کمال بشریت

کمال بشریت

کمال بشریت
کمال بشریت

 

وإنك لعلى خلق عظيم – وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ

کمال بشریت

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

یہ خوب جان لینا چاہئے کہ انبیاء علیھم السلام کے نفوس قدسیہ عام انسانوں سے اپنی ماہیت میں ہی مختلف ہوتے ہیں ان نفوس میںمیں فھم و فراست اور جسمانیات و شہوات سے ایک عجیب قسم کی برتری ہوتی ہے

جب ایک طرف روح کی پاکیزگی و شرف کا یہ عالم ہو دوسری طرف جسم بھی غایت درجہ پاک و صاف ہوتو لازمی طور پر ان کے قوی محرکہ و مدرکہ بھی انتہادرجہ کامل ہو نگے کیونکہ جب فاعل اور قابل دونوں کامل ہوںتو پھر اس کے آثار قوت و شرف و پاکیزگی میں کیوں کامل نہ ہوں [تفسیر کبیر ۲/۴۵۶]

مگر ان تمام کمالات کے بعدبھی انبیاء علیھم السلام کا قدم سرمو بھی بشریت سے باہر نہیں گیا ہرگز نہیں جو لو گ آنحضرت ﷺ کی بشریت کے منکر ہیں انکو نہ تو بشریت کے کمالات سے آگاہی ہے اور خدائی صفات کا اندازہ ہے[ترجمان السنہ ۳/۶ ۹ ۲ ]

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ واضح رہے کہ بشر گو ضعف المخلوقات ہے مگر ا س میں ترقی و عروج کی عظیم صلاحیت موجود ہے کہ انسان ترقی کرتے کرتے ایسے عالی سے عالی مقام تک بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے جہاں مقرب سے مقرب فرشتی بھی جانے کی طاقت نہیں رکھتا ۔

ابن قیم کہتے ہیں انبیاء علیھم السلام اقوا ل و اخلاق کی صحیح میزان ہوتے ہیں جو اس پر پورا اتر گیا وہ ہر میعار پر پورا اترے گا اور جو یہا ںسرمو انحراف اوچھا رہ گیا وہ ان تمام امور میں بھی ناقص رہ گیا وہ فرماتے ہیں جسم کو جان کی اور آنکھوں کونورکی ہوتی ہے اس سے زیادہ ضرورت عالم کو انبیاء علیھم السلام کی ہے۔

امام رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں انبیاء کے بارہ میں بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں وہ جس طرح عام بشر سے روحانی قوتوں میں ممتاز ہوتے ہیں اسی طرح جسمانی قوتوں میں بھی ممتاز ہوتے ہیں اپنی سا معہ باصرہ شامہ اور ذائقہ سب ہی قوتوں میں ممتاز ہوتے ہیں [تفسیر کبیر ۴/۴۵۵]

قاضی عیاض مالکی جو توقیر رسولﷺ میںبڑا بلند مزاق رکھتے ہیں اپنی تصنیفـ۔۔الشفاء ۔۔میں مسئلہ عصمت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:رسول یقیناََ معصوم ہوتے ہیں مگر بشریت سے معصوم نہیں ہوتے وہ بشر کی طرح پیدا ہوتے ہیں انسانی زندگی کے جملہ ادوار طفلی شباب اور شیوخیت سب عبور کرتے ہوئے آخر میں ہمیشہ کے لئے اسی طرح زمین میں جاکر دفن ہوجا تے ہیںجیسے جنس بشری ہمیشہ سے دفن ہوتی آئی ہے [بحوالہ ترجما ن السنہ ۳/۲۳۳

Leave a Reply

Your email address will not be published.