37 ۔کھوپرا۔گری۔نارَجِيل: جَوْزُ الهِنْد coconut(s)

 ۔کھوپرا۔گری۔نارَجِيل: جَوْزُ الهِنْد coconut(s)

37 ۔کھوپرا۔گری۔نارَجِيل: جَوْزُ الهِنْد coconut(s)
37 ۔کھوپرا۔گری۔نارَجِيل: جَوْزُ الهِنْد coconut(s)

 ۔کھوپرا۔گری۔نارَجِيل: جَوْزُ الهِنْد coconut(s)

تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

ناریل۔نارجیل۔کھوپرا۔COCONUTعضلاتی غدی ہے مقوی باہ،قاطع بلغم۔مسمن بدن،مولد حرارت عزیزی۔قاتل کرم شکم ہے۔اس کے استعمال سے انسانی جسم کو نشو و نما ہوکر موٹا تازہ نظر آنے لگتا ہے اس لئے مسمن بدن ہے،کھانوں میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے کدودانے کیچوے ہلاک کرتا ہے ۔اس کا تیل بالوں کو کالا لمبا کرتا ہے۔.الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (2/ 722)
النارجيل – النارجيلة: أداة يدخن بها التبغ، كانت قاعدتها في الأصل من جوز الهند، وهو ” النارگيل ” بالفارسية ومعربه: نارجيل۔كتاب المكاسب الشيخ الأنصاري – (ج 7 / ص 276)
نارجيل: ويسمى الرانج وهو جوز الهند. أبو حنيفة: هي نخلة طويلة تميل ثمرتها حتى تدنيها من الأرض ليناً ولها أقثاء يكون في القنو الكريم منها ثلاثون نارجيلة ولها لبن يسمى الأطواق۔الجامع لمفردات الأدوية والأغذية – (ج 2 / ص 207) لبّ جوز الهند المُجفف (الكوبرا).الموسوعة العربية العالمية – (ج / ص 1)
في المراد من الشجرة الطيبة فقيل: النخلة و هو قول الأكثرين، و قيل: شجرة جوز الهند۔تفسير الميزان – العلامة الطباطبائي – (ج 12 / ص 24)ميزان الحكمة – محمدي الريشهري – (ج 4 / ص 66)
وأخرج ابن مردويه عن ابن عباس – رضي الله عنهما – في قوله { تؤتي أكلها كل حين } قال : هو شجر جوز الهند۔الدر المنثور – (ج 6 / ص 50)
……………….
ناریل کا نباتاتی نام Coco Nucifera ہے۔ اس کی بے شمارغذائی اور ادویاتی خصوصیات کی بنا پر اسے “Wonder Food” کہا جاتا ہے۔ ناریل کے گودے میں 60 سے70فیصد آئل پایا جاتا ہے جسے روغنِ ناریل کہتے ہیں۔ یہ کھانے کا تیل ہے اور دنیا میں لاکھوں افراد کی بنیادی چکنائی کی ضرورت کو پورا کررہا ہے۔ ناریل کا تیل دنیا میں نباتاتی تیلوں کی کل پیداوار کا 2.5فیصد ہے۔
اس کی شیلف لائف تقریباً دو سال ہے، کیونکہ اس میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار 92.1 فیصد ہے۔ اس کی تیز خوشبو اس میں موجود پولی فی نولز کی وجہ سے ہے۔ اسے بطور بناسپتی گھی بھی بیچا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں یہ Cophaکے نام سے ملتا ہے۔
ناریل کو حیرت انگیز غذا کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً مکمل غذا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام ضروری غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جن کی انسانی بدن کو ضرورت ہوتی ہے ۔ ہندو اسے انتہائی مقدس پھل سمجھتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات میں عقیدت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ناریل کے درخت کو سنسکرت میں ‘کلپا ورکشا’ کہتے ہیں جس کا مطلب ایسا درخت جو زندگی کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یہ نام کافی حد تک درست ہے کیوں کہ ناریل کے درخت اور اس سے بننے والی چیزوں کا مختلف انداز میں استعمال ہوتا ہے
اگر میرے سامنے کوئی انتخاب ہو تو کون سا کاسمیٹک مصنوع صرف ایک ہی ہے ، اپنے ساتھ صحرا کے جزیرے پر جانے کے لئے ، میں ناریل کا تیل منتخب کروں گا۔ تاہم ، دقیانوسی آبادی والے جزیروں پر (جس میں جزیرے شامل نہیں ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر ، بحیرہ اسود) ، ناریل اگتا ہے اور اسی طرح – اس کا مسکن بہت وسیع ہے: یہ بحر الکاہل ، بحر اوقیانوس اور بحر ہند کے اشنکٹبندیی عرض بلد میں پایا جاسکتا ہے۔ روسی سیاح ناریل کا تیل لاتے ہیں ، عام طور پر تھائی لینڈ ، کیوبا ، ڈومینیکن ریپبلک اور ہندوستان سے۔ تاہم ، بہت سے گھریلو برانڈز طویل عرصے سے اپنے آبائی درمیانی عرض البلد میں ناریل کا تیل خریدنے کا موقع دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تیل کاسمیٹکس میں اور خالص شکل میں بھی پایا جاسکتا ہے۔

