کسی بھی عمل یا وظیفہ کی مدد سے مذہب و مسلک کی پہچان۔

کسی بھی عمل یا وظیفہ کی مدد سے مذہب و مسلک کی پہچان۔

کسی بھی عمل یا وظیفہ کی مدد سے مذہب و مسلک کی پہچان۔
کسی بھی عمل یا وظیفہ کی مدد سے مذہب و مسلک کی پہچان۔

کسی بھی عمل یا وظیفہ کی مدد سے مذہب و مسلک کی پہچان

۔
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عملیات ایسا میدان عمل ہے جہاں عامل اپنی عملیاتی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتا ہے ،عامل کو کسی نہ کسی مذہب یا مسلک کا لبادہ اوڑھنا پڑتاہے،اپنے مذہب و مسلک سے لگائو کی وجہ سے وہ اعمال کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالتاہے اور چلہ و وظائف میں اس قسم کی عبارات یا الفاظ شامل کرتا ہے تو جو عملیاتی ضرورتوں کو بھی پورا کریں اور معتقدین کی مذہبی تسکین کا بھی سامان بن سکیں۔
بات تو پرانی ہے لیکن نئے انداز سے کہی جارہی ہے اس لئے کچھ وضاحت طلب ہے اس کی مثال کسی بھی عملیاتی کتاب میں آپ کو مل جائے گی۔ہم مسلمان ہونے کی وجہ سے قران و حدیث کو اپنے عقائد و نظریات کو اولین ترجیح دیتے ہیں ،مذہب و مسلک کے معاملہ کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا ۔لوگ مذہبی سوچ کے دائرہ میں رہتے ہوئے عملیاتی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

عملیاتی کتب کا مذہب و مسلک سے کو ئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ عملیات کی اپنی ایک دنیا ہے اور مذہب کی اپنی سرحدیں ہیں یہ دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں کوئی بھی اپنی جگہ دوسرے کے لئے نہیں بخشتا۔اپنی ذات کی بقاء کون مسمار کرتا ہے؟
ایک ایک کتاب تمام مسالک کے عاملین کے لے لیں ان میں لکھے گئے عملیات / وظائف کا مطالعہ کریں بخوبی سمجھ جائیں گے کہ لکھنےوالا کس مسلک سے تعلق رکھتا ہے سنی لوگوں کی کتب میں لکھے گئے وظائف میں خلفائے راشدین،صحابہ کرام۔ اورمتعلقہ سلاسل کے بزرگان کے نام شامل عبارت ملیںگے۔
ایل تشیع کے عملیات میں پنج تن پاک۔آئمہ معصومین۔اولاد علی۔شہدائے کربلاء وغیرہ شامل دکھائی دیں گے۔اس کے علاوہ آل و اطہار کی منقبت اور ان سے استمداد دکھائی دیگی۔جس میں ان کے مسلکی ومذہبی اعتقادات کی جھلک موجود ہوتی ہے۔
اہل ہنود کے عملیات میں۔بھیرو۔ہنومان۔کالی ماتا۔وغیرہ کا ذکر ملے گا۔
عیسائی میں باپ بیٹا۔آسمانی خدائی۔منقبت مریم۔روح القدس کے تقدیس و استمداد ملے گا۔
یہودی لوگوں میں عزیر۔کلیم اللہ وغیرہ۔تورات و احکام عشرہ۔ وغیرہ
اسی طرح یہود کے فرقہ قبالہ میں اعداد نقوش وغیرہ ہونگے۔
پھر مقامی طورپر لوگوں نے اپنے اپنے معتقیدات کو بھی شامل عبارت کردیا ہے۔جیسے بھرو۔لاکی ماں۔اسماعیل جوگی۔
بریلوی حضرات کے اعمال میں غوث الاعظم دیگر مقامی بزرگوں کو شامل عملیات کرتے ہیں۔جس سے جس قدر عقیدت ہوتی جائے گی اس کا ورد زبان پر ھاری ہوتا جائے گا۔
اہل دیوبند بھی کسی پیچھے نہیں یہ بھی وسیلہ جات کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جب تک ختم خوجگان نہ پڑھ لیں ان کی تشنگی باقی رہتی ہے۔
مجھے اس سے بحث نہیں ہے کہ ان کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے میرا دائرہ کار عملیات پر بحث ہے حتی الوسع اس قید کی پابندی کرونگا۔میرا لکھا ہوا صحیفہ آسمانی نہیں ہے،میرے ذہن میں ابھرنے والے خیالات ہیں ۔جنہیں میں قلم و قرطاس کی مدد سے آپ کے حوالے کررہا ہوں۔

عاملین ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

جو بھی یقین کامل کے ساتھ کام کرے گا بہتر نتائج پالے گا۔بےد ھیانی سے کام کرنے والے کی نسبت توجہ سے کئے گئے اعمال بہتر ہوتے ہیں،عملیات کے مسافر شاید اسی لئے ہمہ وقت بہتر سے بہتر عملیات کی جستجو میں رہتے ہیں۔
عمومی طورپر عاملین اعمال کرتے وقت مختلف سوچوں میں گھرے ہوتے ہیں اعمال کے لئے جس قدر توجہ درکار ہوتی ہے موجود نہیں ہوتی اسلئے عاملین کو چلہ وظائف میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہےمفصل بحث تو اپنے مقام پر کردی گئی ہے رجوع کرلیا جائے۔تذبذب۔بے یقینی،عمل کے بارہ میں غیر یقینی صورت حال،موھومہ خدشات وہ عناصر ہیں جو تاثیر کی جڑیں کھوکھلی کردیتے ہیں ،اثرات کا پودا پنپنے سے پہلے ہیں سوکھ جاتا ہے۔میں اپنے نووارد شاگردعاملین کو سمجھاتا ہوں کہ تم عملیات کے لئے اتنے بے چین ہو تمہیں معلوم بھی ہے کہ عملیات میں جان کیسے پڑتی ہے؟

یقین کامل۔

وہ بڑے تجسس سے منہ کھولے مجھے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور ہلکی سی آواز میں کہتے ہیں ۔ استاد جی آپ ہی روشنی ڈالیں۔سنیں اعمال کی جان یقین کامل ہوتا ہے۔اسلام میں عملیات کی اسی قدر اجازت ہے کہ اسے دعا کے درجہ میں رکھا جائے۔حدیث پاک میں آتا ہے۔تم دعا اس حالت میں مانگو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو۔- ادْعُوا اللهَ وأنتمْ مُوقِنُونَ بالإجابةِ ، واعلمُوا أنَّ اللهَ لا يَستجيبُ دُعاءً من قلْبٍ غافِلٍ لَاهٍ۔صحيح الجامع الصفحة أو الرقم: 245
عاملین قواعد عملیات سے نابلد ہوتے ہیں۔ان کے ذہن میں صرف تعداد کا پورا کرنا ہوتا ہے ۔وہ سمجھتے ہیں اناپ شناپ ہونٹ ہلاکر کائناتی قوتوں کو اپنی مٹھی میں بند کرلیں گے ،ایسا ہرگز نہیں ہے۔

اپنے کو اہل سمجھیں۔

یقین کامل کے بعد ان سے سوال کرتا ہو ں کیا تم اپنے آپکوعملیات کا اہل سمجھتےہو؟تم لوگوں میں کونسا ایسا وصف زائد ہے جو دوسروں میں موجود نہیں ؟
عمومی طورپر کوئی جواب نہیں ملتا،عاملین کو چاہئے کہ میدان عمل میں اترنے سے پہلے ذہنی طورپر خود اہل سمجھیں۔کسی بھی محنت اور کسی بھی شرط کے لئے تیار رہیں۔اہل سمجھیں جس چیز کا تمہیں خود یقین نہ ہو۔اس پر لوگوں کو ماننے پر کیسے مجبور کرسکتے ہیں؟

خوف نہیں شرح صدر

میدان عملیات میں اترنے سے پہلےذہنی طورپر ان شراط کے لئےخود کو تیار کرلیں ، ان باتوں کا بغور مطالعہ کرین جن کی عملیات میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔شرح صدر کے ساتھ آگے بڑھیں پہلے سوچیں پھر قدم بڑھائیں۔عمومی طورپر عملیات کے بارہ اس قدر خوفناک باتیں پھیلا دی جاتی ہیں کہ عام انسان عملیات کا نام سن ہی خوف ذدہ ہوجاتا ہے،نئے طالب علموں کے ذہن میں پرانے عاملین کچھ سنی سنائی باتیں ڈال دیتے ہیں کہ چلہ وظائف کے لئے بہت سی شرائط ہیں۔پابندیاں،تسخیرات کا میدان تو ناقابل عبور گھاٹی ہے اسے کم لوگ ہی پار کرسکتے ہیں ۔بد پیرہیزی ہوجائے تو جان کو خطرہ ہوسکتا ہے،استاد کامل نہ ہو توسخت قسم کے چلوں کی وجہ سے دماغی توازن خراب ہوسکتا ہے۔بہت سے لوگ چلہ بگڑنے کی وجہ سے پاگل ہوگئے وغیر وغیرہ۔ تجربہ یہ ہے کہ عملیات کی وجہ سے کوئی پاگل نہیں ہوتا۔پاگل ہونے کا سبب وہ خوف ہو تا ہے جسے ذہن میں غیر متعلقہ لوگ پہلے سے بٹھا دیتے ہیں۔خوف ذدہ نووارد طلبہ کے وقت ذہنی استعداد بڑھانے کے بجائے اس خوف کو بڑھاتا ہے جس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔مشاہدات بتاتے ہیں کمزور دل والوں کے سامنے ہی خوفنا ک چیزیں ظاہر ہوتی اور انہیں خوف ذدہ کرتی ہیں۔جب کہ پختہ ذہن و مضبوط قوت ارادی والوں کے سامنے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔اس لئے پختہ ارادے کے ساتھ عمل کریں کسی خوف و خطرہ کی ضرورت نہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.