھے ،بت خانوں کی بجائے مسجد مدرسہ اور خانقاہیں بن گئیں۔ہر سال ہزاروں کافروں کو مسلمان بناتے ہیں تاکہ وہ خدا کی وحدانیت کا اقرار کریں مسلمان ہوجائیں اور بہشت کے مستحق ٹہریں ۔۔۔۔

https://www.google.com/url?sa=i&url=https%3A%2F%2Fm.facebook.com%2FAahat.Islam%2Fposts%2F574778159602817%2F&psig=AOvVaw03ATY-Kr_k8cWJULZTM4mm&ust=1671322954950000&source=images&cd=vfe&ved=0CBEQjhxqFwoTCKCusqqx__sCFQAAAAAdAAAAABAE

خود سلطان قطب الدین شریعت کا بڑا پابند تھا اس کے زمانے میں شعائر اسلامی پورے طور سے رونق افزوں تھے۔ تاج الماثر کامولف لکھتا ہے :
شعار الشرائع اسلام بہ غائب ظہورآنجاامید ومنا ہیج و شعائر مسلمانی بکمال وضوح پیوست۔(تاج المآثر،نظام الدین حسن نظامی نیشاپوری بحوالہ بزم مملوکیہ از صباح الدیں عبد الرحمن۔اعظم گڑھ 1953ء صفحہ74)اسلامی شریعت کے کاموں کو پورے طرح انجام دیا اور اسلامی شعائر اور طریقہ مکمل طور پر رائج ہو گئے

