کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ

کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ

کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ

کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ
کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ

کسٹرائل(روغن ارنڈ) کی تاریخ۔

حکیم المیوات ۔قاری محمد یونس شاہد میو

تیل پرانے مصریوں کی طرف سے آنکھوں کی حساسیت کا علاج کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا. یہ تیل کئی صدیوں کے لئے ایک اندرونی اور بیرونی علاج کے طور پر روایتی چینی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
قدیم یونانی،ہندی،عربی،عجمی اطباء کو روغن بید انجیر کا بخوبی علم تھا چنانچہ سشرت،ہیرادی طور۔تائو قرسطس،دیسقوریدوس وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے(میٹیرا میڈیکا،بحوالہ خواص ارنڈ)

دنیائے طب میں جو چیزیں تمام اقوام کے زیر استعمال اور سہل الحصول تھیں ان میں ارنڈ کا پودا بھی تھا ۔ قدیم مصری اس کا استعمال بخوبی جانتے اور اس کے

 

اکسیری فوائد کے معترف تھے۔۔بہت سے شواہد موجود ہیں کہ قدیم اقوام ارنڈ کا استعمال کیا کرتی تھیں۔

ڈاکٹر حسن کمال لکھتے ہیں:

ارنڈ کے درخت کے جسمانی طورپرفوائد کو میںنے قدیم کتب میں لکھا ہوا دیکھاہے جو منتخب طبی نوشتے ہمیں دستیاب ہوئے ہیں(الطب المصری صفحہ35)مصر ، تہذیب جس نے ارنڈی کے تیل کی دواؤں کی طاقت کو دریافت کیاخوبصورتی کی دیکھ بھال ،ادویا ت اور علاج میں پیشرفت مصریوں کی خاص بات رہی ہے۔ نیل اس تہذیب کا ایک حوالہ تھا اور طبی ترقی اس کے قحط یا سیلاب سے متعلق تھی۔ندی کے ذریعہ فراہم کردہ زرخیزی فرعونی زمانے کے معالجین کو پودوں اور

عناصر کے حصول کی اجازت دیتی تھی جسے بعد میں انہوں نے اپنے تجربات میں استعمال کیا۔

حصص مستعملہ۔عام طورپر مغز تخم ارنڈ۔روغن ارنڈ۔ارنڈ کی نرم کونپلیں۔کلیاں۔بیج۔جڑیں۔اس کےپھلکے وغیرہ استعمال میں لائے جاتے ہیں۔
انحلال:کسٹرائیل کا ایک حصہ ساڑھے تین حصہ الکوہل(90فیصدی)میں۔آئل آف ٹرپن ٹائن گلے شل ایسی سٹک ایسڈ میں ہر نسبت سے باآسا حل ہوجاتا ہے۔

بطور ایندھن کا تیل
ریکنولک ایسڈ ، جو ارنڈی آئل کا بنیادی جزو ہے ، اس مادے کے بہت سے استعمالات کرتا ہے ، اور یہ بایوڈیزل کی تیاری کے لئے ایک قابل عمل مواد ہے۔ارنڈ کے تیل سے حاصل کردہ بائیو ڈیزل اس سے کہیں زیادہ سستا اور ماحول دوست ہے جو دوسرے تیلوں سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ ، اس ایندھن کا استعمال دوسروں کے مقابلے میں کم آلودگی پھیلاتا ہے جو تیل سے ماخوذ ہیں۔ کاسٹر تیل تیل کیمیائی صنعت کے لئے ایک بڑھتا ہوا قیمتی ذریعہ ہے۔
پہلے زمانے میں مصریوں نے اسے اپنے چراغوں کے لیے ایندھن کے طور پر اور جلد اور آنکھوں کے مسائل کے گھریلو علاج کے طور پر استعمال کیا، آج یہ جلد اور بالوں کی صحت اور قبض جیسے ہاضمے کے مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایڈون اسمتھ پیپیرس کی دریافت کے بعد ، جو طب کی تاریخ کے لئے ایک اہم جراحی دستاویز تھی ، اس میں مادہ کی ایک بڑی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے ، ان میں افیون اور ارنڈی کا تیل کھڑا ہے۔اس وقت جو اہم استعمال کیا گیا تھا وہ ایک جلاب کی طرح تھا ، بلکہ لیمپوں کے لئے ایندھن بھی تھا۔ ارنڈی کے پھل کا ذکر اعضاء کی بیماریوں، سر درد، پیٹ، پیٹ اور بڑی آنت کے درد کے علاج کے لیے اور غدود کے علاج کے لیے دوا کے طور پر کیا گیا ہے۔(الطب القدیم)

آثار قدیمہ کے کاوشوں سے جو قدیم طبی دستاویز منظر عام پر آئی ہیں ان میں ارنڈ کا تذکرہ موجود ہے۔یہ خورد رو پودا ہے اس کی افادیت کے پیش نظر کاشت بھی کیجاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.