پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

ناک ہمارے جسم کا پہرہ داری نظام،

 اس کا جسمانی کردار اور سائنسی و طبی افادیت

ناک ہمارے جسم کا پہرہ داری نظام، اس کا جسمانی کردار اور سائنسی و طبی افادیت
ناک ہمارے جسم کا پہرہ داری نظام،
اس کا جسمانی کردار اور سائنسی و طبی افادیت

ناک ہمارے جسم کا پہرہ داری نظام،

 اس کا جسمانی کردار اور سائنسی و طبی افادیت

پھیپھڑوں کا نگہبان اور پہرہ دارانہ نظام

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ

انسانی ناک محض ہوا کی آمد و رفت کا ایک غیر فعال راستہ نہیں ہے، بلکہ یہ پھیپھڑوں کے حساس اور نازک نظام کے لیے ایک چوکنا اور فعال پہرہ دار (Guard Dog) ہے 1۔ یہ بیرونی ماحول اور اندرونی اعضاء کے درمیان پہلی مدافعتی لکیر تشکیل دیتی ہے، جہاں سے بیرونی ہوا جسم میں داخل ہوتی ہے 1۔ ناک کا بنیادی ترین تنفسی فریضہ یہ ہے کہ یہ پھیپھڑوں تک پہنچنے والی ہوا کو مصفا بنائے اور اسے ایک مخصوص درجہ حرارت اور نمی کے دائرے میں لا کر نچلی سانس کی نالیوں کو ماحولیاتی دباؤ اور جراثیم سے محفوظ رکھے 1۔ اگر بیرونی ہوا کو ناک کے اس فلٹریشن اور ائیر کنڈیشننگ کے نظام سے گزارے بغیر براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہونے دیا جائے، تو نچلی سانس کی نالیاں اور ہوا کی تھیلیاں مستقل سوزش، خشکی اور انفیکشنز کا شکار ہو سکتی ہیں 4۔

اناتومی، خلیاتی ساخت اور اندرونی گزرگاہیں

ناک کا اندرونی جوف (Nasal Cavity) دراصل دو الگ فضائی راستوں پر مشتمل ہوتا ہے، جنہیں ناک کا پردہ (Nasal Septum) ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے 6۔ ہر جوف کی اندرونی دیوار پر تین بل دار ہڈیاں نما ابھار ہوتے ہیں جنہیں ٹربینیٹس یا کونچے (Turbinates) کہا جاتا ہے، جو ناک کے اندرونی رقبے کو وسیع کرتے ہیں 3۔ ناک کے جوف کا یہ پورا نظام پیچھے کی طرف خوانے (Choanae) کے ذریعے حلقوم (Nasopharynx) سے جڑتا ہے 6۔

خلیاتی اور بافتی سطح پر ناک کے اندرونی جوف کو تین بنیادی خطوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

ناکی دہلیز

یہ نتھنوں سے شروع ہونے والا ابتدائی حصہ ہے جس کا پہلا نصف مطبق چپٹی بفت (Keratinized Stratified Squamous Epithelium) سے ڈھکا ہوتا ہے جس پر موٹے بال (Vibrissae) اگتے ہیں 2۔ یہ بال ہوا میں معلق دھول کے بڑے ذرات کو ابتدائی مرحلے پر ہی روکنے کا کام کرتے ہیں 2۔ دہلیز کا دوسرا نصف حصہ تنفسی بفت میں تبدیل ہو جاتا ہے 2۔

تنفسی خطہ

یہ ناک کا سب سے بڑا حصہ ہے جو کاذب مطبق بالدار ستونی بفت (Ciliated Pseudostratified Columnar Epithelium) اور لعابی خلیات (Mucous Cells) سے مزین ہوتا ہے 2۔ اس خطے میں غدود اور خون کی رگوں کا جال پھیلا ہوتا ہے جو ہوا کو گرم اور مرطوب بنانے کا کام سرانجام دیتا ہے 2۔

