ہندی طب یا آیوروید(1) Indian Medicine or Ayurveda تعارف

ہندی طب یا آیوروید(1) Indian Medicine or Ayurveda تعارف

ہندی طب یا آیوروید(1)
Indian Medicine or Ayurveda
تعارف

ہندی طب یا آیوروید(1) Indian Medicine or Ayurveda تعارف
ہندی طب یا آیوروید(1)
Indian Medicine or Ayurveda
تعارف

ہندی طب یا آیوروید
Indian Medicine or Ayurveda
تعارف
ہندی طب یا آیوروید(1)
Indian Medicine or Ayurveda
تعارف

تحریر: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

قدیم تہذیب وتمدن کے اہم مراکز میں ہندوستان کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ موہن جوداڑو اور ہر پا (Mohanjo-Daro and Harappa) کی کھدائی سے جو تاریخی آثار وشواہد ملے ہیں ان سے تقریبا BC 2500 کی ہندی تہذیب پر روشنی پڑتی ہے جس کو وادی سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تہذیب کے مطالعےسے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے قدیم باشندے آریہ (Aryans) تھے اور قدیم ہندوستان تہذیب وتمدن اور علوم وفنون کا مرکز تھا۔ قدیم ہندی علوم میں آیوروید (knowledge of Life) کے نام سے فن طب موجود ہے۔ جس کو ہندی طب کہا جاتا ہے۔
ہندی طب کی ابتدار
ہندی طب کی ابتداء کی روداد ہندو دھرم کے عقائد پر مشتمل ہے ۔ خیال ہے کہ بھگوان برہما (Lord Brahman) طب کے موجد ہیں۔ برہما سے یہ فن 2 دیوتاؤں بالترتیب دکھشن پر جاپتی (Dakshin Prajapati) اور اشونی کمار (Ashvini Kumar) سے ہوتا ہوا ایک اور دیوتا اندر (India) تک پہنچا۔ دیوتااندر نے اس فن کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا اور فن جراحت کی تعلیم دیوتادھنوتری (Dhanvantari) کو دی اور فن طبابت دیوتا بھاردواج (Bharadvaj) کو سکھایا۔ دیو تادھنوتری نے فن جراحت اپنے شاگردسشرت (Sushurafa) کوسکھایا اور بھاردواج نے فن
طبابت کی تعلیم اپنے شاگرد اتری(Atriya) کودی۔ پھرسشرت اور اتری نے علم طب کو عام کردیا۔
آیوروید کے بنیادی نظریات
پنج مہا بھوت:ہندی طب کے فلسفے کے مطابق کائنات کی ہر شے نیچ مہا بھوت یعنی(5) بڑے مادوں سے مل کر بنی ہے۔ یہ مادے ہیں آکاش (Sky) ، وایو Air)، تیجا(Fire)، آب ,(Water) اور مٹی (Earth)۔ چنانچہ انسان کا جسم بھی ان پانچ مادوں سے مرکب ہے۔
تری دھاتو یا تری دوش:
ہندی طب میں جسم انسان کی طبع(Nature) اور صحت و مرض کی بنیادتری دھاتی پر رکھی گئی ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ مادے کے اعتبار سے انسانی جسم پنج بھوتی ہے۔ یعنی پنج مہا بھوت سے بنا ہے۔ مگر جب اس میں آتما (Soul)یعنی جان پڑتی ہے تو یہی جسم تری دھاتو ہوجاتاہے یعنی اس میں ترکی دھاتو پائے جاتے ہیں، جو ہیں دا تا پتاور کفا مطلب یہ ہے کہ مہا بھوت تری دھاتو میں بدل جاتے ہیں۔ آکاش اور والو سے ”داتا‘ بنتا ہے جو بدن میں حرکت پیدا کرتا ہے۔ تیجاسے پتابنتا ہے جو بدن میں گرمی پیدا کرتا ہے یہ استحالہ اورتوانائی کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ کفا،بنتا ہے۔ آپ اور پرتھوی سے یہ بدن کے مادوں کا تحفظ کرتا ہے اور اعضاء میں انجما داور استحکام لاتا ہے۔اگر وا تا،پتا اور کفا میں سے کسی ایک دھاتو میں کوئی دوش، یعنی نقص پیدا ہوجائے تو وہ مرض کا سبب بنتا ہے اسی لیے ان (دا تا۔پتا۔ کفا) کوتری دوش بھی کہتے ہیں۔

شریر

:
ہندی طب میں شریریعنی بدن کے عنوان سے متا فع الاعضاء (Physiology )

