
پرتگیزی دور سے عہد اکبری ، جہانگیری ، شاہجہانی اور عالمگیری درباروں میں فرنگیوں مشنریوں اور مین و قبیل عورتوں نے نصرانی مذہب کو ہندوستان میں پھیلانے اور خاص طور پر غدر کے زنا میں جو طوفانی پر و پیگینڈہ ہندوستانیوں کے مذہب اور دھرم کو بدلنے کے لئے کیا اور اس کا بے دھڑک علماء کرام نے مقابلہ کیا ۔ باغی بنائے گئے اور ہند سے ہجرت کی ، اس عالم گمنامی کے حالات کی یہ تاریخ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سببب تالیف
انگریزوں کے ابتدائی اقتدار و حکومت کے زمانہ میں ہندوستان کے اندر علماء کرام کا ایک گردہ تھا جن کو مخالفین اور انگر نیر وہابی کہتے تھے ، اس مقدس جماعت کا کام نصاری کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور مذہبی اقتدار کو نیت کرنا تھا۔ اس کی ابتدا شاہ ولی اللہ نےڈالی تھی سالوں کھنا چاہیے کہ یہ جماعت منظم و غیر منظم دو طبقوں میں بھی ہوئی تھی منتظم طبقہ مجاہدین با الیاف ( فوجی نظام کے ماتحت ہیں کی ڈیوٹی یہ تھی کہ مسلمانوں میں مجاہدانہ جبلی اسپرٹ پیدا کر کے اور اس کو جماعتی شکل دے کر اصلاحات کی فراہمی کے ساتھ ملک میں بغاوت کی آگ لگانا در کرکے اور حکومت کے اقتدار کو پاش پاش کرنے کے بعد ملک کو آزادی دلوائے ۔
دوسرے منظم طبقہ کا کام تھاکہ وہ اپنی علی المیت سے تحریری و تقریری پر ویگنڈا کے ذریعے نصاری کی تحریر و تقریر اور مشتریوں کے طوفانی کام کا جواب دے کر اس کا سد باب کرے، اور پادریوں کے گمراہ کن ہتھکنڈوں اور سرمایہ کے لالچ میں پھنسا کر مذہب بدلنے والے جال کے پھندوں سے غریب ہندوستانیوں کو محفوظ رکھے ۔
پہلے حلقے میں حضرت مولانا سید احمد در حضرت مول) کمیل شہید حضرت حاجی امداد اللہ اور حافظ ضامن شہید مولودی ولایت علی
مولوی فرحت حسین ، مولوی شاہ میر حسین مولیا محمد جعفر تھانیسری وغیرہ تھے ۔ ۔ مومن دوسرے بھتے میں مولای آن من، مولانا رحمه الله، واکر وزیرخالی – حضر العلام مولانامحمد قاسم ، مولانا شف الحق، مولانا محمد علی میگیری ، مولانا ابو منصور تھے ۔
پہلا طبقہ جنگ جیو تھا۔ اس نے انگریزوں سے جنگ کی اور ستیانہ اور ملکا کیمپ قائم کر کے سرحدی قبائل اور دریائے سندھ کے کنارے سنہ ۱۸۵۶ات سنہ ۱۸۶۰ ایک فوجی کل میں مقابلہ کیا، یہ تاریخی جلی حیثیت کے مالک تھے۔ اس لئے انہوں نے تاریخ میں جگہ پانی اور دشمنوں اور مورخین کی کوششوں سے صفحۂ قرطاس کی زنیت ہے ۔
جو دوسر علمی طبقہ تھا اس نے علی جہاد کیا۔ متقدمین انصاری کے کتابی واختباری زہر یلے پر دیکنڈ کی اور ٹڈی دل پادریوں کے خوفنا کر ہتھکنڈوں کا جواب اپنی مدلل ومحتقانہ دندان شکن تصنیفات سے دیا ، بازار گلی کوچوں ، شہر دی ، دیہاتوں اور جیلوں میں دوبڈ ا ، یڈ
سرکاری یاشہ یافتہ مشنریوں سے تاریخی اور معرکتہ الآرا مناظرے کئے ، ان کے اعتراضات کے پر نیچے اڑائے ۔ حکومت نے ان کو باغی اور غدار کا خطاب دیا، ان کی جائدادوں کو ضبط کر کے کوڑیوں کے مول فروخت کیا، ان کو جلا وطن کیا۔ جیلوں میں سٹرایا ۔ بہیمانہ سزاؤں کا شکار رہنا یا مگروہ مرد میدان باز نہ آئے اور ہند دستمان کو مغربی سیلاب سے بچا کر مشنریوں کے دھر توڑے اور کا میا ہو چونکہ ان حضرات کا کام ٹھوس اور خاموشی کے ساتھ ہوتا تھا، اور حکومت بھی ان کے کاموں کو دبانے کی کوشش کر لی تھی اس لئے وہ گم نامی کی نذر ہوا ۔
