34 الجرجیر۔ تارا میرا (Rocket

34 الجرجیر۔ تارا میرا (Rocket

 الجرجیر   ۔ تارا میرا       (Rocket

34الجرجیر۔ تارا میرا (Rocket
34 الجرجیر۔ تارا میرا (Rocket

34 الجرجیر۔تارا میرا

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

الجرجير بقلة خبيثة كأني أراها نابته في النار.۔الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (2/ 632)تارا میرا۔جرجیر۔اسوں۔ترہ، تیزک۔غدی عضلاتی ہے۔ہاضم کاسر ریاح،مولد منی،جالی،محمر۔مقوی معدہ و امعا۔مقوی باہ۔مدر حیض ہے ۔سدوں کو کھولتا ہے۔جگر و گردہ کی پتھریوں کو ریزہ ریزہ کرکے خارج کرتا ہے۔قبض و بواسیر ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتی ہیں،ریاحی دردوں کے لئے نافع ہے۔اس میں نباتاتی گندھک پائی جاتی ہے ۔
تارا میرا کے بیج نظریہ مفرد اعضاء کے فارماکوپیا کا اہم جزو ہیں۔اس کے مرکب کو غدی عضلاتی ملین کے نام سے پہچانا جاتا ہے، اس نسخہ کے چار اجزاء ہیں لیکن اس کی افادیت طبی دنیا میں سکہ بند حیثیت رکھتی ہے۔محتاط اندازہ کے مطابق کوئی مطب اس سے خالی نہ ہوگا۔راقم الحروف بھی،سالوں سے اسے استعمال کررہا ہے۔کوئی نسخہ موجود ہو یا نہ ہو لیکن یہ نسخہ ضرور موجود رہتا ہے۔خشکی کے امراض۔قبض،تجحر المفاصل۔داد چنبل وغیرہ میں کمال درجہ فائدہ مند ہے
تخم تارا میرا کے فوائد۔
تارا کے کئی نام ہیں۔ ترمرا بھی کہتے ہیں۔ پنجابی میں جواں بولتے ہیں، جر جیر بھی کہتے ہیں۔ تارامیرا کا ساگ پنجاب میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ مولی کے چھوٹے پتوں کی طرح کے پتے سلاد میں شامل کیے جاتے ہیں۔ سرسوں کے ساگ میں تارامیرا کا ساگ، پالک بتھوا ڈال کر پکایا جاتا ہے، اس سے ذائقہ بہتر ہوجاتا ہے۔ تارامیرا کا تیل بھی ملتا ہے جو بہت تیز ہوتا ہے۔ حساس لوگ لگائیں تو بہت لگتا اور کھجلی محسوس ہوتی ہے۔
پشاور کی ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ تھوڑے سے بیج روز کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ جسم کا درد ختم ہوتا اور اس کا تیل لگانے سے خارش سے آرام آتا ہے۔ تیل لگاتے ہی جلن کا احساس ہوتا مگر یہ جلد کے جراثیم ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خارش، کھجلی کے مریض دو تین ہفتے اس کے بیج کھالیں اور اس کا تیل لگالیں تو آرام آجاتا ہے۔ تارامیرا کے پھول پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ذائقے میں تیزی ہے، زبان پر اکثر خراش ڈال دیتے ہیں۔ ساگ پکانے میں اس کے پھول بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
تارامیرا کا بیج اور تیل پنساریوں کے ہاں سارا سال دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے تیل میں کھانا بنایا یا پکوڑے تلے جائیں تو جسم کے درد میں آرام آتا حکیم نوراحمد مرحوم معدے کی تیزابیت کے مریضوں کو تارامیرا کے لڈو یا پیڑے بنا کر کھانے کی تاکید کرتے تھے۔ بیج کوٹ کر دودھ میں پکا کر کھویا بن جانے پر چینی ملا کر پیڑے بناتے ہیں۔ ایک دو پیڑے کھلا کر چائے یا لسی پینے کو کہتے ہیں، اس سے معدہ صحیح کام کرنے لگتا ہے۔ پیٹ میں ہوا بھی نہیں بنتی اور بھوک لگتی تھی۔
پُرانے طبیب تارامیرا کے بیجوں کی خاصیت جانتے تھے۔ وہ بیج پیس کر تھوڑے سے دہی میں ملا کر چہرے کے داغ دھبوں پر لگواتے، اس سے رنگ صاف ہوجاتا۔ تارامیرا کے بیجوں کو احتیاط سے لگائیے۔ اگر زیادہ جلن ہو تو آپ فوراً منہ دھو کر عرق گلاب لگا لیں۔ حکماء اسے کئی طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ خون بڑھانے ، مردانہ کمزوری دور کرنے ، ریح کا درد اور قبض دور کرنے کے لیے زمانۂ قدیم سے تارامیرا کے بیج استعمال کیے جا رہے ہیں۔پہلوان تیل کی مالش بھی کرواتے ہیں تاکہ ان کا جسم سڈول اور مضبوط رہے۔ ۔