ناریل کے فوائد اور غذائیت کی قیمت

ناریل صحت بخش، مفید اور لذیذ پھلوں میں سے ایک ہے اور اس کا گودا، دودھ یا ناریل کا تیل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن آپ گودے کے بارے میں خاص طور پر کیا جانتے ہیں؟

ناریل کے فوائد اور غذائیت کی قیمت

ناریل پھلوں اور یہاں تک کہ اناج کا حصہ ہے، اور اس کے پھل ایک سخت گیند کی شکل میں ہوتے ہیں، جب آپ اسے گوشت تک کھولتے ہیں، جو اس میں سفید حصہ ہوتا ہے یا جسے گودا کہا جاتا ہے۔ناریل کو قدیم زمانے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور اب یہ دنیا کے کئی ممالک میں اگایا جاتا ہے، اور اسے ان سپر فوڈز میں سے ایک کے طور پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔یہاں ناریل کے اہم ترین فوائد، اس کی غذائیت اور دیگر معلومات ہیں۔

ناریل کے صحت کے فوائد

ناریل کے پھل میں صحت کے لیے بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اسے کھانے سے آپ کو درج ذیل صحت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔1. وٹامنز اور معدنیات کا ایک ذریعہ۔ناریل میں غذائی ریشہ، وٹامن بی 6، آئرن، میگنیشیم، زنک، کاپر، مینگنیج اور سیلینیم پایا جاتا ہے۔
یہ غذائی اجزاء عام طور پر انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

