پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی

جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی
جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی

جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی
حدیثِ نبوی ﷺ کی جدید سائنس کی روشنی میں تفہیم
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(یہ اقتباس ۔ہماری کتاب ۔احادیث مبارکہ سے اخذ کردہ طبی نکات سے لیا گیا ہے۔یہ کتاب نظر ثانی کے ساتھ بہترین حوالہ جات اور جدید تھقیقات کے ساتھ زیور طباعت سے آراستہ ہورہی ہے۔ضرورت مند منگاکر اپنی تشنگی دوکرسکتے ہیں)
طب کی دنیا میں کئی اشیاء خالق کائنات ایسی بنائی ہیں جن کے کھانے سے فضلات نہیں بنتے۔وہ بوقت ضرورت کھائی جائیں تو مکمل طورپر جزو بدن ہوجاتی ہیں ۔کھجور یا انڈہ کے بارہ میں یہ باتیں زیادہ مشہور ہیں۔احادیث مبارکہ میں کو کیفیات اہل جنت کے کھانے پینے کی بیان کی گئی ہیں ،ان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے البتہ طب و جدید سائنس کی روشنی میں کچھ

اشارات کئے جاسکتے ہیں۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی یہ خوبصورت حدیث مبارکہ جنت کی اس اعلیٰ و ارفع زندگی کا نقشہ کھینچتی ہے جو اس دنیا کی کثافتوں، غلاظتوں اور تھکا دینے والے افعال سے مکمل طور پر پاک ہے۔
اگرچہ جنت عالمِ غیب (Metaphysical Realm) کا حصہ ہے اور طب اورجدید سائنس کا دائرہ کار صرف اس مادی کائنات (Physical Universe) تک محدود ہے، لیکن سائنس ہمیں ایسے نظریاتی ماڈلز اور حیاتیاتی اصول (Biological Principles) فراہم کرتی ہے جن کی مدد سے انسانی عقل کے لیے ان جنتی حقائق کو سمجھنا بے حد آسان ہو جاتا ہے۔
اس حدیثِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں کا جدید سائنس اور انسانی میٹابولزم (Metabolism) کی روشنی میں تجزیہ درج ذیل ہے:

  1. فضلے (Waste) کی عدم موجودگی اور 100% آئیڈیل میٹابولزم
    حدیث میں فرمایا گیا کہ جنتی کھائیں گے اور پیئیں گے لیکن پیشاب یا پاخانہ نہیں کریں گے۔
    سائنسی توجیہ:
    انسانی جسم میں فضلے (فضلہ، پیشاب وغیرہ) کا بننا دراصل ہمارے نظامِ ہاضمہ کے “نامکمل” (Inefficient) ہونے اور دنیاوی خوراک میں موجود غیر ہضم شدہ مادوں (جیسے فائبر، ٹاکسِنز اور فالتو کیمیکلز) کا نتیجہ ہے۔
    جدید نظریہ:
    سائنس کے مطابق، اگر کوئی خوراک 100 فیصد خالص ہو، مکمل طور پر توانائی (Energy) میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور انسانی خلیات (Cells) کا میٹابولک ریٹ 100% کارکردگی (Perfect Efficiency) کا حامل ہو جائے، تو جسم میں کوئی فضلہ پیدا ہی نہیں ہوگا۔ جنت کی خوراک لطیف اور خالص ترین ہوگی، جو مکمل طور پر جسم کا حصہ بن جائے گی۔
  2. پسینے اور ڈکار کے ذریعے ہضم کا عمل
    حدیث کے مطابق کھانا محض ڈکار اور پسینے سے تحلیل ہو جائے گا۔
    سائنسی توجیہ:
    آج کی دنیا میں بھی انسانی جسم اپنے کئی فاضل مادے اور گیسیں جلد (پسینے) اور سانس (پھیپھڑوں) کے ذریعے خارج کرتا ہے۔ ہمارے جسم کا ایک بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت میں سانس اور ڈکار کے ذریعے نکلتا ہے، جبکہ پانی اور نمکیات پسینے کی صورت میں۔
    جدید نظریہ:
    جنت کے کامل اور لطیف (Refined) ماحول میں، خوراک کے ہضم ہونے کے بعد جو معمولی بائی پروڈکٹس (Byproducts) پیدا ہوں گی، وہ دنیاوی غلاظت کے بجائے لطیف گیس (ڈکار) اور پانی (پسینہ) کی صورت میں خارج ہوں گی، جو کہ ایک انتہائی جدید اور شفاف حیاتیاتی اخراج کا نظام (Excretory System) ہے۔
  3. پسینے سے مشک کی خوشبو آنا
    حدیث میں واضح ہے کہ جنتیوں کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔
    سائنسی توجیہ:
    جدید بائیوکیمسٹری (Biochemistry) ثابت کرتی ہے کہ انسانی پسینے کی اپنی کوئی بدبو نہیں ہوتی۔ بدبو دراصل جلد پر موجود بیکٹیریا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو پسینے کو توڑتے ہیں۔ مزید برآں، انسان جو کچھ کھاتا ہے، اس کے کیمیائی اجزاء اس کے پسینے کی بو پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں (مثلاً لہسن یا مصالحے دار خوراک کھانے سے پسینے کی بو بدل جاتی ہے)۔
    جدید نظریہ:
    جنت کا ماحول ہر قسم کے جراثیم (Bacteria/Pathogens) سے مکمل پاک ہوگا۔ جب جنتی وہ پاکیزہ اور خوشبودار غذائیں کھائیں گے جو مشک و زعفران سے بنی ہوں گی، تو ان کے جسمانی اخراج (پسینے) کی کیمسٹری بھی اسی قدر خوشبودار ہوگی۔ یہ بالکل ایک سائنسی حقیقت ہے کہ “جو اندر جائے گا، وہی باہر آئے گا”۔
  4. تسبیح و تحمید کا خود مختار (Autonomic) ہو جانا
    حدیث کا سب سے دلفریب حصہ یہ ہے کہ جنت میں اللہ کی حمد و ثناء اس طرح الہام کر دی جائے گی جیسے دنیا میں سانس لینا۔
    سائنسی توجیہ:
    انسانی اعصابی نظام کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک وہ جو ہمارے ارادے کے تابع ہے (Somatic Nervous System) جیسے ہاتھ پاؤں ہلانا، اور دوسرا خود مختار اعصابی نظام (Autonomic Nervous System) جس پر ہمارا کوئی ارادی کنٹرول نہیں ہوتا، جیسے دل کا دھڑکنا یا سانس لینا۔ ہم سوتے جاگتے، بنا سوچے سمجھے سانس لیتے رہتے ہیں اور اس میں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔
    جدید نظریہ:
    جنت میں انسانی روح اور دماغ کا ارتقاء اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خالق کی پہچان اور اس کی حمد، انسانی اعصابی نظام کے “خود مختار” (Autonomic) حصے کی طرح کام کرے گی۔ تسبیح پڑھنے کے لیے شعوری کوشش یا زبان کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ یہ وجود کا ایک فطری اور خودکار حصہ بن جائے گا، بالکل سانس کی طرح جو زندگی کی علامت بھی ہے اور سکون کا باعث بھی۔
    خلاصہِ کلام:
    جدید سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اگر مادے (Matter) اور توانائی (Energy) کے قوانین کو مکمل حد تک بے عیب (Perfect) کر دیا جائے تو ایک ایسا وجود ممکن ہے جو غلاظت، تھکاوٹ اور بیماری سے پاک ہو۔ حدیثِ مبارکہ میں بیان کردہ جنت کی زندگی دراصل فزکس اور بائیولوجی کے اسی کامل ترین درجے کی عکاسی کرتی ہے، جو اللہ رب العزت کی لامحدود قدرت سے ہی ممکن ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]