blood pressure treatment in urdu بلڈ پریشر کا علاج اورطب نبویﷺ

بلڈ پریشر کا علاج اورطب نبویﷺ

Blood Pressure Treatment in Urdu

تحریر
حکیم قاری محمدیونس شاہد میو

صحت مند دل

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ:کوئی انسان ایسا نہیں جس کے اللہ نے دو دل بنائے ہوں۔۔جوف کے معنی خالی جگہ کے ہیں اور یہاں اس سے سینے کا اندرونی حصہ (chest cavity) مراد ہے جس کے بائیں جانب دل ہوتا ہے۔ یعنی ہر انسان کے سینے میں اللہ نے ایک ہی دل رکھا ہے۔ اور اگر محاورۃً یوں کہا جائے کہ فلاں اور فلاں کے دل یکجا ہو گئے ہیں یا فلاں کا دل فلاں کے دل سے مل گیا ہے تو محض اس طرح کہہ دینے سے کسی کے سینے کے اندر حقیقت میں دو دل نہیں ہو جاتے۔

ایک صحت مند دل دن میں 100,000 بار دھڑکتا ہے اور سال میں 36,500,000بار دھڑکتا ہے جبکہ تیس سال کی عمر میں ایک ۱رب دفعہ دھڑک چکا ہوتا ہے اور انسان کی اوسط عمر میں 2.5 ارب بار دھڑکتا ہے۔
*جو ڈاکٹر دل کے بارے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ ماہر امراض قلب (cardiologists) کہلاتے ہیں یہ دل کی بیماریوں کاعلاج دوا کے ذریعے کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سرجری بھی کرتے ہیں ۔
*انسانی دل میں چار اہم نالیاںvalves ہوتی ہیں ۔ جو خون کو باہر نکالتی ہے اور درست سمت میں بھیجتی ہے۔

*دل کا دائیں حصہ جو خون بھیجتا ہے وہ ہمارے پھیپڑوں اور جسم کے بائیں جانب کوجاتا ہے جبکہ بائیں جانب سے جو خون پمپ ہوتا ہے وہ جسم کے باقی حصوں کی طرف جاتا ہے۔*دل بجلی سے چلتا ہے۔ دل کے دائیں حصے کے سب سے اوپر ایک SA نوڈ ہوتی ہے جو دل کو بجلی کی طرح کنٹرول کرتی ہے۔ دل کوایک منٹ میں کتنا خون پمپ کرنا ہے یہ اسے کنٹرول کرتی ہے۔
*EKGجوECG بھی کہلاتا ہے

دل کی اسی بجلی کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو دل کی بیماروں کو سامنے لاتا ہے۔
*دل کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خون کی وریدیں منسلک ہوتی ہیں جو وریدیں دل کے لئے خون جمع کرتی ہیں veins کہلاتی ہیں اور جو خون دل سے لے کر جاتی ہیں وہ arteries کہلاتی ہیں۔ ہمارے جسم میں بہت بڑی تعداد میں veinsاورarteries موجود ہیں ۔ vena cava تمام veinsجو دل کے اندر اور باہرموجود ہیں سے خون جمع کر کے دل تک پہچاتی ہیں اور aorta شہہ رگ دل سے خون لے کرتمام arteries تک پہچاتی ہے۔

*ہمارے جسم میں ایک بڑی pulmonary vein ہوتی ہے جو آکسیجن سے بھرا خون پھیپڑوں سے لے کر دل کے بائیں حصے کو پہچاتی ہے۔ بلکل اسی طرح pulmonary artery ہوتی ہے جو آکسیجن سے خالی خون دل کے دائیں جانب سے لے کر پھیپڑوں تک پہچاتی ہے۔

*ہارٹ اٹیک کی وجہ دل میں موجود scar tissue ہوتے ہیں۔ بہت بڑے اسکرپ یا کٹ کے بعد ہی اسکی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ یہ دل کو کام کرنے سے روکتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا باعث بنتی ہے بعض اوقات یہ ہارٹ فیل کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

امراض کی تشخیص میں کے بہت سے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں،اس کی رفتار کوبرقرار رکھنے کے لئے بہت جتن کئے جاتے ہیں ۔اطباء کرام تو نبض سے تشخیص کے عادی ہوتے ہیں ،کچھ نباض لوگ اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ پورے جسم انسانی کی حالت و کیفیت کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

