
۔۔۔۔۔۔
ایک کاغذ کا ٹکڑا جس نے قوم کے دو ٹکڑے کردئے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
قومیں فکری انحطاط کی وجہ سے زوال پزیر ہوتی ہیں ۔ان کے سوچنے کا انداز مخاصمانہ ہوتا ہے۔وہ ہر بات میں باہمی الجھائو کا پہلو نکال لیتی ہیں۔
فروعی اختلافات کو حقیقی۔ہر فرد اپنی رائے کو کامل و حتمی سمجھتا ہے۔دوسرے کی رائے کو ذاتی دشمنی اور عداوت قرار دیتا ہے۔
ہر کسی کا نعرہ ہوتا ہے کہ ہم قوم کے ساتھ مخلص ہیں؟
قران کریم کی کئی آیات اس انسنانی نفسیات پر سیر حاصل بحث کرتی ہیں ۔”اور جب ان سے کہا جائے۔لاتفسدو ا فی الارض۔قالوا انما نحن مصلحون۔۔۔تم زمین میں فساد مچ مچائو تو ان کا جواب ہوتا ہے ،ہم تو صلح جوئی اور باہمی جوڑ کا کام کرتے ہیں۔اللہ نے واضح بتادیا مکمل آیت ہے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(11) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(12)
اورجب اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو۔ تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔ سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔
اللہ قوموں کو جب مارنا چاہتا ہے تو ان کے اندر سے ہی عناصر کو ابھارتا ہے،جو اس قوم کے تانے بانے اکھیڑکر پھینک دیتے ہیں۔
میو قوم غربت اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ مر سکی۔
آج جب اس کے پاس وسائل۔بغیر تربیت کے تعلیم۔موجود ہے۔
تو یہ قوم عروج کے بجائے انحطاط کی طرف رواں دواں ہے۔
کچھ لوگ انفرادی مثالیں دیں گے فلاں میو قوم کا فرد کامیاب ہے۔
فلاں نے یہ حاصل کیا۔فلاں اتنا کامیاب ہوا؟۔سب باتیں اپنی جگہ اہم ہیں ۔قومیں اجتماعی شعور و سوچ سے بنتی ہیں۔
اکثریت مثبت و تعمیری سوچ کی حامل ہوتی ہے۔لیکن جب خمیر کا بگاڑ لیڈر شپ سے شروع ہوجائے۔
تو مثال صادق آتی ہے کہ مچھلی سر کی طرف سے گلنا شروع ہوتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے ۔عوام کا رجحان اتفاق و انفاق کا بنا ہوا ہے۔جبکہ لیڈر شپ انتشار و عدم تعاون پر مصر ہے۔
آئین و قانون اس لئے ترتیب دئے جاتے ہیں کہ الگ الگ مزاج و طبائع کے لوگ ان باتوں پر اتفاق کرلیں کہ
ان کا آپس میں رہن سہن آسان ہوجائے۔
کچھ حدود و قیود مقرر کردی جائیں کہ طاقتور غریب کا بازو نہ مروڑ سکے۔
اپنی اپنی زندگی جی سکیں۔اس آئیں و قانون کو نافذ کرنے کے لئے اتھارٹیز قائم کی جاتی ہیں جو ان حدود و قیود کی حفاظت کی قسم کھاتی ہیں۔
اس کے بغیر آئین و قانون ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے جس میں پچوں کو پکوڑے لپیٹ کر دئے جاتے ہیں۔
جوقومیں اپنے آئیں و قانون کا تحفظ نہ کرسکیں۔وہ فکری انحطاط اور امراء کی چاپلوس۔اور مفادات کے لئے قوم کا سودا کرتی ہیں۔
اپنی ایک بوٹی کے لئے۔دوسرے کا اونٹ ذبح کرتی ہیں۔
انحطاظ پزیر قوموں کا شیوہ بن جاتا ہے کہ وہ آئیں و قانون کو قومی مفادات کے بجائے ۔پھندا بنا دیتی ہیں۔
ایسا ہی پھندا میو قوم کی سب سے قدیم جماعت۔انجمن اتحاد ترقی میوات کے لئے تیا رکرلیا گیا ہے۔
میو قوم کے عام لوگ نہیں جانتے کہ انجمن کیا ہے؟۔کیوں بنی ہے؟۔اب یہ کیا چاہتی ہے؟۔اس کے عزائم کیا ہیں؟
لیکن اب جان گئے ہیں کہ انجمن تو کچھ مفاد پرست لوگوں کا گروہ ہے ۔جسے قوم اور قومی مفادات کا پتہ ہی نہیں ہے۔؟۔
عام مطلبی لوگوں کی طرح جھگڑ رہے ہیں۔
دیہاڑی مزدوری۔پے آئے ہوئے سطحی الذہن کے مزدوروں کی طرح۔دست و گریبان ہوئے پڑے ہیں۔
