کوٹھ ‘قسط شریں ‘کٹھ کے خواص طب نبویﷺ کی نظر ہیں

کوٹھ ‘قسط شریں ‘کٹھ کے خواص
طب نبویﷺ کی نظر ہیں

کوٹھ ‘قسط شریں ‘کٹھ کے خواص  طب نبویﷺ کی نظر ہیں
کوٹھ ‘قسط شریں ‘کٹھ کے خواص
طب نبویﷺ کی نظر ہیں

کوٹھ ‘قسط شریں ‘کٹھ کے خواص
طب نبویﷺ کی نظر ہیں

 

و تحریر وپیش کردہ
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

Costus Root
لاطینی میں Sasswrea Lappaخاندان۔Compositaeدیگرنام۔عربی میں قسط فارسی میں کوشتہ ہندی میں کوٹھ بنگالی میں گڑ پاچک اور انگریزی میں کاسٹس روٹ کہتے ہیں ۔
ماہیت۔اسکا پودا چھ سے آٹھ فٹ فٹ تک بلند سیدھااور موٹا ہوتاہے۔اسکے پتے کی ڈنڈی دو تین فٹ لمبی نیچے کے پتے بڑے درمیان سے کٹے ہوئے اور تکونے سے ہوتے ہیں یہ نوک دار اور سات آٹھ چوڑے ہوتے ہیں پھول گیندے کے پھلوں کی طرح گول یاایک دو انچ گھیرے کی بیگنی یا گہرے نیلے ہوتے ہیں پھل چوکور چھوٹے ،دندانے اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں جڑ قائم رہتی ہے اور ہر سال نیا پودا اسی سے پھوٹتاہے۔خشک ہونے پر زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ا ور اسکو دیمک جلد لگ جاتی لہٰذا جو جڑ بطور دوااستعمال کرنی ہووہ بغیر سوراخ کے ہونی چاہیے ۔
ہماری دوسری کتاب سے ایک اقتباس////
۔قسط۔کوشتہ۔۔OSTUS ROOT۔ایک خوشبودار جڑ ہے ۔دو قسم کی ہوتی ہیں تلخ و شیریں۔محرک جگر۔مقوی اعصاب،قاتل کرم شکم۔منفث بلغم۔مسکن او جا ع ۔ نافع فالج و رعشہ وعرق النساء۔محلل سوزش عضلات۔حرارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جسم سے خارج بھی کرتی ہے۔سنگ گردہ و مثانہ کو خارج کرتی ہے،پیشاب کے اخراج میں آسانی پیدا کرتی ہے ۔حیض و نفاس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو پیدا کرتی ہے ۔جوڑوں کے درد ریحی درد وغیرہ میں مفید ہے۔ یہ جوارش جالینوس کا جزو اعظم ہے۔(العقاقیر المیسرہ فی خواص المفردہ)
مقام پیدائش۔۔۔اس کا پودانمناک زمین میں دریائے جہلم و چناب اور خاص کر کشمیر کی وادیوں اور ہمالیہ کی گود کلکتہ بمبئی جبکہ چین میں دھارمک وغیرہ میں ہوتاہے۔
اقسام۔۔۔۔۔قسط کی تین اقسام ہیں ۔۱۔قسط شیریں اس کو قسط بحری یا قسط عربی کہاجاتاہے۔
۲۔دوسری قسم تلخ ہوتی ہے اس کارنگ ماہر سے سیاہی مائل اور توڑنے پر اندر سے زردی مائل نکلتاہے یہ موٹی اور وزن میں ہلکی ہوتی ہے۔اس کو قسط ہندی کہاجاتاہے
۳۔یہ سرخی مائل وزنی اور خوشبو دارہوتی ہے اور تلخ نہیں ہوتی لیکن قسم زہریلی ہے جس کی وجہ سے اس کا استعمال نہیں کیاجاتاہے۔
مزاج۔گرم خشک۔۔۔درجہ سوم۔افعال بیرونی۔۔۔۔جالی جاذب خون محلل اور مجفف ہے۔
اندرونی افعال مقوی اعضاء رئیسہ ،مقوی اعصاب منفث بلغم دافع ورم لوزتین مسکن ورم سینہ مقوی معدہ و آمعاء کاسرریاح قاتل دیدان مدربول و حیض مسکن اوجاع محرک باہ۔
استعمال بیرونی۔
قسط کو ماء العسل میں پیس کر جھائیں اور جلد کے داغ دھبوں کو دورکرنے کے لئے طلاء کرتے ہیں داء الثعلب کو زئل کرنے بالوں کو لگانے اور گنج کے ازلہ کیلئے سرکہ اور شہد کے ہمراہ پیس کرلگاتے ہیں فالج لقوہ کزاز رعشہ وجع المفاصل نقرس عرق النساء جیسے امراض باردہ میں درد کو تسکین دینے اور اعصاب کو قوت و تحریک دینے کیلئے روغن زیتون یا روغن کنجد میں ملاکر مالش کرتے ہیں ادرار حیض اور درد رحم کو تسکین دینے کیلئے اسکے جوشاندے میں مریضہ کو بٹھاتے ہیں ۔
نوٹ۔قسط تلخ زیادہ تر بیرونی طور پرہی استعمال کیاجاتاہے۔
استعمال اندرونی۔مذکورہ بالاعصبی اور بلغمی امراض میں مختلف طریقوں سے کھلاتے ہیں ضیق النفس کھانسی اوجاع صدر اور درد پہلو کو تسکین دینے کیلئے شہد میں ملاکرچٹاتے ہیں ۔اس کا سیال خلاصہ یعنی ٹنکچر ایک چمچہ خرد پانی میں ملاکر صبح و شام ضیق النفس میں استعمال کرتے ہیں ۔ورم طحال استسقاء اور کرم شکم میں سفوف بناکر کھلاتے ہیں مقوہ باہ ادویہ میں شامل کرکے مریضان ضعف باہ کو اندرونی اور بیرونی طور پر استعمال کراتے ہیں ۔ادرار حیض اور مدربول کیلئے اس کا جوشاندہ پلاتے ہیں اسے کپڑوں میں رکھنے سے کیڑے کپڑوں کو خراب نہیں کرتے ہیں ۔خاص طور پر قسط تلخ۔
نفع خاص۔مقوی باہ اعضاء رئیسہ۔مضر۔مثانہ۔مصلح۔گل قند آفتابی و انیسوں ۔بدل۔عاقرقرحا۔طب نبوی ﷺاور قسط بحری۔
حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسط بحری اور زیتون سے کریں ۔
ترجمہ۔حضرت انس بن مالکؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایااپنے لڑکوں کو حلق کی بیماری میں گلادباکر عذاب نہ دو جبکہ تمہارے پاس قسط موجود ہے۔
ترجمہ۔حضرت جابربن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔۔۔اے عورتو تمہارے لئے مقام تاسف ہے کہ تم اپنی اولاد کو قتل کرتی ہو اگر کسی بچے کے گلے میں سوزش ہوجائے یا سرمیں درد ہو تو قسط ہندی کولے کرپانی میں رگڑ کر اسے چٹا دے
مقدارخوراک۔دوسے تین گرام یاماشے ۔کوٹھ کڑوا ’’قسط تلخ ‘‘قسط ہندی۔دیگرنام۔عربی میں قسط المر اور فارسی میں کوشتہ تلخ اور عام زبان میں کوٹھ کڑوا کہتے ہیں ۔
ماہیت۔اس کی ماہیت قسط شیریں میں بیان کردی گئی ہے۔مزاج۔گرم خشک ۔۔۔بدرجہ سوم۔افعال و استعمال۔اندرونی طور پر استعمال کرنے سے مقوی اعضاء رئیسہ دافع تشنج اور منفث بلغم ہے۔کاسرریاح اور اوجاع رحم کا مسکن ہے پرانے بلغمی بخاروں کو فائدہ دیتاہے اور قسط شیریں والے عصبی اور بلغمی امراض مختلف طریقوں سے کھلاتے ہیں ۔
خاص بات۔قسط تلخ کا استعمال زیادہ تر بیرونی طور پر کیاجاتاہے اور اگر اسے کھلاناہوتو نہایت احتیاط سے اور مستند حکیم کے مشورے سے دیں ۔بیرونی طورپر اس کا استعمال قسط شیریں والاہی ہے
اسے مندروں میں خوشبو دینے کیلئے سلگایاجاتاہے۔قریب بسم ہے یہ بھی یادرکھیں کہ نسخہ میں مطلق قسط لکھا ہوتو اس سے مراد قسط شیریں ہوتاہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.