دل اپنے حرکات میں تیز ہوجائے یا ضرورت سے کم دھڑکے دونوں کیفیتوں کو امراض میں شمار کیا جاتا ہے،اس کی صحت و تندرستی پورے وجود کی تندرستی ہے اس کی بیماری پورے وجود کی بیماری ہے۔جدید ماہرین کہتے ہیں اگر دل کی دھڑکن 100 سے زیادہ یا 60 سے کم ہوجائے ،سانس میں اعتدال نہ رہے تو معالج سے رجوع کرنا چاہئے۔

اس کی حرکات سے صحت و مرض کا تعین کیا جاتا ہے۔اس کی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ایک معتدل جسے صحت قرار دیا جاتاہے۔دوسری صورت اس کی حرکات میں تیزی پیدا ہو جا ئے ۔ یہ گرمی کا اثر ہوتا ہے یعنی اس کی حرکات کا اعتدال سے تجاوز کرنا گرمی کی علامات ہوتی ہیںاور گرمی کا منبع جسم میں صرف جگر ہوتا ہے۔

طبی زبان میں صفراوی علامات زیادہ ہوجاتی ہیں۔گرمی کا زور ہوتا ہے۔صفراوی مواد جتنا زیادہ جمع ہوگا اسی قدر گھبراہٹ۔سانس لینے میں دشواری۔ منہ کے ذائقے میں کڑواہٹ کا پیدا ہونا یعنی صفراوی مریض کو میٹھی چیز بھی کڑوی محسوس ہوتی ہے ہر وقت گلا کڑوا زہر رہتا ہے۔انسان اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ معمولی سی خبر دل کی دھڑکن تیز کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔کوئی صدمہ برداشت نہیں ہوتا ۔ غنودگی طاری رہتی ہے۔چاہے ہر وقت لیٹا رہے لیکن تھکاوٹ پھر بھی برقرار رہتی ہے۔

جسمانی طورپر دل کی جب یہ کیفیت ہوتی ہے نفسیاتی طورپر انسان شکی مزاج ہوتا ہے کسی پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیںہوتا۔دوسرے تو رہے ایک طرف خود انے کاموں سے بھی شک کرنے لگتا ہے۔اس سے جوبھی ہمدردی کرتا ہے اسے شک کی نظروں دیکھ جاتا ہے ۔ عاملین ان کیفیات کو اور ذہنی الجھنوں کو جادو جنات کا نام دیتے ہیں لیکن یہ صفراوی علامات ہوتی ہیں ان کا طب میں شافی علاج موجود ہے۔اگر ماہر معالج کی خدمات حاصل کی جائیں تو علاج ممکن ہے۔

اس قسم کے مریض کو پیشاب میں جلن،آنتوں میں گڑگراہٹ،سینے میں جلن ہوتی ہے۔بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے،آج کل عمومی طورپر کمر درد،حرکت کرنے پر جوڑوں کا درد۔جس میں حساسیت کا بڑھ جانا۔ناک کی ہڈی کا بڑھنا ۔ وغیر ہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

دوسری غیر معتدل کیفیت دل کا اپنے فعل میں کمزور ہونا ہے یعنی اس کی دھڑکنیں حد اعتدال سے کم ہوجائیں۔ماہرین اس کمی کو بھی مرض میں شما رکرتے ہیںکوئی بھی اپنی رفتار سے اس وقت مدہم پڑتی ہے جب اسے مطلوبہ گرمی یا طاقت نہ ملے،کیونکہ گرمی کسی بھی چیز کو لطیف بنا دیتی ہے اور سردی اس کی کثافت پیدا کرتی ہے۔

جب جسم میں بلغمی رطوبات حد اعتدال سے تجاوز کرجائیں تو دل دوبنے لگتا ہے۔اس کی رفتار دھیمی پڑجاتی ہے۔نفسیاتی طورپر خوف مسلط ہوجاتا ہے ۔غم وحزن اور بات بے بات غمگین موضوعات کو چھیڑنا،خوشی کی بات سے منہ پھیر لینا،ہر کسی کو دکھ بھری کہانی سنانا ، زندگی کے مایوس کن پہلو ہمہ وقت ذہن میں حاضر رہنا،فرحت و خوشی سے بھاگنا،تنہائی اور اکیلے پن کا شکار ہوجانا سب بلغمی اثرات ہیں ان کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ہر گھٹی ۔اور خشک کی نفع دیتی ہے۔

