پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

روحانی امراض کی منہ کے ذائقے سے تشخص

روحانی امراض کی منہ کے ذائقے سے تشخص
روحانی امراض کی منہ کے ذائقے سے تشخص

روحانی امراض کی منہ کے ذائقے سے تشخص
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(اقتباس۔جادو اور جنات کا طبی علاج۔۔۔۔۔یہ کتاب تقریبا پندرہ سال پہلے لکھی گئی تھی ،حال ہی میں اسے نظر ثانی کرکے دوبارہ سےطبع کرایا گیا ہے۔پندرہ سال مین ہونے والے مزید تجربات اس میں شامل کردئے گئے ہیں۔اے آئی کی مدد سے اس میں پیچیدہ اور خفیہ قسم کی اصطلاھات کو تصویری شکل دی گئی ہے۔جس سے یہ کتاب جدید عاملین و معالجین کے لئے زیادہ اہم ہوگئی ہے،اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے)
اس میں شک نہیں کہ روحانیات اور مخفی امراج کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات اور ان کی تشخیص کے مختلف طریقے رائج ہیں۔من جملہ ان میں منہ ذائقے سے بھی تشخیص کی جاتی ہے۔ذائقہ کے بارہ میں معالجین طب اور عاملین نامدار سب ہی سوالات کرتے ہیں۔راقم الحروف نے اس بارہ میں جو تجربات کئے ہیں وہ کتاب ہذا میں من و عن تحریر کردئے ہیں۔ایک طبیب ان کی مدد سے غذا و دوا تجویز کرسکتا ہے)
روحانی تشخیص کا طبی علاج:ذائقے
عاملین حضرات عموی طورپر ذائقوں سے تشخیص مرض فرماتے ہیں ،ذائقوں کے بارہ میں اسی کتاب میں بحث موجود ہے اس کے باوجود اجمالاََکچھ تحریر خدمت ہے۔ان ذائقوں سے علاج و معالجہ میںمعاونت لی جاسکتی ہے
(1)میٹھا:مفرح تسکین دینے والارطوبت بڑھاتا ہے، جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتا ہے، پیشاب زیادہ لاتا ہے،شدید مدر بول ہے،رفتہ رفتہ جسمانی حرارت کو ختم کردیتا ہے صفرا کو کم کرنے میں بے حد مفید ہے۔اگر کوئی دوا اعصاب پر اثرا انداز ہوکر سردی پیداکردے تو اس کا اثرجگرپر بھی ہوگا(اعصابی غدی)مزاج کے لحاظ سے یہ تر گرم اور مزہ میٹھا ہوگا۔
(2)کسیلا:جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتا ہے،رطوبت بڑھاتا ہے،شدید مدر بول ہے ، یک دم جسمانی حرارت کو ختم کرنے کا سبب بنتا ہے،گرمی اور بخارکو کم کرنے میں بے حد مفید ہے۔ اگرکوئی دوا اعصاب پر اثر انداز سردی پیدا کرد ے تو اس کا اثر اعصاب پر ہوگا(عضلاتی اعصابی ) تواس کامزاج سردتر ہوگااور مزہ کسیلا ہوگا۔


(3)ترش: مفرح و مقوی قلب ہے،رطوبت جسم کو خشک کرتا ہے،قابض ہے،مقوی جسم ہے خون پیداکرتا ہے،فوری ہاضم گرمی کے ساتھ جسمانی رطوبات کو بھی خشک کرتا ہے۔اگر کو ئی دوا قلب پر اثر انداز ہوکرسردی پیدا کردے تو اس اثر اعصاب پر ہوگا(عضلاتی اعصا بی ) تواس کا مزاج سرد خشک ہوگا اور مزہ ترش ہوگا۔
(4)کڑوا:مقوی قلب،مصفی خون ہے،جسم سے رطوبتوں کو خشک کرکے تقویت کا سبب بنتا ہے قابض ہے،پیشاب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔خون صاف کرتا اور خون پیدا بھی کرتا ہے ۔ اگر کوئی قلب پر اثر انداز ہوکر گرمی پیدا کردے تو اس کا اثر جگر پر بھی ہوگا(عضلاتی غدی)تو مزاج خشک گرم ہوگا(خشکی گرمی سے زیادہ)تو اس کا مزہ کڑوا ہوگا۔
(5)چرپرہ:انتہائی گرم۔ملین و مسہل،مقوی جگر،جسم میں صفراء پیدا کرتا ہے،جسم کے ہر قسم کے زہروں کو ختم کرتا ہے،انتہائی ہاضم ہے ۔ اگر کوئی دوا جگر پر اثر انداز ہوکراپنی خشکی قائم رکھے تو اس کا ثر قلب پر ہوگا(غدی عضلاتی)تو اس کا مزاج گرم خشک ہوگا اور مزہ چرپرہ ہوگا ۔
(6) نمکین:گرمی کے ساتھ رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں،لذیذ ہے،ملین و مسہل اثر رکھتا ہے، ریاح کا اخراج کرتا ہے،ریاحی دردوں کے لئے اکسیر ہے۔اگر کوئی دوا جگر پر اثر انداز ہوکر رطوبت کا اثر پیدا کردے تو اس کا اثر اعصاب پر بھی ہوگا(غدی اعصابی)تو مزاج گرم تر ہوگا اور ذائقہ نمکین ہوگا(تحقیقات علم الادویہ۔از مجدد الطب)عاملین اپنے مریضوں سے کیفیات معلوم کرکے انہیں غذا ،پھل اور ادویات تجویز کرسکتے ہیں۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]