تارا میرا۔۔۔مختلف نام

:
مشہور نام تارا میرا۔ پنجابی تارا میرا۔ عربی جرجیر۔بنگالی سفید سروں۔ سنسکرت اُگرگندھا۔ فارسی ترہ تزک۔ لاطینی ایرو کاسٹیوا(Eruca Sativa) انگریزی میں روکت(Rocket) کہتے ہیں۔
شناخت:
سرسوں اور رائی کی طرح تیز، تیل دینے والا بیج (eruca sativa) ہے۔ پودا سرسوں کی طرح ہوتا ہے۔ پھول پیلے، پنجاب، ہریانہ اور یو پی کے علاوہ ہندوستان و پڑوسی ممالک کے کئی صوبوں میں اس کی کھیتی ہوتی ہے اور اس کے بیجوں سے تیل نکالتے ہیں۔ تیل صاف پیلے رنگ کا لگ بھگ 30 فیصدی نکلتا ہے۔ ذائقہ تیز، کڑوا، رنگ سبزی مائل ہوتا ہے۔ اس کو بغیر صاف کئے تیل کا استعمال زبان پر چھالے کردیتا ہے۔ اس لئے سرسوں یا تل کے تیل میں ملا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔
مزاج:گرم و خشک۔
مقدار خوراک:ایک گرام سے دو گرام تک۔
فوائد:(eruca sativa)تیز ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ سیاہ داغ،چھائیں اور سفید داغ وچھیپ پر لگاتے ہیں۔ اس کے تیل کی مالش کرنے سے خارش دور ہوجاتی ہے اور یہ تیل سستا ہونے کی وجہ سے اسے صاف کر کے کئی علاقوں میں بجائے گھی کے استعمال کرتے ہیں ۔اس کے پتوں کا ساگ دمہ، کھانسی کے لئے مفید ہے۔اس کا تیل ریاحی امراض کے لئے مفید(eruca sativa benefits) ہے۔ اس کا استعمال عام طور پر موسم سرما میں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے تیل کا استعمال صابن بنانے اور موم بتی بنانے میں بھی کام آتا ہے لیکن جسم پر ملنے سے یہ بہت جلن کرتا ہے۔ مختلف قسم کے مرہموں میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی کھلی میں نائٹروجن زیادہ ہوتا ہے۔ یہ پشوؤں کے لئے بہت طاقتور ہے۔ اس کا کھاد میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ریاحی امراض میں اس کے تیل کی نیم گرم مالِش ہم وزن تلی کا تیل ملاکر کرنے سے درد کمر، ٹانگ کا درد، کندھوں جوڑوں کے درد دور ہو جاتے ہیں۔ تلی کا تیل اور سرسوں کا تیل ملا کر مالش کرنے سے جوئیں بھی مر جاتی ہیں۔ دادو وغیرہ پر لگانے میں بھی فائدہ مند (eruca sativa benefits) ہے۔
حکیم وڈاکٹرہری چند ملتانی
تارا میرہ، ترمراہ، جرجیر (Rocket)
لاطینی میں:Eruca Sativa..۔۔خاندان: Crciferae
دیگر نام:،،،عربی میں جرجیر، فارسی میں ترہ تزک، اْردو میں تارا میرہ، پشتو میں جمایا، پنجابی میں استون،بنگالی میں ہلیم، سندھی میں آہریو اور انگریزی میں راکٹ کہتے ہیں۔
