کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟

کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟

کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟

 کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟
کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟

کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور
طب نبویﷺ کے بارہ میں پائے جانے والے عمومی ابہام جو ایک مسلمان یا ایک عام انسان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔اس بارہ میں بہت سے محقیقین نے خامہ فرسائی کی ہے من جملہ ان میں ایک راقم الحروف بھی ہے۔دیکھئے۔ہماری کتاب ۔طب نبوی اجتہاد و تجربہ ہے یا وحی؟۔)

حکایت۔
پرانے لوگ کہتے ہیں کسی دانا انسان نے شہر کے شور و غل سے تنگ آکر کسی پہاڑی پر اپنا گھر بنا لیا وہاں کھلی فضا میں رہنے لگا اس نے اپنے صحن میں ایک خوشبو دار گھاس بڑے اہتمام کے ساتھ اُگائی اس کی خصوصی دیکھ بھال کی،اس گھاس سے خوشبو آتی تھی،بڑے میاں جب تک زندہ رہے اس گھاس کی حفاظت کرتے رہے،آخر جسے زندگی ملی اسکی موت پہلے سے مقدر ٹہری،مرتے وقت بیٹے کو جہاں اور بہت ساری نصیحتیں اور وصیتیں کی اس گھاس کی حفاظت خصوصی تلقین کی،

بڑے میاں آنکھ موندھ گئے،گھر بیٹے کے تصرف میں آگیا،بہار آئی توپہاڑوں کی وادیوںمیںاونچائی اور ڈھلوانوں میں موسمی پھولوں کی لہلہاہٹ نے آنکھیں خیرہ کردیں ،اس نے پھولوں کی کثرت دیکھ کر باپ کی لگائی ہوئی خوشبودار گھاس کو اکھاڑ پھینکا کیونکہ موسم بہار میں اگنے والوں پھولوں کی خوشبو ا س مخصوص گھاس کی خوشبو سے زیادہ تھی،اس گھاس کا اکھاڑنا تھا کہ کچھ دنوں بعد پہاڑ کے کسی کونے سے ایک اژدھانکلا ،جوان کوڈسا،زہر گھاتک تھا،وہیںپرایڑیاںرگڑرگڑکرجان دیدی۔
بوڑھے نے اس راز کو پالیا تھا کہ صحن میں اُگائی گئی گھاس سانپ کے زہر کا تریاق بھی ہے اس کی موجود گی میں سانپ کا گزر نہ ہوسکتاتھا،بیٹا اس راز کو نہ پاسکا ۔ اس نے اس گھاس کی خوشبو کو مد نظر رکھا۔

طب نبویﷺوہی خوشبودار گھاس ہےجسے ہمارےآبائواجداد نے بڑی محنت سےپالا،جیتے جی اس کی حفاظت کی کیونکہ وہ اس راز کو جان چکے تھے اس میں رازحیات چھپاہے،یہ وہ امرت ہے جس کا ایک گھونٹ دکھوںسے نجات دے سکتا ہے،بعد والوں نے طرح طرح کے طرُق علاج دیکھے نادانی سے سمجھے کہ ان کی موجودگی میں اس معطر گھاس کو اکھاڑ کر پھینک دینا مناسب ہے۔جب یہ نادان سوچ کام کرگئی تو لالچ کے اژدھا نے سر نکالا اور انسانیت کو ڈسنا شروع کردیا۔

علاج یا شور و غوغا

علاج کے نام پر اُدھم مچایا ہوا ہے،غریب و امیر سب پریشان ہیں،ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق خرچہ کرتے ہیں زندگی بھر کی جمع پونجی معالجین کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں کہ ہمیں چند لمحات سکھ کے دیدو۔لمحہ بھر سکھ کی نیند دیدو،بیماری کے نام پر پرہیزوں کی لمبی فہرست بناکر جو اُن کے گلے میں لٹکا دی گئی ہے اس میں تخفیف کردی جائے،دسترخوان پرمختلف انواع و اقسام کے کھانوں میں سےچند لقموں کی اجازت دیدی جائے۔عجیب بات ہے جب جنت سے نکل کر ماڈریٹیٹ کی چادر اوڑھی تو اس جدت نےان کی سانسیں گھوٹ دیں،ان کے ہاتھوں سے نوالہ چھین لئے۔

حدیث مبارکہ میں تین مال اپنے کہے گئے ہیں(1)کھاکر ہضم کردیا (2) پہن کر پرانا کردیا(3)آگے بھیج دیا۔ یعنی فلاح کے کاموں میںخرچ کردیا۔

کیا طب نبویﷺ خود ساختہ ہے؟

طب عظیم و مہتم بالشان فن ہے جسے ہر زمانے میں فوقیت رہی ہے اور ہر طبقہ کے لوگ اس کی ضرور ت محسوس کرتے رہے ہیں،کرتے ہیں اور کرتے رہیںگے۔روایت ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ سلام جہان نماز ادا فرماتے وہاں
ایک پودا اگتا وہ اپنے خواص بیان کرتا،اسے لکھ لیاجاتا،اور اس پودے کو باغ میں لگوادیا جاتا۔(ذكر الهيثمي في المجمع 8 / 210، 211 ، أخرجه الحاكم في المستدرك 4 / 198.)