اور علم تشریح (Anatomy) سے ایک ساتھ بحث کی گئی ہے۔ شریرکی ساخت اور افعال میں جو چیز میں حصہ لیتی ہیں وہ سات (7) ہیں۔ رس (chyme)، رکت(blood)، ہاڑ (Bone)، مانسا (1esh) ، مید (fat)، منجہ (bone marrow) اور دھات (semen)۔
ہندی طب میں تشخیص کے ذرائع
اشت استھان پریکشا :
تشخیص کے لیے آٹھ (8) طرح کے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں جن کو اشٹ استان پریکشا کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ہیں ناڑی(pulse)،سپرش(touch)،
Anlamiروپ (look)، شبد (quairy)، یوریشا (stool)، موترا (urine)، نیترا (eye) اور جیبھ (tongue)۔
ہندی طب میں علاج کے طریقے
ہندی طب میں علاج کے جوطریقے بتائے گئے ہیں ان میں تین طریقے خاص ہیں۔پنج کرمہ (Five Regiments)، وشدھی چکتسا Pharmacotherapy) اورشلیہ چکتا (Surgery)۔
پنج کرمہ:
ہندی طب میں بیچ کر مہ بہت مشہور طریقہ علاج ہے، جہاں پانچ (5) تدابیر کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے۔ مثلاقے، اسہال، حقنہ وغیرہ کا استعمال۔
اوشدھی چکتسا:یعنی دواؤں کے ذریعہ علاج، اس میں قدرتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کو بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔ جانوروں کا دودھ اور خاص طور سے گئوموتر (گائے کا پیشاب ) بطور دوا یا دواؤں کی تیاری میں مستعمل ہے۔
شلیہ چکتسا :یعنی علاج بذریہ جراحت،
ہندی طب میں جراحت پر کافی مواد موجود ہے، جومشہور ہندی وید سشر ت کی تحقیق و ایجاد کا نتیجہ ہے۔
ہندی طب کے اہم ماخذ دید (Vedas):
ہندی طب کے قدیم ترین ماخذ ہندو دھرم کے چار پوتر گرنتھ ہیں جن کو دیدوں (Vedas) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ BC 700 – 1500 کے زمانے میں لکھے گئے تھے۔ یہ ہیں رگ وید ( Rig – veda )، میجر دید ( Yajur- veda )، سام وید (Sama – veda ) اور اتھروید Athara – Veda) ۔ اتھروید میں فن طب سے متعلق سب سے زیادہ معلومات درج ہیں۔
چرک سہما(Charaka Samhita):
چرک سہما ہندی طب کا اہم ماخذ اور مشہور ومعروف کتاب ہے۔ مشہور وید مہارشی چرک (Charaka, Ist cent. AD) کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں ہندی طب کے بنیادی نظریات طریقہ علاج خاص طور سے اصول تشخیص اور ادویہ کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود ہیں – مختصر یہ چرک سہمتا کو ہندی طب کا انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔۔ چرک نے اپنی کتاب میں ایک باب وبائی امراض اور صفائی پرقائم کیا ہے۔ اس میں موسم ، آب و ہوا میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر ہے۔مکھی، مچھر اور چوہوں کی بے جا افراط کا ذکر بھی ہے جومعنی خیز ہے۔ ادھرم (گناہ) کو بھی بیماری کا سبب بتایا گیا ہے اور اس کے تدارک کےلیے صفائی اور دوائی سے علاج کے ساتھ ساتھ پارسائی (nobility) پربھی زور دیا گیا ہے۔ ، چرک نے کہا کہ علاج وہی ہے کہ جس سے تندرستی حاصل ہو اور بہترین معالج وہ ہے جو مرض سے نجات دلائے۔ ، چرک کے یہاں علاج کے لیے ہسپتال کے قیام کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کے مطابق کسی مرض کے مکمل علاج کے لیے ہسپتال کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ہسپتال کے لیے ضروری ہے کہ وہ بہترین آب و ہواوالی جگہ پر قائم کیا جائے۔چرک نے مریض کی تیمارداری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شفاء تین چیزوں پرمشتمل ہے ۔ عمدہ تشخیص، عمدہ تجویز اور بہترین تیمارداری جس میں مریض کی صفائی ستھرائی ، کھانا پینا اور دوا وغیرہ کی پابندی شامل ہے۔ |( بلاشبہ چرک کی کتاب چرک سہمتا سے ثابت ہوتا ہے کہ چرک اپنے آپ میں مکمل طبیب اور موجد طب تھا۔)
ستشرتSushurata
سشرت کا شمار آیوروید کے ابتدائی اور عظیم اطباء میں کیا جا تا ہے ۔ ہندی مؤرخین سشرت کو کافی قدیم مانتے ہیں لیکن مغربی مؤرخین نے سشرت کا زمانہ حیات پانچویں صدی عیسوی( .5th cent) قرار دیا ہے۔ سشرت کی عظمت کا اندازہ اس کی مشہور ومعروف اور قابل قدرتصنیف سشرت سمہتا (Sushurata Samhita)یعنی کلیات سشرت Collections of)
