پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

کشتہ جات: حقیقت، اصول اور جدید سائنسی تناظر

کشتہ جات: حقیقت، اصول اور جدید سائنسی تناظر
کشتہ جات: حقیقت، اصول اور جدید سائنسی تناظر

کشتہ جات: حقیقت، اصول اور جدید سائنسی تناظر

از قلم:حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ

تمہید: کشتہ جات کی حقیقت اور اہمیت

دیسی و یونانی طب میں کشتہ جات کو ہمیشہ سے ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے، اور اس فن کے ماہرین کو حکماء کی صفوں میں خصوصی احترام دیا جاتا ہے۔ یہ علم صدیوں کے تجربے اور مشاہدے سے پروان چڑھا ہے، اور آج بھی اس میدان میں مہارت رکھنے والے افراد موجود ہیں، تاہم اس کا صحیح استعمال گہری مہارت اور تربیت کا متقاضی ہے۔

عام طور پر یہ فن سنیاسیوں، جوگیوں اور سادھوؤں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے، اور بعض اوقات کوئی ڈھونگی بھی سادھو کا روپ دھار کر سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دے جاتا ہے۔ لیکن یہ سوچ درست نہیں کہ یہ علم صرف نیم حکیموں یا بہروپیوں

تک محدود ہے، کیونکہ حقیقی اور معتبر اطباء اس موضوع پر گہرا علم رکھتے ہیں۔

طب کی مختلف شاخوں میں کچھ اصول مشترک پائے جاتے ہیں، اور دھاتوں کا علاج میں استعمال بھی انہی میں سے ایک ہے۔ دیسی و مقامی طب کو اس ضمن میں ایک خاص امتیاز حاصل ہے، کیونکہ اس کے قدیم ماہرین نے بہت پہلے یہ راز پا لیا تھا کہ انسانی جسم کو مخصوص دھاتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور ان کی کمی یا زیادتی صحتِ انسانی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ بزرگ اطباء خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کر ایسے طریقے وضع کرتے رہے جن سے بنی نوعِ انسان کو امراض کی اذیت سے نجات مل سکے۔

دھاتیں اپنی اصلی حالت میں جزوِ بدن نہیں بن سکتیں، بلکہ انہیں ایک خاص کیفیت میں لا کر ہی جسم کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے قدیم اطباء نے متعدد طریقے اور بے شمار جڑی بوٹیاں دھاتوں کو کشتہ کرنے کے لیے آزمائیں، اور یہ جانچا کہ کون سی بوٹی میں کس نوعیت کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ التکلیس (کشتہ سازی) پر لکھی گئی کتب میں بے شمار ترکیبیں محفوظ ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ کون سی دھات کس بوٹی کی مدد سے کشتہ کی جا سکتی ہے۔

کشتہ سازی کی اس طویل روایت سے صرفِ نظر ممکن نہیں، کیونکہ یہی وہ نرسری ہے جس نے اعلیٰ درجے کی دھاتوں کو جسمِ انسانی کا جزو بننے کی صلاحیت سے مالا مال کیا۔ جدید اصطلاح میں اگر کشتہ سازی کو سمجھنا ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ دیسی طریقۂ علاج کی وہ ‘ہائی پوٹنسی’ دوا ہے جس کی قلیل مقدار بھی نمایاں اور گہرے اثرات رکھتی ہے۔ صحیح انداز میں تیار کیا گیا کشتہ خون میں پلازما کے ساتھ مل کر دیر تک اپنے اثرات جسم پر مرتب کرتا رہتا ہے۔

اشیاء کے وزن میں کمی بیشی کا اصول

تحقیق و تجربے سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ جن اشیاء میں حرارت کی مقدار زیادہ ہو، ان میں گندھک اور فاسفورس کے اجزاء بھی زیادہ پائے جاتے ہیں، اور ایسی اشیاء وزن میں نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، جن اشیاء میں مٹی اور چونے کے اجزاء غالب ہوں، ان میں حرارت کم اور وزن زیادہ ہوتا ہے۔

پتھریلی اور معدنی اشیاء، جن میں چونے کا تناسب زیادہ ہو، وزنی شمار ہوتی ہیں — جیسے سونا، چاندی، پارہ، لوہا، سکہ، جست، قلعی، شنگرف، ہڑتال، سمُ الفار، اور پتھر کا کوئلہ۔ غرض ہر وہ حجریات جن میں چونے کی مقدار زیادہ ہو، وزنی ہوتے ہیں، حتیٰ کہ معدنی سیالات بھی۔ البتہ جن اشیاء میں گندھک کا تناسب زیادہ ہو، وہ نسبتاً ہلکی ثابت ہوتی ہیں۔

(یہ اصول حضرت مجدد الطب کی کتاب ‘علمُ الادویہ’ سے ماخوذ ہے۔)

کشتہ سازی: قدیم روایت اور جدید کیمیائی تناظر

کشتہ جات کی خصوصیات اور ان کے دیرپا اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر کسی رائج طریقے کا کوئی محفوظ متبادل میسر آ جائے تو محض روایت کی خاطر پرانے طریقے پر اصرار کرنے کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہتی۔ صدیوں پہلے کیمیا کی جو صورت تھی، وہ آج کی جدید کیمسٹری سے یکسر مختلف تھی۔ آج کیمسٹری کی جدت ہماری پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے — کھانے پینے سے لے کر صفائی ستھرائی تک، ہر شعبہ اسی کا مرہونِ منت ہے۔

صبح کا ناشتہ بیکری کی تیار کردہ اشیاء سے ہو یا غسل خانے میں استعمال ہونے والا ٹوتھ پیسٹ، برش اور صابن — یہ سب کیمیائی فارمولوں ہی کی دَین ہیں۔ گھر کی صفائی کا سامان، بوٹ پالش، میز، حتیٰ کہ لکھنے کا قلم — سب کچھ کیمیا ہی کا کرشمہ ہے۔ اگر ہم اسی جدید کیمیا کو اپنی طب میں شامل کر لیں تو برسوں کی مسافت منٹوں میں طے ہو سکتی ہے۔

اس سے گھبرانے یا وحشت کھانے کی کوئی معقول وجہ نہیں، کیونکہ ہمارے مطب میں پہلے ہی سہاگہ، جوکھار، گلیسرین، سالٹ، ویزلین، پنکی، پوٹاشیم برومائیڈ، پھٹکڑی، شورۂ قلمی، اور مرکنگ جیسی متعدد کیمیائی اشیاء زیرِ استعمال ہیں، اور ان سے کوئی وحشت اس لیے محسوس نہیں ہوتی کہ ان کا رواج عام ہو چکا ہے۔ اسی روایتی علم میں تانبے کا کشتہ نسبتاً مختصر وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے، اور اگر کسی کشتہ شدہ چیز کو اصلی حالت میں واپس لانا مقصود ہو تو اس کے بھی مجرب فارمولے موجود ہیں — مثلاً کشتہ پارہ کو اصلی حالت میں لانے پر اس سے قطرات ٹپکنے لگتے ہیں، اور کشتہ تانبا کو بھی اصل دھات کی صورت میں واپس لایا جا سکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جڑی بوٹیوں کے ذریعے تیار کیا گیا کشتہ، تیزابوں سے حاصل کردہ کشتے کے مقابلے میں کہیں بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ جب ہم روزمرہ عمل میں دار چکنا، شنگرف، ہڑتال اور نیلا تھوتھا جیسی اشیاء بلاتامل استعمال کرتے ہیں، تو کشتہ فولاد، کشتہ تانبا اور کشتہ جست سے گھبرانے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔

کشتہ کی ضرورت کب اور کیوں پیش آتی ہے؟

کشتہ سازی جس قدر احتیاط طلب فن ہے، اس کے بارے میں اسی قدر بے بنیاد باتیں بھی گردش کرتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کو کشتہ کی ضرورت آخر کیوں پیش آتی ہے؟ ظاہر ہے، جو چیز اپنی اصل حالت میں جزوِ بدن نہ بن سکے، اسے ایسی حالت میں لانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ جسم کا حصہ بن جائے۔ لیکن جو شے بغیر کشتہ کیے بھی جزوِ بدن ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو، اسے کشتہ کرنا محض وقت کا ضیاع ہے۔

بعض حضرات کا موقف ہے کہ فلاں شے کو کشتہ کیے بغیر استعمال نہیں کرایا جاتا، کیونکہ کشتہ کے بغیر وہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حالانکہ یہ ایک عجیب رویہ ہے کہ قدرت نے جس چیز کو مخصوص خواص کے ساتھ تخلیق کیا ہے، ہم محض اس کے بعض اثرات زائل کرنے کی خاطر اسے کشتہ کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ متعدد حکماء سے استفسار پر یہ معلوم ہوا کہ کشتہ کی گئی چیز مکمل طور پر بے ضرر نہیں ہو جاتی، بلکہ مقررہ مقدار سے زیادہ استعمال کی صورت میں اس کے منفی اثرات بہرحال مرتب ہوتے ہیں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ مقدارِ خوراک کم کرنے کے بجائے، کشتہ سازی کی طرف رجحان زیادہ رہا ہے۔ اصولی طور پر جہاں کشتہ کی واقعی ضرورت ہو، وہاں ضرور کشتہ تیار کرنا چاہیے — مثلاً کچلہ، ہڈی، بارہ سینگا جیسی اشیاء بغیر کشتہ کیے کارآمد نہیں بنائی جا سکتیں، لہٰذا ان کا کشتہ بنانا مناسب ہے تاکہ ان کے مخصوص فوائد سے استفادہ کیا جا سکے۔ البتہ شنگرف، دار چکنا، رسکپور، ہڑتال، اور سنگِ جراحت جیسی اشیاء، جنہیں آسانی سے پیس کر بغیر کشتہ کیے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے، انہیں غیر ضروری طور پر کشتہ کرنا ٹھیک نہیں۔ نقصان کی صورت میں قصور شے کا نہیں بلکہ استعمال کرنے اور کرانے والے کی نادانی اور کم علمی کا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے فن میں مہارت پیدا کی جائے، یا یہ ہنر ایسے ماہرین سے سیکھا جائے جو اس میں دسترس رکھتے ہوں۔

چند مخصوص جڑی بوٹیوں میں کشتہ ہونے والی دھاتوں کی مثالیں درج ذیل ہیں: چاندی — ہزار دانی بوٹی میں؛ فولاد و خبثُ الحدید و تانبا — ترش یا ترشی مزاج کی بوٹیوں میں؛ کچلہ اور بارہ سینگا — سادہ آگ پر؛ کوڑی — نغدۂ برگِ شیشم میں؛ ابرک — گھیکوار میں؛ صدف، یشب اور مونگا — سادہ آگ سے۔ ان طریقوں سے تیار کیا گیا کشتہ وہی اثرات ظاہر کرتا ہے جو ایک معیاری اور اعلیٰ درجے کے کشتے سے متوقع ہوتے ہیں۔

کشتہ سازی کا اصول (قانون)

دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی مرتب اصول کے تحت انجام پاتا ہے، اور دوا سازی میں کشتہ جات کو بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس فن کے لیے متعدد قواعد و ضوابط مرتب کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کون سی دھات کس جڑی بوٹی سے کشتہ کی جا سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک عمومی اصول یہ ہے کہ عضلاتی مزاج کی دھاتوں کو غدی مزاج کی جڑی بوٹیوں کے ذریعے نسبتاً آسانی سے کشتہ کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، کشتہ تانبا عموماً مشکل سے تیار ہوتا ہے، مگر اسے محض آدھے گھنٹے میں بھی کشتہ کیا جا سکتا ہے: تانبے کو باریک پترے کی شکل میں لے کر اس پر ہڑتال ورقیہ کی تہہ چڑھا کر کسی تار سے مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے، پھر آگ لگا دی جاتی ہے؛ جب ہڑتال جل چکے تو امید کی جاتی ہے کہ تانبا کشتہ ہو چکا ہوگا۔ اسی طرح گرم مزاج یا غدی ادویہ کو ایسی جڑی بوٹیوں کے نغدے میں کشتہ کیا جاتا ہے جو بلغمی مزاج رکھتی ہوں، یعنی جن میں دودھ جیسی رطوبت پائی جاتی ہو۔ اور بلغمی مزاج کی دھاتیں ترش اشیاء کے ذریعے آسانی سے کشتہ کی جا سکتی ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ کشتہ جات کو ہمیشہ ہوا سے محفوظ مقام پر رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ فضا میں موجود نمی اور موسمی تغیرات سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔

فولادی مرکبات اور کشتہ فولاد

دیسی طب میں کشتہ فولاد اور شربتِ فولاد کو ہمیشہ سے خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کوئی طبیب کشتہ استعمال کرائے یا نہ کرائے، مگر شربتِ فولاد کے استعمال میں عموماً کوئی امر مانع نہیں سمجھا جاتا، اور امراضِ جگر میں حکماء حضرات اسے بلا تامل تجویز کرتے ہیں۔ فولاد کے جہاں بے شمار فوائد بیان کیے جاتے ہیں، وہیں اس کے مضرات سے بھی صرفِ نظر ممکن نہیں۔ اس موضوع پر مستقل کتابیں تصنیف ہو چکی ہیں، اور بعض مصنفین نے اسے ‘امرت ساگر’ ثابت کرنے کے لیے طویل دلائل بھی دیے ہیں۔ قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کشتہ فولاد ہی حاصل ہو جائے تو گویا اکثر امراض پر قابو پانے کا فارمولا مل گیا۔ یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ انسانی جسم کی ساخت اور رگوں میں دوڑنے والا خون فولاد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا، لیکن اس کا استعمال بغیر مہارت کے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

امراض اور علامات کا درست تعین اور صحیح تشخیص کے بعد اگر فولادی مرکبات تجویز کیے جائیں تو یہ صحتِ انسانی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کھٹائی یا وٹامن سی فولاد کے جذب (Absorption) کو تیز کرتی ہے۔ یاد رہے کہ معدے میں موجود غذا کی نوعیت اور لزوجت دوا کے جذب پر اثرانداز ہوتی ہے، اور یہ عوامل معدے کے خالی ہونے کے وقفے سے بھی جڑے ہیں۔

بعض ادویہ کا خالی معدہ استعمال سوزش کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اگر دوا کھانے سے پہلے لی جائے تو اس کا جذب زیادہ تیز ہوتا ہے۔ اسی لیے سلی سیلیٹس (Salicylates) اور فولاد (Iron) کے نمکیات کو غذا کے بعد استعمال کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، تاکہ معدے میں خراش پیدا نہ ہو۔ تیزابی یعنی عضلاتی ادویہ معدے میں جا کر زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوتی ہیں، اس لیے انہیں خوراک کے ساتھ لینا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، جبکہ اساسی یا اعصابی ادویہ کا جذب معدے کے بجائے آنتوں میں بہتر انداز میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشتہ فولاد کو خالی معدہ لینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

حوالہ جات و مآخذ

1۔ حضرت مجدد الطب، علمُ الادویہ — دھاتوں اور حجریات کی طبعی خصوصیات اور وزن سے متعلق اصول کا اصل مآخذ۔

2۔ حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانیؒ، بانیِ نظریہ و قانونِ مفرد اعضاء — عضلاتی، غدی، اعصابی اور جفتی مزاج کی درجہ بندی، جس کی روشنی میں مندرجہ بالا اصول (عضلاتی دھاتوں کا غدی بوٹیوں سے کشتہ) کو سمجھا جا سکتا ہے۔

3۔ حکیم اجمل خان، کتابُ الادویہ — یونانی ادویہ اور معدنی مرکبات کی تفصیلی تشریح پر مشتمل کلاسیکی تصنیف۔

4۔ حکیم محمد حسین خان علوی، مخزنُ الادویہ — کشتہ سازی اور کیمیاوی طبی عمل کی روایتی تفصیلات کا معتبر حوالہ۔

5۔ قرابادین جدید و قدیم مآخذ — کشتہ سازی کے متفرق نسخہ جات اور علمِ التکلیس سے متعلق ابواب۔

6۔ نوٹ: مذکورہ بالا حوالہ جات موضوع کی مناسبت سے عمومی رہنمائی کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ کسی مخصوص نسخے یا اقتباس کی تصدیق کے لیے ان کتب کے اصل نسخوں سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]