کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط

 

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط

تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان

کچلہ اپنی اکسیری صفات کی وجہ سے معالجین کے لئے پر کشش رہا ہے۔۔راقم الحروف سردی کے موسم میں اس کا استعمال کرنا مناسب سمجھتا ہے،اپنے مزاج( خشک گرم۔عضلاتی غدی)یعنی شدید محرک عضلات،مقوی غدد اور محلل اعصاب ہونے کی وجہ سے بہت کا آمد چیز ہے،کیمیاوی طورپر حرارت عزیزی اور صفراء کی پیدائش کا سبب ہے۔اعصابی سوزش کو دور کرتا ہے

۔بلغمی بخار،بائیں طرف کا فالج،استرخاء(ڈھیلا پن)ایسے جوڑ درد جو آرام کی حالت میں شدت اختیار کرتے ہوں حرکت کرنے ،ہلنے جلنے سے راحت محسوس کرتے ہوں میں نافع ہے،درد کمر، بالخصوص جب جب میں ڈھیلا پن محسوس ہورہاہو۔عرق النساء۔ضعف قوت باہ،بھوک بند ہونے کی حالت میں اپنی سحر انگیزی دکھاتا ہے۔

ہارٹ فیل ہونا

جب دل کی دھڑکنیں بہت کمزور ہوجائیں،دل ڈوب رہا ہو،کچلہ مریض کے لئے آب حیات کی مانند ہوتا ہے۔کچلہ اتنی تیز دوا ہے کہ ہارٹ فیل ہوتا محسوس ہو،نبض ڈوب رہی ہو ،مریض کا جسم ٹھنڈا برف کی مانند ہورہا ہو۔ٹھنڈے پسینے آئیں،ایک ایک رتی دس دس منٹ کے وقفہ سے دینا تن مردہ میں جان ڈالدیتا ہے۔جسم کی حرارت لوٹ آتی ہے۔دل ڈوبنا بند ہوجاتا ہے،حرکات قلب تیز ہوجاتی ہیں،مریض موت کی آغوش سے باہو آجاتا ہے۔

سرد علاقوں میں رہنے والے لوگ کچلہ کو مناسب مقدار میں استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن جسمانی لحاظ سے خیال رکھیں کہ حد اعتدال سے نہ بڑھنے پائے۔اگر جسم میں خشکی کا غلبہ ہو۔اور کھانے کےلئے مناسب غذا نہ ہو جیسے گھی دودھ،تو کچلہ کا استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر معالج کی مشاورت شامل ھال رہے تو بہتر رہتا ہے۔

کچھ لوگ بھوک کی کمی شکایت کرتے ہیں،یا وہ دائمی قبض کا شکار رہتے ہیں۔کچلہ چونکہ ملین اور مولد صفرا دوا ہے۔یہ دائمی قبض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔قولنج اور قبض کی وجہ سے ہونے والے آنتوںکے درد کو روکتا ہے۔قولنج کا درد اس قدر سخت ہوتا ہے مریض کی جان پر بن آتی ہے۔کچلہ آتنوں کے سدوں کو تحلیل کرکے متعفن اور بدبودار مواد کو خارج کرکے مریض کے لئے راحت کا سبب بنتا ہے۔

کچلہ بہترین صفات کی بنا پر ایک طرف درد کو روکتا ہے دوسری طرف رُکے ہوئے موادکو خارج کرکے راحت پہنچاتا ہے۔ اگر کبھی کسی مریض کو قولنج ہوجائے تو شدید درد کی وجہ سے نیم بسمل ہو،ساتھ میں قے کی شکایت بھی ہو ایسے میں عضلاتی غدی مسہل کے ساتھ کچلہ ضرور استعمال کرلیں،یا پھر قولنج کے مریض کو درد کے ساتھ قے نہ آتی ہوتو غڈی عضلاتی کے ہمراہ مناسب مقدارکچلہ ضرور دیں۔

ناف کا درد

جسم کا اکڑائو۔جوڑوں کا تجحر،اور پیٹ کی سختی،بالخصوص ناف کے ارد گرد دائرہ کی صورت میںدور یا بوجھ کا ہونا بہت پریشان کن صورت حال ہوتی ہے۔ایسا درد جو پیٹ میںگھومتا رہتاہو۔یہ دراصل آنتوں میں جمع شدہ غلیظ ریاح ہوتی ہے،جو دبائو پڑنےپر ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹہلتی رہتی ہے،
ہر وقت بوجھل پیٹ سے پریشان رہتا ہے،سوتے وقت دائونے خواب دکھائی دیتے ہیں۔بے چینی رہتی ہے،نیند سے بیداری پر تھکاوٹ رہتی ہے،۔جاری ہے

1 thought on “کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا14ویں قسط

  1. السلام علیکم حکیم صاحب
    گزارش ہے کہ سحانجنا جسے انگریزی میں مورنگا کہتے ہیں اُس کے فوائد تو بہت ہیں لیکن وہ تیسرے درجے میں گرم خُشک ہے
    میرے سر کے بال جھڑ رہے تھے تو میں نے استعمال کیا تھا کوئی دو تین سال پہلے لیکن مقدار زیادہ لیتا تھا یعنی دو , دو چمچ صبح و شام جس کی وجہ سے بہت زیادہ گرمی ہوتی تھا اور ناک سے خون جاری ہوگیا تھا خُشکی بھی بہت زیادہ تھی .
    لیکن فائدہ اتنا ہوا کے گرتے بال رُک گئیے اور گرے ہوئے دوبارہ اُگ آئے تھے گروتھ بھی ہونے لگی وہ بھی بہت جلد اب میرا مسلہ یہی کہ میرے بال جھڑتے جا رہے ہیں میں دوبارہ استعمال کرنا چاہتا ہوں آپ میری رہنمائی فرمائیں کیسے ستعمال کروں کہ خُشکی اور گرمی معتدل ہوجائے اور فوائد بھی وہی رہیں اور کتنی مقدار میں استعمال کروں .
    جناب آپ کی نوازش ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published.