2. دل کی حفاظت

ناریل میں لوریک ایسڈ ہوتا ہے، جو اچھے کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتا ہے۔لہذا، ناریل کھانے سے کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوتی ہے اور پیٹ کی چربی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کی صحت اور کارکردگی پر مثبت اثر پڑتا ہے۔مجموعی طور پر، یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ناریل کا تیل کولیسٹرول کی سطح پر غیر جانبدار اثر رکھتا ہے، لیکن ابھی بھی تحقیق کی ضرورت ہے۔
3. عمل انہضام کو بہتر بنائیں
چونکہ ناریل میں غذائی ریشہ ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل انہضام کو فروغ دینے اور اسے بہتر بنانے اور ہاضمے کے مسائل کو کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے جن سے آپ مبتلا ہو سکتے ہیں۔
4. مدافعتی نظام کو مضبوط بنائیں
چونکہ ناریل کے پھل میں مختلف غذائی اجزاء ہوتے ہیں، جیسے: مینگنیز اور اینٹی آکسیڈنٹس، اس کا مطلب ہے کہ اسے کھانے سے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔اس سے آپ کے جسم کو مختلف انفیکشنز سے زیادہ مؤثر طریقے سے لڑنے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ناریل اینٹی وائرل، اینٹی فنگل، بیکٹیریل اور پروٹوزول بھی ہے، جو کچھ بیماریوں کے علاج میں مدد کرتا ہے، جیسے: گلے کے انفیکشن، برونکائٹس، پیشاب کی نالی کا انفیکشن، اور ٹیپ کیڑے۔
5. زبانی صحت کو بہتر بنائیں
اس کی جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے، ناریل کھانے سے منہ میں موجود کچھ ناپسندیدہ بیکٹیریا کو ختم کرنے اور مسوڑھوں اور دانتوں کو انفیکشن یا گہا سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
6. وزن میں کمی
ناریل کا گودا باقاعدگی سے کھانے سے وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس میں موجود میڈیم چین فیٹی ایسڈز چربی کو جلانے میں مدد دیتے ہیں۔
7. ناریل کے دیگر فوائد
جہاں تک ناریل کھانے سے وابستہ دیگر فوائد کا تعلق ہے، ان میں شامل ہیں:دماغ کے افعال کو مضبوط اور بہتر بنائیں۔مردانہ زرخیزی کو بہتر بنانا۔بلڈ شوگر کی سطح کو منظم کرنا۔مختلف کینسروں کے خطرے کو کم کرنا، جن میں سب سے اہم بڑی آنت اور چھاتی کا کینسر ہیں۔
جوڑوں کے درد سے تحفظ۔
ناریل کے فوائد اس سے آگے بڑھتے ہیں، اس میں ناریل کا تیل، ناریل کا دودھ اور ناریل کا پانی بھی شامل ہے۔
درد کم اور ریلیکس کرتا ہے
کھوپرے کے تیل کو مساج کے دوران استعمال کرنے سے بہت سکون ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہڈی و جوڑوں کے درد کا شکار افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے جبکہ یہ سوجن کو بھی کم کرتا ہے۔انرجی دیتا ہے۔ناریل پانی میں پروٹین، پیٹاشیم اور ویٹامن بی کمپاؤنڈٖ موجود ہوتا ہے جس کے باعث یہ ورزش سے پہلے اور بعد کے لیے بہترین مشروب ہے۔ ناریل پانی سے ورزش کے دوران پٹھوں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت ہوتی ہے اور جسم میں نمکیات کی کمی دور ہوتی ہے جبکہ آپ کو فوری طور پر چاک و چوبند کردیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ ہڈی و جوڑوں کے درد کا شکار افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے جبکہ یہ سوجن کو بھی کم کرتا ہے
ناریل کی غذائی اقدار
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، ناریل کو بہت سے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، گودا کا تعلق ہے، لوگ اسے عام طور پر اس کی غذائیت کی وجہ سے کھاتے ہیں۔جیسا کہ 100 گرام تازہ ناریل میں درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:
کیلوریز 354 کیلوریز..پروٹین 3.33 گرام.چکنائی 33.5 گرام۔کاربوہائیڈریٹ 15.2 گرام۔غذائی ریشہ 9 گرام۔کیلشیم 14 ملی گرام
آئرن 2.43 ملی گرام۔میگنیشیم 32 ملی گرام۔فاسفورس 113 ملی گرام۔پوٹاشیم 356 ملی گرام۔سوڈیم 20 ملی گرام۔سیلینیم 10.1 ملی گرام
وٹامن سی 3.3 ملی گرام۔زنک 1.1 ملی گرام