جب دل کی رفتار کم ہوجائے،بدن سست،حرکات میں کمی ہوجائے،ایسے میں گوشت میں درد ہوتا ہے ،ہروقت تھکاوٹ رہتی ہے،کسی کام کوجی نہیں کرتا،کھانسی ستاتی ہے،جسم ٹھنڈا رہتا ہے، عمومی طورپرعورتوں میں سیلان الرحم،مردوں میں جریان کا مرض ہوجاتا ہے۔

غصہ کی حقیقت اور ضرورت۔

حدیث مبارکہ میں ہے:’’عن ابی ھریرۃ (رضی اللہ عنہ)قال ان رجلا قال للنبی (ﷺ)اوصنی قال لا تغضب فردد مرارا قال لا تغضب‘‘ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم (ﷺ) سےعرض کی: مجھے وصیت (نصیحت) کیجیے فرمایا: غصہ نہ کیا کرواس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نبی کریم(ﷺ) نے یہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو‘‘-سنن أبي داود (4/ 249)شعب الإيمان (10/ 526)الأدب المفرد بالتعليقات (ص: 744)

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہو جائے (تو بہتر ہے) ورنہ پھر لیٹ جائے“۔تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/152) (صحیح)

ومن حديث الحسن مرسلا عن النبي – صلى الله عليه وسلم – (4) قال: (الغضب جمرة في قلب الإنسان توقد، ألا ترى إلى حمرة عينيه وانتفاخ أوداجه، فإذا أحس أحدكم من ذلك شيئا، فليجلس، ولا يعدونه الغضب)) جامع العلوم والحكم ت ماهر الفحل (1/ 406)غصہ تو آگ کا ایک شعلہ ہے جو انسانی دل میں بھڑکتاہے تم دیکھتے نہیں کہ چہرہ کی سرخی اور آنکھوں کی لالی۔جب تم میں سے غصہ محسوس کرے تو بیٹھ جائے۔۔۔۔۔ رواية الحسن المرسلة فقد أخرجها: معمر في ” جامعه ” (20289) ، والبيهقي في” شعب الإيمان ” (8290) عن الحسن، مرسلا

حضرت ابو بکر صدیق کاقول،

خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: الغضب أشد في البدن من المرض؛ إذا غضب دخل عليه من الإثم أكثر مما يدخل عليه في المرض “حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (10/ 196)
غصہ انسانی جسم میں بیماری کو بھڑکاتا ہے۔غصہ کی حالت میں انسان بیماری کی حالت سے بھی زیادہ گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس قول نے غصہ کی طبعی و شرعی حقیقت بیان کردی ہے،بغور جائزہ لیں تو بلڈ پریشر کی اس سے بڑھ کر تشریح نہیں ہوسکتی۔

غصہ کی طبی وجوہات۔

اللہ تعالیٰ ہر جاندار کو کچھ خاص صفات سے نوازا ہے جنہیں بروقت کام میں لاکر اپنی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔انسان کے اندر بہت سی صفات موجود ہیں جنہیں قدرت نے ودیعت کرکے انسان کے لئے بھلائی کا ذریعہ بنایا ہے ۔اسلام نے ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند فرمایا ہے اس کی اپنی خصوصیات میں سے سب سے بڑی خاصیت اعتدال پسندی ہے۔اس کے ماننے والوںکو امت وسط کا لقب دیا گیا ہے(پارہ2) قوت غضب انسان کی بہت بڑی صفت ہے لیکن اسے استعمال کرنے کی حدود مقرر کی گئی ہیں۔

طبی لحاظ سے انسان کو غصہ کے وقت شدید ہائی بلڈ پریشرہوتا ہے ، فی زماننااس وقت بلڈ پریشر ایک وباء کی صورت اختیار کرگیا ہے ہر پانچ میں سے تین افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔ جدید میڈیکل میں تو کوئی بھی مریض کسی بھی مرض کے سلسلہ میں معالج سے رابطہ کرتا ہے سب سے پہلے اس کا بلڈ پرشر چیک کیا جاتاہے ۔ اس کے بعد کچھ سلسلہ آگے چلتا ہے۔میڈیکل میں بلڈ پریشر کو ایک ناگہانی آفت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔

غصہ یا بلڈ پریشر کے بارہ احادیث مبارکہ میں کچھ ہدایات موجود ہیں،قران و حدیث میں غصہ کو خاص اہمیت دی گئی ہے اس کا علاج بھی تجویز کیا گیا ہے۔ غصہ کی حالت میں انسانی چہرے کے خدوخال بدل جاتے ہیں انسان پر جو کیفیات طاری ہوتی ہیں ان سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت انسان غصہ میں ہے یاخوش ہے۔

حدیث مبارکہ میں غصہ کی عکاسی کی گئی ہے۔’حضرت سلیمان بن صدور ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ)کے سامنے دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے- ان میں سے ایک غضب ناک ہوا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں- نبی کریم (ﷺ) نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا،مجھے ایک ایسے جملے کا علم ہے کہ اگر وہ یہ جملہ کَہ دے تو اس کا غضب فرو ہو جائے گا -وہ جملہ یہ ہے، ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘الأدب المفرد بالتعليقات (ص: 742)

ایک شخص جس نے نبی کریم (ﷺ) کی یہ حدیث سنی تھی وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس سے کہا تم جانتے ہو کہ ابھی رسول اکرم (ﷺ) نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا نہیں! اس نے کہا آپ (ﷺ)نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے جملے کا علم ہے اگر اس نے وہ جملہ کَہ دیا تو اس کا غصہ ختم ہو جائےگا –

وہ جملہ یہ ہے ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘، اس شخص نے کہا! کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو‘‘؟ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4048)مذہبی ادب میں اسے شیطانی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔قران کریم اور احادیث مبارکہ میں شیطانی چھیڑ چھاڑ کے نتیجہ میں انسانی جسم کے اندر پیدا ہونے والی کیفیت کو غصہ کہا گیا ہے۔،
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی بے نظیرکتاب حجۃ اللہ البالغہ میں قوائے انسانی کے بارہ میں تحریر فرمایا ہے:؟؟؟؟؟؟؟؟

 

طبی نکتہ

طبی نکتہ نگاہ سے غصہ جگر کا فضل ہے جب غصہ آتا ہے تو انسانی جسم میں کام کرنے والی رطوبات(ہارمونز)کم زیادہ ہوجاتے ہیں۔انسانی جسم میں صالح رطوبات کا بنیادی کردار ہوتا ہے،قوت غضبیہ اس وقت بھڑکتی ہے جب کوئی ناگوار امر پیش ہو۔یا خلاف طبیعت کوئی کام ہوجائے ۔

طاقتور لوگ اپنے غصہ پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ کمزور لوگ بے بس ہوجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اچھے لوگوں کی صفات میںاس چیز صفت کو بیان فرمایا ہے۔’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘ ’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-حوالہ:(الشوریٰ:37)

حدیث مبارکہ میں حالت غضب کی اس صورت حال کی وضاحت یوں بیان فرمائی ہے۔
” لَيْسَ الشَّديد بالصرعة، إِنَّمَا الشَّديد الَّذِي يملك نَفسه عِنْد الْغَضَب۔صحيح البخاري (8/ 28)صحيح مسلم (4/ 2014)(نثر الدر في المحاضرات (1/ 128)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں غالب آئے، پہلوان وہ ہے جو اپنے اوپر اختیار رکھے غصہ کے وقت۔“ (یعنی زبان اس کے قابو میں رہے)

بلڈ پریشر کا علاج پانی ۔

إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” إذا غضب أحدكم فليغتسل ، أدب الكتاب للصولي (ص: 224)جب تمہیں غصہ آئے تو غسل کرلو
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الغضب من الشيطان وإن الشيطان خلق من النار، والماء يطفئ النار، فإذا غضب أحدكم فليتوضأ»۔سنن أبي داود (4/ 249)۔الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم (3/ 110)المعجم الكبير للطبراني (17/ 167)شرح السنة للبغوي (13/ 161)

