کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں
کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں
in

کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں

کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات
طب نبو ی ﷺکی روشنی میں

کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں
کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات
طب نبو ی ﷺکی روشنی میں

کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات
طب نبو ی ﷺکی روشنی میں
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
انسان فیشن کے نام پر کتنی تکالیف جھیلتا ہے اور کس قدر اذیت سے دوچار ہوتا ہے۔اور صحت کی خرابی کی صورت میں کتنے نقصانات اٹھاتا ہے۔معاشرتی طورپر جب انسانی احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے تو اسے ذہنی کوفت اور صحت کی خرابی انعام میں ملتی ہے۔کوئی کیا کہے گا ؟سے بہتر یہ سوچناہے کوئی کچھ بھی کہے،مجھے اپنی صحت و آشائش کسی سے کہنے سے ترک نہیں کرنی چاہئے۔احساس کمتری میں مبتلاء لوگ کھڑے ہوکر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ،ایک وقت آتا ہے وہ لوگ بیٹھنے کو ترس جاتے ہیں۔فطرت سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔جو لڑے گا منہ کی کھائے گا۔
شریعت نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ آدمی بیٹھ کر کھائے اور پئے، نبیﷺ کا فرمان ہے: ۔لَایَشْرَبَنَّ اَحَدٌمِّنْکُمْ قَائِمًا۔ ’’تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر نہ پئے‘‘ (مسلم: 2026)اورنبیﷺ کا ارشاد ہے:لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْ یَشْرَبُ وھَُوَ قَائِمٌ مَافِیْ بَطْنِہٖ لَاسْتَقَاء ’’اگر کھڑے ہو کر پینے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے تو وہ قے کر دے‘‘ (احمد: 7808عن ابی ھریرہ، الصحیحہ للالبانی: 176)نبیﷺ نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پیتے ہوئے دیکھاتو اس سے فرمایا: قے کر دو! اس نے پوچھا کیوں ؟آپﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں پسند آئے گا کہ تمہارے ساتھ بلی پئے ؟اس نے کہا: نہیں، آپﷺ نے فرمایا:فَاِنَّہٗ قَدْ شَرِبَ مَعَکَ مَنْ ھُوَ شَرٌّ مِّنْہُ، الشَّیْطَانُ ’’تو تمہارے ساتھ اس نے پیا ہے جو اس سے بدتر ہے، یعنی شیطان‘‘ (احمد: 8003، الصحیحہ: 175عن ابی ھریرہ )گوکہ بعض صحیح روایات(بخاری: 880، 5615مسلم: 2027وغیرہ)سے کھڑے ہو کر پینے کا جواز ثابت ہے لیکن مذکورہ بالا روایات سے اس عمل کی سخت کراہت واضح ہے۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کھڑے ہو کر پینے کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’کھڑے ہو کر پانی پینے میں چند دشواریاں پیش آتی ہیں، (1)پہلی دشواری تو یہ ہے کہ اس سے پوری طرح آسودگی نہیں ہوتی،(2) دوسری یہ کہ اس سے پانی معدے میں اتنی دیر نہیں ٹھہرتا کہ جگر اسے دوسرے اعضا ء تک ان کا حصہ پہنچا سکے ۔ پھر تیزی کے ساتھ معدے کی طرف آتا ہے جس سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کی حرارت سرد پڑ جائے اور اس میں پیچیدگی پید اہو جائے۔۔ ۔‘‘(طب نبوی مترجم ص359)
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا تو ان سے سوال کیا گیا کہ پھر کھانے کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا:ذَاکَ اَشَرُّ اَوْ اَخْبَثُ ’’یہ تو اور زیادہ برُا یا خبیث ترین عمل ہے‘‘(مسلم: 2024)
موجودہ زمانے میں بعض فنکشن اور دوسری کچھ جگہوں پر کھڑے ہو کر کھانا پینا ایک فیشن ہو گیا ہے اور ایسے میں اگر کوئی بیٹھ کر کھاتا پیتا ہے تو اسے نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسلام کھڑے ہو کر کھانے پینے سے سختی سے منع کرتا ہے۔
تجربہ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا خطرناک ہے۔ ڈاکٹر بلن کپور آف اٹلی جو مشہور ڈاکٹر مہر اغذیہ ہے ان کا کہنا ہے کی کھڑے ہو کر کھانا پینا نہیں چاہیے۔ کھڑے ہو کر کھانے پینے سے انسان دل اور تلّی ( SPLEEN ) کے امرض میں پھنس جاتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ــ’’ایسا کرنا نفسیاتی امراض پیدا کرتا ہے اور ایک مرض ایسا پیدا ہو جاتا ہے جس میں آدمی کواپنوں کی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔
کھڑے ہوکر کھانا کھانے سے نظام ہاضمہ متاثر ہوسکتا ہے،
ماہرین—فوٹو: اکانامکس ٹائمز
مشرقی روایات اور بطور مسلمان کھڑے ہوکر کھانے اور پینے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور ہمارے سماجی اقدار بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کھڑے ہو کر کھانے اور پینے کو عادت بنائی جائے۔
تاہم دیکھا جائے تو گذشتہ چند سال سے خصوصی طور پر بڑے شہروں میں شادی بیاہ و دیگر مواقع پر لوگ جگہ کی کمی کے باعث کھڑے ہوکر کھانے اور پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔کھڑے ہوکر کھانے اور پینے کے خطرات سے اگرچہ عمر رسیدہ افراد نوجوان نسل کو آگاہ کرتے رہتے ہیں ، تاہم نئی نسل ان کی بات نہیں مانتی۔لیکن ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کھڑے ہوکر غذا کھانا نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ عادت کچھ بڑی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
تحقیق جرنل ’جرنل آف کنزیومر ریسرچ‘ (جی سی آر) میں شائع غذائی ماہرین کی تازہ تحقیق کے مطابق کھڑے ہوکر کھانا کھانے سے جہاں لوگ ذہنی اضطراب اور بے چینی کا شکار بنتے ہیں وہیں یہ عمل بڑی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ؟
ماہرین کا کہنا تھا کہ کھڑے ہوکر کھانا کھاتے وقت انسانی جسم کے خون کا بہاؤ بے ترتیب رہتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر کھڑے ہوکر کھانا کھانے سے دل کو خون کو جسم کے کئی حصوں میں پہنچانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ کھڑے ہوکر کھانا کھاتے وقت دل کو خون کو جسم کے نچلے یا اوپری حصوں تک پہنچانے میں مشکلات کے باعث یہ عمل دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ کھڑے ہوکر کھانے سے انسان کا نظام ہاضمہ متاثر ہوتا ہے اور وہ انسان غذا کے ذائقے کو ٹھیک سے محسوس نہیں کرپاتا جب کہ بیٹھ کر آرام سے چھوٹے چھوٹے نوالے لے کر کھانا کھانے سے انسان غذا کے ذائقے کا بھرپور لطف لیتا ہے اور ساتھ ہی یہ عمل غذا کو جلد ہضم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ماہرین نے تجویز دی کہ بے چینی، گھبراہٹ، بد ہاضمے اور خون کی روانی جیسے مسائل سے بچنے کے لیے بیٹھ کر آرام سے غذا کھانی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

GIPHY App Key not set. Please check settings

    دستور اسلام مع نظام اسلام

    طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء

    طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء