کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔5ویں قسط تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان انسانی زندگی میں وہی لوگ شہرت پاتے ہیں جو انسانی ضروریات سے وابسطہ کسی ایسےراز سے پردہ سرکاتے ہیں جو عمومی طور پر فائدہ مند ہو،ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات میں باقی رہتے ہیں جو خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر انسانیت کی فلاح و فوز کے لئے ہمہ تن مصروف ہرتے ہیں۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں لوگ کسی شخصیت کو یاد نہیں کرتے بلکہ ان خدمات کو یاد رکھتے ہین جو اس نے دوسروں کے لئے سر انجام دی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی انسان موجد نہیں ہوتا وہ تو ایک کھوجی ہوتا ہے جو پہلے سے موجود چیز کا سراغ لگاتا ہے۔کوئی بھی تحقیق کسی چیز کو جنم نہیں دیتی البتہ پہلے سے موجود کائنات کی کسی چیز یا زندگی کے کسی پہلو کو تلاش کرلیتا ہے۔ طبی دنیا میں بے شمار لوگ روزی روٹی تلاش کرتے ہیں اس میدان میں اس لئے آتے ہیں کہ آنہ ٹکا کی آمدن ہوجائے۔وہ چار ناچار ایسے مرااحل سے گزرتے ہیں کہ انہیں کچھ راز معلوم ہوجاتے ہیں۔یہ راز قدرت نے انہیں کے حصے میں لکھے ہوتےہیں ان میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا۔یہ راز بجلی کی وہ کوند ہوتے ہیں جنہیں گرفت میں لاکر فائدہ اٹھا نا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کسی نے کہا ہے۔اتفاقات بھی انہیں پیش آتے ہیںجو کسی کام میں لگے ہوتے ہیں"۔۔۔ کچلہ سخت جان چیز ہے اسے بغیر نرم کئے استعمال کرنا باریک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،جب تک کوئی چیز باریک نہ ہوجائے اس وقت تک ہمارا جسم قبول نہیں کرتا۔ طبی دنیا میں بہت سی عجیب باتیں پائی جاتی ہیں ۔جنہیں فن کاری اور مہارت سمجھا جاتا ہے،جیسے کسی دوا کا کے ذائقہ کو بدل دینا یا اسے بے ذائقہ کردینا۔ طبی کتب میں ان باتوں کو بطور راز درج کیا جاتا ہے۔کچلہ کو ہی لےلیں،اس کی کڑواہٹ ہی اس کی صفت کاص اور اس کا امتیاز ی وصف ہے۔حکماء نے بہت ساری تراکیب لکھی ہیں کہ کچلہ کی کڑواہٹ دور کی جاسکتی ہے۔ مثلاََ حکیم محمد اللہ مرحوم نے اپنی مشہور زمانہ کتاب کنز المجربات میں ایک ترکیب یوں لکھی ہے" کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا۔ کا عنوان دیگر حکیم صاحب لکھتےہیں"کچلہ حسب ضرورت لیکر کنوئیں کےپانی میں بھگودیں اور روزانہ تازہ پانی بدلتے رہیں جب بالکل نرم ہوجائے تو قینچی سے یا چھوٹے چھوٹے چاقو سے کتر کر بدستور پانی میں تے رہیں،غالبا چالیس دن میں کڑواہٹ مٹ جائے گی،اسکو گھی میں بریاں کرکے شامل ترکیب کریں(کنز المجربات صفحہ515) کسی چیز کا قدرتی ذائقہ ہی اس کی پہچان اور ہوتی ہے،اصل حالت میں استعمالات کے فوائد بہت گہرے ہوتے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کہ جن لوگوں نے یہ نکات دریافت کئے انہوں نے زندگی کی بہت سی قیمتی گھڑیاں اس کی نذر کیں۔وقت وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ۔کسی بھی چیز کا ذائقہ اور اس کی اصلی حالت ہی طبی لحاظ سے بہترین استعمال کے قابل ہوتی ہے۔ البتہ جو چیزیں اصلی حالت میں کام میں نہ لائی جاسکیں انہیں قابل استعمال بنانے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی جاتی ہیں کشتہ جات،سفوف۔مربہ جات،شربت گولیاں وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔مثلاََ تمہ کی کڑواہٹ دور کرکے اس کا مربہ بنانا۔یا کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا وغیرہ حکیم عبد اللہ صاحب کا فارمولہ کہ ایک مخصوص مدت تک پانی میں رکھنے سے کچلہ کی کڑواہٹ دور ہوجاتی ہے۔میں نے بھی اس ترکیب کو استعمال کیا،اور کچلہ کو قابل استعمال بنانے کے لئے پانی کا استعمال کرتے ہوئے اس سے مختلف انداز میں فوائد حاصل کئے۔جاری ہے

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔5ویں قسط تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستانانسانی زندگی میں وہی لوگ شہرت پاتے ہیں جو انسانی ضروریات سے وابسطہ کسی ایسےراز سے پردہ سرکاتے ہیں جو عمومی طور پر فائدہ مند ہو،ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات میں باقی رہتے ہیں جو خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر انسانیت کی فلاح و فوز کے لئے ہمہ تن مصروف ہرتے ہیں۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں لوگ کسی شخصیت کو یاد نہیں کرتے بلکہ ان خدمات کو یاد رکھتے ہین جو اس نے دوسروں کے لئے سر انجام دی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی انسان موجد نہیں ہوتا وہ تو ایک کھوجی ہوتا ہے جو پہلے سے موجود چیز کا سراغ لگاتا ہے۔کوئی بھی تحقیق کسی چیز کو جنم نہیں دیتی البتہ پہلے سے موجود کائنات کی کسی چیز یا زندگی کے کسی پہلو کو تلاش کرلیتا ہے۔طبی دنیا میں بے شمار لوگ روزی روٹی تلاش کرتے ہیں اس میدان میں اس لئے آتے ہیں کہ آنہ ٹکا کی آمدن ہوجائے۔وہ چار ناچار ایسے مرااحل سے گزرتے ہیں کہ انہیں کچھ راز معلوم ہوجاتے ہیں۔یہ راز قدرت نے انہیں کے حصے میں لکھے ہوتےہیں ان میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا۔یہ راز بجلی کی وہ کوند ہوتے ہیں جنہیں گرفت میں لاکر فائدہ اٹھا نا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کسی نے کہا ہے۔اتفاقات بھی انہیں پیش آتے ہیںجو کسی کام میں لگے ہوتے ہیں"۔۔۔ کچلہ سخت جان چیز ہے اسے بغیر نرم کئے استعمال کرنا باریک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،جب تک کوئی چیز باریک نہ ہوجائے اس وقت تک ہمارا جسم قبول نہیں کرتا۔ طبی دنیا میں بہت سی عجیب باتیں پائی جاتی ہیں ۔جنہیں فن کاری اور مہارت سمجھا جاتا ہے،جیسے کسی دوا کا کے ذائقہ کو بدل دینا یا اسے بے ذائقہ کردینا۔ طبی کتب میں ان باتوں کو بطور راز درج کیا جاتا ہے۔کچلہ کو ہی لےلیں،اس کی کڑواہٹ ہی اس کی صفت کاص اور اس کا امتیاز ی وصف ہے۔حکماء نے بہت ساری تراکیب لکھی ہیں کہ کچلہ کی کڑواہٹ دور کی جاسکتی ہے۔مثلاََ حکیم محمد اللہ مرحوم نے اپنی مشہور زمانہ کتاب کنز المجربات میں ایک ترکیب یوں لکھی ہے" کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا۔ کا عنوان دیگر حکیم صاحب لکھتےہیں"کچلہ حسب ضرورت لیکر کنوئیں کےپانی میں بھگودیں اور روزانہ تازہ پانی بدلتے رہیں جب بالکل نرم ہوجائے تو قینچی سے یا چھوٹے چھوٹے چاقو سے کتر کر بدستور پانی میں تے رہیں،غالبا چالیس دن میں کڑواہٹ مٹ جائے گی،اسکو گھی میں بریاں کرکے شامل ترکیب کریں(کنز المجربات صفحہ515) کسی چیز کا قدرتی ذائقہ ہی اس کی پہچان اور ہوتی ہے،اصل حالت میں استعمالات کے فوائد بہت گہرے ہوتے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کہ جن لوگوں نے یہ نکات دریافت کئے انہوں نے زندگی کی بہت سی قیمتی گھڑیاں اس کی نذر کیں۔وقت وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ۔کسی بھی چیز کا ذائقہ اور اس کی اصلی حالت ہی طبی لحاظ سے بہترین استعمال کے قابل ہوتی ہے۔البتہ جو چیزیں اصلی حالت میں کام میں نہ لائی جاسکیں انہیں قابل استعمال بنانے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی جاتی ہیں کشتہ جات،سفوف۔مربہ جات،شربت گولیاں وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔مثلاََ تمہ کی کڑواہٹ دور کرکے اس کا مربہ بنانا۔یا کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا وغیرہحکیم عبد اللہ صاحب کا فارمولہ کہ ایک مخصوص مدت تک پانی میں رکھنے سے کچلہ کی کڑواہٹ دور ہوجاتی ہے۔میں نے بھی اس ترکیب کو استعمال کیا،اور کچلہ کو قابل استعمال بنانے کے لئے پانی کا استعمال کرتے ہوئے اس سے مختلف انداز میں فوائد حاصل کئے۔جاری ہے

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات ۔5ویں قسط

 کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔5ویں قسط
کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔5ویں قسط

کچلہ کے بارہ میں میرے تجربات و مشاہدات۔5ویں قسط
تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔۔منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔کاہنہ نولاہور پاکستان