راجپوتوں میں تبلیغ اسلام

پاکستان میں مسلمانوں کی سیاسی استحکام اورملک گیری کے ساتھ ساتھ صوفیہ اور مشائخ اور علماء و فضلاء کی علمی و ثقافتی اور دینی و تبلیغ سرگرمیاں بھی پورے طور سے عمل میں آئیںاور ایک انقلاب عظیم آگیا ،بالخصوص صوفیہ کے مقدس جماعت نے پاکستان و ہند میں اصلاح و تبلیغ کا کام بہت اچھی طرح انجام دیا۔خواجہ معین الدین اجمیری کے متعلق شیخ ابو الفضل علامی لکھتا ہے
از دم کبرائے اُو گروہ با گروہ مردم بہرہ برگرفتند۔۔۔۔
ان کے وعظ و تذکیر سے لوگ جوق در جوق مستفید ہو ئے(آئین اکبری از ابو الفضل۔بہ تصحیح سرسید احمد خان دہلی ص 207)
اسی طرح خواجہ مبارک العلوی لکھتا ہے ۔
بوصول قدم مبارک آں آفتاب اہل یقین کہ بہ حقیقت معین الدین بود ظلمت ایں دیار بہ اسلام روشن و منور گشت۔۔۔۔(سیر الاولیاء از مبارک العلوی۔مطبع محب ہند دہلوی1304ھ صفحہ74)
اس آفتاب اہل یقین کے آنے کی وجہ سے حقیقت میں معین الدین (دین کا مددگار)تھا اس علاقے کی ظلمت اسلام کی روشنی و نور سے بدل گئی۔بابا فرید گنج شکر نے پاکپتن کو رشد وہدایت کا مرکز بنایا اور پنجاب میں اسلام کی اشاعت فرمائی ۔راجپوتوں کے کئی قبیلے سیال اور وٹو وغیرہ ان کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے ۔پاکپتن کی ایک پوری قوم اپنے مقتدا کے ہمراہ جو ایک جوگی تھا، بابا فرید کی توجہ سے مسلمان ہوئی ۔راجپوتوں کے بعد دوسرے قبیلوں پھلیاں اور جاٹ وغیرہ نے بھی بابا صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اس طرح بابا صاحب کی اولاد اور سجادہ نشینوں کی توجہ سے بھی بعض راجپوت خاندان اور سوندھی قوم مسلمان ہوئی۔
بو علی قلندر( 734ھ۔۔1324ء)پانی پت کے مشہور صوفی گزرے ہیں، ان کے ہاتھ پر اکثر راجپوت مسلمان ہوئے، ایک شخص امر سنگھ نے قلندر صاحب کی توجہ سے اسلام قبول کیا جس کی اولاد پانی پت کے محلہ راجپوتاں میں رہتی ہے
خواجہ بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی کے سلسلےکے مشہور شیخ طریقت اور پاکستان وہند میں اس سلسلے کے بانی ہیں، ان کی تعلیم و ترقی سے مغربی پاکستان کے اکثر قبیلے مشرف بااسلام ہوئے (اس سلسلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے ۔مخدومی جہانیاں جہان بازگشت ۔از محمد ایوب قادری ،کراچی 1963ء۔صفحہ 61تا62)
حضرت زکریا ملتانی کے مریدخاص جلال سرخ بخاری اوچی (790ھ/1291ء)نے بھی اصلاح و تبلیغ کا کام پوری مستعدی سے انجام دیا ۔علاقہ اوچ کی اقوام چدھڑ ڈہراور سیال وغیرہ میں حضرت کی ہدایت سے اسلام قبول کیا ۔مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیںہزار ہا مخلوق خدا را بہدایت ہادی حقیقی براہ راست آورد شہر جھنگ سیال کہ در پنجاب مشہور و معروف است بنا فرمودـ
(خزینۃ الاصفیاء جلد دوم از مفتی غلام سرور لاہوری (لکھنئو1914ء)ص36۔)
ہزار ہا مخلوق خدا کو اللہ تعالی کی ہدایت سے راہ راست پر لائے اور شہر جھنگ سیال کی کہ جو پنجاب میں مشہور و معروف ہے بنیاد ڈالی ۔
اس علاقے کا ایک راجاگھلو بھی حضرت جلال سرخ کے دست حق پرست پر مسلمان ہوا، جس کی اولاد ضلع ملتان کے اکثر گانوؤں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ اسی طرح ان کے پوتے مخدوم جہانیاں جہاں گشت (785ھ/1384ء)بھی تبلیغ اسلام میں بہت کوشاں رہے اور غیرمسلموں کی بڑی تعداد ان کے ذریعے مشرف بہ اسلام ہوئی ۔ نون (راجپوت) اور راجا کرن ۔(ہستناپور)کے اخلاق بھوپا اور کھرل ۔(ساکنان اوچ)نے حضرت مخدوم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اسی طرح علاقہ جیسلمیرکے راجپوت قبیلے منج کا ایک شخص رائے تلسی داس حضرت مخدوم کے ہاتھ پر مسلمان ہوا جس کا نام شیخ چاچو رکھا گیا (مخدوم جہانیاں جہاں گشت صفحہ206تا207)
یہاں ہم نے راجپوتوں کے اجتماعی اور قبائلی قبول اسلام کا مختصر ذکر کیا ہے اگر تفصیلات پیش کی جائیں تو ایک دفتر ہو جائے لیکن بعض اہم قبائل اور برادریوں کا سرسری ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں اگر چہ اس فہرست میں بھی اضافہ کی کافی گنجائش ہے ۔(21کاکتاب کا صفحہ)

قائم خانی راجپوت ۔

قائم خانی مسلمان راجپوتوں کی ایک بہت بڑی شاخ ہے ،ان میں بڑے بڑے زمیندار جاگیردار اور اہل سیف ہوئے ہیں۔ راجپوتانہ ان کامستقر و مرکز رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد قائم خانیوں کی بڑی تعداد سندھ میں سکونت پذیر ہوئی ہے۔ مشہور ان کے بزرگ قائم خان فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مشرف بہ اسلام ہوئے (ملاحظہ ہو واقعات قوم قائم خانی اس مولوی عطاء محمد خان خان دہلوی 1931.)