ماہیت:
اس کا پودا (eruca sativa) لگ بھگ ایک فٹ سے ڈیڑھ فٹ تک اونچا ہوتا ہے۔ اس کا پتا بغیر رواں کےاور نرم ہوتا ہےاور مولی کے پتوں کی طرح اسے کچا کھایا جاتا ہے۔جو کھانے میں چرچرا تیز لیکن لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے کچھ پتے لمبے گولائی لےَ ہوتے ہیں۔اور کچھ کٹاوَ دار ، ان کا ساگ بنا کر پنجاب میں کھایا جاتا ہے۔ تخم سرسوں کی طرح بالیاں پھول گرنے کے بعد لگتی ہیں۔ یہ پھلیاں سی بالی کے سروں پر تعداد میں بہت سی ہوتی ہیں جو شروع میں سبز اور جن کے اندر کافی تعداد میں تخم بھرے رہتے ہیں جو پکنے پر شلغم یا سرسوں سیاہ کے تخموں کی طرح گول ہوتے ہیں۔ بطور دوا اس کے تخم اور تیل استعمال (eruca sativa benefits)کیا جاتا ہے۔
مقام پیدائش
پاکستان اور جموں کے علاوہ ہندوستان میں ہریانہ اور پنجاب کا مشہور اور معروف پودا ہے۔ دہلی کے ارد گرد بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔
مزاج: گرم خشک درجہ سوم
افعال: ہاضم طعام ، کاسر ریاح، موَلد منی، مقوی باہ، مدربول و حیض، جالی محمر
استعمال:۔۔۔تقویت باہ کے لیے تخم جرجیر کو پیس کر قدرے نمک کے ساتھ بیضہ (انڈا) نیم برشت پر چھڑک کر کھالتے ہیں اور مقوی باہ مرکبات میں شامل کرتے ہیں۔جالی اور محمر ہونے کی وجہ سے اس کا لیم (طلا) برص، چھیپ ، چھائیں کو نافع ہے۔ اس کے تیل کی مالش کرنے سے کھجلی دور ہوجاتی ہے۔ یہ تیل سستا ہونے کا باعث پنجاب کے بعض علاقوں میں بجاےَ گھی کے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے پانی میں چنوں کو بگھو کر استعمال کیا جاےَتو منی خوب پیدا ہوتی ہے اور قوت باہ بڑھ جاتی ہے۔ کاسر ریاح ہونے کی وجہ سے جسم کے دردوں کے لےَ اس کے تیل میں پکوان بنا کر کھانا دردوں (eruca sativa benefits)کو دور کرتا ہے۔ پہلوان عموماََ اس تیل کی مالش کر کے ورزش کرتے ہیں۔احتیاط:
یہ تیل (eruca sativa) بہت تیز ہے اور اس کو نہار منہ نہیں پینا چاہیے۔
نفع خاص:مقوی باہ،مضر:گرم مزاجوں کے لیے
بدل:حسن یوسف (جلد میں)کیمیاوی اجزاء:س کے تخموں میں ایک نہ اڑنے والا تیل، ایبوفنائیڈ، کاربوہائیڈریٹ، پوٹاشیم، اور کچھ دیگر مواد ہوتے ہیں۔مقدار خوراک:ایک سے تین گرام (ماشے)
تاج المفردات۔۔(تحقیقاتِ)خواص الادویہ۔ڈاکٹروحکیم نصیر احمد طارق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تارا میرا: پکوان سے علاج تک نہایت مفید

جَو یا چنے کے ساتھ بویا جانے والا ایک قسم کا پودا جو عموماً ڈیڑھ دو ہاتھ اونچا ہوتا ہے، ہندوستان میں‌ تارا میرا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
تارا میرا کے پھل کا سائز 2.5 سینٹی میٹر ہوتا ہے اور اس کے پتے مولی کی طرح، مگر سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج سے جو تیل نکلتا ہے، وہ اپنے خواص اور فوائد کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے بیجوں سے 30 سے 35 فی صد تک روغن حاصل کیا جاسکتا ہے جو جلانے اور پکوان کے علاوہ جلد پر ملنے کے کام آتا ہے۔
اسے ترمرا بھی کہتے ہیں اور اس کا ساگ پنجاب میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ سرسوں کے ساگ میں تارامیرا کا ساگ، پالک بتھوا ڈال کر پکایا جاتا ہے، جو اس کا ذائقہ بہتر بناتا ہے۔
تارا میرا کا تیل اپنی بُو اور تیزی کی وجہ سے اکثر حساس جلد والوں کو الرجی کا شکار کر سکتا ہے جب کہ اس کے بھیج کھانے سے خارش، کھجلی میں آرام آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ درد میں‌ بھی آرام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تارا میرا کے پھول پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ذائقہ اس کا تیز ہوتا ہے۔ ساگ پکانے میں اس کے پھول بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ تارا میرا کو مختلف پکوان اور اس کے بیجوں‌ یا اس کے روغن کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے جس میں لڈو یا پیڑے بنا کر کھانے، بیجوں کو کوٹ کر دودھ میں پکا کر، بیجوں کو پیس کر حاصل ہونے والا سفوف، دہی میں‌ ملانے کے علاوہ طبیب حضرات مختلف طریقے بتاتے ہیں۔
طبیب اور پرانے حکیم تارامیرا کی افادیت اور اس کے بیجوں کی خاصیت جانتے تھے اور اسے استعمال کرنے کے طریقوں سے بھی واقف تھے، لیکن اب سبزیوں، جڑی بوٹیوں، پھلوں جیسی قدرت کی نعمتوں سے علاج معالجے یا تکالیف دور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے، مگر زمانہ قدیم سے تارا میرا کے بیجوں‌ سے انسان فائدہ اٹھاتا آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تارا میرا یا ترمرا کا نام شاید آپ نے سنا ہو گا کیونکہ اس کا تیل بہت مشہور ہے اور زیادہ تر خواتین اس تیل کو بالوں میں لگاتی ہیں کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر جوئیں بالوں میں ہوجائیں تو اس کا تیل بہت زیادہ مفید ہے۔ مگر اس کے بیجوں کو پانی کے ساتھ یا پاؤڈر کی شکل میں استعمال کرنے کے یہ فوائد شاید آپ نے بھی پہلے نہ سنے ہوں گے چلیں بتاتے ہیں۔۔
۔ فوائد:
• یہ سکون بخش ہوتے ہیں جن کو روزانہ تھوڑے سے کھانے سے جسم کا درد کم اور ہلکا درد ختم بھی ہوسکتا ہے۔ • یہ اینٹی سوزش اور جراثیم کش ہوتے ہیں جوکہ جلن، خارش اور کیڑوں کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
• معدے کی تیزابیت کے مریضوں کو تارامیرا کے بیج کھانے سے خاصا فائدہ ہوسکتا ہے۔ • خون بنانے میں یہ قدرتی ٹانک ہے اس لئے اگر آپ میں خون کی کمی ہوجائے تو آپ روزانہ ایک چمچ اس کے بیجوں کو پانی سے پھانک لیں۔
• جسمانی اور دماغی کموری کو دور کرنے میں بھی یہ آپ کی مدد کرتا ہے۔ • اس کا تیل بالوں میں لگانے سے بالوں کی جڑیں مضبوط اور خشکی کا خاتمہ بھی آسانی سے ہوتا ہے۔ • اس کے بیجوں کا پاؤڈر بنا کر اگر آپ پانی کے ساتھ ملا کر پیسٹ بنا کر ایکنی پر لگائیں تو یہ ایک کولنگ ماسک کے طور پر کام کرتا ہے اور چہرے کو تازگی بخشتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلچسپ و عجیب
تارا میرا کا پودا پاک و ہند میں عام طور پر جو یا چنے کے پودے کے ساتھ اگایا جاتا ہے اس کا پھل مولی سے چھوٹے سائز کا ہوتا ہے اس کے پتے بھی مولی کے پتوں سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ذائقے کے اعتبار سے یہ قدرے ترش ہوتا ہے اور اس کے بیجوں سے 30 سے 35 فی صد تک تیل نکالا جا سکتا ہے ۔ یہ تیل مختلف حوالوں سے بہت افادیت کا حامل ہے-
تارا میرا کے تیل کے فوائد
تارا میرا کا تیل پکوان میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ وہ جلد اور دوسرے کئی حوالوں سے بہت افادیت کا حامل ہے-
تارا میرا کے تیل کے جلد پر اثرات