رسول اللہﷺ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔اور پانی آگ سےبجھائی جاتی ہے۔جب تمہیں غصہ آئے تو چاہئے وضو کرلے۔
(ابن عساكر (1) عن معاوية) وأبو نعيم عن أبي مسلم الخولاني قال: كلم معاوية بشيء وهو على المنبر فغضب فنزل فاغتسل وذكره . التنوير شرح الجامع الصغير (7/ 454) أخرجه ابن عساكر في تاريخ دمشق (59/ 169)، والديلمي في الفردوس (4314) عن معاوية وأخرجه أبو نعيم في الحلية (2/ 130) عن أبي مسلم الخولاني، وضعفه الألباني في ضعيف الجامع (3933).
ابن عساکر لکھتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب ممبر پر غصہ آتا ۔وہ اتر کر غسل کرتے۔

قانون مفرد اعضاء والے کہتے ہیں۔

جسم میں جو بھی کیفیت رونما ہوتی ہے اس کے کچھ نہ کچھ اسباب ضرور ہوتے ہیں،حقیقی ہائی بلڈ پریشر جسم میں کسی نہ جگہ کسی غدد کی التہابی صورت میں رونما ہوتا ہے،گردے بھی جگر کے ماتحت کام کرتے ہیں اور غدی مزاج کے حامل ہوتے ہیں جب یہ کسی غیر طبعی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو عمومی طورپر انسانی جسم میں فشار الدم کی کیفیت رہتی ہے۔یہ عمومی طورپر پانی کی کمی اور گرم اشیاء بالخصوص برائیلر مرغی کے استعمال سے ہوتا ہے۔

جسے بلڈ پریشر ہوتا ہے عمومی طورپر مرد حضرات جریان اور سرعت انزال کے شکار ہوتے ہیں اور عورتیں لیکوریا (غدی) اور التہاب رحم یعنی نلوں میں درد۔عسرت طمث کی شکار رہتی ہیں۔کمر کے مہروں میں تکلیف کاسبب گرودوں کی وجہ سے ہوتی ہے بہت کم دوسرے اسباب سامنے آتے ہیں جن کے گردے ٹھیک ہوں وہ بلڈ پریشر جیسے موذی مرض سے محفوظ رہتے ہیں جب غصہ بار بار آئے، بالخصوص عورتوں میں یہ علامت زیادہ ہوتی ہے چڑچڑاپن بچوں پر دھاڑ نا۔اگر بات نہ مانی جائے تو رونا واویلا کرنا،شور و غل سے ذہنی تنائو کا بڑھ جانا ۔

نیند کی کمی ہونا۔نیند کے بعد تازگی محسوس نہ کرنا،شک و شبہ میں مبتلا رہنا۔ماتحتوں پر غصہ کرنا وغیرہ۔کوئی بھی چیز اچانک یا حادثاتی طورپر نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو اس انداز کا بنایاہے یہ کبھی یک دم بیماری کا شکار نہیں ہوتا،عمومی طورپر بیماری سے حملہ اور نہیں ہوتیں بیماری سے پہلے خبردار کرنے کے لئے کئی علامات ظاہر ہوتی ہیں جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں پر اچانک بیماری کا حملہ ہوا،غلط کہتے ہیں ۔ دراصل ایسے لوگ انسانی جسم اور امراض ی ماہیت سے لاعلم ہوتے ہیں، اگرابتدائی علامات کے ابھرتے ہیں توجہ دی جائے تو بڑے بڑے امراض سے محفوظ رہا جاسکتاہے

ایک وضاحت سن لیں

عمومی طورپر بلڈ پریشر اس وقت ہائی ہوتا ہے جب گرودوں میں کوئی تکلیف ہو اسے حقیقی فشار الدم کہنا چاہئے،دوسری قسم معدہ میں گیس پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔یہ بلڈ پریشر نہیں تبخیری مرض ہوتا ہے۔اس میں معدہ کا علاج بہت ضروری ہے ،ورنہ دوائوں سے بھی افاقہ نہیں ہوتا۔سادہ انداز میں یوں کہا جاسکتا ہے گردوں والافشار الدم گرمی کا نتیجہ ہوتا ہے جس کے لئے ٹھنڈی ادویات فائدہ دیتی ہیں،گرم اشیاء نقصان کا سبب بنتی ہیں۔گیس کی وجہ سے ہونے والے بلڈ پریشر کا علاج عمومی طورپر گرم اغذیہ و ادویہ سے کیا جاتا ہے۔جو دوا ایک علامت کے لئے فائدہ دے گی دوسری قسم کے لئے نقصان کا سبب بنے گی۔
۔۔۔۔۔

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *