کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔ دوسری قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔ دوسری قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔
دوسری قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔  دوسری قسط
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔
دوسری قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔
دوسری قسط

تحریر ::
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
کاہنہ نولاہور پاکستان
کچلہ کے بارہ میں بہت سی اساطیری داستانیں کہی سنائی جاتی ہیں۔اس کی مختلف توجیہات بیان کی جاتی ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے 35سال پہلے جب طب سے جنون کی حد تک لگائو تھا ،میدان عمل میں نیا نیا تھا۔جو کتاب دیکھی، پڑھ ڈالی ۔بسوںکے سفر ہوا کرتے تھے۔سفر بھی مطالعہ کےلئے وقت فراہم کیا کرتاتھا ۔زندگی کے اتنے جھمیلے نہ تھے ۔جو کچھ تھا، پر سکون تھا۔کمی کا خدشہ نہ زیادتی کی فکر، جو ملتا قابل شکر تھا۔
جب پہلی بار استاد الحکماء محمد عبد اللہ صاحب کی کنز المجربات ملی تو دل باغ باغ ہوگیا۔اس میں کچلہ کی تدبیر اور اسے قابل استعمال بنانے کا جو گُر بیان کیا گیا تھا آزمانے کا فیصلہ کیا۔
پنساری کے پاس پہنچا ۔کچلہ طلب کیا ۔دکان پر بیٹھا شخص ایسے اچھلا جیسے واہگہ بارڈر سے ابڈیا نے حملہ کردیا ہو۔پہلے تو اسے یقین نہ آیاکہ میں کچلہ مانگ رہا ہوں۔بار بار پوچھا،کچلہ ہی کہا ہے ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔زندگی کا پہلا موقع تھا کہ کچلہ دیکھنے کو ملا۔پنساری کی لیت و لعل سے سمجھ گیا کہ یہ کم عمر سمجھ کر دیکھنے پر آمادہ نہیں ہے۔قریب ہی ایک جاننے والے تھے،میرے نمازی تھے،انہوں نے سلام کیا حال احوال معلوم کئے۔دکان پر کھڑے ہونے کا سبب دریافت کیا۔پنساری سے کہا۔امام صاحب ہیں۔بہت اچھے انسان ہمارے قاری صاحب ہیں انہیں بہترین اجزاء دینا۔تاکہ یہ بہتر نسخہ بنا سکیں۔گویا کہ یہ سفارش تھی کو جسے پنساری نے قبول کیا۔دو روپے کا کچلہ لئے خوشی خوشی رہائش گاہ پہنچا۔یہ مسجد کی طرف سے مجھے دی گئی تھی۔جب میں نے اپنے شاگردوں سے جو کہ میرے پاس ناظرہ و حفظ کے طالب علم تھے کو نسخہ کے بارہ میں بتایا کہ دودھ گھی وغیرہ کی ضرورت ہوگی تو انہوں نے مجھے گھی دودھ وافر مقدار میں مہیا کردیا ۔ساتھ میں کئی گاہگ بھی مہیا کئے جنہوں نے مکمل عقیدت ہماری حکمت کی تصدیق کی اور نسخہ کے لئے ایڈوانس بھی جمع کرادیا ۔ میرے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ ایک ماہ کا موٹر سائکل کا پٹرول کا بند بست ہوگیا۔
کچھ جو عقیدت تھا۔کچھ طبی کتب پر ایمان کی حد تک یقین تھا۔سوچوں کی دنیا محدود تھی۔نسخہ کامیاب رہا۔دیہاتی لوگ کچلہ کی پوڑیہ لینے میرے پاسآجاتے ۔دودھ بھی ساتھ لے آتے۔مجھے بھی پلاتے ،خود بھی پیتے۔ساتھ میں مٹھی باندھ کر نذرانہ بھی دیتے۔ یوں زندگی کے طبی تجربات شروع ہوئے۔شروع دن سے ایک اصول زندگی اپنائے رہا کہ غلط بیانی۔دھوکہ دہی سے کسیکو کچھ نہ دیا ۔یہی ہمارے والد بزرگوار علیہ الرحمہ کی نصیحت تھی۔
آج الحمد اللہ ساٹھ کے قریب طبی کتب لکھ چکا ہوں،اور طب نبوی کے حوالہ سے اللہ کی توفیق سے بہت محنت کی ہے۔تجربات کا وسیع میدان ہے۔لیکن یقین کی جو کیفیت اس وقت تھی آج تجربات کی لامتناہی دنیا میں اس کی کمی محسوس ہورہی ہے۔اب طبی باتوں پر یقین کے بجائے تجسس نے لے لی ہے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.