
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مقدمہ
کسی بھی ملک کو دیکھ لیں، چاہے وہ چھوٹا ہے چاہے بہت بڑا، ملک کا ایک سربراہ یا بادشاہ ہوا کرتا ہے جو نہ صرف اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھتا ہے جس کے ذریعے ملک کے کونے کونے کے حالات اور واقعات سے ہر وقت آگاہ رہتا ہے، جہاں کہیں بھی کوئی مطالبہ یا شور و غوغا اٹھتا ہے اس کے ازالے کیلئے بادشاہ انتظامیہ کو حرکت میں لا کر متعلقہ لوگوں کے مطالبات کو حل کرا دیتا ہے جس سے پھر امن و چین ہو کر ملک ترقی کرتا ہے۔
بالکل اسی صورت بادشاہ سلامت غیر ممالک کے ساتھ روابط رکھتا ہے۔ اگر دنیا میں کہیں بھی زلزلہ، وباء یا قحط یا کوئی دو ملکوں میں جنگ ہو جائے تو بادشاہ سلامت ان ممالک کے ساتھ خارجی تعلقات کے طریقے کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا ہے، یعنی اگر کسی ملک میں وباء، زلزلہ یا قحط وغیرہ سے جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق امداد کرتا ہے۔ بعض دفعہ کسی ملک کو فوجی جوانوں کی صورت مدد دیتا ہے۔
اسی طرح اس کائنات جسے جہان کہا جاتا ہے کا نظام بخوبی چلایا جا رہا ہے۔ بالکل اسی صورت جیسے جسم میں دماغ ہے، وہ مملکتِ جسمِ انسان کا بادشاہ ہے، دماغ اپنے کارندوں (اعصاب) کے ذریعے اپنے برابر کی مملکتوں (دل، جگر) کے حالات و واقعات سے آگاہ رہتا ہے، جہاں کہیں بھی کسی قسم کا انتقام… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)

صفحہ نمبر ۱۰
تحقیقاتِ دماغ و اعصاب
…(مرض) ہو نا ہے، وہاں کی اصلاح (تعمیر و ترقی) کے لئے ضروری انتظام کرتا ہے۔ مثلاً اگر کسی مقام پر دورانِ خون زیادہ ہو جائے یا کم ہو جائے جس سے متاثرہ عضو کی اصلاح ضروری ہو تو دماغ سست مفرد اعضاء کی طرف دورانِ خون فراہم کرا دیتا ہے اور تیز و متحرک مفرد اعضاء سے دورانِ خون کم کر کے ان کے افعال میں اعتدال پیدا کر دیتا ہے۔ اسی طرح مملکتِ جسمِ انسان کا انتظام دماغ چلاتا رہتا ہے۔
دماغ کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہے
فارسی زبان کے ماہرین کہتے ہیں کہ دماغ جسم کا انتہائی نازک اور حساس عضو ہے جو تمام حیاتی مفرد اعضاء میں سردار و شہنشاہ کی حیثیت سے جسم کے اوپر سر میں محفوظ ہے۔
دماغ کی اہمیت و ضرورت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر دماغ و اعصاب جسم میں نہ ہوں تو سارا جسم بے حس و بے حرکت پڑا رہے۔ مثلاً جس حصہ میں دماغ و اعصاب کے احکام نہیں پہنچتے وہاں فالج ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے، یہ ذہن نشین کر لیں کہ انسان کا دماغ عقل و شعور کے لحاظ سے تمام کائنات کی مخلوقات سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اسی شعور و عقل کی وجہ سے حضرت انسان اشرف المخلوقات ہے۔
اپنے خدا داد عقل و شعور اور اعلیٰ دماغی افعال کے سبب دیگر تمام جاندار حیوانات کو اپنا فرماں بردار بنا لیا ہے۔
