
میو بہادر قوم کے واہیات کام
میو قوم اپنی بہادری، مہمان نوازی، جفاکشی اور غیرت کے حوالے سے تاریخ کے صفحات میں ایک نمایاں اور روشن مقام رکھتی ہے۔ اس قوم نے صدیوں سے اپنی پہچان قربانی، حوصلے اور خودداری سے قائم رکھی ہے۔ لیکن جس طرح ہر معاشرے میں وقت کے ساتھ کچھ منفی رجحانات جنم لے لیتے ہیں، اسی طرح ہماری قوم میں بھی ایسی عادات اور رویے پروان چڑھ چکے ہیں جو نہ صرف قوم کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اجتماعی ترقی کی راہ میں بھی سنگ میل بن رہے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر جو طویل بحثیں، لایعنی پوسٹیں اور بے مقصد مکالمے دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ ان مسائل کی بھرپور اور تشویشناک عکاسی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا، جو دراصل شعور، تعلیم اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتا تھا، آج ہمارے ہاں انتشار، تفرقہ اور وقت کے ضیاع کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔
گروہ بندی
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قوم چھوٹے چھوٹے گروہوں اور دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ ہر شخص اپنی برادری، اپنے علاقے، اپنی تنظیم اور اپنے حلقۂ احباب کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے۔ اجتماعی مفاد کی بجائے گروہی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں قومی یکجہتی پارہ پارہ ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ گروہ بندی خطرناک حد تک نمایاں ہو چکی ہے۔ ایک ہی مسئلے پر مختلف گروہ الگ الگ محاذ کھول لیتے ہیں، ایک دوسرے پر طنز اور الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سادہ سی بات فرقہ وارانہ اور علاقائی تعصب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس گروہ بندی نے قوم کے اجتماعی شعور کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب کسی بھی اہم قومی مسئلے پر ایک متفقہ موقف اختیار کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبارک بادوں کا طویل سلسلہ
ذرا سی کامیابی، معمولی عہدہ، یا کسی معمولی کارنامے پر مبارک بادوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ سینکڑوں پوسٹیں، تصاویر کے ساتھ لمبی لمبی تحریریں شائع ہوتی ہیں، جبکہ اصل کارکردگی اور نتیجہ خیز کام کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ رجحان دکھاوے اور خوشامد کی ثقافت کو فروغ دے رہا ہے، جس سے حقیقی محنت اور صلاحیت کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنی توانائی اور وقت مبارک بادی پوسٹوں کی تیاری، لائیک اور کمنٹس جمع کرنے میں صرف ہوتا ہے، اس کا عشر عشیر بھی قوم کی اصلاحی، تعلیمی یا معاشی بہتری کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ یوں یہ رسمی خوشامد ایک بامعنی سرگرمی کی بجائے وقت اور وسائل کے ضیاع کا ذریعہ بن چکی ہے۔
طویل بحثیں اور لایعنی پوسٹوں کا سلسلہ
حالیہ دنوں میں جو رجحان سب سے زیادہ نمایاں ہوا ہے، وہ سوشل میڈیا پر گھنٹوں پر محیط بے مقصد بحثیں ہیں۔ ایک معمولی سی بات، جسے چند سطروں میں سمجھایا یا سلجھایا جا سکتا تھا، اسے دنوں تک کھینچا جاتا ہے۔ لوگ اپنے موقف پر اَڑ جاتے ہیں، دلیل کی بجائے ضد اور انا کو ترجیح دیتے ہیں، اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا سوائے وقت کے ضیاع، تعلقات میں دراڑ اور قومی توانائی کے زوال کے۔ ان بحثوں میں اکثر ایسے موضوعات کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے جن کا قوم کی حقیقی ترقی، تعلیم، معیشت یا اصلاح سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ صفحوں کے صفحے کمنٹس سے بھر جاتے ہیں، لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اس طرح کی لایعنی گفتگو نہ صرف انفرادی وقت کا زیاں ہے بلکہ اجتماعی سطح پر قوم کی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹا کر بے مقصد جھگڑوں میں الجھا دیتی ہے۔ نوجوان نسل، جو ان بحثوں کا سب سے زیادہ سامنا کرتی ہے، ان کے ذہنوں میں منفی سوچ اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔
جھوٹے اور ناقابل یقین دعوے کرنا
سوشل میڈیا پر ایسے دعوے عام ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، جھوٹی کامیابیوں کا پرچار کرنا اور غیر حقیقی باتوں کو حقیقت بنا کر پیش کرنا ایک وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ پوسٹوں میں یہ رجحان اور بڑھ گیا ہے، جہاں بغیر تصدیق کے خبریں اور دعوے پھیلائے جاتے ہیں اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس رویے سے قوم میں اعتماد کا فقدان پیدا ہو رہا ہے اور سنجیدہ آوازیں دب کر رہ جاتی ہیں۔
عدم برداشت
اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنا ایک عام رویہ بن چکا ہے۔ ذرا سی مخالفت پر طیش میں آ جانا، دلیل کی بجائے جذبات سے کام لینا اور مکالمے کی بجائے مخالفت پر اتر آنا معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا اس عدم برداشت کا سب سے بڑا مظہر بن چکا ہے، جہاں ہر اختلافی رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالیہ طویل بحثوں میں یہ عدم برداشت اپنی انتہا کو پہنچتی نظر آئی، جہاں لوگ ایک دوسرے کی رائے سننے کی بجائے صرف اپنی بات منوانے پر بضد رہے، اور جب بات نہ بنی تو ذاتیات پر اتر آئے۔
فلاحی کاموں میں رکاوٹ
جہاں کوئی مخلص فرد یا ادارہ قوم کی فلاح کے لیے کام کرنا چاہے، وہاں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ حسد، تنگ نظری اور ذاتی مفادات کی خاطر اجتماعی بھلائی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے ہی کوئی فلاحی کام سامنے آتا ہے، اس پر بلا وجہ اعتراضات، شکوک اور منفی تبصروں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس منفی رویے کی وجہ سے بہت سے مخلص لوگ اپنی کاوشیں ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، اور یوں قوم اجتماعی بھلائی کے کئی مواقع سے محروم رہ جاتی ہے۔
بڑے لوگوں کا چھوٹا کردار
بعض بااثر اور معتبر شخصیات، جن سے قوم کو رہنمائی کی توقع ہوتی ہے، اکثر معاملات میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر لیتی ہیں۔ ذاتی مفادات، خوشامد پسندی یا تنگ نظری کی وجہ سے ان کا کردار قوم کی توقعات پر پورا نہیں اترتا، جس سے عام لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ سوشل میڈیا بحثوں میں بھی کچھ نمایاں شخصیات نے دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے خود کو انہی لایعنی جھگڑوں کا حصہ بنا لیا، جس سے عام لوگوں کے سامنے ایک برا نمونہ پیش ہوا۔
مخالف کے لیے بازاری زبان کا استعمال
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں شائستگی اور تہذیب کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔ مخالف کے خلاف نازیبا، بازاری اور غیر اخلاقی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ رویہ عام ہے، جہاں دلیل کی بجائے گالم گلوچ کو ہتھیار بنا لیا جاتا ہے۔ حالیہ طویل بحثوں میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک دیکھنے کو ملی، جہاں معمولی اختلاف بھی چند لمحوں میں ذاتی حملوں اور بازاری زبان کی نذر ہو گیا۔ یہ رویہ نہ صرف انفرادی شخصیت بلکہ پوری قوم کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، اور دوسری اقوام کے سامنے ہماری شناخت کو مجروح کرتا ہے۔
سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے اثرات
ان تمام رویوں کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سوشل میڈیا، جو علم، شعور اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتا تھا، آج انتشار اور وقت کے ضیاع کا میدان بن چکا ہے۔ نوجوان نسل کی توانائیاں بامقصد کاموں کی بجائے بے فائدہ بحثوں میں صرف ہو رہی ہیں۔ تعلیمی، معاشی اور معاشرتی ترقی کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور قوم کی توجہ ذاتی اَنا کی جنگوں میں الجھی رہتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف قومی وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ ہماری قوم کی وہ مثبت شناخت بھی متاثر ہو رہی ہے جو صدیوں کی محنت سے قائم ہوئی تھی۔
نتیجہ اور لائحہ عمل
یہ تمام واہیات کام کسی بھی زندہ اور باوقار قوم کے شایانِ شان نہیں۔ میو قوم جو بہادری اور غیرت کی علامت رہی ہے، اسے چاہیے کہ وہ ان منفی رویوں سے چھٹکارا حاصل کرے۔ گروہ بندی کی بجائے اتحاد، دکھاوے کی بجائے حقیقی محنت، جھوٹے دعووں کی بجائے سچائی، عدم برداشت کی بجائے وسعتِ قلبی، رکاوٹوں کی بجائے تعاون، اور بازاری زبان کی بجائے شائستگی کو اپنایا جائے تو قوم ایک نئی صبح کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی طویل اور لایعنی بحثوں سے گریز کیا جائے۔ ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت ایک قیمتی نعمت ہے، اور اسے بے مقصد جھگڑوں میں ضائع کرنے کی بجائے تعمیری کاموں میں لگانا چاہیے۔ علماء، دانشوروں اور بڑے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور نوجوان نسل کے سامنے بردباری، رواداری اور تحمل کا نمونہ پیش کریں۔ سوشل میڈیا کو تعمیری کاموں، تعلیمی شعور اور قومی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ تخریب، نفرت اور بے مقصد بحث و مباحثہ پھیلانے کے لیے۔ اگر قوم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ رویے مستقبل میں مزید گہرے نقصانات کا باعث بنیں گے، اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو پیشکش: سعد ورچوئل سکلز پاکستان


