پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

دہی کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثرات

دہی کے طبی فوائد اور جسم پر اس کے اثرات
ناقل:۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
مقتبس:۔گلدستہ طب و صحت۔
جسم کی پرورش کرنے والے اجزا سے بھرپور اور مکمل غذا ہے دودھ کو صدیوں سے ایک مکمل غذا تسلیم کیا جاتا ہے۔ بدنی ڈھانچہ کا مرکل پر زور دے سے تیار ہوتا ہے۔ ساگ پات گھاس پھونس پھل والیں جو چارہ اور غذا کی شکل میں استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آلات ہضم ان کو بلو بلو کر سفید دودھ کی شکل میں پیش کر دیتے ہیں ہیں دودھ حیوانات سے لے کر انسان تک کی غذا میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ بہت سے تجربات کے بعد انسان نے دودھ کو دہی کی شکل میں تبدیل کر کے اس سے کریم اور مکھن حاصل کرنا شروع کر دیا ۔ کھن اور کریم نکالی ہوئی چھاچھ بھی غذائیت اور بدن پر در حیاتین سے بھر پور مشروب ہے، دودھ میں منظر پانی، شکر، کیلشیم، سوڈیم ، فاسفورس لیکنک اینڈ روغنی اجزا اور گوشت پیدا کرنے والے اجزا کے علاوہ حیا تین الف، ب اور متوازن انداز میں پائے جاتے ہیں ، دودھ سے دہی تیار کرنے کا رواج تین ہزار قبل قدیم مصریوں نے شروع کیا۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ فراعنہ مصر کے دستر خوانوں پر دہی ایک عمدہ خدا کے طور پر شامل ہوتا تھا، ایران ، روس ، عرب، بلقانی ریاستیں اور متحدہ ہندوستان میں صدیوں سے وہی انسانی غذا کا اہم جز د شمار ہوتا چلا آرہا ہے۔ دہی کی کل میں خمیر اٹھا ہو اور وہ طبی نقطہ نگاہ سے لطیف زود ہضم اور دودھ کے مقابلہ میں دو چند غذا نیت کا حامل ہے۔ رہی میں خمیر اٹھانے والے والے بیکٹریہ یا دودھ میں بے حد تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں۔ وہی اور سچاچو کی ترشی میں تیزاب یعنی ایک اینٹی بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو آنتوں کے مضر صحت جراثیم دور کر کے ہضم غذا میں معاون ہو جاتا ہے اس میں قلیل مقدار میں الکحل اور کار بوناک ایسڈ گیس کی موجودگی غذائی نالی کے اعصاب میں تحریک پیدا کرتی ہے بچھا چھ جب معدہ میں ہضم ہونے لگتی ہے تو اس

११
کی حرارت جسم کی حرارت سے ملنے کے بعد بدنی پرورش کرنے والے جو اشیر کی سی ایس پیداس شروع ہو جاتی ہے یہ غیر مرئی جراثیم غذائی نالی میں دو قسم کی ہیں بناتے ہیں۔ پہلی گیس کے اثر سے معدہ غذا جذب کر کے اور سرایت کرنے کی طاقت حاصل کرنا ہے۔ دوسری گئیں انتڑیوں کو جذب و ہضم غذا کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ ان کی حرکت دو دیہ کو تیز کرتی غذا کو دیر تک انتڑیوں میں خشک ہو کر جمع ہونے سے روکتی ہے اس کے سبب دماغ گردے اور جگہ ہلکے پھلکے رہتے ہیں۔ قبض دور ہو جاتی ہے اور بخارات میں بنے نہیں پاتے ہیں مجھے کر دہی اور چھاچھ ایک ایسے ملکین کا کام کرتے ہیں جس کے استعمال سے فضلات انتریوں سے باآسانی نکل جاتے ہیں اس کے برعکس کسی مسل یا ملیتین دوا کے فعل سے قبض اور گرانی رفع ہونے کے ساتھ ہی غذا میں غیر طبیعی تغییرات رونما ہو جاتے ہیں۔ یونانی طلب میں چھا چھ معدہ، جگر اور خون کی بیماریوں میں بطور دوا تجویز کر کے صحت حاصل کی جاتی ہے۔ ضعف ہضم ، تبخیر پیچش بد ہضمی اور رنگ برنگ دستوں کے علاج میں وہی بطور غذا تجویز کر کے کئی بار عمدہ نتائج حاصل کیے جاچکے ہیں۔ کمزور اور بیماری سے اُٹھنے والے کے لیے چھا چھ ایک لطیف مقوی غذا ہے۔ دودھ کے گوشت بنانے والے اجزاء دہی بننے کے عمل میں پیدا ہونے والے مفید بدن جا شیم کی مدد سے کافی حد تک ہضم ہو جاتے ہیں اور کسی جراثیم کی اجزا کیلشیم، رہتا چھاچھ میں حل ہو کہ زود ہضم شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ وہی کا تیزاب آنتوں کی مسافت کو مضبوط بناتا ہے اور دائمی قبض کا بہترین علاج ہے۔ غذائی نالی میں وٹامن بی کافی مقدار میں رہی سے حاصلی ہوتا ہے اور یہاں سے اس کی تقسیم تمام بدن میں ہوتی رہتی ہے۔ روزانہ چھاچھ کا استعمال حیاتین (ب) کی کمی اعصابی کردی اب دل کی عام بیماریاں اور قبض کا گھر یا قدرتی علاج ہے

۔ وہی کا تیزابی مادہ دماغ کوبھی جلا دیتا ترو تازگی بڑھا کر زیادہ غصے کو روکتا ہے اس لیے پٹھوں میں رکی ہوئی ریح بھی کم ہو کر تاتویہ سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کا فعل غذا کو ہضم کر کے بھوک لگانا بھی ہے شیر خوار بچوں میں دانت نکالنے کے زمانے میں بد ہضمی اور دست روکنے کے علاوہ کم ترش چھاچھ سے بچوں کو کیلشیم کی مطلوبہ مقدار بھی حاصل ہوتی ہے ۔ ذاتی مواد کم ہونے کی وجہ سے مکھن نکلی ہوئی چھاچھ موٹاپے کا عمدہ علاج ہے۔ ذکی الحسن معدے والے جن کو بھوک کی حالت میں درد محسوس ہونے لگے ۔ وہ چھاچھ میں شکر یا شہد ملا کر پیں تو افاقہ ہو جاتا ہے۔ کبھی ترکاری مثل گاجر، مولی ، چقندر، ٹماٹر، پیاز، پودینه و نیا اور پھلوں میں سے کیلا، میلب ، امرود کاٹ کر یا چھاچھ میں ملا کر دستر خوان پر ایک خوش ذائقہ حیاتین بھری ڈش کا کام دیتے ہیں۔ وہی استعمال کرنے کی وجہ سے سابق پنجاب کے باشندے قومی الجثہ ہوتے ہیں ، بلغاریہ میں عموماً لمبی عمروں والے زیادہ دیکھے جاتے ہیں، یہ لوگ رہی اور پالک کا ساگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ وہی ایک مکمل غذا ہے جس میں مکھن کریم اور جملہ بدن پرور اجزاء شامل ہیں یہ دل، دماغ ، معد جگر، پٹھوں، ہڈیوں اور گردوں تک کو طاقتور بناتی ہے ان کی خدا بنتی اور ٹوٹ پھوٹ کا مل پیدا کردیتی ہے۔ گویا وہی پیٹ بھرنے کے علاوہ بدن پدر غذا بھی ہے
تجربہ میں ایک پاؤ دہی پانچ چھ چھٹانک گوشت کے برابر طاقت رکھتا ہے میں نے ہزار دو ہزار کروں بیماروں کو ستھوڑی مقدار سے شروع کرا کے سیر آدھ سیر دہی کے ناشتہ کا پابند بنار صحت مند ہوتے دیکھا ہے۔ وہی ہمیشہ میٹا کم ترش استعمال کرنا چاہیے۔ نزلہ زکام والے وہی میں شکر کمانڈ یا شہر لا کر استعمال کریں۔ تبخیر اور گیس کی شکایت والے نمک اور کالی مرچ پسی ہوئی ڈیر سے چھ ماشے تک ملا کر استعمال شروع کریں، دائمی قبض والے اس میں تولہ چھ ماشے کشمش را منتقی الاکر ابتدا کریں۔ فوراً سردی لگنے والے کمزور اصحاب تازہ ادرک کاٹ کر تین سے چھ ماشے تک یا سونڈھ پیسی ہوئی دو ماشے مل کر کھائیں کمزور ہاضمے میں رہا ھے اور دوستوں والے سیاہ زیرہ تین سے چھ ماشہ ملا کہ کھانا شروع کریں تو انشا اللہ ہی ان کے مفید ہے

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]