ہمارا طبی سرمایہ۔ طب نبوی ﷺ کے موضوع پر مدلل تحریر

ہمارا طبی سرمایہ۔
طب نبوی ﷺ کے موضوع پر مدلل تحریر

ہمارا طبی سرمایہ۔ طب نبوی ﷺ کے موضوع پر مدلل تحریر
ہمارا طبی سرمایہ۔
طب نبوی ﷺ کے موضوع پر مدلل تحریر

 

ہم ہمہ وقت طب نبویﷺ کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں

ہمارا طبی سرمایہ۔

طب نبوی ﷺ کے موضوع پر مدلل تحریر

از:قلم

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

ہمارا طبی سرمایہ۔۔
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

ہمارا طبی سرمایہ جو عربی و فارسی کتب کا ترجمہ ہے یا پھر اردوداں طبقہ کی محنت کا ثمرہ ہے۔میں اس قدر ثقیل و بوجھل الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جنہیں سمجھنے کے لئے کسی اچھی لغت کا پیش نظر رہنا ضروری ہوتا ہے۔طب۔نجوم۔رمل۔عملیات۔فال۔خواب نامہ۔فلسفہ وغیرہ کی کتب میں اس کی خاصہ مشق کی گئی ہے۔ساتھ میں لکھنے والے بطور فخر لکھتے ہیں۔ہم نے یہ طرز تحریر اس لئے استعمال کئے ہیں تاکہ نااہل سے مخفی رہے۔حیف ہے کہ ایک طرف کرتاب لکھی جارہی ہے دوسری طرف خواہش کا اظہار ہے کہ کسی نااہل کے ہاتھ نہ لگے یا للعجب!!
راقم الحروف نے عملیاتی و طبی کتب میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا ہے کہ مبہم سے مبہم چیز گہرے سے گہرے مفاہیم کو عوامی زبان میں بیان کیا جائے ۔اگر ہمارے کم علم لوگ ہی نہ سمجھ سکے تو ایسے علم کی کیا ضرورت ہے۔مشکل پسندی نے اعلی ترین کتب کو دیمک کی خوراک بننے پر مجبور کردیا ہے۔کیونکہ ہزاروں میں کوئی ایک اسے کماحقہ سمجھ سکتا ہے۔جوکتاب عوام کی سمجھ یا مروجہ کم تعلیم یافتہ افراد کی سمجھ مین نہ آسکے اس کے لکھنے کی زحمت کیوں گوارا کی جاتی ہے؟

طب نبویﷺ کی اشاعت ہمارے مقاصد خصوصی میں شامل ہے۔مالی فوائد ملتے ہیں یا نہیں اس کی پروا نہیں۔لیکن لکھی ہوئی چیز دوا م اختیار کرجاتی ہے۔انسان مربھی جائے تو اس کی تحریرں اسے زندہ رکھتی ہیں۔انسان کو زندگی میں بے شمار ایسے مواقع ملتے ہیں اگر چاہے تو سدا کی زندگی جی سکتا ہے ۔آب حیات کا پیالہ پی سکتا ہے۔دیکھتے نہیں ہزاروں لوگ سانسیںبند ہونے کے بعد بھی زندہ ہیں ۔ہمیں زندگی جینے کے لئےآج بھی ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کی تحریرں آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔خاموشی سے پرخلوص انداز میں اپنی مفوضہ خدمت کو سر انجام دے رہی ہیں۔معمولی عوض میں انہیں اپنی ملکیت بنایا جاسکتا ہے۔اس لئے اس میدان میں اترنے والوں سے اتنی گزارش کرونگا کہ وہ علم بگھارنے کے بجائے ضرور ت مندوں کی ذہنیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی ضرورتیں پوری کریں۔ تجربہ تو یہی ہے کہ علمی کتاب اور مصنف کی بلاغت کو سمجھنے کے لئے کم از کم مصنف کی علمی ستعداد ہونا ضروری ہے۔اگر اتنا نہ ہوسکے تواتنا کچھ توضرور ہوکہ اسے بغیر سھارے سمجھا جاسکے۔اس سےضرورت کی باتیں سمجھی جاسکیں۔اگر ایسا نہیں تو کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ وقت کا ضیاع ہوگا۔میرا ارادہ ہے صحاح ستہ میں بیان ہونے والے طبی ابواب یا طب سے منسلک احادیث پر کام کروں ۔زندگی کا کیا بھروسہ ہے نہ جانے کب زندگی کا سورج ڈھل جائے اگر اہل علم کی اس موضوع کی طرف توجہ مبذول کرانے میںمعمولی سی کامیابی ملی توسمجھونگا زندگی کسی کام میں لگ گئی۔اللہ اخلاص واور دلوں کے بھید بہتر انداز میں جانتا ہے۔

