
باغ لذت
مترجم کا نوٹ
“الروض العاطر في نزهة الخاطر جنسی افعال اور معاملات کے بارے میں ایک کلاسیکی عربی کتاب ہے جو الف لیلہ ولیلہ جیسی تفریح بخش کہانیوں کی مدد سے جنسی تعلقات پر واشگاف انداز میں بحث کرتی ہے۔ اس کا شاعرانہ انداز سے ادبی لحاظ سے اہم بناتا ہے۔ یورپ میں چوسر اور بو کا شیو نے اس قسم کی کتا بیں تحریر کیں۔
محمد ابو عبد اللہ بن عمر العلو اوی کا نام اپنی واحد معلوم تصنیف کی وجہ سے زندہ رہا۔ اس کتاب کے موضوع اور متعد د غلطیوں کے باوجود مصنف کا صیح البیان ہو جا عیاں ہے۔ وہ عام عربوں کی نسبت ادب اور طب کا کافی بہتر علم رکھتا تھا۔ اندازہ ہے کہ اسے تقریبا 1925ء میں (1410ء اور 1434 ء کے درمیان ) لکھا گیا۔
عرب مومن اپنی جائے پیدائش کا نام بطور لاحقہ استعمال کرتے تھے، لہذا ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ نغز اوا میں پیدا ہوا۔ یہ قصبہ جنوبی تونس کی جھیل Sobkha Malir کے کنارے پر ای نام کے ایک علاقے میں واقع ہے۔ شیخ العطر اوی نے خود بھی لکھا ہے کہ وہ تیونس میں رہتا تھا، اور غالبا یہ کتاب و ہیں تصنیف کی گئی۔
روایت کے مطابق اس نے ایک خاص مقصد کے تحت علم اٹھایا۔ جب تیونس کے سلطان کو قانون علم اور طب میں اس کے علم کا پتہ چلا تو اسے قاضی کے عہدے پر تعینات کرنے کا خواہش مند ہوا۔ البتہ العطاوی اس عہدے کی ذمہ داریاں انجام دینے پر تیار نہیں تھا۔ لہذا سلطان کے قمر سے بچنے کی خاطر اس نے معاملے کو کچھ عرصہ تک ٹال دیا تا کہ اپنی شروع کی ہوئی کتاب کو مکمل کر سکے۔ مہلت ملنے پر وہ کتاب لکھنے میں مشغول ہو گیا۔ اس نے اتنی زیادہ توجہ حاصل کر لی کہ اب اے قاضی کے عہدے پر فائز کرنا موزوں نہ رہا۔
لیکن اس روایت کی توثیق نہیں ہوتی ، اور اس میں شیخ الطواروی کو اخلاقی حوالے سے پیش
کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کا ایک مرتبہ جائزہ لینے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا مصنف نہایت اچھی نیت رکھتا تھا اور انسانیت کے لیے یہ خدمت کرنے کی وجہ سے شکریہ کا متحق ہے۔ عربوں کی عادات کے برعکس اس کتاب کی کوئی شرح نہیں لکھی گئی: شاید
اس کی وجہ اس کا موضوع ہو ۔ اہل علم نے ضرور اس سے گریز کیا ہوگا۔ لیکن اس کی شرح ضرور لکھی جانی چاہیے تھی۔ کیونکہ یہ بہت سے سوالات اٹھاتی ہے اور خور و تحقیق کے لیے بہت کچھ پیش کرتی ہے۔ عورت اور مرد کی باہمی خوشی کے اصول یقینا قابل تحقیق !
اس قسم کے موضوعات پر قلم اٹھانے والے دیگر معلمین میں کوئی بھی ایسا نہیں جس کا موازنہ شیخ کے ساتھ کیا جا سکے۔ یہ کتاب آپ کو کتاب الباء” کے Acetin اور ابلیس کی بھی یاد دلاتی ہے، لیکن اسے بے مثل بنانے والی چیز وہ سنجیدگی ہے جو نہایت شہوت انگیز اور بخش معاملات پر بات کرتے وقت برتی گئی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصنف اپنے موضوع کی اہمیت کا پوری طرحپاس ہے اور اپنے ساتھی انسانوں کی راہنمائی کرنا چاہتا ہے۔ اپنی تجاویز کو مزید باوزن بنانے کی خاطر دہندہ ہیں حوالے دینے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔
در حقیقت الروض العاطر ہندوستان کی کاما سوتر اسے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ جابجا پیش کی گئیں شہوت انگیز کہانیاں مرکزی فرق ہیں جن کا مقصد ان مردوں کی مدد کرتا ہے جنہیں ایستادگی حاصل کرنے میں کچھ مشکلات درپیش ہیں۔ مصنف مجامعت کے طریقوں کے متعلق ہندوستانی کب سے ناواقف ہرگز نہیں تھا ، جیسا کہ اس نے خود بھی بتایا ہے ۔ ہم یہ خیال قائم کر سکتے ہیں کہ زیر نظر کتاب ساری کی ساری شیخ العطاوی کی تحقیق پر مشتمل نہیں اور متعدد حصے الف لیلہ و لیلہ اور ہندوستان کتب سے مستعار لیے گئے۔ مثلا مسلیمہ کذاب اور شجاعت کے بارے میں تمام ریکارڈ محمد بن جریر الطمری کی تاریخ الام و اسلوک سے ماخوذ ہیں ؛ جماع کی مختلف حالتوں اور حرکات کا بیان ہندوستانی کتب کا مرہون منت ہے۔ نیز خوابوں کی تعبیر کے معاملے میں عز الدین المقدی کی تاب الكشف الاسرار من حكام العظیم والا ظہار سے بھی کافی استفادہ کیا گیا۔
المسوس کہ اس کتاب میں اغلام بازی، یعنی عورت پر نوجوان لڑکے کو ترجیح دینے کی عرب