پنجابی سوداگراں ۔

مسلمانوں کا ایک اور صاحب ثروت مقدر اور دین دار طبقہ پنجابی سوداگراں (دلی والے پنجابی)کے نام سے مشہور ہے۔ یہ لوگ بالعموم تجارت پیشہ دیندار اورمخیر ہوتے ہیں ۔رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑا حصہ لیتے ہیں، ان کے مشرف با اسلام ہونے کے سلسلے میں اگرچہ کو یقینی تاریخی شہادت نہیں ملتی مگر یہ قدیم الایام سلمان ہیں ،اسی زمانے میں پنجاب سے نقل مکانی کرکے دہلی اور شمالی ہند میں پھیل گئے اور مسلم معاشرے کا ایک مضبوط ستون ثابت ہوئے
(ملاحظہ ہو تاریخ قوم پنجابی سوداگراں ۔ازنصیب احمد باغ پتی۔کراچی1967۔و خطبہ استقبالیہ خان بہادر حکیم معظم علی خاں رئیس فیس اون لی جنت شبان المسلمین اولولہ۔1945ء)

میمن

اسی طرح میمن حضرات ہیں ان کا مرکز گجرات اور کاٹھیا واڑ رہا ہے، شروع میں یہ علاقہ اسماعیل داعیوں کے زیر اثر ہے۔ مسلم صوفیاء بھی تبلیغ و اشاعت کے کام میں مصروف رہے اور قادری مشائخ کے زیر اثر میمن مسلمان ہو گئے، ان کے بزرگوں میں کون شخص کب مسلمان ہوا اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں اور کوئی یقینی شہادت نہیں ملتی مگر یہ مسلمانوں کا ایک مقتدرذی عزت ،صاحب حیثیت دیندار جماعت ہے ۔علامہ عبدالعزیز میمنی جیسے ادیب شہیر اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔
(ملاحظہ ہو تاریخ قوم کچھ وہم قرآن مع حالات کو میمنہ نہ اس مرزا محمد قاسم برلاس مراد آبادی شادی مت بوعہ صدیقی پریس مراد آباد۔ملاحظہ ہو میمن عالم ماہانہ کراچی جون1979ءصفحہ9تا12)

مومن

مسلمانوں کی ایک اور دین دار سلیم الطبع خوشحال اور صنعتکار جماعت پارچہ بافوں کی ہے، جاگیردارانہ معاشرت میں ان کو وہ درجہ نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے، یہ لوگ بھی مختلف اوقات میں داخل اسلام ہوئے، ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو باہر سے آکر وارد ہوئے ۔
ملا عبدالقادر بدایونی لکھتے ہیں :سید محمد جامہ باف مشہور بہ میر رباعی است ،دریں وادی خیام زمانہ است در سفر جونپور ورسنہ ثلث و سبعین و تسعمائۃ عالم رفت۔
(منتخب التواریخ ملا عبدالقادر بدایونی جلد سوم کلکتہ1874 صفحہ 242)
سید محمد جامہ باف کہ میر رباعی ایک عرف سے مشہور ہیں اور اس وادی میں اپنے زمانے کے خیام ہیں اور کے سفر میں 973ھ میں فوت ہوئے ۔