جس آئیں و قانون کو کئی دیہایوں سے چھیڑا تک نہیں گیا ۔وہی آئین و قانون ،اب وکیلوں کے ہاتھ لگا تو قوم کو تگنی کا ناچ نچوانے لگے۔
فلاں کورم پورا نہ تھا۔عاملہ موجود نہ تھی۔فلاں قانونی تقاضا پورا نہ ہوا؟
خدارا اس قوم پر رحم کریں۔اسے آگے بڑھ جانے دیں۔
اگر موقع ملاہے تو اپنی ناک بچانے کے چکر میں قوم کو بھاڑ میں مت جھونکیں۔
دنیا بھر کی تواریخ اٹھاکر دیکھ لیں۔سب میںایک بات مشترکہ دکھائی دیگی کہ قوموں کو بھلائی کے نام پر اندھے کوئیں میں دھکیلا گیا۔
دین کو مذہبی لوگوں نے بگاڑا۔قوموں کو ان کے اپنوں نے اجاڑا۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
اب وہ کاغذ پیش خدمت ہے جس نے قوم کو دو حصوں میں تقسیم کردی۔
اگر وجہ تنازعہ یہی کاغذ ہے تو اس میں شامل تمام لوگوں کو میو قوم کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے،
کہ انہوں نے ایک غیر آئینی و غیر قانونی کام کیا۔جنہوں نے یہ کام کیا وہ آج بھی قوم پرستی اور ان کے حقوق کے علمبردار ہونے کے مدعی ہیں۔
۔”یہ تصویر ،،انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور،، کے ایک اہم اجلاس کا اعلامیہ ہے، جو 10 مئی 2026 بروز اتوار کو چوہدری جمیل احمد میواتی دنیلا، لاہور کے دفتر میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے اہم شرکاء
:
، ،،ممبران الیکشن کمیٹی:،، ریٹائرڈ برگیڈیئر ظفر یسین بابر (کنوینر)، سردار امجد طفیل، اور چوہدری محمد یوسف۔
، ،،ممبران مجلسِ انتظامیہ و اکابرین:،، چوہدری محمد عثمان آف بدوکی (سرپرست)، شہباز جواہر (صدر انجمن)، نصیر احمد خان (سیکرٹری جنرل)، خالد محمود خان (سیکرٹری فنانس)، چوہدری فجر الدین خاں (نائب صدر)، زاہد مشتاق خاں سنگاریہ (سیکرٹری نشرواشاعت)، چوہدری افتخار اختر، چوہدری انیس احمد ننگی، حاجی نور محمد، چوہدری علی محمد، چوہدری جمیل احمد میواتو، ریٹائرڈ ڈاکٹر محمد دین، بلال یسین، اور چوہدری خالد محمود۔
اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلے:
1۔،،آئندہ انتخابات:،، انجمن اتحاد و ترقی میوات کے آئندہ انتخابات ،،اتوار 16 اگست 2026،، کو ہوں گے۔
2۔،،ممبرشپ کی توسیع:،، انجمن کی ممبرشپ کے لیے وقت ،،16 جولائی،، تک بڑھا دیا گیا ہے۔
3۔ترمیمِ دستور:،، 16 جولائی 2026 سے پہلے بننے والے ممبران کا کسی بھی عہدے اور سیکرٹری کے الیکشن کے لیے اہل ہونے کے سلسلے میں دستور میں ترمیم بلا تاخیر کی جائے گی۔
4۔،،استعفا اور عارضی تقرر:،، شہباز جواہر نے ذاتی مصروفیات کی وجہ سے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صدر کا عہدہ خالی ہونے پر مجلسِ انتظامیہ نے ،،ممتاز شفیق میو،، کو ممبر انتظامیہ اور عبوری صدر نامزد کر دیا۔
5۔،،رابطہ مہم:،، ممبران مجلسِ انتظامیہ و اکابرین نے برادری کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا اور دیگر لوگوں سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
،،اعلامیہ جاری کنندہ:،، زاہد مشتاق خاں سنگاریہ (سیکرٹری نشرواشاعت)، مورخہ: ،،10 مئی 2026،،۔
اگر قوم سمجھتی ہے یا لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ غیر آئینی و غیر قانونی کام ہوا۔الیکشن تو گئے تیل لینے ۔سب سے پہلے تو ان شرکاء کا احتساب کیا جائے۔
جن لوگوں کو یہی معلوم نہ ہو کہ کونسا کام آئینی ہے ۔کونسا غیر آئنی ہے۔کیا ان سے توقع کیا جاسکتی ہے۔کہ آنے والے وقت میں وہ آئین کے محافظ بن سکیں گے؟

