
بھنگ میں متعدد امراض کا علاج مضمر ہے۔
ناقل:۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
اقتباس:۔
گلدستہ طب و صحت
پھلوں سبزیوں اور جڑی بوٹیوں سے علاج(حصہ دوم)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھنگ کا پودا ایشائی ممالک میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بری خودرو اگنے والی گھاس پھوس میلوں دور دور تک ہمیں نظر آتی ہے۔ موسم بہار میں یہ پودا بڑھنا پھولنا شروع گر گرمی کے موسم کی شدت کو اپنی مست خوشبو سے کم کرنے کے لیے مئی جون کے دنوں میں یہ پودے جوبن پر آجاتے ہیں۔ انچ دو انچ لمبے کٹاؤ دار پتوں والا تین چار فٹ بلند یہ پودا گرم لو اور آندھی کے جھکڑوں سے پیدا ہونے والے خون کے جوش کو کم کرنے، معدہ کی تیزابیت دور کرنے اور خوشگوار بھوک لگوانے کے لیے صدیوں سے پرانے حکیم استعمال کر رہے ہیں۔ اسے فارسی زبان میں ورق الخیال اور لاطینی میں کینی بیس اور ہیمپ کہا جاتا ہے۔ اس کے پتوں اور بیجوں کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے غنودگی اور نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کے عام استعمال پر حکومت کی طرف سے پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ تھوڑی مقدار میں اسے بوہا بھی کہا جاتا ہے اور مریضوں کو استعمال کرانے کے لیے حکومت کے لائسنس دار ہی اس کے خشک پتوں اور بیجوں کو فروخت کرتے ہیں۔ پرانے زمانے سے حکیم صاحبان اس کے ساتھ دوسری ادویات شامل کر کے پریشانی دور کرنے، دماغ اور غور و فکر کی طاقت میں لطافت اور جلا پیدا کرنے اور پیشاب بنانے والے اعضاء کی گرمی، جلن اور خراش دور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی سفارش کرتے چلے آتے ہیں۔ جب بھوک نہ لگے، معدہ میں جلن اور بوجھ رہے، منہ میں غذا ڈالنے سے گیس اور اپھارہ ہو جائے تو بھنگ خشک تولہ، دیسی اجوائن دو تولے دونوں پیس کر ایک رتی سے دو ماشہ تک کھاکر اوپر میٹھا دُودھ یا
۶۴

لسی دہی یا چائے کا ناشتہ چند روز کر لیا جائے تو خدا کے فضل سے معدہ درست، گیس کم اور بھوک بخوبی چند روز میں ظاہر ہو جائے گی۔
ملیریا بخار کو روکنے کے لیے ایک تولہ بھنگ، آدھا تولہ نازبو یعنی ریحان کے پتے اور ڈیڑھ تولہ گڑ ملا کر کوٹ کر مٹر کے دانے برابر گولیاں بنالیں۔ ایک گولی دو گھنٹے اور دوسری بخار چڑھنے سے آدھ گھنٹہ پہلے گرم دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے خدا کے فضل سے بخار کی باری ٹک جائے گی۔ چند روز روزانہ دو تین گولیاں بخار چڑھنے سے پہلے استعمال کرنے سے ملیریا سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔ پرانے بخار میں روزانہ تین چار گولیاں ہفتہ دو ہفتے تک استعمال کرانی ضروری ہیں۔ جب بار بار دست آئیں، آنتوں میں گڑ گڑ اور آوازیں نکلتی رہیں۔ کچی پکی غذا دستوں کی راہ نکلنے لگے۔ تو معدہ برابر وزن بھنگ، درخت آم کے پتے اور سفید زیرہ کوٹ چھان کر رکھ لیں۔ چائے والے آدھے سے تین چوتھائی تک صبح و شام اور زیادتی مرض میں تین خوراک روزانہ دہی کی لسی یا شربت انار کے ساتھ چند روز استعمال کرنے سے دست بند اور آنتیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ بعض مرد عورتوں اور بچوں کو کئی سال سے دست اور پتلا پاخانہ اور منہ پکنے کی عادت ہوتی ہے۔ جب دست آتے رہیں تو منہ میں چھالے دب جاتے ہیں۔ جب دست کم ہو جائیں تو پیٹ پھولا ہوا اور منہ حلق میں چھالے ہو کر غذا کا کھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے مریضوں میں بھنگ، انار کے پھول، بہی دانے تینوں برابر وزن پیس کر رکھ لیں۔ چند روز سے چند ہفتوں تک صبح و شام مریض کی عمر اور طاقت کے مطابق آدھے سے ڈیڑھ چائے والا چمچہ بھر یہ چند پیسوں میں ملنے والی دوائی استعمال کر دیکھیں۔ اس دوا کو کٹھے یعنی دہی کے ادھ رڑکے یا ہری چائے، دال چینی اور بڑی الائچی تین تین ماشہ کا قہوہ بنا کر دودھ کھانڈ اور معمولی نمک ملا کر استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔ اس کے استعمال کرنے سے دہی دودھ بھی ہضم ہونے لگتا ہے۔ جو مریض ہیں اور دودھ بالکل ہضم نہیں کر سکتے وہ خشک پودینہ آدھا