انتہائی صفات کے مالک دماغ پر اگر کسی قسم کی آفت یا خرابی ہو جائے تو نہ صرف نظامِ حساس درست نہیں رہتا بلکہ دوسرے نظامات (حرکت و تحلیلِ غذا و مواد وغیرہ) بگڑ جاتے ہیں، جس سے جسمِ انسان کی طبعی حرکات سے عاری ہو جاتا ہے، جگر… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)
صفحہ نمبر ۱۱
دماغ و اعصاب
…غدد و تحلیلِ غذا و فاسد مواد کو خارج کرنے سے لاتعلق ہو جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسمِ انسان امراضِ کا گھر بن جاتا ہے۔
لہٰذا ہر ڈاکٹر حکیم، طبیب اور معالج کا فرض ہے کہ وہ جب بھی کسی مریض کے دماغ و اعصاب میں کسی قسم کی خرابی محسوس کریں تو فوراً قانونِ مفرد اعضاء کے تحت اس کا ازالہ کریں تاکہ دوسرے نظامات بھی اعتدال پر آ سکیں۔
دماغ و اعصاب کے افعال میں خرابی کی ممکنہ صورتیں
قانونِ مفرد اعضاء کے تحت دماغ و اعصاب میں تین قسم کی ممکنہ خرابیاں ہو سکتی ہیں: ۱- دماغ و اعصاب کے افعال میں تیزی ہو جائے۔ ۲- دماغ و اعصاب کے افعال میں تسکین ہو جائے۔ ۳- دماغ و اعصاب کے افعال تحلیل ہو جائیں۔
دماغ و اعصاب کے افعال میں تیزی کا مطلب
دماغ و اعصاب کے فعل میں تیزی کا مطلب یہ ہے کہ دورانِ خون دماغ و اعصاب کی طرف زیادہ ہو گیا ہے جس سے دماغ و اعصاب کے افعال میں تیزی سے تجاوز ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رطوبات کی کثرت ہو جاتی ہے مثلاً کثرتِ بول، پسینہ، زکام، لعبی کھانسی، دست، ضعف و تسکینِ قلب کی علامات و تکالیف ہو جاتی ہیں۔
ان علامات و خرابیوں کا علاج یہ ہے کہ درانِ خون قلب کی طرف روانہ کر دیا جائے یا جلتے میں سے ایک طرف تسکینِ قلب ختم ہو جائے گا دوسری طرف رطوبات کی… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)
صفحہ نمبر ۱۲
کثرت سے ہونے والی تمام تکالیف ہو جائیں گی۔
دماغ و اعصاب میں تسکین کا مطلب
جب جگر اور گردوں کی طرف دورانِ خون بڑھ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دماغ و اعصاب میں دورانِ خون کی انتہائی کمی ہو جاتی ہے۔ مریض کو ذہنی طور پر دماغ میں کمزوری، سستی اور تسکین ہو جاتی ہے۔ مریض ذہنی طور پر نسیان میں مبتلا ہو جاتا ہے، عقل و شعور میں کمی آ جاتی ہے کیونکہ تسکین کی وجہ سے دماغ و اعصاب پوری طرح قلب کو احکامات برائے حرکت دے نہیں سکتے۔ اس لئے جسم سست کاہل، بوجھل رہنے لگتا ہے، بعض دفعہ واپس طرفِ فالج ہو جانا ہے، رطوبات کی کمی ہو جاتی ہے۔
ان تکالیف و علامات کا علاج یہ ہے کہ دورانِ خون دماغ و اعصاب کی طرف بڑھا دیا جائے، جس سے تمام تکالیف غائب ہو جائیں گی۔
دماغ و اعصاب میں تحلیل کا مطلب
دماغ و اعصاب سے جب دورانِ خون قلب میں زیادہ ہو جاتا ہے تو دل میں تیزی آ جاتی ہے لیکن دماغ ضعیف و منفعل اور کمزوری کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ رطوبات کی پیدائش تقریباً رک جاتی ہے، بڑی ہوئی رطوبات خشک ہو جاتی ہیں جیسے نزلہ، زکام، بول، لعابِ دہن کی کمی، دست وغیرہ سب غائب ہو جاتے ہیں اور مریض نہایت درست ہو جاتا ہے۔
یہاں میں نے مختصر طور پر دماغ و اعصاب میں ممکنہ خرابیوں کا خاکہ پیش کیا ہے۔ کتاب ہذا میں تمام علامات و تکالیف کی ماہیت اور تحریکات وغیرہ بڑی… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)
صفحہ نمبر ۱۳
تحقیقاتِ دماغ و اعصاب
تفصیل سے مذکور ہیں، ان کی نوعیت اور دوائی علاج پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی امراض و علامات کی تشریح اور ان کے علاج میں جو غلطیاں ہو رہی ہیں ان کا قانونِ مفرد اعضاء کے تحت ازالہ کر دیا گیا ہے۔
مثلاً اعصاب کے متعلق سبھی مفکرین اس حقیقت پر متفق ہیں کہ اعصاب کی حرکت جسم میں بھی پائے جاتے ہیں جنہیں عام طور پر حرکتِ اعصاب کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعصاب کا جسم میں کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ اعصاب کا وجود توصیفِ احساس کے لئے ہے۔
یاد رکھیں حیوانی جسمِ خاص جسم کے انسانی جسم کے لئے بہ ضروری ہے، اندرونی یا بیرونی کسی بھی حصہ میں کوئی مؤثر اثر انداز ہو تو اس کا علم دماغ کو ہو نا کہ اعضائے اپنی قوتِ عقل و شعور سے فیصلہ کرے کہ وہ مؤثر جسم کے لئے مفید ہے یا نقصان دہ، بیرحم جسم میں خبر رساں اعصاب کرتے ہیں۔
اس حقیقت سے تو آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ کسی مفید چیز کو حاصل کرنے یا نقصان دہ چیز سے دور رہنے کے لئے حرکت کرنا ضروری ہے۔ خالقِ مطلق نے حرکت کا فعل صرف قلب اور عضلات کو دیا ہے۔ حرکتِ کائنات جیسے جیسے حرکت میں رہتا ہے جو نہ کہ قلب جسمِ عضلات کے ذریعے حرکت کرتا ہے۔ لہٰذا قدرت نے عضلات کو جسمِ کے ذرہ ذرہ میں متعین کیا ہوا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حرکت کا فعل کر سکیں۔
جب دماغ اپنے خبر رساں اعصاب سے کوئی اطلاع وصول کرتا ہے تو اول اپنی قوتِ عقل و شعور سے فیصلہ کرتا ہے کہ یہ جسم کے لئے مفید ہے یا مضر، پھر دماغ اپنے فیصلے پر عمل کرانے کے لئے حکمِ رساں اعصاب کے ذریعے قلب و عضلات کو حکم بھیجتا ہے۔ قلب و عضلات حکم ملتے ہی حرکاتِ ضروری شروع کر دیتے ہیں، اور اس… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)
صفحہ نمبر ۱۳ (یہ صفحہ نمبر پہلے ۱۳ کی تکرار میں پرنٹ ہوا معلوم ہوتا ہے — اصل کتاب کے مطابق)
تحقیقاتِ دماغ و اعصاب
اوراس وقت تک حرکات جاری رکھتے ہیں جب تک دماغ کے حکم پر عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا یہ اینڈ (یعنی) غلط تصور ذہن سے نکالیں کہ اعضاء کی حرکتیں جسم میں بھی ہوتی ہیں۔ اسی طرح حواس کے متعلق بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً:
حواسِ خمسہ نہیں، حواسِ ستّہ ہیں
قارئین آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ حواسِ خمسہ نہیں بلکہ حواسِ ستّہ یعنی چھ حواس ہیں۔ اس طرح حواسِ خمسہ کو صرف دماغ و اعصاب کو حواس کے سمجھا جاتا ہے، جو درست نہیں ہے۔
کیونکہ اکثر حواس کو عضلاتی مفرد اعضاء انجام دیتے ہیں، لہٰذا انہیں اس طرح کسی دماغ و اعصاب کے افعال نہیں کہا جا سکتا۔ زبان ذائقہ بتانے والا جوعضلاتی عضو ہے۔ اسی طرح بعض حواس کا (سونگھنا، ادراک، غدد انجام دیتے ہیں) جیسے جلد و لمس کا احساس۔
آنکھیں تحقیق کرتی ہیں لیکن خالص غدی اعضاء ہیں، غدد اپنے کام کو جلد کرتی ہے جو خالص غدی جسم ہے، جو غدی مادہ سے بنی ہوئی ہے۔
چونکہ مفرد اعضاء دل، جگر، اعضاء الگ اپنے احساسات رکھتے ہیں لہٰذا حواس یا تو ذہن میں چار ہیں یا مرکب کی صورت میں چھ ممکن ہیں حواسِ خمسہ کسی قانونِ اعضاء کے تحت نہیں آتے، یعنی علمِ اعضاء کے تحت زمین باعث ہو ناضروری ہیں۔
اس کتاب ہذا میں، میں نے قانونِ مفرد اعضاء کے تحت حواسِ خمسہ کو رد کر کے حواسِ ستّہ کو ثابت کیا ہے کیوں کہ ان اوران کی کمل بالاعضاء جسم میں نشاندہی کی ہے۔
قارئینِ، میں نے تحقیقاتِ امراضِ دماغ کو بے حد محنت اور انتہائی احتیاط و کوشش سے اغلاط سے پاک کر کے مکمل کیا ہے، لیکن انسان خطا و نسیان کا مرکب ہے جس سے کہیں کوئی ایسی غلطی ہو سکتی ہے جس کا آپ کا فرض ہے کہ آپ مطالعہ کتاب ہذا کے بعد ہونے والی اغلاط دیکھیں یا کیوں کہ… (عبارت اگلے صفحے پر جاری ہے)
صفحہ نمبر ۱۵
…مجھے آگاہ کریں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
ضروری گزارش
قارئینِ کتاب، بعض دفعہ لکھے ہوئے مفرد اعضاء کے افعال یا ان کے علاج میں کچھ قانونِ مفرد اعضاء کی تحقیقات سے تکرا جاتی ہیں یعنی قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے وہ غلط ہو جاتی ہیں۔ ایسے موقعوں پر اغلاط کے ازالے کے لئے اعتراضات کئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔ ان اعتراضات اور جوابات سے کسی کے دل آزاری مطلوب نہیں ہوتی، بلکہ محض ایک نکتہ اصلاح و تجدیدِ نظر ہوتی ہے۔
میں اپنے محققین بھائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میری اس حقیر سی محبت کو قبول فرمائے اور دراصل طلبی بھائیوں کے لئے رہنما بنائے، آمین ثم آمین۔
۱۴/۱/۹۴
خادمِ فن حکیم محمد یٰسین دنیا پور
(نیچے باکس میں اشتہار) ماہنامہ “قانونِ مفرد اعضاء” کا مطالعہ کیجئے، اس کے باقاعدہ مطالعہ سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔ چندہ سالانہ /- ۳۲ روپے، معہ خاص ایڈیشن
صفحہ نمبر ۱۹
ماہیتِ قانونِ مفرد اعضاء
چونکہ قانونِ مفرد اعضاء کی تحریرِ متفرقہ حیثیت سے سالِ کچھ عرصے کی تقریب ہے اور اس کے ذریعے تمام کتب لکھی جائیں گی، اس لئے اس کی حقیقت و ماہیتِ علم الامراض سے پہلے تحریر کرنا ضروری سمجھا ہوں تاکہ کتاب کے ہر لفظ و نقطے کو قارئین آسانی سے سمجھ سکیں اور آئندہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