سہل کتاب سے اہل یہودسیدناسلیمان علیہ السلام کی اتباع کرنے کو سعادت دارین یقین کرتے ہیں۔
دوسری طرف سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے بارہ میں قران کریم نےواضح اعلان فرمادیا کہ و ہ کوڑھیوں کو اچھا کرتے،اندھوں کو بینائی بخشتے،حتی کہ وہ مردوں کو بھی اللہ کے حکم سے زندہ فرمادیا کرتے تھے(المائدہ)

محدثین و مورخین لکھتے ہیں کہ ان کے دور میں طب و حکمت کو عروج حاصل تھا اس لئےانہیں وہ معجزات عنائت فرمائےگئےجو طبیبوں کو عاجز کردینے والے تھے،یعنی جہاں طب کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں معجزات وہاں سے شروع ہوتے ہیں۔

قران کریم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» (الحشر)اللہ کے رسولﷺ جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کردیں اس سے ہاتھ روک لویعنی حلال و حرام کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں جو بھی حکم دیا جائے اسے قبول کرلو اور جس سے منع کیا جائے رُک جائو صحت و تندرستی کے بارہ میں جس قدر بھی ہدایات ہیں وہ دیگر شعبوں کی طرح یہ حکم پر طب و صحت پر لاگو ہوتا ہے۔

آپﷺکی توصیف و تعریف میں یہ بھی فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔۔۔ان کی ذات اقدس سراپا رحمت ہیں امت سے لگائوو شفقت کے بارہ میں سورہ توبہ کی ان آیات میں کس قدر وضاحت پائی جاتی ہے۔

{لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ*۔البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے تمہاری بھلائی پر، وہ حریص (فکرمند) ہے مومنوں پر، نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ ۔ جن کمالات و صفات عالیہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے یہ انعامات پہلے کسی کو ملے نہ بعد میں کسی کو نصیب ہونگے۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ.’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں۔

آپ عمدہ صفات و کمالات کے بلند مرتبے پر فائز تھے،صورت جمال،قوۃ عمل صحت فہم۔فصاحت زبان۔اعتدال قوت اعضاء۔حرکات معتدلہ۔شرب نسب ۔ قومی بلندی۔ان صفات عالیہ کے نتائج میں،غذا،نیند،لباس،رہائش،اخلاق ادب الدین۔علم وحلم۔صبروشکر،عدل وزہدتواضع وعفوجودو شجاعت ، حیاء وعصمت۔رحمت ورافت حسن آداب معاشرت ،اخوت یہ سب حسن اخلاق میں مجتمع تھے(الطبیب الرسول)

اسلام وہ دین اکمل ہے جسے دیکر سیدنا محمد رسول اللہﷺ کو بھیجا گیا،وحی کی دو قسمیں ہیں،ایک کتاب اللہ پر مشتمل ہے۔دوسری سنت رسول اللہﷺ ہے اس دین مکمل کےبےشمار فضائل ومزایاہیںجن کا شمار نہیںہوسکتا۔

اسلام تکمیلی احکامات پا سدار ہے۔پہلی شریعتوں کی وہ باتیں جن مین تکمیلی شان پائی جاتی تھی برقرار رکھی گئیں،اور جو احکامات وقتی تقاضے کے مطابق اتارے گئے تھے انہیں مسنوخ کردیا تھا۔

تکمیل دین تکمیل انسانیت کا نام ہے انسانیت عہد طفولیت سے عہد شباب میں داخل ہوئی تو انہیں تکمیلی احکامات کی ضرورت محسوس ہوئی،جو دین پہلی امتوں کوجزوی طورپر مختلف انبیاء کے توسط سے دیا جاتا رہے وہ ان کی مقامی ضروریات کے لئے کافی ہوا کرتا تھا لیکن اجتماعی طورپر اس کا متحمل نہ تھاتکمیلی صورت
میں جامعیت کے لحاظ سے سب کی ضروریات کے لئے کافی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.