You are currently viewing قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت
قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت

قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت

قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت

میو قوم کے جوانوں کے لئے فلاحی منصوبہ
قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت
قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت

سعد ورچوئل سکلز اورالجبارمیو ایجو کیشن گروپ کا اشتراک عمل

میو قوم کے جوانوں کے لئے فلاحی منصوبہ

حکیم المیوات:اری محمد یونس شاہد میو

قوموں کی زندگی مین فیصلہ کی اہمیت

قوموں کی زندگی میں وہ گھڑیاں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ،جب وہ آنے والی نسل کے لئے انقلابی اقدام اٹھاتی ہیں۔جب قدم سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے تو اس کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔افرادی اقدام کے اثرات افراد تک محدود رہتے ہیں ۔اور قومی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدام کے اثرات قوموں پر محیط ہوتے ہیں ۔اجتماعی سوچ اور انقلابی اقدام کے ثمرات کسی خاص فرد یا قوم تک محدود نہیں رہتے ۔ان کے اثرات تو اقوام عالم تک پہنچتے ہیں۔
جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو سب سے پہلے فوائد و ثمرات کی حقدار ٹہرتی ہے ۔جب اس ترقی میں تسلسل پیدا ہوتا ہے تو یہ فوائد و ثمرات اطراف عالم میں پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں۔یہ ترقی روحانی ہو یا مادی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اقدام سے پہلے ماضی حال و مستقبل کے تجزیہ سے بہتر تنایج کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں ۔ سوچیں اور مفادات اور حالات کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔
میو قوم عمل کے لحاظ سے بہتر قوم ہے۔جب کسی امر پر دلجمعی سے کام شروع کردے تو مشکل و آسان جیسے الفاظ بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔تکمیل تک سکون مشکل ہی سے نصیب ہوتا ہے۔

سعد ورچوئل سکلز پاکستان ۔اور الجبار فائونڈیشن پاکستان

نے مشترکہ مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک اشتراکی عمل کا ارادہ کیا ہے۔کہ اس وقت اور آنے والے وقت میں دنیا کی جو سمت مقرر ہوئی ہے ۔ اور ساری دنیا جس رنگ میں رنگنے والی ہے وہ ہے۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آ ائی) جو لوگ اس ٹیکنالوجی کو اپنا لیں گے وہ ٹیکنالوجی دنیا میں محتاجی سے بچے رہیں گے ۔ورنہ دست نگری ان کا مقدر ٹہرے گی۔

ٓآرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اہمیت و افادیت

اے آئی دنیا کا مستقبل ہے۔ ترقی ٓآشنا دنیا میں جس سرعت و تیزی سے بدلائو آرہا ہے۔اسے نہ سمجھا گیا تو اتنے پیچھے رہ جائیں گے کہ ساتھ ملنا ناممکن ہوگا۔
توپ و تفنگ کے زمانے گئے ۔آج کا میدان عمل اس قوم کے ہاتھ میں ہوگا جو اے آئی کو بہتر پرامپٹ دے نے کی اہل ہوگی۔ایک مناسب کمانڈ میدان جنگ کا نقشہ بدل رکھ دے گی۔اے آئی ایک قہقری فیصلہ ہے جسے اپنایا نہ گیا تو وسائل کیا ،یہ ہماری سانسوں کو بھی دبوچ لے گی۔
سعد ورچول سکلز پاکستان اور الجبارمیو ایجو کیشن گروپ
کے اہل حل و عقد نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ میو قوم کے جوانوں اور مستحق افراد کو اے آئی(ٓرٹیفیشل انٹلیجنس کی تربیت دی جائے تاکہ بدلائو کی تیز و تند ہوا کا کسی حد تک مقابلہ کیا جاسکے۔اپنے مقام پر رہتے ہوئے بہتر تعلیم اور بہتر آمدن کے ذرائع پیداکئے جاسکیں ۔میو قوم کے جوانوں کے ضائع ہونے والی ٹیلنٹ کے لئے بہتر مصرف مہیا کیا جاسکے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری لائی جاتی رہے گی۔سر دست کوشش ہے جہاں کوئی موجود ہے، اپنے مقام پر رہتے ہوئے انہیں بہتر سکلز دی جاسکیں ۔گوگل میٹ۔زوم۔سکائپ وغیرہ جیسے ایپلیکیشنز کا استعمال کرتے ہوئے دور و نزدیک طلباٗ کو ہنر سکایا جاسکے۔

بروقت اور بہتر فیصلہ۔

یہ وقت کے لحاظ سے توتاخیری فیصلہ ہے لیکن میو قوم کے لئے برَ وقت فیصلہ ہے۔جب ایک ضرورت مند سکلز سیکھ کر دور دراز گائوں یا دیہات میں بیٹھ کر روپوں کے بجائے ڈالروں میں ارننگ کرے گا تو اس کی سوچ میں وسعت پیدا ہوگی۔وہ اپنے گھر والدین عزیز و اقارب اورقوم و ملت کے لئے کچھ بہتر سوچ سکے گا۔
دوسروں کے لئے مشعل راہ بن سکے گا،پیسہ خود تو بے جان ہوتا ہے لیکن جس کی جیب میں جاتا ہے اس میں روح پھونک دیتا ہے۔جب ہم کمزور و نادار طبقے کو ساتھ لیکر چلیں گے۔تو میو قوم کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہمیں معلوم نہیں کہ میو قوم کے رہبر ورہنما قوم کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے کیا منصوبے رکھتے ہیں ؟ یہ ضرور جانتے ہیں کہ میو قوم کا نوجوان روگاز اور نوکریوں کے سلسلہ میں لیڈروں سے مایوس ہے۔

یہ بھی پرھئےن

۔سعد یونس کی پہلی سالانہ برسی پر سعد ورچوئل سکلز .