ts) سے ہوتا ہے۔یوں تو یہ کتاب طب کے جملہ امور کا احاطہ کرتی ہے لیکن ا س کتاب میں جس شان اور تفصیل کے ساتھ فن جراحت پر معلومات درج ہیں وہ سشرت کو بابائے جراحت(Father of Surgery) ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ بقول سشرت’ایک مکمل طبیب کے لیے ضروری ہے کہ فن جراحت پر یکساں عبور رکھتا ہو
اگر کوئی طبیب فن جراحت میں ماہرنہیں تو اس کی مثال اس پرندے کی سی ہے کہ جس کا ایک بازو نہ ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سشرت نے اپنی کتاب میں فن طب کے ساتھ ساتھ جراحت پد غیر معمولی اور کارآمد مواد پیش کیا ہے۔ ذیل میں سشر ت سہمتا کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے سے سشرت کی طبی حذاقت کا پتہ چلتا ہے۔
سشرت سمہتا
آیور وید کی قدیم اور بنیادی کتابوں میں سے ایک ہے۔ یوں تو اس کتاب میں طب کے ہر شعبے مثلا بنیادی نظریات، اصول علاج اور ادویہ وغیرہ سے تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ لیکن تمام امور چرک کی کتاب چرک سہمتا میں بھی موجود ہیں ۔ لیکرسشرت سہمتا کو جس چیز نے عظمت بخشی ہے وہ علم الجراحت ہے۔سشرت نے اس کتاب میں فن جراحت کو جس مہارت اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ چنانچہ یہاں سشرت مہتا کا صرف وہی حصہ زیرغور ہے کہ جس میں علم الجراحت سے بحث کی گئی ہے۔
سشرت سہمتا اوا علم الجراحت
سشرت سہمتا میں شلہ تنتر (Surgery) کے نام سے ایک باب قائم کیا گیا ہے جو پانچ حصوں پرمشتمل ہے۔ وہ ہیں، سوتر استھان (Sutra Sthana)، ندان استھان(Nidana Sthana) سریراستھان(Sarira Sthana)، چکتسا استھان (Chikitsa Sthana) اورکلپا استھان Kalp) (Sihana ان پانچوں حصوں میں جراحت سے متعلق جواہم باتیں ہیں وہ درج ذیل ہیں: آلات جراحت(Surgical Instruments):
آلات جراحت کے بغیر جراحت ممکن نہیں۔ اس کتاب میں جراحت کے مختلف آلات (تعداد میں 100 سے زیادہ) باتصور پیش کیے گئے ہیں،آلات کی شکل و شباہت جانور اور پرندوں کے اعضاء سے مناسبت رکھتی ہے آلات کے ساتھ ان کے استعمال اور مواقع استعمال کی تفصیل بھی موجود ہے۔
خیوط جراحیہ ( Ligature & Suture):
حادثات یا جراحت کے نتیجے میں آنے والے زخموں کوسینے کی غرض سے مختلف طریقے کے دھاگوں کا ذکر ہے جس میں نباتی اور حیوانی ماخذ سے حاصل شدہ اشیاء کو بطور دھاگے کے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلا جوٹ کے ریشے اور بال وغیرہ۔
جلدی پیوند کاری (Skin Grafting):
آج جراحت کی جدید ترین اقسام میں جلدی پیوند کاری کا شمار ہوتا ہے۔ بہت حیرانی کی بات ہے کہ سشہرت کے یہاں بھی جلدی پیوند کاری موجود ہے۔ جس میں کٹی ہوئی ناک، کے کان اور ہونٹ کو جلدی پیوند کاری کے ذریعہ دوبارہ درست کیا گیا ہے۔
سنگ مثانہ (Cystic Calculus) :
سنگ مثانہ کی تشخیص اور بذریہ جراحت اس کا اخراج تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
فتق (Hemia) :
فتق کی مختلف اقسام اور بذریعہ جراحت اس کی درستگی بیان کی گئی ہے۔
نزول الماء (Cataract):
امراض چشم میں نزول الماء کا مفصل بیان موجود ہے اور پھر بذریہ جراحت عدسہ (Lens) کی جگہ تبدیل کر کے مرض کا ازالہ کیا گیا ہے۔
قطع عضو(Amputaion) :
متعفن ومسموم اعضاء کو کاٹ کر جسم سے علیحدہ کرنا جراحت کا ایک عامل تھا۔
ولادت بذر این جراحت(Cesarean Section) :
غیرطبیعی ولادت کے طریقوں میں شکم کو چاک کر کے بچے کی پیدائش کاتفصیلی ذکر ہے اور طریق بھی بتایا گیا ہے۔
مرما(Marmas) :
یہ ہندی طب کا ایک انتہائی عجیب وغریب نظر یہ ہے۔ جسم انسان پر کئی اعتبار سے کچھ خاص مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان مقامات کو مرما‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ خیال یہ تھا کہ اگران مقامات میں سے کسی ایک پر بھی گہرا زخم لگ جائے تو مہلک ثابت ہوگا۔سشرت سہمتا میں مذکورہ بالا جراحت کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ سشرت بابائے جراحت کہلانے کا مستحق ہے جس کی وجہ سے ہندی طب فن جراحت سے مالا مال نظر آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.