کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات19

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات19

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات

19

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات19
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات19

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

کچلہ / اذاراقی / پوائزن نٹ (Poison Nut) :-
دیگر نام:-
لاطینی میں نکس وامیکا عربی میں اذراقی فارسی میں حب الفرب گجراتی میں کجرا بنگالی میں کچیلہ اور انگریزی میں ’’پائزن نٹ‘‘یا ڈاگ پوائزن کہتے ہیں ۔
ماہیت:-
کچلہ کا درخت عموماًچالیس سے پچاس فٹ اونچا ہوتاہے۔یہ ہر موسم میں ہرا بھرارہتاہے اس کی شاخیں پتلی لیکن کافی مضبوط ہوتی ہیں ۔تنا اگر کاٹاجائے تو پہلے سفید بعد میں زردی مائل بھورا ہوجاتاہے۔پتے آم کی یاجامن کی طرح ملائم چمک دار چکنے دو سے تین انچ لمبے اوردو انچ چوڑے ہوتے ہیں ان سے بدبودار رس نکلتاہے۔جو زہریلاہوتاہے۔پھول سردی اورموسم بہار میں میں دودفعہ لگتے ہیں ۔جو چھوٹے سبزی مائل زرد اور ہلدی کی بو ہوتی ہے۔اطباء نے اس کو زہریلاکہاہے۔جومدبرکرنے کے درمیان نکال دیاجاتاہے۔
مقام پیدائش:-
یہ عرب کے علاوہ اڑیسہ مان بھوم مدراس کوچین ٹراونکور ساحل مالابار اور لنکا اور برما کے جنگلات میں خودرو ہوتاہے۔
مزاج:-گرم خشک۔۔۔درجہ دوم۔
افعال:-دافع امراض بلغمیہ و عصبانیہ محرک ومقوی قلب ۔مصفیٰ خون مقوی باہ منفث بلغم محرک ومقوی قلب محلل اورام۔
استعمال:-
معدہ کی غشا مخاطی کی طرف کچلہ دوران خون کو زیادہ کرتاہے۔جس کی وجہ سے معدیہ رس زیادہ ہوکر بھوک بڑھ جاتی ہے اور ہاضمہ کو تیز کر دیتی ہے ااور مسہل تاثیر پیداکرتی ہے۔کم مقدارمیں قلب و عضلات میں تحریک پیداکرتی ہے۔اور لقوہ دردکمر عرق النساء نقرس میں بکژت اندرونی و بیرونی مستعمل ہے۔مقوی اعصاب و باہ ہونے کی وجہ سے ضعف باہ میں صدیوں سے مستعمل دواہے منفث بلغم ہونے کے باعث سرفہ ضیق النفس اور مرض سل میں بھی بکثرت استعمال ہوتاہے۔استرخائے مثانہ کی وجہ سے باربار پیشاب آنے کیلئے خاص دواء ہے۔مصفیٰ خون ہونے کے باعث آتشک جیسے امراض فساد خون میں کھلایاجاتاہے۔
خاص استعمال:-
کچلہ مدبر کے استعمال سے منشیات مثلاًبھنگ افیون اور ہیروئن وغیرہ کی عادت ختم ہوجاتی ہے۔اور تمام طاقتیں بحال ہوجاتی ہیں ۔
بیرونی استعمال:-
محلل ہونے کی وجہ سے اورام پر خصوصاًطاعون کی گلٹی پر اس کو گھس کر طلاء کرتے ہیں ۔بواسیری مسوں میں خارش ہو تو اسے تنہایادیگر ادویہ کے ہمراہ مسوں پرلگاتے ہیں اور وجع المفاصل وغیرہ کے لئے روغن کنجد میں اس کو جلاکر مالش کرتے ہیں ۔۔
تدبیر علاج سمیت:-
سٹامک ٹیوب سے معدہ کو دھوئیں یا باربار قے کرائیں اور تشنج سے قبل دودھ اور گھی باربار پلائیں یا کوئی مقئی دواء دے کر قے کرائیں پھر پوٹاشیم برومائیڈ ایک ڈرام ایک گلاس پانی میں ملاکر پلائیں اگر سانس بند ہونے کا خطرہ ہوتو مصنوعی تنفس جاری کریں اس کے بعد مناسب ادویہ کے علاج کریں ۔
نفع خاص:-مقوی اعصاب وباہ۔
مضر:-غیر مدبر اورتشنج پیداکرتاہے۔
مصلح:-شکر لعابات روغنیات ۔
بدل:-بھلانوں
مقدارخوراک:-آدھ رتی سے ایک رتی تک کچلہ مدبر۔
مشہورمرکب:-معجون اذارای ،حب اذارای ،روغن کچلہ۔
جوہر کچلہ:-اس کی وجہ سے خون آکسیجن کی مقداربڑھ جاتی ہے۔اور کاربانک ایسڈ گیس کی مقدار گھٹ جاتی ہے۔لیکن زیادہ مقدارمیں بھی یہ زہر قاتل ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معجون ازراقی
گزشتہ روز معجون اذراقی کے فوائد کے متعلق پوچھا گیا
