کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔6ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔6ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔6ویں قسط
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔6ویں قسط

 

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔6ویں قسط

تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان

(کچلہ سخت اور کڑوی اثرات کا حامل اکسیری پھل ہے۔جو اپنے فوائد اثرات اور اکسیری صفات کی وجہ سے طبی دنیا میں اپنا لوہا منواتا ہے ۔اسے تیار کرنے والو کو طبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کشتہ کچلہ۔شنگرف،سم الفار۔دار چکنا رسکپور وغیرہ ایسی ادویات ہیں جنہیں سنیاسی اور سادھو لوگوں سے نتھی کیاجاتاتھا(حکیم المیوات محمد یونس شاہد میو)

کچلہ کی تدبیر اور اس کے استعمالات میں مقدار خواک بہت اہمیت کا حامل مسئلہ ہے۔دیسی طب میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ کسی چیز کو بے ضررر بنا دیا جائے۔۔اسی لئے کشتہ جات کے نیچے آگوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔باقاعدہ بتایا جاتا ہے کہ سو آگیں دینی ہیں ۔اتنے من اُوپلے جلانے ہیں۔۔

بیری کی لکڑی جلانی ہے۔،ایک چوبی دو چوبی آگ دینی ہے۔وغیرہ۔اتنی باریکیاں ہیں کہ عام انسان طب کرنا تودور کی بات سوچ تے وقت بھی چکر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔اس کا انکار نہیں کہ یہ باتیں بہت اعلی اور طب کے راز ہیں۔لیکن ان رازوں کے امین کہاں سے لائیں؟
یہ ان دنوں کی بات ہے جب کتب عام نہ تھیں،نیٹ کا زمانہ نہیں آیا تھا۔آج یہ باتیں مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں لیکن ہڈ بیتی ہے کوئی تعلی نہیںہے۔ کئی بار کنوار گندل۔دودھ گھی نہ جانے کن کن بکھیڑوں سے کچلہ تیار کیا اور نسخوں کا جزو بنایا۔لیکن آہستہ آہستہ لوازمات کم سے کم کردئے۔

یوں کچلہ کی تیاری مہیں سے کم ہوکر ہفتوں پے آگئی۔بتدریج دنوں پر ۔اور اب گھنٹوں اور منتوں تک۔۔۔کتابوں میں لکھے سے خوب فائدہ اٹھا یا جہاں مطلوبہ فوائد نہ ملے وہاں کچلہ کچا رہنے کا بہانہ کیا۔الحمد اللہ کچلہ سے تین دیہائیوں کے استفادہ میں آج تک نقصان کا کوئی کیس سامنے نہ آیا۔یعنی وہ ڈرائونا بھوت جو کچلہ کے نقصان کی صورت مین مہیب صورت بنا ئے منہ پھاڑے شروع میں ڈرارہا تھا،غائب ہوگیا۔۔۔۔

کچلہ کا ڈر اُن جنات اور موکلات سے کم نہ تھا جن کے بارہ میں عملیات کے اساتذہ نے بتایا تھا۔میں خوش قسمت تھا یا پھر محتاط،عملیاتی میدان میں پون صدی گزارنے کے باوجود آج تک رجعت نامی کسی چیز سے آشنا نہ ہوا ۔نہ طبی طورپر کسی مریض پر دوا کا ری ایکشن دیکھنے کو ملا۔۔۔

حکیم عبد اللہ مرحوم۔نے پانی میں کڑواہٹ دور کرنے والی ترکیب بتائی۔میں اس نے ترکیب سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔جس وقت کچلہ تیار کرنے کے لئے احیتاط کرتا تھا تو کچھ باتیں ایسی تھیں جو کتابوں سے نہیں تجربات سے ملتی ہیں۔یہی وہ دولت ہوتی ہے جو صرف محنت کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔جیسے جیسے کچلہ کے بارہ میں معلومات و تجربات ہوتے گئے میرے مشاہدات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ اس کے استعمال کی مختلف صورتیں سامنے آتی رہیں۔دنیائے طب میں کچلہ کو بہت زیادہ اور مختلف انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔۔

میں نے بھی اس کے مختلف استعمالات کئے۔میں نے کچلہ نرم کرنےکے لئے استعمال ہونے والا پانی ضائع کرنے کے بجائے۔ مریضوں کو قطرات میں صورت میںپلانے کا تجربہ کیا۔۔اس کے وہی اثرات تھے جو کچلہ کے تھے ۔۔میں نے ہومیو پیتھی والوں کے نیک وامیکا کے فطرے منگوائے۔اور اپنے اس پانی سے مقابلہ کیا تو مریضوں نے دونوں کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا۔۔

اس کے علاوہ جس گھی میں کچلہ کو پکایا جاتا تھا۔اسے دفن کردیا جاتا تھا۔لیکن میں اسی گھی کو کھانے مین اور دردوں کے اکڑائو اور جسم کے اعصاب میں سوزش کے لئے استعمال کرایا بہترین نتائج آئے۔یعنی اب میں کچلہ سے حاصل شدہ تین قسم کے اجزاء سے فائدہ
اٹھاتا تھا۔

(1)کچلہ کا سفوف جو مطلوب خاص ہوتا تھا
(2)دوسرا وہ گھی جسے کچلہ پکانے کے لئے زمین میں دفن کردیا جاتا تھا
(3)تیسرا وہ پانی۔جسے بہا دیا جاتا تھا۔۔
اس سے مجھے مالی طورپر بہت فائدہ ہوا اور نئے نئے تجربات سے لوگوں کے لئے علاج پر کشش بنا ۔۔مثلاََ ایک مریض کو کچلہ کا سفوف یا گولیاں دینی ہوں تو اسے تین وقت ایک جیسی گولیوں سے زیادہ فیس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اس طریقہ یوں اختیار کیا گیا کہ ایک وقت۔گولی۔ایک وقت ۔گھی کے چند قطرے۔تیسرے وقت ۔تیار شدہ ڈراپس۔۔۔یہ تو مجھے پتہ ہے

کہ تینوں ایک ہی فائدہ کی صورتیں ہین لیکن مریض سمجھتا ہے کہ بہت محنت کی ۔گھی تیار کیا۔قطرے بنائے۔گولیاں یا کیپسول دئے۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.