پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

تجارب الاُمم(اردو۔ایڈیشن)

تجارب الاُمم(اردو۔ایڈیشن)

(اِبنِ مِسکَویہ)

اردو تعارف، تجزیہ اور علمی جائزہ

قلم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

منتظمِ اعلیٰ: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ  //  سعد ورچوئل سکلز پاکستان

(سعد ورچوئل سکلز پاکستان//سرد طبیہ کالج کی طرف سے عربی ادب کی شاہکار کتب کا اردو ترجمہ۔پیش کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔منتخب کتب کے اردو تراجم کی اہمیت و افادیت کیا ہے ۔اس کا اندازہ ۔اردو کتب تواریخ،ادب،مذہبی و طبی کتب مین حوالہ جات دیکھنے سے ہوتا ہے۔یہ ضخیم کتاب۔کم ہی کتن خانوں میں دستیاب تھیں ۔ان کی ضخامت اور ان کا قیمتی ہونا۔اور ان کی دستیابی ایک مسلہ تھی۔اردو دان طبقہ ان جیسی کتب سے استفادہ کرنا ناممکن سمجھتا تھا۔اس وقت بہت سی کتب پر ترجمہ کا کام جاری ہے۔من جملہ ان میں سے۔العقد الفرید ابن عبد ربا الاندلسی۔۔۔تجارب الامم۔ابن مسوکیہ۔۔۔کتاب الاصنام۔۔طبائع النساء۔۔امہات النبی۔الابل۔المعارف ابن قتیبہ۔یہ فہرست بہت طویل ہے۔یہ کتب سردست pdfفارممیٹ میں ہیں۔طلب کرنے پر دستیاب ہیں۔وہ کتب جن کی افادیت مسلم ہے ۔حدیث میں ۔تفسیر۔تاریخ ۔طب۔ادب۔اخلاقیات وغیرہ میں مسلم ہے تبدریج پیش کی جائیں گی۔بالخصوص مطول و مفصل کتب۔وبا اللہ التوفیق)

پیش لفظ

علومِ اسلامی اور مشرقی علمی روایت کا ایک نمایاں امتیاز یہ ہے کہ اس نے صرف دین و فقہ ہی نہیں بلکہ تاریخ، اخلاقیات، فلسفہ اور سائنس کو بھی اسی توجہ اور دیانت کے ساتھ محفوظ کیا جو اسے حدیث و تفسیر کے حوالے سے حاصل رہی۔ عباسی و بویہی دور کے علمی منظرنامے میں ابوعلی احمد بن محمد، المعروف اِبنِ مِسکَویہ، ایک ایسا نام ہے جس نے تاریخ نویسی، اخلاقیات اور فلسفے کو یکجا کرکے ایک نئی روایت قائم کی۔ ان کی تصنیف تجارب الاُمم اسی فکری وسعت کا شاہکار ہے، جسے آج بھی تاریخِ اسلام کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے بنیادی ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔ سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی جانب سے علمی و تحقیقی روایت کو زندہ رکھنے کی مسلسل کاوش کے تحت اس کتاب کا تعارف اور اس کی اہمیت کو اردو قارئین تک پہنچانے کی سعی کی جا رہی ہے۔

۱۔ عربی ادب و تاریخ نویسی میں تجارب الاُمم کی اہمیت

تجارب الاُمم عربی تاریخ نویسی کی اُن چند کتابوں میں شمار ہوتی ہے جنہیں محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ تاریخ سے سبق اخذ کرنے کا ایک منہجی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اِبنِ مِسکَویہ نے اس کتاب میں طوفانِ نوح سے لے کر اپنے عہد یعنی چوتھی صدی ہجری کے واقعات تک کی تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ مرتب کیا۔ اس کا نام ہی اس کے مقصد کی نشاندہی کرتا ہے: قوموں کے تجربات، تاکہ آنے والی نسلیں اُن سے سبق حاصل کریں۔ عربی ادب میں اس کا امتیاز یہ ہے کہ مصنف نے محض روایات نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک فلسفی اور اہلِ تدبر کی نظر سے واقعات کا تجزیہ بھی پیش کیا، خصوصاً اسلام سے قبل کے اُس دور کے حوالے سے جس کی تفصیلات دیگر مشہور مؤرخین جیسے طبری کے ہاں اس انداز میں موجود نہیں۔ یہی وصف اسے محض ایک تاریخی روایت کے بجائے ایک فکری و ادبی کارنامہ بنا دیتا ہے، جس نے بعد کے مورخین اور اہلِ قلم کو تاریخ کو حکمت اور تدبر کی عینک سے دیکھنے کا سلیقہ سکھایا۔