سونگھنے کا خطہ

ناک کی چھت کے قریب واقع یہ خطہ سونگھنے کے حسی خلیات (Olfactory Epithelium) پر مشتمل ہوتا ہے 2۔ یہاں موجود اعصابی ریسیپٹرز سونگھنے والے مالیکیولز کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے بلغم میں موجود مخصوص پروٹینز کا سہارا لیتے ہیں 2۔ ان خلیات کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ ایک ریسیپٹر خلیہ صرف ایک مخصوص قسم کی بو کا پتہ لگا سکتا ہے اور یہ خلیات دوبارہ پیدا ہونے یعنی ری جنریشن (Regeneration) کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں 2۔ یہ سگنل کریبریفارم پلیٹ (Cribriform Plate) کے سوراخوں کے ذریعے براہ راست سونگھنے والے اعصاب (CN I) تک منتقل ہوتے ہیں 2۔

جغرافیائی اناتومی کے اعتبار سے ناک کے فرش پر، مرکزی دانتوں کے پیچھے، انسیسیو کینال (Incisive Canal) واقع ہوتی ہے جو نیزو پیلیٹائن اعصاب (Nasopalatine Nerve) کو دہن کے جوف (Oral Cavity) میں اور گریٹر پیلیٹائن شریان (Greater Palatine Artery) کو ناک کے جوف میں لے جانے کا راستہ فراہم کرتی ہے 2۔

جب سانس کی نالی نچلے حصوں کی طرف بڑھتی ہے، تو پھیپھڑوں کی چھوٹی نالیوں (Respiratory Bronchioles) میں بلغم بنانے والے غدود غائب ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ مخصوص کلارا خلیات (Clara Cells) لے لیتے ہیں 7۔ کلارا خلیات کا بنیادی کام ہوا کے راستے میں تحلیل ہونے والے زہریلے مادوں کو بے اثر کرنا ہے 7۔ چونکہ بڑے معلق ذرات ترجیحی طور پر اوپر کے بڑے راستوں میں ہی رک جاتے ہیں، اس لیے نیچے بلغم کی ضرورت نہیں رہتی، تاہم وہاں بھی سیلیا موجود ہوتے ہیں جو مائعات کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں 7۔

ہیمو ڈائنامکس اور فضائی درجہ حرارت کا توازن

سرد اور خشک ہوا کو پھیپھڑوں کے درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ناک کا واسکولر سسٹم (Vascular System) بنیادی کردار ادا کرتا ہے 1۔ ناک کی جھلی کے اندر چار قسم کی خون کی رگیں پائی جاتی ہیں:

  1. مزاحمتی رگیں (Resistance Vessels) جو خون کے بہاؤ کو باقاعدہ بناتی ہیں 8۔
  2. تبادلے والی رگیں (Exchange Capillaries) جو مائع کے فلٹریشن اور انجذاب کی ذمہ دار ہیں 8۔
  3. گنجائش والی رگیں (Capacitance Vessels) جو خون کے حجم کو کنٹرول کرتی ہیں 8۔
  4. شنٹ رگیں (Arteriovenous Shunts) 8۔

ناک کی ہوا کی مزاحمت کا دارومدار بنیادی طور پر گنجائش والی رگوں یا وینس سائنسز (Venous Sinuses) کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے، جو کہ جسمانی حالت اور رگوں کے دباؤ میں تبدیلی کے ساتھ انتہائی حساس ہوتے ہیں 8۔

طبیعیاتی نقطہ نظر سے ہوا کا بہاؤ نہ تو مکمل طور پر سیدھا (Laminar) ہونا چاہیے اور نہ ہی انتہائی زیادہ پریشان کن (Highly Turbulent) 3۔ اگر ہوا کا بہاؤ مکمل طور پر لیمینار ہو، تو ہوا کا درمیانی حصہ ناک کی گیلی دیواروں کو چھوئے بغیر گزر جاتا ہے، جس سے ہوا گرم اور مرطوب نہیں ہو پاتی 3۔ اس کے برعکس، متوازن ٹربولنٹ بہاؤ (Turbulent Flow) ہوا کے مالیکیولز کو گھماتا ہے جس سے وہ جھلی کے ساتھ مسلسل رابطے میں آتے ہیں اور تیزی سے تپش حاصل کرتے ہیں 3۔ تاہم، حد سے زیادہ رگڑ اور ٹربولنس ناک کی جھلی سے نمی کو بہت تیزی سے اڑا دیتی ہے، جس سے خشکی (Sicca) کی علامات پیدا ہوتی ہیں 3۔

اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ٹربینیٹس اور ناک کے پردے کے ابھار باری باری سکڑتے اور پھیلتے ہیں، جس سے گزرگاہ کا رقبہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور ہوا کا دباؤ قابو میں رہتا ہے 3۔

میکوسلیری صفائی اور جراثیم کش مدافعتی لکیر

انسانی جسم کا بنیادی قدرتی دفاعی طریقہ کار میکوسلیری کلیئرنس (Mucociliary Clearance) ہے، جو پھیپھڑوں کو جراثیم سے پاک رکھنے کا ضامن ہے 4۔ سانس کی نالیوں کے اوپر مائع کی ایک پتلی تہہ موجود ہوتی ہے جس کی گہرائی تقریباً  ہوتی ہے اور یہ دو متمایز تہوں پر مشتمل ہوتی ہے 7۔

  • پیریسیلیری رطوبت (Periciliary Liquid Layer – PCL / Sol Phase): یہ خلیات کی سطح پر پائی جانے والی کم کثافت اور پانی جیسی پتلی رطوبت ہے جس کی گہرائی سیلیا کی لمبائی کے برابر ہوتی ہے 9۔ اس کا کام سیلیا کو دھڑکنے کے لیے رگڑ سے پاک ماحول فراہم کرنا ہے 4۔
  • لعابی چادر (Mucous Blanket / Gel Phase): یہ پیریسیلیری رطوبت کے اوپر تیرنے والی ایک انتہائی چپچپی اور گاڑھی تہہ ہے جو بیرونی ذرات اور جراثیم کو اپنے اندر جکڑ لیتی ہے 7۔ چونکہ بلغم کے مائیکرو پورز کا سائز تقریباً  ہوتا ہے اور سیلیا کا قطر  ہوتا ہے، اس لیے یہ گاڑھا بلغم سیلیا کے درمیان گھس نہیں پاتا اور صرف ان کے سروں کو چھوتے ہوئے ایک چادر کی طرح اوپر تیرتا رہتا ہے 7۔

مائع کی ان تہوں کا توازن فعال آئن ٹرانسپورٹ (Active Ion Transport) کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے 7۔ جنین میں کلورائیڈ () کا اخراج مائع کو نالیوں میں دھکیلتا ہے، جبکہ پیدائش کے بعد سوڈیم () کا جذب ہونا مائع کی گہرائی کو متوازن رکھتا ہے 7۔ اگر سوڈیم کا جذب ہونا حد سے بڑھ جائے، تو پیریسیلیری رطوبت خشک ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور لعابی چادر براہ راست خلیات کی سطح سے چپک جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سیلیا کی حرکت مفلوج ہو جاتی ہے اور بیکٹیریل انفیکشنز کی راہ ہموار ہوتی ہے 7۔

حیاتیاتی اور کیمیائی سطح پر، ناک کا بلغم محض ایک گوند نہیں ہے بلکہ یہ فعال جراثیم کش اجزاء جیسے کہ امیونوگلوبلین اے ()، لائزوزائمز (Lysozymes) اور لیکٹوفرین (Lactoferrin) سے لیس ہوتا ہے جو بیکٹیریا کی خلیاتی دیواروں کو تباہ کر دیتے ہیں 2۔ مزید برآں، ناک کے اندر موجود قدرتی فائدہ مند بیکٹیریا (Normal Flora) بیرونی نقصان دہ جراثیم کے ساتھ خوراک اور جگہ کے لیے مقابلہ کر کے انہیں پھیلنے سے روکتے ہیں 6۔