خانی خاں لکھتا ہے ۔
سید محمد جامہ باف ازسادات ستودہ صفات وصاحب طبع بودہ در رباعی شہرت دارد ۔سید محمد جامہ باف ،مقدس سادات سے ہیں اور صاحب شعروسخن ہیں رباعی میں شہرت رکھتے ہیں(منتخب البا ب جلد اول۔محمد ہاشم خانی خان صفحہ243)
مولوی عبدالسلام نعمانی لکھتے ہیں ۔
ملک افضل علی علوی کے رفقاء اور لشکریوں میں جو لوگ زندہ رہے وہ بنارس ہی میں رہ گئے اور یہاں انہوں نے رزق حلال جان کر ریشم کے کپڑے سے بننے کا کام اختیار کیا ۔چونکہ یہ حضرات اپنی نیکی اور دینداری شرافت خاندان کی بنا پر دوسری قوموں سے ممتاز تھے اس بنا پر ان کی مومن اور شیخ کے نام سے شہرت ہوئی ۔ان کی نسلیں بنارس ہی میں بڑھیں اور دوسرے اطراف میں بھی منتقل ہوئیں،ان حضرات کا تعلق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد سے تھا، اس بنا پر علوی کہلاتے ہیں۔لیکن جب ان کی نسلیں بنارس ہی میں بڑھیں اور دوسرے اطراف میں بھی منتقل ہوئی تو ان کو نور باف کہا جانے لگا۔ جو عرصہ دراز تک رائج تھا اور اب بھی قدیم شاہی فرامین میں لکھا ہوا ملتا ہے
علم الانساب کی کتابوں اور ہندوستان کی قدیم تاریخی دستاویز وں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نور باف ایک بڑی تعداد میں بنارس جون پور، غازی پور، اعظم گڑھ کے علاقوں میں آباد ہوگئے لیکن یہاں کی دوسری قوموں کے ساتھ اختلاط اور میل جول سے اب خاندانوں کا پتہ نہیں چلتا لیکن واقع ہے کہ تقریبا نو سوسال سے پارچہ ریشم کے بننے کا سلسلہ یہاں اب تک قائم ہے اور نسلا بعد نسل ہوتا آیا ہے اور اب اس کی ایک مستقل تاریخ بن گئی ہے ،(آثار بنارس۔مولوی عبدالسلام نعمانی ۔مکتبہ ندوۃ العلماء عرف بنارس عرس 1960صفحہ صفحہ 65 66)
لال خانی راجپوت
ضلع بلند شہر اور اس کے جوار و نواح میں لال خان خواتین صاحب حیثیت اور دین دار ہیں بلکہ بعض مدارس اسلامیہ میں بھی ان کی طرف سے جاری ہیں۔ ان کے مورث اعتمارائے واختلاف روایات ازعہد جہانگیری، عالمگیری کسی وقت مشرف بہ اسلام ہوئے ۔نسلا یہ لوگ بڈ گوجر راجپوت ہیں چھتاری کا خاندان دینی اور دنیاوی اعتبار سے نہایت ممتاز ہے
(مرآۃ الانساب۔ضیاءالدین امروہی،مرتبہ رحیمی جی پر1917صفحہ178تا181)

شیوخ قانون گویا ں۔

اضلاع میرٹ،بلند شہر اور نواح دہلی میں شیوخ ہے قانون گویاں کی ایک قابل ذکر برادری ہے، ان میں سے زیادہ تربھتیاگر کائستھ ہیں کچھ لوگ بقال اور برہمن بھی ہیں، خیال ہے کہ یہ لوگ عہد عالمگیری یا ما بعد زمانے میں مسلمان ہوئے اس بارے میںنو اب ثابت خان حاکم (علی گڑھ) کی کوششوں کو بہت دخل تھا بلکہ بہت سے لوگ نواب ثابت خان کی مساعی جمیلہ سے داخل اسلام ہوئے اور یہ لوگ ثابت خانی مسلمان کہلاتے تھے
(احسن الکتاب وصفات الانساب، از عبدالرحیم ساکن عطر ولی قلمی مملوکہ دکن دارلاشاعت کراچی)
برصغیر پاک و ہند کے کتنے ایسے قبیلے اور برادریاں ہیں جن کی چھوٹی چھوٹی شاخیں یا مقتدر افراد مختلف اوقات میں داخل اسلام ہوئے اور ملت اسلامیہ کے قوت بازو اور اساس اثاثہ بنے برہمن چھتری ویش وغیرہ ہر قوم کے لوگ داخل اسلام ہوئے ۔کشمیر پنجاب وغیرہ کے راجپوت بٹ،ٹوانہ۔ نون مہناس جنجوعہ،پراچہ، جاٹ ،ڈار،بھٹی، جرال، چب، چوہان،کچھوانہ، کھوکھر، سیال،گکھڑ گجر (گوجر)وغیرہ بہت سے ایسے قبائل ہیں جو مختلف اوقات میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور انہوں نے ملت اسلامیہ کا ایک مضبوط حصہ بن کر مذہب و ملت کے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ہر شعبہ حیات میں اپنے دیرپا نقوش چھوڑے ،ان ہند پاکستانی قبائل اور ہر برادری سے بڑے بڑے ارباب علم و فضل اور مشاہیر ظاہر ہوئے (ہم نے اس فہرست میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا ہے جو اعلان اپنے آپ کو ہندی النسل بتاتے ہیں اور یہ وہ نام ہیں جو سرِ دست یاد آئے ورنہ تلاش و تحقیق سے اس فہرست میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے)ماضی قریب کے کچھ نہ ملاحظہ ہو ں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.