ناریل کے مضر اثرات اور انتباہات
اگرچہ ناریل قیمتی غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے، لیکن کھانے میں سیر شدہ چکنائی کی بڑی مقدار ہوتی ہے، اس لیے اسے اعتدال میں کھانا بہتر ہے۔
کچھ لوگوں کو ناریل سے الرجی بھی ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ نایاب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خشک جلد کا علاج
ویٹامن ای سے مالامال کھوپرے کا تیل چہرے پر لگانے سے جلد کی لچک بحال ہوجاتی ہے اور جھرریاں نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ ناریل کے پانی میں چند قطرے لیموں ملاکر اس کا ماسک لگانے سے جلد خشک ہونے کا مسئلہ دور ہوجائے گا۔ناریل کا تیل جلد کے لیے ایک بہترین موائسچرائزر کا کام کرتا ہے۔ ناریل کے تیل کو جلد پر لگانے سے چہرہ نرم و ملائم اور تروتازہ رہتا ہے اور اس میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ بدلتے موسم کے منفی اثرات سے جلد کو بچاتا ہے۔
ہم جلد کے لیے مہنگے مہنگے موائسچرائزر پر خوب پیسا خرچ کرتے ہیں، اگر آپ اپنی جلد کے لیے بہترین موائسچرائزر چاہتے ہیں تو ناریل کے خالص تیل کا استعمال کریں۔سورج کی شعاعیں براہ راست جلد پر پڑنے کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ ان خطرناک شعاعوں سے جلد کا رنگ خراب ہونے کے ساتھ ساتھ جلد خشک اور روکھی بھی ہوجاتی ہے۔ اگر آپ سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ناریل کا تیل بہترین انتخاب ہے۔
بالوں میں چمک لانے اور ڈینڈرف ختم کرنے میں مددگار
رات کو سر پر گرم کھوپرے کے تیل کا مساج ڈینڈرف کم کرنے اور بالوں کے گرنے کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کے دودھ کو سر پر لگا نے سے ہیئر اسٹریٹننگ کے دوران بالوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ انہی فوائد کے باعث ناریل کا دودھ نامور ہیئر پراجکٹس کا جزو ہے۔
آنکھوں کے گِرد حلقوں کے لیے معاون
بے شمار مرد اور خواتین کو آنکھوں کے گرد حلقوں کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے مارکیٹ میں مہنگی مہنگی آئی کریمز فروخت کی جارہی ہیں۔اگر آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہے تو روزانہ ہلکے ہاتھوں سے ناریل کے تیل سے متاثرہ جگہ پر مساج کریں ایسا روزانہ کرنے سے ہلکے کم ہونا شروع ہوجائیں گے۔
دانتوں کیلئے مفید
۔دانتوں کیلئے مفید:میڈیکیٹڈ کھوپرے کے تیل سے دن میں دو مرتبہ غرارے کرنے سے دانت صحت مند رہتے ہیں۔ کھوپرے کے تیل سے نہ صرف دانتوں میں موجود ٹاکسن ختم ہوتا ہے بلکہ یہ دانتوں کی حساسیت کم کرنے میں بھی مفید ہے۔ناریل نہ صرف مفید ہے ، بلکہ بہت ہی فوٹو جینک بھی ہے (اگر آپ ، یقینا، ، عجیب بالوں والے گری دار میوے کی طرح)میں خصوصی طور پر قدرتی کاسمیٹکس کا پیروکار نہیں ہوں – بہت سارے لیبارٹری بیوٹی پروڈکٹس بھی میرے کاسمیٹک بیگ میں نمایاں جگہوں پر قابض ہیں۔ تاہم ، ہر ایک کے تصور کے تحت ، ناریل کا تیل صرف انمول ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناریل کے دیگرفوائد
ناریل ہمارے لیے قدرت کی جانب سے بیش بہا عطیہ ہے۔ یہ خوش ذائقہ پھل اپنے تمام تر اجزاء کی صورت میں ہماری خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اس کا گودا (مغز) ہمارے کھانوں کی لذت بڑھانے اور صحت و شفا بخشنے میں کام آتا ہے۔ اس کا پانی تسکینِ جسم و جاں کے علاوہ کئی امراض میں بھی مفید ہے اور اس پر چڑھے ہوئے مختلف حفاظتی خول طرح طرح کی بیماریوں سے ہمیں نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناریل کا درخت زیادہ تر ایسے ساحلی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں زمین نم رہتی ہو اور بارش خوب ہوتی ہو۔ سمندر کے کنارے کھاری ماحول میں پیدا ہونے والا یہ پھل میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے۔ سری لنکا، مدراس، بنگال، آسام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں ناریل کا درخت خودرو بھی ہے اور اس کی باقاعدہ کاشت بھی کی جاتی ہے۔ اب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے نواحی علاقوں میں ناریل کو کامیابی کے ساتھ کاشت کیا جارہا ہے۔