قارئینِ ذہن نشین کر لیں کہ قانونِ مفرد اعضاء کی بنیاد تینِ حیاتی اعضاء (دل، جگر، دماغ) پر قائم ہے۔ ماہیتِ اعضاء کے متعلق ۱۰ متعلقہ ایک مسلمہ امر ہے کہ اغلاط سے نتیجہ نکلتا ہے۔ حبکہ اغلاط بلاشبہ جسمِ ہر شخص کا مصونہ مادہ اختیار کرتے ہیں۔ ان اقسامِ مفرد اعضاء (عضلات، غدد، اعصاب) جن جاتے ہیں، ان اپنی مفرد اعضاء سے مرکب اعضاء ترتیب پاتے ہیں، مثلاً معدہ، جگر، دل اور بہت سے دیگر وغیرہ۔

اخلاطِ کا حجم ہر کر مفرد اعضاء ایک دوسرے کو متاثر کرنا اور فاضل رطوبات کو خون سے خارج کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سائنس انکار نہیں کر سکتی۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی مفرد حیاتی عضو محرک و تحریک اور تیزی میں ہوتا ہے، اس کے برعکس کسی نہ کسی مفرد حیاتی عضو میں سستی، تسکین ہو جبکہ تیزی، یعنی حیاتی مفرد اعضاء میں نفع و تحلیل اور نموِ حاصل ہوتی ہے جس سے امراضِ علاج کے لئے قانونِ مفرد اعضاء کے تحت تشخیص، ان کے ذریعے یکجا کر کے و رجحان دیکھو کے میں دیریز داخل مادّہ نتیجہ ان کے آسانی سے ہدف عائیں معلومات ہو جاتی ہیں۔
صفحہ نمبر ۱۷
دماغ کی ماہیت، حقیقت اور اہمیت
دماغ کے لغوی معنی حواس، عقل، دانائی اور مغز کے ہیں۔ انسان کا دماغ عقل و شعور کے لحاظ سے تمام کائنات کی مخلوقات سے افضل و اعلیٰ ہے، اسی وجہ سے حضرتِ انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ اپنے خدا داد عقل و شعور اور اعلیٰ دماغی ملکاتِ نطق کے سبب دیگر حیوانات کو اپنا فرماں بردار بنا لیا ہے۔
حیوانات کا دماغ برابر نہیں بلکہ عام طور پر ایک بڑے جانور آدمی کے دماغ کا وزن پونے ۴ سے ۵ اونس تقریباً وزنِ بڑھے کھلے اور ایک جوان عورت کا دماغ تقریباً ۴۴ سے ۴۵ اونس ہوتا ہے۔ ذہین اور عالی دماغ اشخاص میں دماغ کا وزن ۵۴ سے ۵۵ اونس تک ہوتا ہے، اس کے برعکس ماند و کالوں یا آدمیوں کا دماغ بائیس (۲۲) اونس ہی ہوتا ہے۔
حیوانات میں سوائے گورمچہ کے باقی تمام حیوانات کے مقابلے میں دماغ انسان کے دماغ سے وزن میں کم ہوتا ہے، گرچہ جسمانی تناسب کے لحاظ سے گورمچہ اور ہاتھی کے دماغ سے آدمی کا دماغ بھاری ہوتا ہے۔ کیونکہ انسانی دماغ کا وزن اس کے جسم کے وزن کے حساب سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔
قدرت کی انسان پر بہت بڑی عنایت ہے کہ اس کا دماغ مالیس برس تک بلمتناہی بڑھتا رہتا ہے، اس کے بعد ہر آنے والے سال میں دماغ کا وزن کم ہوتا رہتا ہے۔
دماغ کا محل و قوع: دماغ کھوپڑی کی آٹھ ہڈیوں کے اندر تین جھلیوں میں لپٹا ہوا ہے، یہ جھلیاں اس کی غذا اور حفاظت کے لئے ہیں، گنتی میں یہ تعداد میں تین ہیں۔
۱– بیرونی جھلی: دماغ کی پچھلی کھوپڑی کی اندرونی سطح دماغ اور دوسرے پردے کے ساتھ چپکاں ہے۔ اس جھلی کا بیرونی حصہ کھوپڑی سے لگا ہوا ہے، کھردرا اور رگوں دار ہے اوراس کا اندرونی حصہ صاف اور چکنا ہے۔


