پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

امراضِ معدہ اور قانونِ مفرد اعضاء

 

حکیم صابر ملتانی کا پیش کردہ نظریہ ‘قانونِ مفرد اعضاء’ بیسویں صدی کی طبِ مشرق میں ایک ایسی انقلابی تبدیلی کے طور پر ابھرا جس نے تشخیص اور علاج کے روایتی طریقوں کو ایک نئی سائنسی بنیاد فراہم کی۔ امراضِ معدہ، جنہیں انسانی صحت کا مرکز و محور تصور کیا جاتا ہے، اس نظریے کے تحت محض اتفاقی علامات نہیں بلکہ جسم کے بنیادی ٹشوز (ٹشوز) کی مخصوص حالتوں کا عکس ہیں 1۔ طبِ یونانی میں معدے کو ‘ام الامراض’ یعنی تمام بیماریوں کی ماں کہا گیا ہے، اور قانونِ مفرد اعضاء اس تصور کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اسے تین بنیادی اعضاء: دماغ، دل اور جگر کے افعال کے ساتھ مربوط کرتا ہے 1۔ یہ رپورٹ معدے کے امراض کی درجہ بندی، ان کی نبض، قارورہ، علامات اور صابر ملتانی کے وضع کردہ علاجی چارٹ کا ایک جامع اور ماہرانہ احاطہ کرتی ہے۔

قانونِ مفرد اعضاء کا نظریاتی ڈھانچہ اور معدہ

قانونِ مفرد اعضاء کی بنیاد اس فلسفے پر ہے کہ انسانی جسم تین بنیادی مفرد اعضاء یا ٹشوز سے مل کر بنا ہے: اعصابی (Nervous)، عضلاتی (Muscular) اور غدی (Glandular)۔ معدہ، جسے ایک مرکب عضو سمجھا جاتا ہے، درحقیقت ان تینوں ٹشوز کا مجموعہ ہے 1۔ معدے کی اندرونی جھلی غدی ٹشو سے بنی ہے، اس کی دیواریں عضلاتی ٹشو پر مشتمل ہیں، اور اس کا اعصابی نظام دماغ کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو ہاضمے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے 2۔ جب ان تینوں میں سے کسی ایک ٹشو میں تحریک (Over-stimulation) پیدا ہوتی ہے، تو معدے کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے تیزابیت، السر، یا گیس جیسے امراض جنم لیتے ہیں 4۔

اس نظریے کے مطابق، بیماری محض کسی جراثیم یا بیرونی عنصر کا نام نہیں بلکہ جسمانی تحریک (Tahreek)، تسکین (Taskeen) اور تحلیل (Tahlil) کے عمل کا غیر متوازن ہونا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر عضلاتی ٹشو میں تحریک ہوگی تو غدی ٹشو میں تسکین (بیکار ہونا) اور اعصابی ٹشو میں تحلیل (کمزوری) واقع ہوگی 6۔ معدے کے حوالے سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر معدے کے عضلات زیادہ متحرک ہو جائیں تو تیزابیت (Acidity) بڑھ جائے گی کیونکہ غدی نظام (جو اسے نیوٹرل کرتا ہے) سست ہو چکا ہوگا 4۔

معدے کے امراض کی درجہ بندی اور چھ تحریکات

صابر ملتانی نے انسانی نبض اور علامات کی بنیاد پر چھ تحریکات وضع کیں، جن میں سے ہر ایک معدے پر الگ اثر ڈالتی ہے۔ یہ تحریکات درج ذیل ٹیبل میں واضح کی گئی ہیں:

معدے کے امراض کا تشخیصی و علامتی چارٹ

تحریک کا ناممزاجٹشو کی حالتمعدے کی بنیادی علامتنبض کی کیفیت
اعصابی عضلاتیسرد خشکاعصابی تحریکرطوبات کی زیادتی، بھوک کی کمیگہری، سست اور نرم
عضلاتی اعصابیخشک سردعضلاتی تحریکریاح (گیس)، قبض، پیٹ کا پھولنااوپر، سخت اور متواتر
عضلاتی غدیخشک گرمعضلاتی تحریکشدید تیزابیت، ترش ڈکار، جلنبلند، سخت اور ٹھوس
غدی عضلاتیگرم خشکغدی تحریکسینے کی جلن، صفراوی قے، تلخیتیز، باریک اور بلند
غدی اعصابیگرم ترغدی تحریکزخمِ معدہ (السر)، درد، ورمبہت تیز، نرم اور لچکدار
اعصابی غدیسرد تراعصابی تحریکبلغم، قے، ہاضمے کی سستیسست، ڈوبی ہوئی اور چوڑی

یہ چارٹ محض ایک خاکہ نہیں بلکہ ایک مکمل تشخیصی نظام ہے 1۔ جدید طب جہاں اینڈوسکوپی اور بائیوپسی پر انحصار کرتی ہے، وہاں قانونِ مفرد اعضاء نبض کے ذریعے یہ جان لیتا ہے کہ معدے کے کس ٹشو میں خرابی موجود ہے 3۔

عضلاتی تحریک اور تیزابیتِ معدہ (Acidity)

عضلاتی تحریک، جسے خشک مزاج بھی کہا جاتا ہے، معدے کے امراض کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب جسم میں عضلاتی ٹشو (دل کا نظام) حد سے زیادہ متحرک ہوتا ہے، تو خون میں کاربن کی مقدار بڑھ جاتی ہے 10۔ کیمیائی لحاظ سے، یہ حالت معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ () کی پیداوار کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتی ہے 4۔

عضلاتی غدی (خشک گرم) علامات اور اثرات

اس تحریک میں مریض کو سینے میں جلن، ترش ڈکاریں اور معدے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے 10۔ چونکہ عضلات سکڑ رہے ہوتے ہیں، اس لیے قبض کی شکایت عام ہوتی ہے اور انتڑیوں کی حرکت (Peristalsis) سست پڑ جاتی ہے 10۔ اس حالت کا گہرا تعلق ذہنی دباؤ اور خشک غذاؤں (جیسے بڑا گوشت، چنے، دال مش) کے کثرتِ استعمال سے ہے 4۔

اس تحریک کا ایک اہم پہلو ‘ریاح’ یا گیس کا بننا ہے۔ جب کھانا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوتا اور عضلاتی تحریک کی وجہ سے معدے میں رک جاتا ہے، تو وہاں تخمیر (Fermentation) کا عمل شروع ہوتا ہے جس سے  اور دیگر گیسیں پیدا ہوتی ہیں 10۔ یہ گیسیں نہ صرف پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہیں بلکہ سر درد اور دل کی گھبراہٹ کا بھی سبب بنتی ہیں، جسے اکثر لوگ دل کا دورہ سمجھ لیتے ہیں 13۔

غدی تحریک اور السرِ معدہ (Gastric Ulcer)

جب تحریک جگر اور غدی ٹشو میں منتقل ہوتی ہے، تو مزاج ‘گرم’ ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں معدے کی جھلیوں میں سوزش اور کٹاؤ پیدا ہوتا ہے جسے جدید طب میں گیسٹرائٹس (Gastritis) یا پیپٹک السر کہا جاتا ہے 3۔

غدی عضلاتی اور غدی اعصابی کا فرق

غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریک میں تیزابیت کے ساتھ حرارت شامل ہو جاتی ہے۔ مریض کو معدے کے مقام پر شدید جلن محسوس ہوتی ہے جو کھانا کھانے کے بعد بڑھ جاتی ہے 3۔ اس کے برعکس غدی اعصابی (گرم تر) تحریک میں زخم بننے کا عمل زیادہ تیز ہوتا ہے۔ یہاں ‘تحلیل’ کا عمل عضلات کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے معدے کی دیواریں پتلی ہو جاتی ہیں اور خون بہنے (Bleeding Ulcer) کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے 9۔

حکیم صابر ملتانی کے نزدیک السر کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے زیادہ مزاج کی تبدیلی میں پنہاں ہے 3۔ اگر السر گرمی کی وجہ سے ہے، تو اسے سرد تر ادویات اور غذاؤں سے ٹھیک کیا جائے گا تاکہ جگر کی تیزی کم ہو اور معدے کی جھلیوں کو سکون ملے 3۔

اعصابی تحریک اور بدہضمی (Dyspepsia)

اعصابی تحریک کا تعلق دماغ اور سردی سے ہے۔ اس میں معدے کے افعال سست پڑ جاتے ہیں، جسے جدید طب میں گیسٹروپیریسس (Gastroparesis) کہا جاتا ہے 2۔

اعصابی غدی (سرد تر) علامات

اس تحریک میں معدے میں رطوبات اور بلغم کی زیادتی ہو جاتی ہے 2۔ مریض کو بھوک نہیں لگتی، جی متلاتا ہے اور اکثر سفید رنگ کی رطوبت کی قے آتی ہے 2۔ چونکہ معدے میں حرارت کی کمی ہوتی ہے، اس لیے کھانا ہضم ہونے کے بجائے پڑا رہتا ہے اور سڑنے لگتا ہے 11۔ اس حالت کی نبض چوڑی، سست اور ڈوبی ہوئی ہوتی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ جسم کا میٹابولزم انتہائی سست ہے 1۔

تشخیصی نبض اور قارورہ (Urinalysis)

قانونِ مفرد اعضاء میں تشخیص کا دارومدار ‘نبض’ پر ہے، جو ایک ماہر طبیب کو یہ بتاتی ہے کہ جسم کے اندر کون سا ٹشو کس حالت میں ہے 1۔

تحریکنبض کی پوزیشنقارورہ (پیشاب) کی رنگت
اعصابینیچے (گہری)سفید، مقدار میں زیادہ
عضلاتیاوپر (مشرف)سرخی مائل یا سیاہی مائل
غدیدرمیان میںزرد، مقدار میں کم، جلن کے ساتھ

قارورہ کی تشخیص معدے کے امراض میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے 1۔ مثال کے طور پر، اگر پیشاب سفید اور زیادہ ہے تو یہ اعصابی تحریک ہے، جس کا مطلب ہے کہ معدے میں تیزاب کی کمی اور رطوبت کی زیادتی ہے 2۔ اگر پیشاب زرد اور جلن والا ہے تو یہ غدی تحریک ہے، جو السر کی طرف اشارہ کرتی ہے 3۔

علاجی اصول: علاج بالضد (Treatment by Opposites)

قانونِ مفرد اعضاء کا بنیادی علاجی اصول یہ ہے کہ جس ٹشو میں ‘تحریک’ ہے، اسے ‘تسکین’ دی جائے اور جہاں ‘تسکین’ ہے، وہاں ‘تحریک’ پیدا کی جائے 6۔

1. عضلاتی تحریک (Acidity) کا علاج

اگر مریض کو تیزابیت ہے (عضلاتی تحریک)، تو علاج کے لیے جگر کو متحرک کیا جائے گا (غدی تحریک) 12۔ اس کے لیے اجوائن، پودینہ اور ادرک کا قہوہ بہترین ہے کیونکہ یہ جگر کو گرمی فراہم کر کے معدے کی تیزابیت کو ختم کرتے ہیں 12۔

2. غدی تحریک (Ulcer) کا علاج

اگر معدے میں سوزش یا السر ہے (غدی تحریک)، تو اعصابی نظام کو متحرک کیا جائے گا تاکہ جسم میں سردی اور تری پیدا ہو 3۔ سونف، الائچی اور ملٹھی کا استعمال اس حالت میں جادوئی اثر رکھتا ہے 13۔

3. اعصابی تحریک (Dyspepsia) کا علاج

اگر ہاضمہ سست ہے (اعصابی تحریک)، تو دل اور عضلات کو متحرک کیا جائے گا 2۔ لونگ اور دار چینی کا قہوہ معدے کی حرارت بڑھانے اور بلغم کو خشک کرنے کے لیے مستعمل ہے 4۔

تفصیلی غذائی چارٹ برائے امراضِ معدہ

صابر ملتانی نے ہر تحریک کے لیے مخصوص غذائیں تجویز کی ہیں، جو دوا سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں 19۔

غذائی درجہ بندی

تحریکتجویز کردہ غذاپرہیز (ممنوعہ اشیاء)
اعصابیدودھ، دلیا، مکھن، کدو، ٹینڈےاچار، لیموں، دہی، ٹھنڈا پانی
عضلاتیبڑا گوشت، چنے، کریلے، دہی، لیموںدودھ، گھی، مٹھائیاں
غدیبکری کا گوشت، دیسی گھی، شہد، خربوزہمرچ مصالحہ، بڑا گوشت، ترشی

اس چارٹ کے مطابق، تیزابیت کے مریض کو دہی اور ترشی سے پرہیز کرنا چاہیے اور اسے ‘غدی’ غذائیں (جیسے شہد اور ادرک) دینی چاہئیں تاکہ اس کا مزاج بدلے 19۔

معدے کا دل اور دماغ پر اثر: گہرا تجزیہ

معدہ محض ایک ہضم کرنے والی مشین نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق پورے جسم کے اعصابی اور عضلاتی توازن سے ہے 2۔

معدہ اور دل کا تعلق (Gastric-Cardiac Ripple Effects)

عضلاتی تحریک میں جب معدے میں گیس () جمع ہوتی ہے، تو وہ ڈایافرام پر دباؤ ڈالتی ہے 10۔ یہ دباؤ دل کی حرکت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے، جس سے نبض ڈوبنے لگتی ہے اور مریض کو لگتا ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑ رہا ہے 13۔ قانونِ مفرد اعضاء میں اس کا علاج دل کی دوائی سے نہیں بلکہ معدے کی گیس خارج کرنے سے کیا جاتا ہے 13۔

معدہ اور دماغ کا تعلق (Gut-Brain Axis)

جدید سائنس اب ‘انٹرک نروس سسٹم’ (Enteric Nervous System) کی بات کر رہی ہے، جسے ‘دوسرا دماغ’ کہا جاتا ہے 8۔ صابر ملتانی نے برسوں پہلے اعصابی تحریک کے تحت یہ واضح کر دیا تھا کہ دماغ کی تیزی (Stress) براہِ راست معدے کے غدی افعال کو متاثر کرتی ہے 5۔ شدید ذہنی تناؤ معدے کی تیزابیت کو بڑھا کر اسے زخم (Ulcer) میں بدل دیتا ہے، کیونکہ تناؤ عضلاتی تحریک پیدا کرتا ہے جو معدے کی حفاظتی جھلی کو تحلیل کر دیتی ہے 4۔

جراثیم بمقابلہ مزاج: السر اور H. Pylori کا سائنسی مطالعہ

جدید ایلوپیتھک طب السر کی بڑی وجہ Helicobacter pylori نامی بیکٹیریا کو قرار دیتی ہے اور علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کرتی ہے 5۔ قانونِ مفرد اعضاء اس کے پیچھے ایک گہری حقیقت دیکھتا ہے۔

حکیم صابر ملتانی کا موقف ہے کہ جراثیم صرف اسی جگہ پرورش پاتے ہیں جہاں ان کے موافق ‘مزاج’ یا ‘ماحول’ موجود ہو 1۔ H. pylori صرف اسی معدے میں زندہ رہ سکتا ہے جہاں حرارت اور رطوبت (غدی اعصابی تحریک) کا غلبہ ہو 15۔ اگر ہم معدے کا مزاج بدل دیں اور وہاں تیزابیت یا سردی (حالات کے مطابق) پیدا کر دیں، تو یہ جراثیم خود بخود ختم ہو جائیں گے 1۔ یہی وجہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس لینے کے باوجود السر اکثر دوبارہ ہو جاتا ہے، کیونکہ مزاج کی خرابی وہیں رہتی ہے 9۔

جڑی بوٹیوں کی کیمسٹری اور معدے کی تحریکات

قانونِ مفرد اعضاء میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں محض ‘ٹوٹکے’ نہیں بلکہ کیمیاوی اثرات کی حامل ہیں 1۔

  • کچلہ (Strychnos nux-vomica): یہ اعصابی تحریک کو ختم کر کے عضلات میں قوت پیدا کرتا ہے، جس سے سست ہاضمہ ٹھیک ہوتا ہے 1۔
  • ادرک (Zingiber officinale): یہ غدی عضلاتی اثر رکھتی ہے، یعنی جگر کو متحرک کرتی ہے اور معدے سے اضافی تیزابیت کو پسینے یا پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے 4۔
  • ملٹھی (Glycyrrhiza glabra): یہ غدی تحریک کو تسکین دے کر معدے کی سوزش ختم کرتی ہے اور السر کے اوپر ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے 3۔

طرزِ زندگی اور بچاؤ کے اقدامات

تحقیقی مواد کی روشنی میں معدے کے امراض سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اصول وضع کیے جا سکتے ہیں:

  1. کھانے کا وقت: بے وقت کھانا اعصابی اور عضلاتی تحریکوں میں تضاد پیدا کرتا ہے، جس سے بدہضمی ہوتی ہے 10۔
  2. چبا کر کھانا: لعابِ دہن (Saliva) الکلائن ہوتا ہے، جو معدے کے تیزاب کو نیوٹرل کرتا ہے۔ اچھی طرح چبا کر کھانے سے معدے پر بوجھ کم ہوتا ہے 11۔
  3. پانی کا استعمال: کھانے کے فورا بعد پانی پینا معدے کی حرارت کو بجھا دیتا ہے (اعصابی تحریک پیدا کرتا ہے)، جس سے کھانا ہضم نہیں ہوتا 10۔
  4. ذہنی سکون: تناؤ اور غصہ غدی تحریک کو ہوا دیتے ہیں، جس سے السر کا خطرہ بڑھتا ہے 4۔

حاصلِ بحث

قانونِ مفرد اعضاء کا امراضِ معدہ چارٹ ایک ایسا جامع نظام ہے جو بیماری کی جڑ تک پہنچنے کا راستہ فراہم کرتا ہے 1۔ یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ تیزابیت، گیس اور السر محض اتفاقی علامات نہیں بلکہ جسم کے اندرونی ٹشوز کے حیاتیاتی توازن کے بگڑنے کا نام ہیں 3۔ صابر ملتانی کے اصولوں کے مطابق تشخیص اور علاج کر کے نہ صرف معدے کی صحت بحال کی جا سکتی ہے بلکہ پورے جسمانی نظام کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے 1۔ مستقبل کی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ ان روایتی اصولوں کو جدید طبی آلات کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ انسانیت کو دائمی امراضِ معدہ سے مستقل نجات مل سکے

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]