ناریل کے پھل کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ قدرت نے اس پھل کی حفاظت کے لیے کس قدر محفوظ پیکنگ کی ہے۔ پھل کی بیرونی جانب کتھئی رنگ کا ایک چھلکا چڑھا ہوتا ہے۔ اسے اتارا جائے تو اندر سے ریشہ دار جٹائوں کی موتی تہہ برآمد ہوتی ہے جنہیں ناریل کی چھال بھی کہتے ہیں۔ ان جٹائوں کو ہٹائیں تب بھی ناریل کے گودے تک ہماری رسائی نہیں ہوتی۔ جٹائوں کے اندر سے بہت سخت لکڑی کا خول نمودار ہوتا ہے۔ اس خول کو توڑا جائے تو ناریل کے پھل میں بھرا ہوا شیریں پانی اور گودا حاصل ہوجاتا ہے۔ اس گودے پر بھی سرخی مائل سیاہ رنگ کا ایک ایسا چھلکا چڑھا ہوتا ہے جسے کھایا بھی جا سکتا ہے۔ ناریل جب تازہ ہو تو اس کا بیرونی چھلکا سبز اور اس میں جٹائوں کی رنگت سفید ہوتی ہے۔
’’ناریل پانی‘‘کچے، سبز اور نرم ناریل(Immature fruit)کے اندر موجود صاف، نمکیات سے بھرپور پانی جسے”Life Enhancer” اور”Nature’s Sports Drink” کہاجاتا ہے۔ یہ گرم (Tropic) علاقوں کا مشہور مشروب ہے جو تازہ، ڈبے یا بوتل میں بند ملتا ہے۔ ایشیا میں کچے سبز ناریل کو صرف پانی کے حصول کے لیے ہی پیک کیا جاتا ہے۔ بوتل میں بند ناریل پانی کی شیلف لائف 24 ماہ تک ہوتی ہے۔
پچھلے چند برسوں میں ناریل پانی کو بطور قدرتی انرجی ڈرنک یا اسپورٹس ڈرنک مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا ہے۔ ناریل کو جب تک توڑا نہ جائے اس کا پانی
جراثیم سے پاک (Sterile) ہوتا ہے، اسے بذریعہ ورید (Intravenous hydration fluid) بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ایک ناریل میں تقریباً 200-100 ملی لیٹر تک پانی ہوسکتا ہے جو کہ ناریل کے سائز اور قسم پر منحصر ہے۔ اسے تخمیر (Ferment) کرکے ناریل سرکہ بھی بنایا جاتا ہے۔
گرمی کے موسم میں ناریل پانی ایک بہترین قدرتی مشروب ہے، کیونکہ یہ قدرتی شوگرز، Electrolytes سوڈیم اور پوٹاشیم اور دوسرے نمکیات سے بھی بھرپور ہے جو گرمی کی شدت کو کم کرکے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی بھی پوری کرتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ناریل پانی میں موجود Cytokinins میں عمر رسیدگی (Anti aging) کو روکنے والے دافع کینسر (Anti Carcinogenic)، دافع تھرمبوٹک (Anti Thrombotic) اثرات پائے جاتے ہیں۔
بی وٹامنز بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا استعمال نظام ہضم کو بہتر بناتا ہے، Digestive tractکو صاف کرتا ہے۔ قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔ پی ایچ کو متوازن کرتا ہے۔ سست دورانِ خون کو تیز کرتا ہے۔ گرمی اور لو سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسے “Fluid for life”کہتے ہیں۔ بوڑھے اور بیمار لوگوں کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ فالج (Stroke)، ہارٹ اٹیک اور خماری(Hangovers) سے محفوظ رکھتا ہے۔ اساسی ہے، تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔Atherosclerosis سے بھی بچاتا ہے۔ کولیسٹرول لیول پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے بھی مفید ہے۔
بچوں کے Processed milk سے بہتر ہے، کیونکہ اس میں Lauric acid پایا جاتا ہے جو ماں کے دودھ میں بھی ہوتا ہے۔ وزن کم کرتا ہے۔ دنیا میں شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد دُبلا رہنے کے لیے اس کا روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بطور دبلا کرنے والی پروڈکٹ(Slimming aid) بھی فروخت ہوتا ہے۔ جلد کو چمک دیتا ہے اور ایکنی کو بھی ختم کرتا ہے۔
ناریل پانی میں اورنج جوس کے مقابلے میں کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ یہ قدرتی پیشاب آور ہے۔ اپھارہ(Bloating)کو بھی دور کرتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ناریل پانی آنکھوں میں ڈالنے سے موتیا (Cataract) میں بھی فائدہ دیتا ہے۔ جسمانی کام یا ورزش کے بعد اس کا استعمال تھکن اور سستی کو دور کرتا ہے۔ اسے اسہال (ڈائریا) کے مریضوں کو پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ORSکے مقابلے میں اس میں امینو ایسڈز، انزائمز، شوگرز اور دوسرے نمکیات بھی موجود ہیں، اس میں سوڈیم اور کلورائیڈ کم ہیں لیکن سوفٹ ڈرنکس کے مقابلے میں اس کا استعمال بہت بہتر ہے۔ گردوں پر بھی مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ فلپائن کے ایک ہسپتال میں گردے کے ایک مریض کی بذریعہ مشین گردوں کی صفائی(Dialysis)کے عمل کو مؤخر کرنا پڑا جو باقاعدگی سے روزانہ ناریل پانی پی رہا تھا۔ فلپائن میں اسے Bukojuiceeکہتے ہیں۔ ڈاکٹرMacalalag نے اسے Bukolysis treatmentکا نام دیا اور اب وہاں یہ مقولہ مشہور ہے “A cocount a day keeps the urologist away” یعنی امراضِ گردہ کے ماہر کے پاس جانے سے بچنے کے لیے ایک ناریل روزانہ استعمال کریں۔ ناریل بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے۔ اس میں موجود Cytokinins اور Lauric acid جلدی ٹشوز کو نمی دیتے ہیں، پی ایچ کو برقرار رکھتے ہیں اور عمر رسیدگی سے بچاتے ہیں۔ لہٰذا ناریل پانی کا جلد پر استعمال ایکنی، جھریوں اور ایگزیما وغیرہ کے لیے مفید ہے۔
احتیاطیں:
1۔ناریل پانی میں کوئی اور چیز (چینی وغیرہ) ملائے بغیر پئیں۔
2۔ ٹیٹرا پیک میں ملنے والے ناریل پانی میں Preservative اور زائد چینی بھی ہوتی ہے جس میں کیلوریز زیادہ ہوں گی، لہٰذا تازہ ناریل پانی پینا ہی صحت کے لیے مفید ہے۔
3۔ جن لوگوں کو میوہ جات سے الرجی ہو، انہیں ناریل پانی سے بھی الرجی ہوسکتی ہے۔
4۔ ناریل پانی میں چونکہ پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے لہٰذا جو لوگ پوٹاشیم سپلیمنٹ لے رہے ہوں وہ اس کے استعمال کے دوران مقدارِ خوراک کو ایڈجسٹ کرلیں۔
سبز رنگ کا کچا ناریل جسے ڈاب بھی کہا جاتا ہے، یہ پانی سے بھرا ہوتا ہے اور اس کے اندر گری بالائی جیسی ہوتی ہے۔ اس ڈاب کا پانی بے شمار فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ بعض ماہرین اسے دستیاب دودھ سے زیادہ مفید قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا اور چکنائی بھی کم ہوتی ہے۔ ناریل پانی دورانِ خون کو بہتر بناتا ہے اور غذا ہضم کرنے والی نالی کی صفائی کرتا ہے۔ یہ قدرتی پانی انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف مدافعانہ نظام کو مضبوط بناتا ہے، جس کے باعث جسم زیادہ سے زیادہ وائرسز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ گردے میں پتھری والے لوگ ناریل کا پانی پینا معمول بنائیں، کیونکہ یہ پانی پتھری توڑ کر خارج کرنے کی قوت رکھتا ہے۔
لوگ ناریل کو شجرِ حیات بھی کہتے ہیں۔ قدرت نے نباتات کی دنیا میں جتنے بھی اشجار روئے زمین پر اگائے ہیں ان میں بلاشبہ ناریل کا درخت سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ بھلا آپ ہی بتائیں کہ دنیا میں کون سا ایسا درخت ہے جو نہ صرف ایک مکمل مکان بنانے کے کام آسکتا ہو بلکہ مکان کے لیے آسائش و آرائش کا سامان بھی مہیا کرسکتا ہو مثلاً کرسیاں، پلنگ، میٹریس (گدے)، جھاڑو، کپ اور طشتری بھی۔ ساتھ ہی نہ صرف یہ، بلکہ مکان میں گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ، ٹھنڈا رکھنے کے لیے چھت، سایہ اور پنکھے، روشنی کے لیے دئیے میں جلانے کے لیے تیل اور تیل کے لیے ناریل کے خول کی کٹوری بھی۔
