کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟

کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟

کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟

کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟
کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟

کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور پاکستان

کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں؟
ولیم جیمز کہتا ہے۔بہت سی آفتیں غیرمتوقع تک ہماری مدد گار ہوتی ہیںاگر دوستووسکی اور ٹالسٹائی نے المناک زندگی نہ گزاری ہوتی تو وہ اپنے معروف و مشہور ناول نہیں لکھ سکتے۔مفتی میں اندھاپن اجنبیت اوفقراُ بھرنے اور ترقی کرنے میں اور دین دنیا کی کامیابی کا سبب بن سکتے ہیں۔کبھی کبھی اللہ کی نعمتوں سے اور بعض کو مصائب میں مبتلا کرکے ازما آتا ہے ۔اولاد اور مال دولت بد نصیبی کا سبب بھی ہو سکتے ہیں جیساکہ اللہ تعالی نے،ارشاد فرمایا ہے۔آپ کو ان کے اموال اور اولاد جو کہ میں نہ ڈالیں اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعے دنیوی زندگی میں ہی ان کو عذاب دیا جائے(9:55) ابن الاثیر نے اپنی شاہکار کتابیں مسلام الحصول اور عنہ اسی وجہ سے دیکھیں تو چلنے پھرنے سے معذور تھے ۔امام سرخسی اپنی کتاب المبسوط کی پندرہ جلدی اس وقت لکھی جب انہیں کوئی میں قید کر دیا گیا تھا ابن القیم نے زادالمعاد حالت سفر میں لکھی۔اردو بی اے مسلم کی شرح کشتی کے اوپر لکھ ی۔ابن تیمیہ کے تمام فتاوی اسیری کی حالت میں لکھے گئے۔محدثین نے ہزاروں لاکھوں احادیث اکٹھی کیں چونکہ وہ فقیر غریب اور اجنبی تھے۔ صالحین میں سے ایک شخص نے مجھے بتایا ہے کہ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تو انہوں نے جیل میں پورا قرآن حفظ کر لیا۔اور چالیس بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ کیاابواللیظ المعری نے اندھا ہونے کے باوجود اپنی کتاب اور دوانین لکھے۔طہ حسین بھی نابینا تھا اسی حال میں اس نے مشہور کتابیں اور ڈائری لکھی۔کتنے ہی بلند عہدوں والے اپنے منصب سے معزول کر دیے گئے تو انہوں نے علم کے میدان میں امت کی وہ خدمت کی جو عہدوں پر رہ کر۔وہ نہیں کر سکتے تھے۔اس فلسفہ انسان کو الحاد کی طرف مائل کر دیتا ہے لیکن فلسفہ میں گہرائی انسان کی عقل کو مذہب سے قریب تر کردیتی ہے(فرانسس بیکن )اس کو علم والے ہی سمجھ پاتے ہیں ۔بلاشبہ بندوں میں علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں ۔علم اور ایمان والے بولے اللہ کے قانون میں تم لوگ قیامت کے دن تک ٹہرےکہہ دو میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں،ایک ایک دو دو کر کے اللہ کے آگے کھڑے ہوں اور پھر سوچو کہ تمہارے صاحب پر جن نہیں آتےڈاکٹرا ےاے بریل کہتا ہے۔ایک حقیقی ایمان والے کو کبھی نفسیاتی بیماری لاحق نہیں ہوسکتیایمان لائے اور عمل صالح کرے رحمان کے لیے محبت رکھ دےگا(19:96) اور مرد عورت کیوں ان کے ساتھ حملے صالح کریں گے ہم انہیں خوشگوار زندگی کے گھروں آئیں گے(16:97) حوالہ۔ راز حیات

Leave a Reply

Your email address will not be published.