جب ناک کی سطح کسی بیرونی الرجین کا شکار ہوتی ہے، تو الرجی کا ایک پیچیدہ کیمیاوی سلسلہ شروع ہوتا ہے 6۔ پہلی بار الرجی پیدا کرنے والے مادے سے سامنا ہونے کے بعد، دوبارہ سامنا ہونے پر امیونوگلوبلین ای () اینٹی باڈیز جو ماسٹ خلیات (Mast Cells) کی سطح پر لگی ہوتی ہیں، آپس میں جڑ (Cross-linking) جاتی ہیں 6۔ اس عمل کے نتیجے میں ماسٹ خلیات سے فوری طور پر ہسٹامین (Histamine)، بریڈیکنین (Bradykinin) اور لیوکوٹرائنز (Leukotrienes) جیسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں 6۔ یہ کیمیکلز ناک کے اندرونی غدود سے بلغم کا اخراج بڑھا دیتے ہیں، خون کی رگوں کو پھیلاتے ہیں اور اعصابی ریسیپٹرز کو متحرک کر کے دماغ کو چھینکوں کا سگنل بھیجتے ہیں 6۔ اگر یہ سوزش طویل عرصے تک برقرار رہے تو خلیات کے درمیانی جوڑ (Tight Junctions) ٹوٹ جاتے ہیں اور سیلیا کی صفائی کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جو آگے چل کر ناک کے اندر گوشت بڑھنے یعنی نیزل پولیپس (Nasal Polyps) کا باعث بنتی ہے 6۔

کارڈیو پلمونری افعال پر اعصابی اضطراری اثرات

ناک کے اندرونی حصے میں موجود حسی اعصاب نہ صرف سونگھنے کا کام کرتے ہیں بلکہ وہ پھیپھڑوں اور دل کے افعال کو کنٹرول کرنے والے اضطراری افعال (Reflexes) کے محرک بھی ہیں 1۔ ناک کے اضطراری افعال نچلی سانس کی نالیوں کی چوڑائی، پھیپھڑوں کی گنجائش اور دل کی دھڑکن کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں 1۔ شدید جذباتی ہیجان یا دباؤ کی صورت میں ناک کے اعصاب فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سانس کے طریقے اور دل کی کارکردگی کو تبدیل کر دیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ناک کا اعصابی نظام پورے کارڈیو پلمونری نیٹ ورک کے ساتھ مربوط ہے 1۔

ناک کا خودکار چکر اور دماغی سرگرمی کا توازن

ناک کا ایک اور اہم اور پیچیدہ فزیولوجیکل عمل ناک کا خودکار چکر (Nasal Cycle) ہے، جو ایک الٹراڈین تال (Ultradian Rhythm) کے تحت کام کرتا ہے 11۔ اس عمل کے دوران ناک کے دونوں نتھنوں میں ہوا کے بہاؤ اور خون کے دباؤ کی باری باری تبدیلی واقع ہوتی ہے، جس کا دورانیہ عام طور پر ۲ سے ۶ گھنٹے تک ہوتا ہے 12۔

اس چکر کی سائنسی افادیت کو بائیولوجیکل ماڈلنگ کے ذریعے سمجھا گیا ہے، جس میں “ایئر وے سرفیس لیکویڈ واٹر ایکولنٹ ہائیٹ” (ASL Water Equivalent Height) کا تصور استعمال کیا جاتا ہے 11۔ جب ایک نتھنا فعال ہوتا ہے اور زیادہ تر ہوا وہاں سے گزرتی ہے، تو ہوا کو نمی دینے کی وجہ سے اس کی مائع فلم (ASL) شدید خشکی کا شکار ہو جاتی ہے 11۔ ناک کا خودکار چکر اس تھکے ہوئے اور خشک نتھنے کو سوجن کے ذریعے بند کر دیتا ہے تاکہ اس کے غدود اور خلیات کو آرام (Rest and Recovery) مل سکے اور وہ اپنی نمی دوبارہ بحال کر سکیں، جبکہ دوسرا نتھنا ائیر کنڈیشننگ کا کام سنبھال لیتا ہے 11۔

طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چکر نیند کے دوران بڑھ جاتا ہے اور اس کا تعلق جسم کی پوزیشن بدلنے اور نیند کے خوابوں والے مرحلے (REM Sleep) کی منتقلی سے ہوتا ہے 12۔

