پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

میو قوم اور میوات مختصر تاریخ و جغرافیہ

میو قوم اور میوات مختصر تاریخ و جغرافیہ
میو قوم اور میوات مختصر تاریخ و جغرافیہ

میو قوم اور میوات مختصر تاریخ و جغرافیہ
مرتبہ
محمد اسحاق چوہدری میو ڈیمروت بیسروی

ریکمپوزنگ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
26 کلو میٹر فیروز پور روڈ لاہور
مقدمہ

ہر قوم کی زندہ تاریخ وہی ہوتی ہے جو اس کی آنے والی نسلوں تک محفوظ اور مستند صورت میں پہنچے۔ قومیں اپنی بقا اور اپنے تشخص کا دفاع اسی وقت کر پاتی ہیں جب انہیں اپنے اسلاف، اپنے علاقے اور اپنی روایات کا شعور حاصل ہو، اور یہ شعور کسی زبانی روایت سے زیادہ تحریری و مدون تاریخ سے مستحکم ہوتا ہے۔ میو قوم، جو برصغیر کی قدیم ترین اور صفِ اول کی جنگجو و غیور اقوام میں شمار ہوتی ہے، بدقسمتی سے اس اعتبار سے محروم رہی کہ اس کی تاریخ کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔ بیشتر مورخین، خواہ وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی، میو قوم اور علاقہ میوات کا ذکر یا تو سرے سے نظر انداز کر گئے یا سرسری طور پر گزر گئے، حالانکہ راجپوتانہ، میوات اور گنگا جمنا کے دوآبے کی تاریخ میو قوم کے ذکر کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔

زیرِ نظر کتاب “میو قوم اور میوات: مختصر تاریخ و جغرافیہ” اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک مخلصانہ کاوش ہے۔ اسے محمد اسحاق چوہدری میو ڈیمروت بیسروی نے مرتب کیا، جن کا تعلق بیسرو کی معزز ذیلدار فیملی سے رہا اور جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ میو قوم کی تاریخ، نسب، جغرافیے اور معاشرت کے مطالعے میں صرف کیا۔ ان کے برادرِ نسبتی انجینئر حبیب احمد میو آف کینیڈا کی کاوش سے یہ نادر مسودہ محفوظ ہو کر عام قارئین تک پہنچا، اور آج یہ کتاب میو قوم کے لیے ایک قابلِ اعتماد تاریخی سند کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے نہ صرف نئی نسل اپنی اصل اور نسب سے آگاہ ہوتی ہے بلکہ محققین اور تاریخ دانوں کو بھی میوات کی تاریخ، قبائلی نظام، چودھرائیتوں، علماء، درویشوں اور 1857ء کی جنگِ آزادی میں میو قوم کے کردار پر مستند مواد میسر آتا ہے۔

اس کتاب کو جدید علمی تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو مرتب کرنے، اس کی زبان و بیان کو سنوارنے اور اسے بین الاقوامی معیار کی کتابی صورت دینے کا یہ اہم فریضہ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے سرانجام دیا ہے۔ حکیم صاحب میواتی علم و ادب اور طب کی دنیا میں ایک محترم و معتبر نام ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میواتی زبان، تاریخ اور ثقافت کے احیاء کے ساتھ ساتھ طبِ نبویﷺ، طبِ یونانی اور قدیم طبی لٹریچر کی تحقیق، ترجمہ اور فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ عربی، فارسی اور اردو کی متعدد نادر و نایاب طبی و علمی کتب کا ترجمہ، تدوین اور جدید اسلوب میں ازسرِ نو ترتیب ان کی انہی خدمات کا تسلسل ہے، جن کا مقصد یہ گراں قدر علمی سرمایہ عام قارئین اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی

بنانا ہے۔

یہ تمام کام “سعد ورچوئل سکلز پاکستان” اور اس کے زیرِ اہتمام قائم “سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویﷺ”، 26 کلومیٹر فیروز پور روڈ لاہور کے پلیٹ فارم سے انجام پا رہا ہے۔ یہ ادارہ دینی، علمی، ادبی اور طبی ورثے کی حفاظت و اشاعت کے لیے کوشاں ہے اور اس نے اب تک تاریخ، طب، میواتی ادب اور اسلامیات کے موضوعات پر متعدد کتب کو جدید خطاطی، تدوینِ متن، حوالہ جاتی فہرستوں اور بین الاقوامی کتابی معیار کے ساتھ ازسرِ نو مرتب و شائع کیا ہے۔ “میو قوم اور میوات” بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے باب وار ترتیب، حواشی، تعارف اور فہرستِ ماخذ کے ساتھ ازسرِ نو مدون کیا جا رہا ہے تاکہ یہ کتاب علمی و تحقیقی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام میواتی قارئین کے لیے بھی یکساں مفید ثابت ہو۔

امید ہے کہ یہ کاوش میو قوم کے نوجوانوں میں اپنی تاریخ اور تہذیب سے وابستگی پیدا کرنے کا سبب بنے گی، اور محققین کے لیے ایک معتبر حوالہ جاتی ماخذ ثابت ہو گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبولیت سے نوازے اور مرحوم مرتب محمد اسحاق چوہدری میو ڈیمروت بیسروی، اور تمام معاونین کی مساعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویﷺ، لاہور

کتاب کے حصؤل کے لئے یہاں کلک کریں

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

ماں باپ کی عظمت

ماں باپ کی عظمت

ماں باپ کی عظمت ماں کا آنسو پونچھ دے بھائی بعد میں پھر پچھتائے گووقت ہے بیتے جارو ہر پل

[saadherbal_newsletter_form]