۶۵
تولہ اور ایک عدد بڑی الائچی پیالی بھر پانی میں جوش دے کر چھان کر میٹھا ملا کر اس جوشاندہ کے ساتھ یہ دوائی استعمال کر سکتے ہیں۔
جب پیشاب میں جلن ہو اور پیپ آنے لگے تو تین ماشے خشک بھنگ یا تولہ بھر تازہ آدھ چھٹانک تخم خیارین یعنی کھیرہ لکڑی کے گلاس بھر پانی میں گھوٹ چھان کر کھانڈ شکر ملا کر چند روز صبح پینے سے پیشاب کھل کر آنے لگے اور درد کو آرام ہو جاتا ہے۔ جن عورتوں کو اختناق الرحم جسے ہسٹیریا اور عوام آسیب کہتے ہیں تنگ کرے اور بار بار دورے تنگ ہو کر بے ہوشی اور اعصاب میں جکڑن پیدا ہونے لگے وہ بھنگ اور ہینگ دونوں برابر وزن ملا کر چنے کالے کے برابر گولیاں بنا کر رکھ لیں۔ ایک سے چار گولی تک صبح و شام دودھ یا عرق عرق بادیان پانچ پانچ تولہ کے ساتھ چند روز استعمال کرنے سے صحت ہو جاتی ہے۔
جن مریضوں کو زیادہ سوچنے اور گرم خشک غذائیں اور دوائیں کھانے سے نیند کم ہو جائے، موجودہ اسی فی صد معاشرہ زیادہ دماغی کام کرنے اور نت نئے منصوبے بنانے کی وجہ سے عموماً پریشان اور زہریلی عارضی تسکین دینے والی دوائیں دن رات کھا کر اپنی صحت برباد کر رہا ہے۔ میں ایسے مریضوں کو مغز تربوز، مغز خربوزہ، سونف یعنی بادیان، کاسنی کے بیج چاروں آدھا آدھا تولہ، مغز بادام سات عدد، خارخسک یعنی بھکھڑا تولہ بھر اور بھنگ خشک آدھے سے ڈیڑھ ماشے تک گلاس پانی میں گھوٹ چھان کر کھانڈ ملا کر صبح بطور ناشتہ اور سونے سے دو گھنٹے پہلے رات کے کھانے کی جگہ استعمال کراتا ہوں۔ اس ترکیب سے دماغی خشکی دور، اعصاب کی سختی کم اور مزیدار نیند آنے لگتی ہے۔
جب پیڈو کے نیچے یا خصیوں میں درد، ورم اور سرخی ہو جائے تو اس کے تازہ پتوں کا لیپ یا خشک تولہ بھر تین پاؤ پانی میں جوش دے کر بھاپ کی ٹکور کرنے سے صحت ہو جاتی ہے۔
۶۶
تازہ بھنگ کوٹ کر پانی نکال کر برابر وزن میٹھے تیل میں جلا کر پانی خشک ہونے پر آگ سے اتار کر سنبھال رکھیں۔ کان میں ٹپکانے اور جوڑوں پر مالش کرنے سے درد اور ورم کو صحت ہو جاتی ہے۔
پیاز کا پانی
ہیضہ کے جراثیم ہلاک کرنے کی گھریلو دوا ہے
گرمی کی شدت اور برسات کے موسم میں گرم ملکوں میں ہر سال ہیضہ کی وبا پھوٹ نکلتی ہے۔ حکومت اور بلدیاتی ادارے اس جراثیم سے آناً فاناً پھیلنے والی بیماری کی روک تھام کے لیے مناسب تدارک کرتے رہتے ہیں۔ اب تو گھر گھر ہیضہ سے محفوظ رہنے کے لیے ٹیکے لگانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہر سال ملک کے چپہ چپہ سے سینکڑوں قیمتی جانیں اس کی نذر ہو جاتی ہیں۔ چند سال پہلے جبکہ یہ بیماری ذرا لمبی مدت اور ملک کے بڑے بڑے شہروں میں خوب گرم بازاری دکھانے لگی تو ہمارے ملک کے بڑے بڑے ڈاکٹر اس کا نام رکھنے سے ہچکچاتے اور اخبارات میں اس کو پیٹ کی وبائی مرض کہہ کر ٹالنے کی کوشش کرتے رہے جب پرانے حکیموں اور معاشرہ کے تعلیم یافتہ طبقہ نے شور مچایا کہ یہ تو وبائی ہیضہ ہے جو صدیوں سے انسانی نسل کو ختم کرنے کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ تو اس کو ہیضہ کا صحیح نام دیا گیا۔ خدا محفوظ رکھے یہ منٹوں میں پھیلنے والی اور گھر گھر تباہی مچانے والی بیماری ہے جس میں ہضم ہوئے بغیر کھائی ہوئی غذا دست قے کے ذریعے خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے ہمارے جسم کی قوت مدبرہ (وائٹل فورس) اس کے زہریلے جراثیم جسم سے باہر نکال پھینکنے کے لیے بار بار دست و قے کی شکل میں ہمارے بچاؤ کا سامان کرتی ہے اصول حفظان صحت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہم ان ایک سے دوسرے تندرست اشخاص تک بیمار کرنے والے جراثیم کو تلف کرنے کی بجائے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور وہ