انسانی زندگی میں وہی لوگ شہرت پاتے ہیں جو انسانی ضروریات سے وابسطہ کسی ایسےراز سے پردہ سرکاتے ہیں جو عمومی طور پر فائدہ مند ہو،ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات میں باقی رہتے ہیں جو خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر انسانیت کی فلاح و فوز کے لئے ہمہ تن مصروف ہرتے ہیں۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں لوگ کسی شخصیت کو یاد نہیں کرتے بلکہ ان خدمات کو یاد رکھتے ہین جو اس نے دوسروں کے لئے سر انجام دی ہوتی ہیں۔
کوئی بھی انسان موجد نہیں ہوتا وہ تو ایک کھوجی ہوتا ہے جو پہلے سے موجود چیز کا سراغ لگاتا ہے۔کوئی بھی تحقیق کسی چیز کو جنم نہیں دیتی البتہ پہلے سے موجود کائنات کی کسی چیز یا زندگی کے کسی پہلو کو تلاش کرلیتا ہے۔

طبی دنیا میں بے شمار لوگ روزی روٹی تلاش کرتے ہیں اس میدان میں اس لئے آتے ہیں کہ آنہ ٹکا کی آمدن ہوجائے۔وہ چار ناچار ایسے مرااحل سے گزرتے ہیں کہ انہیں کچھ راز معلوم ہوجاتے ہیں۔یہ راز قدرت نے انہیں کے حصے میں لکھے ہوتےہیں ان میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا۔یہ راز بجلی کی وہ کوند ہوتے ہیں جنہیں گرفت میں لاکر فائدہ اٹھا نا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

کسی نے کہا ہے۔اتفاقات بھی انہیں پیش آتے ہیںجو کسی کام میں لگے ہوتے ہیں”۔۔۔
کچلہ سخت جان چیز ہے اسے بغیر نرم کئے استعمال کرنا باریک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،جب تک کوئی چیز باریک نہ ہوجائے اس وقت تک ہمارا جسم قبول نہیں کرتا۔ طبی دنیا میں بہت سی عجیب باتیں پائی جاتی ہیں ۔جنہیں فن کاری اور مہارت سمجھا جاتا ہے،جیسے کسی دوا کا کے ذائقہ کو بدل دینا یا اسے بے ذائقہ کردینا۔ طبی کتب میں ان باتوں کو بطور راز درج کیا جاتا ہے۔کچلہ کو ہی لےلیں،اس کی کڑواہٹ ہی اس کی صفت کاص اور اس کا امتیاز ی وصف ہے۔حکماء نے بہت ساری تراکیب لکھی ہیں کہ کچلہ کی کڑواہٹ دور کی جاسکتی ہے۔

مثلاََ حکیم محمد اللہ مرحوم نے اپنی مشہور زمانہ کتاب کنز المجربات میں ایک ترکیب یوں لکھی ہے”
کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا۔
کا عنوان دیگر حکیم صاحب لکھتےہیں”کچلہ حسب ضرورت لیکر کنوئیں کےپانی میں بھگودیں اور روزانہ تازہ پانی بدلتے رہیں جب بالکل نرم ہوجائے تو قینچی سے یا چھوٹے چھوٹے چاقو سے کتر کر بدستور پانی میں تے رہیں،غالبا چالیس دن میں کڑواہٹ مٹ جائے گی،اسکو گھی میں بریاں کرکے شامل ترکیب کریں(کنز المجربات صفحہ515)
کسی چیز کا قدرتی ذائقہ ہی اس کی پہچان اور ہوتی ہے،اصل حالت میں استعمالات کے فوائد بہت گہرے ہوتے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کہ جن لوگوں نے یہ نکات دریافت کئے انہوں نے زندگی کی بہت سی قیمتی گھڑیاں اس کی نذر کیں۔وقت وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ۔کسی بھی چیز کا ذائقہ اور اس کی اصلی حالت ہی طبی لحاظ سے بہترین استعمال کے قابل ہوتی ہے۔

البتہ جو چیزیں اصلی حالت میں کام میں نہ لائی جاسکیں انہیں قابل استعمال بنانے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی جاتی ہیں کشتہ جات،سفوف۔مربہ جات،شربت گولیاں وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔مثلاََ تمہ کی کڑواہٹ دور کرکے اس کا مربہ بنانا۔یا کچلہ کی کڑواہٹ دور کرنا وغیرہ

حکیم عبد اللہ صاحب کا فارمولہ کہ ایک مخصوص مدت تک پانی میں رکھنے سے کچلہ کی کڑواہٹ دور ہوجاتی ہے۔میں نے بھی اس ترکیب کو استعمال کیا،اور کچلہ کو قابل استعمال بنانے کے لئے پانی کا استعمال کرتے ہوئے اس سے مختلف انداز میں فوائد حاصل کئے۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.