اس کے جلد پر بہت بہتر اثرات ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے۔ اس کی بہترین اینٹی فنگل خصوصیات کے سبب یہ جلد پر کسی بھی قسم کے فنگل انفیکشن سے بچاتا ہے۔ یہ اینٹی سیپٹک بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں ایسے وٹامن بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ جلد کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں- یہ جلد پر لگنے کی صورت میں بعض افراد میں جلن کا باعث ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مساج کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اس سے جلد پر ہونے والے بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے-
تھکن کو اور ذہنی دباؤ کو دور کرے
تارا میرا کے تیل کے مساج سے پٹھوں کو آرام ملتا ہے اس وجہ سے ذہنی دباؤ یا تھکن کی صورت میں اگر اس تیل سے مساج کیا جائے تو اس سے نہ صرف تھکن دور ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ سے بھی نجات ملتی ہے-
بال لمبے اور گھنے کرے
تارا میرا کے تیل کے بالوں پر حیرت انگیز اثرات ہوتے ہیں یہ نہ صرف بال لمبے اور گھنے کرتا ہے بلکہ خشکی اور سکری کا خاتمہ بھی کرتا ہے اس کو استعمال کرنے کے لیے تارا میرا کے تیل کے چند قطروں کو اپنے شیمپو یا بالوں میں لگانے کے کسی بھی تیل میں شامل کر لیں اور نہانے سے قبل اس کو ہفتے میں ایک بار دو گھنٹے قبل لگا لیں -تارا میرا کے تیل سے سر کی جوؤں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے-
ذیابطیس کے مریضوں کے لیے
ذیابطیس کے مریضوں کی جلد پر خارش یا فنگل انفیکشن کے ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں- ایسے مریض اگر تارا میرا کے تیل کو جلد پر باقاعدگی سے لگائیں تو اس انفیکشن کے امکانات میں واضح کمی واقع ہوتی ہے اور اس کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں-
تارا میرا کا تیل بینائی کے لیے مفید
تارا میرا کے تیل میں لیوٹن نامی ایک مادہ موجود ہوتا ہےجو کہ بینائی کے لیے بہت مفید ہوتا ہے اس وجہ سے کھانے کے تیل میں چند قطرے تارا میرا کے تیل کے شامل کرنے سے اس کے اندر اس کی طاقت چلی جاتی ہے اور کمزور بینائی والے افراد کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے –
وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے
جو لوگ وزن کم کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں ان کو چاہیے کہ اپنی غذا میں تارا میرا کے تیل کو شامل کریں جس سے ان کے جسم کا میٹا بولزم تیز ہوتا ہے اور اس وجہ سے وزن تیزی سے کم ہوتا ہے- وزن کم کرنے کے خواہشمند لوگ تارا میرا کا ساگ بھی کھانے میں پکا کر استعمال کر سکتے ہیں جو کہ وزن کو تیزی سے کم کرتا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالوں کے لئے ٹانک۔
بالوں کے لیے واٹرکریس کے فوائدبہت سے لوگ صحت مند بالوں کو صحت یا خوبصورتی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں اور جسم کے کسی دوسرے حصے کی طرح بالوں کو بھی بڑھنے اور صحت مند نظر آنے کے لیے مختلف قسم کے غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔اگرچہ عمر، جینز اور ہارمونز جیسے عوامل ہوتے ہیں جو بالوں کی نشوونما پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن بالوں کی نشوونما اور صحت کے لیے ضروری غذائی اجزاء کھانا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بالوں کے امراض۔
بالوں کی صحت کو متاثر کرنے والے وٹامنز میں وٹامن سی، وٹامن بی گروپ اور وٹامن اے شامل ہیں۔
معدنیات جو بالوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں وہ ہیں زنک، آئرن، کاپر، سیلینیم، سلکان، میگنیشیم اور کیلشیم۔واٹر کریس بالوں کی صحت کے لیے بہت سے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور سب سے اہم سبز پتوں میں سے ایک ہے۔1. وٹامن اے پر مشتمل ہے۔واٹرکریس میں وٹامن اے کا 2373 IU ہوتا ہے، جس کی بالوں کی نشوونما کے لیے جسم کے تمام خلیوں کی طرح ضرورت ہوتی ہے۔وٹامن اے سیبس غدود کو سیبم نامی تیل والا مادہ تیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ سیبم کھوپڑی کو نمی بخشتا ہے، اسے خشک ہونے سے بچاتا ہے اور صحت مند بالوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
واٹرکریس میں بیٹا کیروٹین کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے جو جسم میں وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔2. بی کمپلیکس وٹامنز پر مشتمل ہے۔واٹرکریس میں وٹامن B1، B2، B3، B5، اور فولک ایسڈ شامل ہیں۔بی کمپلیکس وٹامنز خون کے سرخ خلیات بنانے میں مدد کرتے ہیں جو آکسیجن اور غذائی اجزاء کو کھوپڑی اور بالوں کے پتیوں تک لے جاتے ہیں۔
وٹامن B5 بالوں کے جھڑنے کو روکنے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔3. وٹامن سی پر مشتمل ہے۔واٹرکریس میں وٹامن سی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، اور وٹامن سی بالوں کے لیے درج ذیل فوائد فراہم کرتا ہے۔بالوں کو آزاد ریڈیکل نقصان سے بچانا جو بالوں کی نشوونما کو روکتا ہے اور اس کی عمر بڑھنے کا باعث بنتا ہے، کیونکہ وٹامن سی ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے۔یہ کولیجن پروٹین کی پیداوار میں مدد کرتا ہے، جو بالوں کی ساخت کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ آئرن کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے، جو بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری معدنیات ہے۔بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔4. وٹامن ای پر مشتمل ہے۔چونکہ یہ ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے، اس لیے واٹرکریس میں موجود وٹامن ای بالوں کو آزاد ریڈیکل نقصان سے بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔
ان لوگوں نے 8 ماہ تک وٹامن ای کے سپلیمنٹس لینے کے بعد بالوں کی نشوونما میں 34.5 فیصد اضافہ دیکھا۔5. لوہے پر مشتمل ہےواٹرکریس میں وٹامن سی کے علاوہ آئرن ہوتا ہے جو آئرن کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔آئرن خون کے سرخ خلیوں کو جسم کے خلیوں تک آکسیجن پہنچانے میں مدد کرتا ہے، اور یہ اسے بالوں کی نشوونما سمیت کئی جسمانی افعال کے لیے ایک اہم معدنیات بناتا ہے۔آئرن کی کمی جو خون کی کمی کا باعث بنتی ہے بالوں کے گرنے کی ایک بڑی وجہ ہے جو خواتین میں زیادہ عام ہے۔6. زنک پر مشتمل ہے۔واٹر کریس میں زنک ہوتا ہے، اور زنک بالوں کے ٹشووں کی نشوونما اور مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہ بالوں کے پٹکوں کے ارد گرد سیبیسیئس غدود کو بھی صحیح طریقے سے کام کرتا رہتا ہے۔
بالوں کا گرنا زنک کی کمی کی ایک عام علامت ہے اور یہ ثابت ہوا ہے کہ زنک سپلیمنٹ لینے سے زنک کی کمی کی وجہ سے ہونے والے بالوں کے جھڑنے میں کمی آتی ہے۔7. دیگر معدنیات پر مشتمل ہے۔واٹرکریس میں دیگر معدنیات شامل ہیں جو بالوں کی صحت کے لیے اہم ہیں۔ان معدنیات میں شامل ہیں: تانبا، سیلینیم، میگنیشیم اور کیلشیم آپ بالوں کے لیے واٹر کریس کے فوائد سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟بالوں کے لیے واٹر کریس کے فوائد کا جواب دینے کے بعد، اسے استعمال کرنے کے طریقے یہ ہیں:1. اسے خوراک میں شامل کریں۔آپ اپنی خوراک میں واٹر کریس کو مختلف طریقوں سے شامل کر سکتے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:پیزا یا بیکڈ آلو کے ٹکڑوں کو گارنش کریں۔اسے پاستا، سلاد، سوپ یا آملیٹ میں شامل کریں۔اسے سینڈوچ میں لیٹش کی جگہ استعمال کریں۔واٹرکریس کا جوس بنائیں۔2. بالوں پر واٹر کریس کا بنیادی استعما ل مندرجہ ذیل مراحل پر عمل کرتے ہوئے واٹر کریس کو بالوں پر بالوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایک مٹھی بھر واٹر کریس کو بلینڈر میں ایک کپ پانی کے ساتھ پیس لیں۔مکسچر کو چند منٹ کے لیے ابالیں، پھر اسے چھان کر ٹھنڈا ہونے دیں۔بالوں کو دھونے کے آخری مرحلے کے طور پر صاف بالوں پر کللا کے طور پر نتیجے میں مائع کا استعمال کریں۔واٹرکریس کھانے کے خطراتاعتدال میں واٹرکریس کھانا تشویش کا باعث نہیں ہے۔لیکن چونکہ واٹرکریس میں وٹامن K ہوتا ہے، جو خون کے جمنے کے لیے اہم ہے، اس لیے اس کا زیادہ استعمال خون کو پتلا کرنے والی کچھ ادویات کی تاثیر کو متاثر کر سکتا ہے۔
۔بذریعہ ڈاکٹر اصیل ایبوینی – بدھ، دسمبر 2، 2020

Leave a Reply

Your email address will not be published.