علمی ماخذ

۔بخاری۔
کتاب الاطعمہ۔بخاری۔ ابواب کی تعداد59۔ سلسلہ احادیث میں5373 سے لیکر5466 تک–93
احادیث۔کتاب الاشربہ۔ ابواب کی تعداد31۔سلسلہ احادیث5575تا5639تک-تعداد-364
کتاب المرضی۔ابواب کی تعداد31۔سلسلہ احادیث۔5640تا5677۔کل تعداد37۔
کتاب الطب کل ابواب58۔سلسلہ احادیث5678تا5782۔کل احادیث۔104
کتاب الحیض۔ابواب کی تعدا31 سلسلہ احادیث 294تا333کل تعداد۔39
۔صحیح مسلم۔
کتاب الاشربہ۔کل ابواب35۔سلسلہ احادیث5127تا5384۔۔کل تعداد۔ 257
کتاب السلام۔سلامتی و صحت کا بیان۔۔کل ابواب41۔سلسلہ احادیث5646تا5861 کل تعداد215
کتاب الحیض۔کل ابواب33۔سلسلہ احادیث679تا836۔کل احادیث157.
۔۔سنن ابودائود۔۔
کتاب الاشربہ۔کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل۔کل ابواب22سلسلہ احادیث3669 سے 3735۔ کل تعداد66
كِتَاب الْأَطْعِمَةِکتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل۔ابواب55سلسلہ احادیث3736 سے 3854 کل احادیث،118۔
كِتَاب الطِّبِّکتاب: علاج کے احکام و مسائل۔۔
۔۔سنن ابن ماجہ۔
كتاب الأطعمةکتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل۔ابواب61۔سلسلہ احادیث۔3251 سے 3370۔کل تعداد۔۔ كتاب الأشربة۔کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل۔کل ابواب27،سلسلہ احادیث 3371 سے 3435۔کل تعداد احادیث۔۔كتاب الطب۔کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل۔ابواب45 سلسلہ احادیث۔3436 سے 3549کل تعداد۔
۔سنن نسائی۔۔
كتاب الحيض والاستحاضةکتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل۔26۔سلسلہ احادیث349 سے 395،کل تعداد
كتاب الأشربة۔کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل،کل ابواب57 سلسلہ احادیث،5542 سے 5761،کل تعداد احادیث۔
۔ ترمذی۔
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلمکتاب: کھانے کے احکام و مسائل
کل ابواب طب48 سلسلہ احادیث1788 سے 1860 کل تعداد۔
كکتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلمکتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل ابواب 88سلسلہ1861 سے 1896۔۔كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل۔۔35۔سلسلہ۔2036 سے 2089

کچھ سوالات

۔

کیا ان کتب میں کتاب الطب کو بطور تبریک شامل کیا گیا ہے؟یا بطور ہنر؟
طب کا ذکر ان کتب میں اس لئے کیا گیا ہے تاکہ طب کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جائے جتنی دیگر احکامات کو دی جاتی ہے جیسے طہارت۔نماز روزہ۔جہاد وغیرہ۔کتب الطب میں جو احکامات بیان ہوئے ہیں ان کی خلاف ورزی جرم (گناہ) شمار ہوتی ہے کہ نہیں؟اسی طرح اگر کسی اناڑی کے تجربے کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچتا ہے تو اس بارہ میں مفتیان عظام کیا تفوی دیں گے؟طبی احکامات جیسے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا نیکی ہے اسی طرح بائیں ہاتھ سے کھانا طبی و شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟

احادیث سے طبی نکات کا اخذ کرنامثلا؟؟

کتب احادیث و تواریخ میں خیبر میں بکری کی دستی مین زہر ملاکر دینا اور اس سے رسول اللہ ﷺ کے وجود اظہر کا متاثر ہونا مسلمات سے ہے ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے“تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف : 8443، 8532، ومصباح الزجاجة: 1237)
دوسری روایت یہ بھی پائی جاتی ہے۔
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آ چکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیںعبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیںجب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11139، 19815، 18358، 18375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18) (صحیح)» ‏‏‏‏مسند البزار = البحر الزخار (14/ 333)معرفة السنن والآثار (14/ 143)السنن الكبرى للبيهقي (10/ 19)المسند الجامع (17/ 104) فقہائے کرام نے جس طرح طہارت کے مسائل عبادات و دیگر معاملات کے بارہ میں مسائل کے استنباط کا طریقہ اختیار فرمایا تھا کیا زہر کا تریاق اس حدیث کی روشنی میں تلاش کرنا اور ان امور پر غور کرنا جو زہروںکا تریاق بن سکتی ہیں۔ اسی طرح کی ضرورت نہ تھی جس طرح دیگر دینی امور میں دوسرے مسائل کے اخذ نتائج کی ضرورت ہوتی ہے ؟ المسمومة، فيه دلالة على استحباب التداوي، واستحباب الحجامة والتداوي بهاشرح سنن أبي داود لابن رسلان (17/ 575)

 

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *