کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8ویں قسط

 

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8ویں قسط
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔8ویں قسط
تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان

ماہر حکماء اور اساتذہ کرام کچلہ کو عمومی طورپر سردیوں میں استعمال کرانے کے حق میں ہیں۔کیونکہ خوراک اور گھی دودھ دیگر غذائی فامرمولے سردیوں میں ہی کھائے جاتے ہیں،گرمیوں میں تو پیٹ بھر کر روٹی کھانا مشکل رہتا ہے۔قدیم اطباء کی یہ احتیاطی تدابیر بہت مسحور کن ہے کہ کچلہ کے فارمولے کو گھی دودھ کے ساتھ استعمال کرو ،کچلہ بہترین مقوی معدہ و جگر ہے۔اپنی طبعی خصوصیات کی وجہ سے ان میں جہاں پٹھوں کو تقویت دینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے وہیں پر نظام ہضم اور نظام اخراج کو بھی مثالی کارکردگی پر بھی تیار کرتا ہے۔

گردہ درد میں کچلہ کا کردار۔

سردیوں میں عمومی طورپر گردہ درد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے ،سردیوں یں پانی کا استعمال کم ہوجاتا ہے ،گرم اشیاء بکثرت کھائی جاتی ہیں۔مونگ پھلی سے لیکر پستہ چلغوزہ تک کھائے جاتے ہیں۔جب گردوں کو پانی نہیں ملتا و یہ چیخ پڑتے ہین اور درد کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔اگر پانی کا مناسب استعمال رکھا جائے توگردے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔جب پانی کی کمی ہوتی ہے تو گردوں میں تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔۔

گرمی سردیوں کے امراض کے اسباب

کبھی غور کیا ہے کہ ٹھنڈی بیماریاں گرمیوں جیسے ہیضہ۔قے۔اسہال وغیرہ دیکھنے کو ملتے ہیں
اور سردیوں میں گرم بیماریاں جیسے یرقان،مثانہ کی گرمی وغیرہ دیکھے جاتے ہیں۔۔
اس کی وجہ بنیادی وجہیہ ہوتی ہے سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لئے بکثرت ایسی خوراکیں کھائی جاتی ہیں جو مزاجا گرم ہوتی ہیں۔ ایک حد تک تو کام کرتی ہیں جب ان کی بہتات ہوجاتی ہے تو جسم انکا متحمل نہیں رہتا اور بیمار ہوجاتا ہے۔جیسے گرمیوں میں ٹھنڈے مشروبات۔کھیرے ککڑیاں ۔ وغیرہ۔کھائے جاتے ہیں
اسی طرح سردیوں میں مونگ پھلی۔کاجو۔چلغوزے۔بادام ،گھی اور گھروں میں بنائے جانے والے خشک حلوہ جات۔ہمارے جسم میں جو نظام قائم ہے یہ ہمیں ہر طرح کی موسمی اونچ نیچ سے بچاتاہے۔اگر معاون غذائیں ،خوراکیں بھی مسیر آجائیں تو اسے بہت زیادہ تقویت ملتی ہے اور تندرستی کی مدت طویل ہوجاتی ہے ،امراض کے خلاف مدافعت بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں میں کچلہ کے ساتھ گھی دودھ وغیرہ بکثرت استعمال کیاجاتا ہے۔اس لئے گردوں کو بہت تقویت ملتی ہے۔پیٹ میں گیس نہیں بنتی ،گردوں اور آنتوں میں بننے والی گیس ختم ہوجاتی ہے۔ویسے بھی کچلہ گردوں اور نطام اخراج میں نچوڑ کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔جس سے فضلات کے اخراج میں بہت مدد ملتی ہے۔
ہزاروں بار کا تجربہ ہے کہ مناسب مقدار مین گردہ کے ریحی درد والے کو نیم گرم پانی میں دینے سے فورا راحت ملتی ہے،مچھلی کی طرح تڑپتا ہوا مریض لمحوں میں سکون پاتا ہے۔اس کی وضاحت ہم نے اپنی دوسری کتابوں میںکردی ہے۔۔

1 thought on “کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات8

Leave a Reply

Your email address will not be published.