اس درخت کے تنے کے اندرونی مہین ریشوں سے کپڑا بُنا جاسکتا ہے۔ ماہی گیروں کو مچھلی پکڑنے کا سامان، کشتی کے لیے بادبان اور رسیاں، اور مچھلی پکڑنے کے لیے ڈوری اور جالی یہی ناریل کا درخت مہیا کرتا ہے۔یہ نہ صرف کھانا پکانے میں (اپنے تیل سے) مدد دیتا ہے بلکہ بجائے خود ایک ’’کھانا ‘‘ہے جسے پکایا جاسکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک عدد عمدہ قسم کے ناریل میں چوتھائی پونڈ گوشت کے برابر پروٹین ہوتی ہے۔ انسان صرف اس ایک درخت سے حاصل کردہ اشیاء کے سہارے اپنی پوری عمر گزار سکتا ہے۔ کھوپرے میں غذائی اجزا کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کھوپرا عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے یکساں مفید ہے، اسی لیے اس کو حلوے اور مٹھائیوں میں ڈال کر کھاتے ہیں۔ یہ اعلیٰ درجے کی غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ یہ معجونوں اور حلووں میں بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔کھوپرا پیٹ کے بچے پر بڑا اچھا اثر ڈالتا ہے، اس لیے حمل کے دنوں میں کھوپرا اور مصری کھانے سے حاملہ کی عام جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے اور بچہ خوبصورت اور تندرست پیدا ہوتا ہے۔ کھوپرا کھانے سے چیچک نہیں نکلتی۔ اگر چیچک کے زمانے میں بچے کی ماں روزانہ 20۔30 گرام تک کھوپرا کھلائے تو بچہ چیچک سے محفوظ رہے گا، جلد طاقتور اور موٹا بھی ہوگا۔ بڑی عمر کے دبلے پتلے لوگ بھی اگر کھوپرا زیادہ کھائیں تو انہیں بھی طاقتور اور موٹا کرتا ہے۔ کھوپرا دماغ اور آنکھوں کے لیے بڑی مفید چیز ہے۔ بینائی تیز کرتا ہے اور گردوں کو طاقت دیتا ہے۔ اس فائدے کے لیے اسے مصری کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ کھوپرا پیٹ کے کیڑوں کو مارتا ہے۔ اگرکھوپرے کے ساتھ مغز پلاس پاپڑہ برابر وزن میں پیس کر تھوڑا گڑ ملا کر 6گرام کھلائیں تو چند بار کے کھلانے سے کیڑے مرکر نکل جائیں گے۔ ناریل کا تیل گھی کی جگہ کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بدن میں قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نیم گرم مالش کرنے سے دردوں کو دور کرتا ہے اور سر میں لگانے سے بالوں کو بڑھاتا اور ان کو نرم اور چمکیلا بناتا ہے۔ناریل کا تازہ تیل کالی کھانسی کے لیے اچھی دوا ہے۔ اگر بچے کی عمر ایک سال ہو تو ناریل کا خالص تیل تین تین ماشے دن میں تین بار پلائیں اور دس بارہ روز تک بلاناغہ پلاتے رہیں تو کالی کھانسی دور کردیتا ہے۔ ناریل کا تیل پلانے سے پیٹ کے کیڑے بھی مر جاتے ہیں۔پرانے کھوپرے کو باریک کوٹیں اور اس میں چوتھائی حصہ ہلدی ملا کر پوٹلی باندھ لیں، اور اس کو گرم چوٹ کی جگہ سینکیں۔ اوپر سے اسی کو ہلکا گرم کرکے باندھ دیں تو چوٹ کا درد اور سوجن دور ہوجائے گی۔
کھوپرے کے اوپر جو ریشہ دار چھلکا ہے اس کو جلا کر راکھ بنا لیں اور اس کے برابر وزن میں سرخ شکر ملا کر ایک ایک تولہ تین دن تک پانی کے ساتھ پھانکیں تو بواسیر کا خون بند ہوجائے گا۔ اگر کسی اور جگہ سے خون آتا ہے تو اس کے استعمال سے وہ بھی رک جاتا ہے۔
کھوپرے کے چھلکے کا اگر پتال جنتر سے تیل نکال لیا جائے تو وہ داد، خارش اور گنج کے لیے انتہائی مفید ہوتا ہے۔ یہ تیل دواخانوں سے بھی دستیاب ہوسکتا ہے۔ اگر یہ تیل نہ ملے تو روغن گندم استعمال کریں، وہ بھی اسی قدر مفید ہے۔
خونِ صالح پیدا کرتا ہے۔ کثیر الغذا ہونے کی وجہ سے بدن کو فربہ کرتا ہے۔ جسم کی حرارتِ اصلی کو قوت دیتا ہے۔ بینائی کو مضبوط کرنے کے لیے ہر روز نہار منہ کوزہ مصری ہم وزن کے ہمراہ کھانا بے حد مفید ہوتا ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو مارنے کے لیے پرانا ناریل تین ماشہ کھانا مفید ہوتا ہے۔ ناریل کا تیل سر پر لگانے سے بال ملائم ہوتے ہیں اور بڑھتے بھی ہیں۔ ناریل بخاروں اور ذیابیطس (شوگر)کے مرض میں پیاس بجھاتا ہے۔ ناریل کا تیل اگر روزانہ پلکوں پر لگایا جائے تو وہ بہت ملائم ہوجاتی ہیں۔ اگر نکسیر کی شکایت ہو تو تین ہفتے دو تولہ ناریل رات کو بھگو کر صبح نہار منہ کھانے سے یہ مرض ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ فالج، لقوہ، رعشہ اور وجع مفاصل میں اس کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے۔ ناریل کے چھلکوں کے جوشاندے سے غرارے کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔ قطرہ قطرہ پیشاب آنے میں بے حد مفید ہے اور اس مرض کو جڑ سے اکھاڑتا ہے۔ دردِ مثانہ میں بے حد مفید ہے۔کچا ناریل بھوک لگاتا ہے۔