یات ہے کہ اس ای عقب عوام و با یا ای اور ایک کی ریت ہے رہے اس لیے بری کایہ عالم ہے کہ اچھے پڑھے لوگوں کے سامنے اگر ان حضرات کا یا ان کی تصنیفات دکار ناموں کا ذکر کیا جاتا ہے تو تعجب و حیرت سے سنتے اور دیکھتے ہیں یا ان کی جرات و ہمت اور قابلیت سے واقف ہوں تو کجا ان کے ناموں تک سے آشنا ہیں ، بے ذوقی کی یہ حالت ہے کہ ان کی تصنیفات کی اشاعت اور مطالعہ کا سلسلہ بند ہو کتا ہیں الماریوں یا دیمک کی نظر ہوئی ہیں ۔
اس گم نامی اور بے توجہی کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا کہ اس گروہ کی مجاہدانہ تاریخ لکھی جاؤ اور علمی دنیا میں لائی
جائی
تا کہ اہل قلم حضرات اس پر توجہ دیں اور اس انتہائی ابتدائی اور بھر کوشش کو انتہا تک پہنچائیں ۔
کتاب شروع کرتے وقت یہ خیال تھا کہ اس کتاب میں صرف برطانوی دور کو مد د کرنا چاہیے لیکن بعدمیں انگریز کی ہندوستان میں آمد کے وقت ایمنی پریزی زمانے سے لے کر اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور عالمیر وغیرہ اور غدر کے بعد تک کے حالات پر اس تاریخ کو مشتمل کرنا بہتر کیا گیا۔ اسی لئے ان ادوار کے حالات اجمالاً بیان کر دئے گئے ، تاکہ معلوم ہو جاتا کہ پانچ صدی کی مسلسل نوا باند زمین پر دو گینڈہ کا ہندوستان پر کیا اثر ہوا، اور سجدوں میں بیٹھنے والے غریب علماء کے طبقے نے مقابلہ کر کے قدیم سازش

کو اس طرح خاک میں ملا دیا ۔
تما تو یه تیکه مغلیہ دور میں فرنی عیسائیوں نے جو پاؤں پھیلات مجھے نیر برطانوی دور کے ہرصوبہ کی مشنریوں کی سیاہ بیٹری اس کتاب ہیں ہوتی اور اسی طرح تمام ہندوستان کے درد نصاری میں حصہ لینے واے علماء اور مکہ اگر تمام سوالوں کے مناظروں کے حالات ہوتے گر یہ آرزو پوری نہ ہوسکی
سب کچھ جتن کئے گئے تمام مشتری سوسائیٹیوں کو ان کی رپو رمیں بھجنے کے لے ور میں بھنے کے لئے لکھا گیا۔ اس مقدس کام کے لئے کلکتہ گیا۔ ۔ بریریوں کتب خانوں اور اوری این لایبریری چند اور امیری ابریری کات اور پر رنگ ابیاری را برای او سے یر لائبریری دہی کی فہرت کی ورق گردانی کی گئی اور بی رو فشاری میں زندگیاں بھنے والے خاندانوں کے چشم وچراغوں کے لیکن کسی نے بھی توجہ نہیں دی مشتری سوسائیوں
روشنی طلب کی گئی اور ان کے بزرگوں کے حالات طلب کئے گئے اور علی کے الخصوص اسلاف کے نامور اختلاف نے کوئی جواب تک بھی دینا گوارا نہیں کیا، اگر کسی نے کچھ جواب دیا تو والا سیا ” ثابت ہوا ۔
چنا نے حضرت مولانا محمد علی منیری کے بہت مختصر حالات ہے۔ اور حسب ذیل حضرات کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں لگا
1) مولوی عباس علی صاحب حاجبوری
حالانکہ یہ ہستیاں صاحب تصنیف ہیں ۔ صاحب حیثیت لوگ ہیں بعض تور د نصاری کی تین تین چار کتابوں کے مصنف ہیں ۔ (
مولوی حد فیروز الدین صاحب سکوی قلص به فروز
صولة الضيغم على اعداء ابن مریم .
اسلام امدادی سید محمد مدری ہائی اسکول علی گڑھ
فضائل الاسلام فی ذکرخیران نام معروف به تاریخ مهدی .
۳۱) مولوی غلام دستگیر قصوری
منز یہ الفرقان
(۵) مولوی محمد سلیم الله
مخرج عقائد نوری .
(۶) مولوی محمد شاه معنوی
(4) حافظ احمد الدین لاہوری
صداقت قرآنی از کتب ربانی انصاف لدفع الاخلاف – اظہار الاسلام
(۸) حاجی محمد یوسف صاحب زاہدی
نما دعوة الحق
(۹) مولوی اشرف علی سلطانپوری
تبه الشعور بنج المهر در فصیل معظم ، اجو به مجیبه
۱۰۱) مسٹر سید امیر علی ہیر سٹرایٹ لا
دعوة الاسلام
(۱۱) مولوی ترسیم اپنی بنگلوری
نیز اعظم
(۱۳) بہشت کو نسل حروف بد رہے بہا
تنقید الکلام فی احوال شارع الاسلام
بشارات محمدی
۱۴۱) مولوی غلام بنی امرتسری
میگم محمد حسن امرد هوی