اس چکر کا ایک اور انتہائی دلچسپ پہلو اعصابی اور دماغی اثرات ہیں 12۔ جب کسی ایک نتھنے سے زبردستی سانس لی جائے، تو یہ دماغ کے مخالف سمت والے نصف حصے یا کرہ (Contralateral Cerebral Hemisphere) کو منتخب طور پر متحرک کر دیتا ہے 12۔ نیند کے دوران سی پی اے پی (n-CPAP) جیسی مشینوں کے ذریعے دونوں نتھنوں پر برابر دباؤ ڈالنے سے یہ قدرتی چکر درہم برہم ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف ناک میں شدید خشکی پیدا ہوتی ہے بلکہ دماغ کی لہروں کی سرگرمی (Brain Wave Activity) اور نیند کا معیار بھی متاثر ہو سکتا ہے 12۔

نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار اور آکسیجن کی منتقلی کا نظام

ناک اور اس کے ارد گرد موجود ہوا کے غاروں یعنی پیراناسل سینوسز (Paranasal Sinuses) میں مسلسل نائٹرک آکسائیڈ () گیس تیار ہوتی ہے جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتی ہے 14۔ نائٹرک آکسائیڈ کو ایک ہوائی پیغام رساں (Airborne Messenger) مانا جاتا ہے جو نظامِ تنفس اور خون کے دوران کے توازن کو برقرار رکھنے میں معجزاتی اثرات رکھتا ہے 15۔

جب نائٹرک آکسائیڈ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی ہوا کی تھیلیوں (Alveoli) تک پہنچتی ہے، تو یہ وہاں موجود خون کی باریک نالیوں کو پھیلا دیتی ہے (Vasodilation) 17۔ اس عمل کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے ان حصوں میں خون کا بہاؤ زیادہ ہو جاتا ہے جہاں ہوا کی آمد سب سے بہتر ہوتی ہے، جس سے گیسوں کا تبادلہ انتہائی مؤثر ہو جاتا ہے 18۔ اس کے علاوہ، اس گیس میں شدید اینٹی مائیکرو بیل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ہوا میں موجود جراثیم کو پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتی ہیں 18۔

کلینکل مطالعے کے دوران صحت مند افراد میں دیکھا گیا کہ ناک سے سانس لینے کے دوران ٹرانسکیوٹینیئس آکسیجن ٹینشن () منہ سے سانس لینے کے مقابلے میں ۱۰% زیادہ ہوتی ہے 15۔ اسی طرح، طویل عرصے سے وینٹی لیٹر پر موجود ایسے مریض جو ناک کی قدرتی نائٹرک آکسائیڈ سے محروم تھے، جب ان کے پھیپھڑوں میں مصنوعی طور پر ان کی اپنی ناک سے کھینچی گئی ہوا شامل کی گئی تو ان کے خون میں آکسیجن کا جزوی دباؤ () ۱۸% تک بڑھ گیا اور پھیپھڑوں کے خون کی رگوں کی مزاحمت (PVRI) میں ۱۱% تک کمی واقع ہوئی 15۔ یہ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ناک کے بغیر پھیپھڑے اپنی مکمل گنجائش پر کام نہیں کر سکتے 16۔

ناک اور منہ کی سانس کا تقابلی جائزہ اور طبی تدارک

طبی سائنس کے مطابق، ناک سے سانس لینا انسانی بقا اور صحت کا بنیادی ضامن ہے جبکہ منہ سے سانس لینا صرف ایک ہنگامی حفاظتی نظام (Backup System) ہے 5۔ جب منہ سے سانس لی جائے تو ہوا بغیر کسی تیاری، صفائی اور درجہ حرارت کی تبدیلی کے براہ راست نچلی سانس کی نالیوں میں چلی جاتی ہے، جس سے سانس کی نالیوں میں خارش، خشکی اور الرجی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں 5۔

اس کے علاوہ، ناک سے سانس لینے کے دوران زبان قدرتی طور پر تالو (Roof of the mouth) کے ساتھ چپکی رہتی ہے جو گلے کی ساخت کو کھلا رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ منہ سے سانس لینے کی صورت میں زبان پیچھے گر جاتی ہے جو خراٹوں اور نیند کے دوران سانس رکنے (Sleep Apnea) کا سبب بنتی ہے 16۔

درج ذیل جدول میں ناک اور منہ کے ذریعے سانس لینے کے حیاتیاتی اور کلینکل اثرات کا موازنہ پیش کیا گیا ہے:

خصوصیت / اعضاءناک سے سانس لینا (Nasal Breathing)منہ سے سانس لینا (Mouth Breathing)
فضائی فلٹریشنبالوں، سیلیا اور بلغم کے غدود کے ذریعے مائیکرو لیول پر صفائی 2کوئی فلٹریشن نہیں، تمام مٹی اور جراثیم براہ راست نچلے راستوں میں داخل 5
فضائی درجہ حرارت اور نمیہوا کو جسم کے درجہ حرارت کے مطابق گرم اور ۱۰۰% مرطوب بنانا 2ہوا سرد اور خشک رہتی ہے، جس سے نالیاں سکڑ سکتی ہیں 5
نائٹرک آکسائیڈ () کا حصولسینوسز سے مسلسل اخراج اور آکسیجن کی بہتر ترسیل 14نائٹرک آکسائیڈ کی دستیابی صفر 16
آکسیجن کی کارکردگیخون میں آکسیجن جذب ہونے کی شرح ۱۰% سے ۱۸% تک زیادہ 5آکسیجن کی کم دستیابی، جس سے خلیاتی سطح پر توانائی کم ہوتی ہے 5
اعصابی نظام کا ردعملپیراسمپیتھٹک اعصابی نظام متحرک، بلڈ پریشر اور تناؤ میں کمی 5سمپیتھٹک اعصابی نظام فعال، ذہنی دباؤ اور کارڈیک بوجھ میں اضافہ 16
دہن اور دانتوں کی صحتتالو کی قدرتی محراب اور دانتوں کی متوازی ترتیب برقرار رہتی ہے 16منہ خشک، مسوڑھوں کی سوزش، دانتوں کی بدترتیب اور چہرے کی بدشکلی 13
گلے اور زبان کی پوزیشنزبان تالو سے لگی رہتی ہے، جس سے ہوا کا راستہ کھلا رہتا ہے 16زبان پیچھے گرتی ہے، جس سے خراٹے اور ہنگامی دم گھٹنے کے مسائل ہوتے ہیں 16

طبیعی سطح پر منہ سے سانس لینے کی عادت کو دور کرنے اور دوبارہ ناک کی سانس بحال کرنے کے لیے “مایوفنکشنل تھراپی” (Myofunctional Therapy) انتہائی مفید ہے جو زبان اور گلے کے عضلات کو مضبوط بنا کر ناک سے سانس لینے کی قدرتی عادت کو بحال کرتی ہے 18۔ اسی طرح، رات کے وقت منہ پر مخصوص طبی ٹیپ (Mouth Taping) لگانے کا رجحان بھی عام ہو رہا ہے تاکہ سوتے وقت جسم زبردستی ناک سے سانس لے اور نائٹرک آکسائیڈ کے بھرپور فوائد حاصل کر سکے 16۔

سائنسی خلاصہ

ناک انسانی جسم کا ایک ایسا جدید اور خودکار پہرہ دار نظام ہے جو محض سانس لینے کا راستہ نہیں بلکہ ایک مکمل حیاتیاتی لیبارٹری ہے 1۔ ہوا کی صفائی، نمی اور تپش کا کنٹرول، نائٹرک آکسائیڈ جیسی گیسوں کا اخراج، اور دماغی ہم آہنگی کا تحفظ اس نظام کے مرہونِ منت ہیں 2۔ کلینکل شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ناک کی سانس کو برقرار رکھنا دل، پھیپھڑوں اور اعصابی توازن کی بقا کے لیے ناگزیر ہے، اور اس نظام کی فزیولوجی کو سمجھنا جدید تنفسی علاج کی بنیاد ہے 1۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمال

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمال

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمالاز۔ صابر ملتانیناقل:حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوسعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویہم نے اپنی

[saadherbal_newsletter_form]