یہ عمومی چیزیں ہوتی ہیں ۔تقریبا ہر دواخانہ اس کو تیار کرتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی پروڈکٹ پر اس کے فوائد بھی تحریر کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود ایسے سوال انا تھوڑا عجیب لگتا ہے ۔
خیر پوری پوسٹ مع فوائد نقل کی جارہی ہے
معجون ازراقی
بلغمی و عصبی امراض
فالج ۔لقوہ ۔رعشہ۔ اور جوڑوں کے درد ۔اور مردانہ طاقت کو بڑھانے میں مفید ہے
اعصاب کو قوت دینے کے لیے انتہائی مفید دوا ہے۔ آتشک اور بوڑھے احباب کے لیے مثل آبحیات تصور کی جاتی ہے ۔
مبارک دوا خانہ میں ہمہ وقت تیار دستیاب ہوتی ہے
نسخہ ۔۔۔کچلہ مدبر 25 گرام ۔۔برگ گاوزبان 15 گرام ۔۔۔اسطوخدوس۔۔۔ کتیرہ۔۔نارجیل دریائی۔۔مغز چلغوزہ ہر ایک 15 گرام
دانہ الائچی خورد۔کچور ۔۔شقاقل مصری۔۔صندل سفید ۔۔آملہ۔۔ہلیلہ سیاہ ۔۔ہر ایک 10 گرام ۔۔عود ہندی۔۔لونگ
ہر ایک 5 گرام۔ ،،،تمام ادویات کا سفوف بنا لیجیے۔۔اور تین گنا شھد شامل کیجیے ۔ تیار است
خوراک۔۔تین گرام صبح و شام۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ کچلہ مدبر مصفی خون اور مقوی نیا انداز۔۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے مین نے دوستون کی آسانی کے لئے طب جدید کے طریقہ کے مطابق کچلہ مدبر کرنے کی آسان ترکیب لکھی تھی یعنی ریت مین بھون کر استعمال مین لائین پھر بعض دوستون نے کئی طریقے کچلہ مدبر کرنے کے لکھے جیسے دودھ اور گھی مین پکانا کنوار گندل کا پانی پلا کر مدبر کرنا وغیرہ وغیرہ سب طریقے اپنی اپنی جگہ درست بھی ھین اور افادیت بھی علیحدہ علیحدہ رکھتے ھین اس وقت پوسٹ تو کچھ اور لکھنے لگا تھا لیکن اچانک ارادہ بدل گیا کیونکہ کچلہ مدبر کرنے کا ایک انتہائی اکسیری طریقہ ذھن مین آیا اور ساتھ ھی جوش خون سے جلد کی خرابی اور خارش کا علاج بھی یاد آیا دوستو پہلی بات جو طریقہ کچلہ مدبر کا ھے بہت ھی اعلی ھے لیجئے اب بات کو سمجھین حسب ضرورت کچلہ لے لین اور پھر برگ نم تازہ بھی ضرورت کے مطابق لے لین اور کوٹ کر نغدہ تیار کرین اب اس نغدہ مین کچلے ترتیب سے رکھ دین یعنی پچھا دین اور اوپر نیچے نغدہ دے کر ھلکی آنچ مین رکھ دین تاکہ کچلہ کچھ نہ کچھ برگ نم کا رس چوس کر پھول جاۓ خواہ روٹی پکانے والے بڑے توے پہ پہلے نغدہ پچھا کر اوپر کچلے رکھ لین یا کسی اور برتن کو استعمال کرین بس ترتیب یہ ھونی چاھیے کہ ھر کچلہ کا دانہ برگ نم کے نغدہ کے ساتھ لگا ضرور ھونا چاھیے تاکہ اس کی رس تک ڈائریکٹ اس کی پہنچ ھو نغدہ تھوڑا جل جانے پہ کچلے نکال لین اور اب ان بجھ چونا حاصل کرین اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لین اور کسی کھلے برتن مین تہہ لگا کر نیچے پچھا دین اور اوپر مذکورہ کچلے رکھ کر مذید ان بجھ چونا کے ٹکڑون سے اس کچلہ کو ڈھانپ دین اب اس پہ پانی کے چھنٹے لگائین جب چونے سے گیس نکلنی شروع ھو جاۓ تو ھاتھ روک دین جب چونے کی گیس اچھی طرح نکل جاۓ تو کچلے نکال لین اب ان مین سے جو جل گئے ھون انہین پھینک دین باقی کو صاف کرلین خشک کرکے اپنے کام مین لے آئین انتہائی اعلی درجہ کا کچلہ مدبر تیار ھے
اب دوسری بات مصفی خون والی ۔۔تو دوستو عشبہ چرائیتہ اور منڈی بوٹی ھر ایک سوگرام اور اس ترتیب سے تیار شدہ کچلہ پچیس گرام ملا کر پیس لین اور چھوٹے چنے برابر گولیان بنا لین اور ایک ایک گولی دن مین تین بار ھمراہ پانی دین لیکن غذا مین دیسی گھی کا استعمال کرین جلد کے اکثریت عوارض کا بہترین علاج ھے خاص کر جب خون مین ھیجان پیدا ھونے سے جو لاحق ھوتے ھین
اب آخری بات ان کچلون مین قوت مدافعت پیدا کرنے کے لئے نم کا استعمال ھوااور کیلشیم جیسی اھم چیز کی شمولیت کے لئے چونا استعمال ھوا باقی صفات آپ جانتے ھین

Leave a Reply

Your email address will not be published.