سعد ورچوئل سکلز اور الجبارمیو ایجو کیشن گروپ کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔نہ ہی کسی گروہ۔پارٹی۔یا فریق سے تعلق ہے ۔نہ ہی ان کے حصول نفع کے لئے کوئی منصوبہ بندی ہے۔اپنی مدد آپ کے تحت چلنے کا عزم ہے۔استفادہ کے لئے کسی سفارش یا جھجک کی ضرورت نہیں ہے،جو بھی طلبگار ہو وہ سیکھنے کے لئے اہل ہے۔

میو قوم کی سوچ اور لیڈروں کے بارہ رائے۔

اس میں شک نہیں کہ میوقوم کو میو کے نام پر دانستہ یا نادانستہ ایسے کردار پیش کئے گئے جنہیں مثالی نہیں کہا جاسکتا۔کسی کی نیت پر شک کرنے کسی کو حق نہیں لیکن اس معاملہ میں جو تاثر ابھرا وہ قابل رشک نہیں ہے۔اب تو کسی سے کسی ویلفئیر یا بہتر کام کا کے لئے مشورہ کیا جائے تو اسے شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ۔سب سے پہلا خیال ذہن میں یہ آتا ہے چندہ مانگا جائے گا۔یا کسی سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جائے۔ کیونکہ کردار و معاملات میں شفافیت سوالیہ نشان بن چکی ہے۔کوئی کسی پر اعوتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔الجبارمیو ایجو کیشن گروپ۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان ۔نے تصور بدل رکھ دیا ہے مانگنے والا کشکول ٹوڑ کر پھیکندیا ہے ۔یہ ادارے مانگنے نہیں بلکہ روزگار کے مواقع مہیا کرنے میدان عمل میں اترے ہیں۔اس لئے مانگنے کی پالیسی نہیں دینے کی پالیسی لیکر آئے ہیں۔ ارادہ ہے مچھلی کھلانے کے بجائے مچھلی پکڑنے تربیت دی جائے۔۔ہنر سکھایا جائے۔خود کفیل بنایا جائے

وسائل کی دستیابی،

یہ پروجیکٹ مخیر حضرات کی دردمندانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ عملی جامہ پہنانے کے لئے الیکٹرک ڈوائسز جیسے لیپ ٹاپ۔ڈیسک ٹاپ۔کیمرے۔مائک۔ دیگر ضروریات جو تعلیمی عمل میں ٹولز کے طورپر کام میں لائی جائیں گی۔کا حصول مخیر حضرات کی توجہ اور میو قوم کے ہمدردوں کی تو جہ کا منتظر ہے۔
نوٹ
(جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چندہ مانگنے کا طریقہ۔یا مانگنے کھانے کا ٹریک ہے۔ان سے دست بستہ گزارش ہے وہ اپنے وسائل اور مشاورت کو اپنے پاس محفوظ رکھیں ۔ان کی ادارہ کو کوئی ضرورت نہیں۔)
افراد یا ادارے کتنے بھی فنڈز اور وسائل کیوں نہ رکھتے ہوں پھر بھی قوم کی ضروریات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھی

 سعد ورچوئل سکلز اکیڈمی
ہماری ترجیحات۔

ہماری ترجیحات میں یتیم بچے۔مستحق افراد ،الی طورپر کمزور طبقہ۔اور وہ خواتین جو بیوہ ہوچکی ہیں یا زندگی کے دیگر مالی حالات کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔شامل ہونگے۔عمومی طور پر عمر تعلیم علاقے جنس کی کوئی قید نہیں ۔نہ ہی ہماری خدمات کسی طبقہ برادری یا مخصوص طبقے کے لئے ہونگی بلکہ دائرہ کار ہر ایک کے لئے پھیلا ہوا ملے گا،کوئی بھی قوم کوئی بھی فرد خدمات سے استفادہ کرسکتا ہے۔
تعلیمی قابلیت۔
تعلیمی اہلیت اتنی کافی ہے کہ اردو پڑھنا لکھنا جانتا ۔لمبی چوڑی تعلیم یا ڈگریوں کی ضرورت نہیں ۔یہ ڈگریاں روزگار یاقابلیت کی علامت نہیں ہوتیں نہ ہی روزگار کی ضمانت ہوتی ہیں ۔یہ تو وہ رسیدیں ہیں جو والدین کے اخرجات کی رسدیں ہیں جو انہوں نے اپنی اولاد پر کئے ہیں

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.

Leave a Reply