۲۔ اس کتاب کے معاشرتی اثرات

کسی بھی تاریخی تصنیف کی اصل قدر یہ ہوتی ہے کہ وہ محض ماضی کا نوحہ نہ ہو بلکہ حال اور مستقبل کی تعمیر میں معاون بنے۔ تجارب الاُمم نے مسلم معاشرے پر کئی جہتوں سے اثر ڈالا۔ ایک طرف اس نے حکمرانوں اور اربابِ اقتدار کو یہ شعور دیا کہ سیاسی فیصلے اور اجتماعی رویے تاریخ میں کس طرح انجام پاتے ہیں، اور دوسری طرف عام قارئین کے لیے یہ کتاب اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنی، کیونکہ مصنف کے نزدیک تاریخ کا اصل مقصد ہی سیرت و اخلاق کی اصلاح ہے۔ اِبنِ مِسکَویہ کی دوسری مشہور تصنیف تہذیب الاخلاق کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا علمی منصوبہ ایک ہی مقصد کے گرد گھومتا تھا: انسان اور معاشرے کی اصلاح، خواہ وہ تاریخ کے آئینے سے ہو یا فلسفہ اخلاق کے ذریعے۔ آلِ بویہ کے دور کی سیاسی و سماجی تاریخ کے لیے یہ کتاب آج بھی ایک بنیادی حوالہ سمجھی جاتی ہے، جس سے اُس عہد کی حکمرانی، انتظامی ڈھانچے اور معاشرتی رویوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

۳۔ حوالہ جات کی اہمیت

تجارب الاُمم کے حوالہ جات کی اہمیت کئی وجوہ کی بنا پر مسلم ہے۔ اول یہ کہ مصنف کو ابن العمید جیسے بویہی وزیر کے کتب خانے کی نگرانی کا موقع ملا، جس کے باعث انہیں نایاب مآخذ اور مخطوطات تک براہِ راست رسائی حاصل تھی، اور یہی چیز ان کی روایات کو دیگر مورخین کے مقابلے میں زیادہ وقیع بناتی ہے۔ دوم یہ کہ بعد کے کئی جید مؤرخین، بشمول ابنِ اثیر اور ابنِ خلکان، نے اپنی تصانیف میں اس کتاب کے حوالوں اور روایات سے استفادہ کیا، جو اس کی سند و وقعت کی دلیل ہے۔ سوم یہ کہ آلِ بویہ کے عہد کے حوالے سے، خصوصاً عضدالدولہ کے دورِ حکومت کے واقعات میں، یہ کتاب بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہے، کیونکہ اس دور کی تفصیلات جس باریکی سے اِبنِ مِسکَویہ نے محفوظ کیں وہ کہیں اور اس انداز میں دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سنجیدہ تحقیق کرنے والا ہر طالبِ علم اسلامی تاریخ، خصوصاً بویہی دور کی سیاسی تاریخ پر بات کرتے ہوئے اس کتاب کے حوالوں سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔

۴۔ مصنف کی مختصر سوانح حیات

ابوعلی احمد بن محمد، المعروف اِبنِ مِسکَویہ، تقریباً 932ء میں شہرِ رے میں پیدا ہوئے اور 1030ء میں اصفہان میں وفات پائی۔ ابتدائی عمر میں وہ ایک آزاد طبیعت کے نوجوان تھے اور کیمیا گری کی جانب مائل ہوئے، مگر بار بار کی ناکامیوں نے ان کے اندر ایک فکری انقلاب برپا کیا اور انہوں نے سنجیدہ علمی مطالعہ کا رستہ اپنایا۔ ابتدا میں وزیر المہلبی کے ہاں ملازمت اختیار کی اور بعد ازاں آلِ بویہ کے وزیر ابن العمید کی خدمت میں آ گئے، جہاں سات برس تک ان کے کتب خانے کے نگہبان رہے۔ اسی دوران انہیں علم و تحقیق کے وسیع ذخیرے تک رسائی ملی جس نے ان کی علمی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فلسفے میں وہ فارابی کی فکر سے متاثر تھے اور بالواسطہ ارسطو کی حکمت سے استفادہ کرتے تھے۔ تاریخ، فلسفہ اور اخلاقیات، تینوں میدانوں میں ان کی گہری بصیرت تھی، اور یہی وسعتِ نظر ان کی تصانیف تجارب الاُمم، تہذیب الاخلاق اور آداب العرب و الفرس میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔

۵۔ سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی طبی و ادبی خدمات

سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ اور اس کے تحت قائم سعد ورچوئل سکلز پاکستان، کاہنہ نو، لاہور، گزشتہ کئی برسوں سے محدود وسائل کے باوجود طب اور علمی خدمت کے میدان میں مصروفِ عمل ہے۔ ادارے کا بنیادی نصب العین دکھی انسانیت کو فطری اور قرآن و سنت سے ہم آہنگ اسلوبِ زندگی کا شعور دینا ہے۔ طب کے میدان میں یہ ادارہ قانونِ مفرد اعضاء، طبِ نبویؐ اور کلاسیکی یونانی و صابری حکمت کو جدید بایو کیمیکل تشخیصی سائنس کے ساتھ ہم آہنگ کرکے تحقیق و تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے، جبکہ ادارے سے وابستہ فضلاء و فاضلات کا دائرہ کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ ادبی و علمی میدان میں ادارے کی جانب سے مختلف موضوعات پر کتب و مضامین کی تصنیف و تدوین کا سلسلہ جاری ہے، جن میں تاریخی، معاشرتی اور طبی موضوعات شامل ہیں۔ تجارب الاُمم جیسی کلاسیکی کتاب کا تعارف اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد قدیم علمی ورثے کو موجودہ نسل کے لیے قابلِ فہم بنانا اور اردو خواں طبقے کو عالمی علمی روایت سے جوڑے رکھنا ہے۔

۶۔ موجودہ دور میں اس کتاب کے اردو ترجمے کی اہمیت و افادیت

موجودہ دور میں، جب تاریخ کو اکثر سطحی انداز میں یا محض قصہ گوئی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تجارب الاُمم جیسی کتاب کا اردو ترجمہ ایک خاص علمی و اصلاحی ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اول یہ کہ یہ کتاب قارئین کو تاریخ کے تجزیاتی مطالعے کا سلیقہ سکھاتی ہے، یعنی واقعات کو محض یاد رکھنے کے بجائے ان سے حکمت اور سبق اخذ کرنے کا انداز۔ دوم، عربی زبان تک براہِ راست رسائی نہ رکھنے والے اردو خواں طبقے کے لیے یہ ترجمہ اسلامی تہذیب کے ایک اہم اور نسبتاً کم معروف ماخذ سے تعارف کا ذریعہ بنتا ہے۔ سوم، موجودہ سیاسی و معاشرتی بے یقینی کے ماحول میں، جہاں قومیں اپنے فیصلوں کے انجام سے بے پروا نظر آتی ہیں، اِبنِ مِسکَویہ کا یہ پیغام کہ قوموں کے عروج و زوال میں ایک واضح اصولی ربط ہوتا ہے، آج بھی اتنا ہی برمحل ہے جتنا ان کے اپنے عہد میں تھا۔ سعد طبیہ کالج اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی یہ کاوش دراصل اسی فکر کی روشنی میں ہے کہ علمی ورثہ محض کتب خانوں کی زینت نہ رہے بلکہ اردو خواں نسل کی فکری تربیت کا ذریعہ بنے۔

خلاصہ

تجارب الاُمم محض ایک تاریخی کتاب نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور اخلاقی بصیرت کا ایک ایسا خزانہ ہے جس نے صدیوں تک مسلم علمی روایت کو متاثر کیا۔ اِبنِ مِسکَویہ کی زندگی اور فکر، ان کے حوالہ جات کی وقعت، اور اس کتاب کے معاشرتی اثرات، سب مل کر اسے عربی ادب کے اہم ترین سرمائے میں شامل کرتے ہیں۔ سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی یہ کاوش امید ہے کہ اردو خواں طبقے کو اس علمی ورثے سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرے گی، ان شاء اللہ۔

و ما توفیقی الا باللہ

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

تحفہ شباب

تحفہ شباب

عالی جناب حکیم سراج الدین صاحب کے انکشافاتتحفہ شبابشنگرف رومی عمدہ والا، نہ گھسنے والے کھرل میں ڈال کر بارہ

[saadherbal_newsletter_form]