کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات13

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات13

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات13
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات13

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات13

(کچلہ کا شمار بہت سے لوگوں نے بطور زہر کیا ہے۔درحقیقت کچلہ کے سحری خواص ہیں،جنہیں غیر مناسب طریقہ استعمال کی بنیاد پر زہر قرار دیدیا گیا۔جبکہ کچلہ اعصابی زہروں کا تریاق ہے۔کھاری زہر یا کیمیکل کھانے یا پینے سے جو زہریلے اثرات نمایاں ہوتے ہیں انہیںحاذق طبیب کچلہ کی مدد سے دور کرسکتا ہے

۔ ۔(حکیم المیوات محمد یونس شاہد میو)
تیرھویں۔ قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدا13ویں قسط
تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان
کچلہ کی تعریف ایک زہر کے طورپر کی جاتی ہے۔اس کے ناموں سے اس کے فوائد اور کیمیاوی خواص کا پتہ چلتا ہے۔ کچھ باتیں لکھ رہا ہوں،کچلہ کے بارہ میں یہ معلومات بہت مفید رہیں گی۔
ماہیت
اذاراقی Nux vomica گول چپٹے ٹکیوں کے مانند نہایت سخت تخم ہیں جو ایک درخت کے پھل کے اندر سے نکلتے ہیں رنگت باہر سے خاکستری اور اندر سے سفید ہوتی ہے اور مزہ نہایت کڑوا ہو تا ہے۔ یہ ایک درخت کے پھل کا بیج ہے جو ٹکیہ کے مانند سخت گول ، چپٹے، مخملی اور رنگت میں خاکی ہوتے ہیں اور مزہ نہایت تلخ ہوتا ہے ۔
اذاراقی Nux vomica کے اندر سمیت پائی جاتی ہے، اس لئے اس کو مد برکرنے کے بعد دواء استعمال کیا جا تا ہے، درخت 50فٹ تک بلند اور پتے آم یا جامن کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اس پر سردی اور موسم بہار میں دو بارا پھول آتے ہیں ، پھل بہی پاسنترہ کے بقدر ہوتا ہے، توڑنے پر دوحصوں میں منقسم ہو جا تا ہے اس کے اندر۴ – ۵ عددتک بیج پاۓ جاتے ہیں۔ اس کے درخت ہندوستان کے کئی شہر گور کھپور ، بنگال ،اڑیسہ، بہاراور مدراس میں پاۓ جاتے ہیں ۔


مزاج۔۔۔۔۔خشک بدرجہ سوم گرم بد رجہ دوئم
مقام پیدائش
ہندوستان۔ سری لنکا۔ چاینہ۔ جزائر غرب الہند۔ گور کھپور۔۔ بنگال۔ اڑیسہ۔ بہار۔ مدراس۔
افعال خاصہ
اذاراقی Nux vomica دافع امراض عصبایہ و بلغمیہ مثلا فالج، لقوہ، وجع المفاصل، درد کمر وغیرہ میں بکثرت مستعمل ہے ۔ کچلہ Strychnos nux-vomica معدہ، اعصاب اور باہ کو تقویت دینے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ضعف اشتہاء کو دور کرنے کے لیے بھی کھلاتے ہیں ،آنتوں کی کمزوری کی وجہ سے جو قبض رہتی ہے اس میں بھی استعال کیا جا تا ہے ۔اذاراقی Strychnos nux-vomica منفث ومخرج بلغم ہونے کے باعث سرفہ، ضیق النفس اور مرض سل میں بھی مستعمل ہے۔
کچلہ کی سمیت یا نقصان دہ پہلو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اس کا استعمال غیر مناسب اور غیرضروری طورپر کیا جائے۔یہ بات کچلہ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ ہر چیز کے بارہ میں یہی قانون ہے۔۔

عجیب و غریب طبی تجربات

راقم الحروف کی طبی زندگی میں بہت سے عجائبات کا سلسلہ موجود ہے۔ ان عجائبات میں سے،کچلہ۔شنگرف۔سم الفار۔فولاد۔دار چکنا۔رسکپور وغیرہ اشیاء کے استعمال سے سحر انگیر فوائد حصول ہے۔میں نے جس قدر فوائد ان زہروں کی کمترین مقدار استعمال کرا کے حاصل کئے،شاید ہی دیگر طبی فوائد پر مشتمل اشیاء سے نہ لے سکا۔میں اس بات کا اناڑی یا غیر طبیب کو مشورہ نہیں دیتا کہ آپ بھی یہ کام کریں۔میں اپنی روئے داد میدان طب لکھ رہا ہوں۔جو میں نے کیا،جو میں نے محسوس کیا وہ لکھ رہا ہوں۔یہ سالوں پر محیط داستان تجربات ہے بہت سی اہم باتین جو اس جگہ لکھنے کی ضرورت تھی حافظ میں استحضار نہیں رہا۔جو یاد ہے،یا جس کے بارہ میں سمجھ رہاہوں کہ کسی نہ کسی حد تک اطباء کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے لکھ رہا ہوں۔
مذکورہ بالا اشیائے سمیہ کے استعمال سے فوائد کا حصول قلیل مقدار میں مناسب استعمال ہے۔کسی بھی چیز سے بہترین فوائد کا حصول بروقت استعمال ہے ایک حاذق معالج جانتا ہے کونسی چیز کس وقت اور کتنی مقدار میں استعمال کرنا ہے۔امراض بچگان میں جو تاثیر اکسیر سمی یعنی مخصوص طریقے سے بنایاگیا سم الفار سفوف کا استعمال ہے۔ہم آگے چل کر یں گے۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.