کھانسی اور دمہ میں ناریل کا استعمال بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ گرتے ہوئے بالوں کی صورت میں کھوپرے یعنی ناریل کا تیل سر پر لگانا خاص طور پر رات کے وقت، اور صبح اٹھ کر کسی اچھے صابن سے سر دھو لینا مفید ہوتا ہے۔ ناریل کا پانی معدے کی سوجن کا بہترین علاج ہے۔ ناریل کا دودھ گلے کی خراش اور تمباکو نوشی سے ہونے والی خشک کھانسی کا بہترین علاج ہے۔ آدھا کپ ناریل کا دودھ، ایک کھانے کا چمچہ شہد اور گائے کا دودھ ملا کر رات کو سونے سے پہلے لینے سے خراش اور خشک کھانسی ختم ہوجاتی ہے۔ ناریل کا پانی دل، جگر اور گردوں کی بیماریوں میں بھی فائدہ مند ہے۔ ناریل استعمال کرنے سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ناریل کا تیل جلی ہوئی جلد پر لگانے سے افاقہ ہوتا ہے۔ ناریل کے پانی میں ایک کھانے کا چمچہ لیموں کا رس ملا کر پینے سے ہیضے کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے کئی کھانوں میں روغنِ ناریل بطور فرائنگ آئل استعمال ہورہا ہے۔ اسے بیکری کی اشیا میں استعمال کیا جارہا ہے۔ روغنِِ ناریل کے بطور ایندھن استعمال کے بھی تجربات کیے گئے۔ اسے فلپائن Vanuatu،Samosa وغیرہ میں گاڑیوں اور جنریٹرز میں بطور فیول استعمال کیا جارہا ہے۔ Pacific Island میں اس سے بجلی پیدا کرنے کے لیے بطور فیول استعمال پر تحقیق کی جارہی ہے۔ اسے بطور انجن Lubricant بھی ٹیسٹ کیا گیا۔
100گرام میں پائے جانے والے اجزاء: توانائی862کیلوریز، وٹامن ای 0.09 ملی گرام، وٹامن کے 0.5 مائیکرو گرام اور فولاد (آئرن) 0.04 ملی گرام۔

روغنِ ناریل کو مارجرین، صابن اور کاسمیٹکس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ Industrial lubricantsکا اہم جزو ہے۔
روغنِ ناریل کوHealthiest oil on earthکہا جاتا ہے۔ اس میں دافع وائرل، دافع بیکٹیریل،Anti prozoal اور دافع مائیکرو بیل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
اس میں موجود Lauric، Capric اور Carrylic، انٹی مائیکرو بیلLipids ہیں جو قوتِ مدافعت کو بہتر بناتے ہیں۔

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *