in

کتاب النبات از ابوحنیفہ دینوری

کتاب النبات از ابوحنیفہ دینوری

کتاب النبات از ابوحنیفہ دینوری
کتاب النبات از ابوحنیفہ دینوری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب النبات از ابوحنیفہ دینوری
تحقیق تعلیق : ڈاکٹرمحمد حمیداللہ

– ڈاکٹر محمد نعیم صدیقی ندوی

پیش کردہ

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

علم نباتات پر عربی میں بکثرت کتابیں تالیف کی گئی ہیں، ابن ندیم کی ” الفہرست میں متفرق طور پرایسی دس کتابوں کا ذکر ملتا ہے لیکن جہاں تک علم ہو سکا ہے، ان میں صرف الاصمعی (المتوفی ۲۱۶ ) کی کتاب النبات والشجر ہی ابھی تک طبع ہو کی ہے (۱) ان کثیر التعداد تصانیف میں ابوحنیفہ دینوری ( التوفی ۴۸۴ھ) کی کتاب النبات کو بھی ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے، بلکہ بعد کے لغت نویسوں نے پودوں اور جڑی بوٹیوں کے ذکر میں جتنی خوش چینی دینوری کی یادگار تالیف سے کی ہے، اتنی کسی اور کتاب سےنہیں کی ۔ چنانچہ لسان العرب ابن منظور،تاج العروس‘‘ مرتضی زبیدی، معجم البلدان یاقوت ك،کتاب المختص‘‘ ابن سيدہ ،’’العباب‘‘ صاغانی اور القاموس فیروز آبادی وغیرہ میں دینوری کی تحقیقات کے اقتباسات کثرت سے ملتے ہیں ۔ ابوحنیفہ دینوری کا شمار تیسری صدی ہجری کے کبار اور ماہرین فن علماء میں ہوتا ہے۔ ان کو امام بخاری ، جاحظ انب قتیبہ اور امام احمد کی معاصرت کا شرف حاصل تھا۔ ان کے فضل و کمال کے حدود، تاریخ و جغرافیہ ، ریاضی و ہیئت لسانیات و بلاغت اور طب ونباتات تمام علوم تک وسیع تھے۔ علامہ سیوطی، یاقوت رومی ، عبد القادر بغدادی اور ابن ندیم سب نے بالاتفاق لکھا ہے کہ
انه من نوادر الرجال جمع بين حكمة الفلاسفة و لسان العرب وله في كل فن سائی و قدم (۲)
بلا شبہ وہ نادر روزگار لوگوں میں تھے۔ حکمت و فلسفی اور عر بیت کے جامع تھے اور ان کو ہرفن میں تقدم وفوقیت حاصل تھی ، (سابق رفیقی، دار مصنفین شبلی اکیڈی، اعظم گڑھ)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحب معجم الادباء نے ان کو انشاء پرداز کی حیثیت سے جاحظ کا حریف قرار دیا ہے ۔ دینوری کی مشہور تصنیف الاخبار الطوال‘ تاریخ کا ایک اہم مآخذ شمار ہوتی ہے، اس جلالت علم وفن کے ساتھ ورع وتقوی اور اخلاق. سیرت میں بھی نہایت عالی رتبہ تھے۔ جمادی الاولی ۲۸۳ء میں وفات پائی۔ (بعض روایات کے مطابق سن وفات ۲۹۰ ہے۔
ابوحنیفہ دینوری کے اشہب قلم نے ہر میدان میں جولانی دکھائی ہے۔ ذیل میں ان کی تصنیفات کی فہرست درج کی جاتی ہے جس پر ایک نظر ڈالنے سے دینوری کی ہمہ جہتی اور جامعیت کا پورا پورا اندازہ ہوجاتا ہے۔(1) کتاب الباءۃ(2)و تحن فيہ العامہ(3) و الشعر والشعراء(4)الفصاحۃ(5)في حساب الدول(6) و البحث في حساب الہند(7)و کتاب الجبر والمقابلہ(8) کتاب النبات (9)المعارف(10)ال جمع در التفريق(11) الاخبار الطوال(12)
تفسیر القرآن ( ۱۳ جلدیں)(13)و کتاب الوصايا(14) نوادر الجبر(15) اصلاح المنطق(16) القبلہ والزوال(17) کتاب الکسوف
ان میں ابھی تک صرف ’’المعارف‘‘ اور اخبارالطوالی زیور طباعت سے آراستہ ہو سکی تھیں۔ اب ڈاکٹر محمد حمید الله صاحب کی تلاش ومحنت سے کتاب البنات بھی شائع ہوگئی ہے، فاضل موصوف کی شخصیت اور میں خدمات
کسی تعارف سے مستغنی ہیں ۔ ان کو اردو کے علاوہ عربی ، انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن تمام زبانوں پر یکساں عبور حاصل ہے اور ان سب میں ان کی عالمانہ تصنیفات ذوق شناسان علم سے داد حاصل کر چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے آج سے پچیس سال قبل دسمبر ۱۹۴۰ء اور پھر جوں ۹۵۰اء کے ’معارف میں ابوحنیفہ دینوری کی کتاب النبات کامفصل تعارف کرایا تھا جن کا ذکر پیش نظر کتاب کے فرانسیسی مقدمہ میں بھی ہے) اور اسی وقت اہل ذوق کویہ خوشخبری بھی سنائی تھی کہ ان کو مدینہ منورہ میں تین ابواب پرمشتمل اس کتاب کا ایک مخطوطہ دستیاب ہو گیا ہے، اور وہ دینوری کے دوسرے خوشہ چینیوں کے اقتباسات یکجا کر کے اس کو مرتب کر رہے ہیں ۔ مقام مسرت ہے کہ فاضل گرامی کی چوتھائی صدی کی عرق ریزی کا حاصل خوان یغما کی صورت میں اہل علم کی ضیافت طبع کے لیے منصہ شہود پر آ گیا ہے اس کے لیے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کا جس قدر بھی سپاس گزار ہوا جائے کم ہے۔
زیر تقریظ کتاب کے آخر میں فاضل مرتب و جامع کے قلم سے فرانسیسی زبان میں ایک طویل مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے یہ یاد دلایا ہے کہ تیسری ہجری کے نامور مؤلف دینوری نے نباتات پر ضخیم جلدوں میں ایک دائرہ المعارف (انسائیکلو پیڈیا )تالیف کی تھی جس کی نظیر نہ یونانی میں ہے، نہ سنسکرت میں اور نہ دنیا کی کسی اور قدیم زبان میں ۔ اس کی جلد سوم اورپنجم ابھی حال میں دریافت ہوئی ہیں ۔ باقی ہنوز پردہ خفا میں ہیں۔
جرمن مستشرق البر برگ کو حیرت ہے کہ تیسری صدی ہجری میں کوئی مسلمان یہ کارنامہ کیسے انجام دے سکا؟، جبکہ یونانیوں کے لیے یہ ہزار سال میں بھی ممکن نہیں ہوا۔
ابوحنیفہ احمد بن دا و دالا ہوزی نے پہلے ابتدائی ساڑھے چار جلدوں میں مختلف ابواب کے تحت نباتات کا ذکر کیا ہے مثلا پہاڑی پودے، میدانی پودے، سمندر کے کھاری پانی میں اگنے والے خوشبودار، بد بودار مسواک کے طور پر استعمال ہونے والے وغیرہ، پھر آخری ڈیڑ ھ جلد میں حروف باء پر نباتات کی ایک عمل اور خصوصی عربی لغت لکھی۔ جلد نجم کا وہ حصہ جس میں الف
سے زے تک نباتات کا تذکرہ ہے۔ استانبول کے مخطوطہ کی اساس پر ۹۵۳اء میں سویڈن کے مستشرق برن ہار ڈلیون نے ایڈٹ کیا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے کتاب النبات کے اپنے مرتبہ زیرنظر نسخہ کے آغاز میں اس جلد کی فہرست باعتبار حروف جم درج کر دی ہے ۔ ڈاکٹر برنبار ڈلیون نے اپنی مذکورہ کتاب کے مقدمہ میں حمید اللہ صاحب کے کام کو سراہا اور ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔273
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرمحمد حمید اللہ کی دیدہ ریزی اور کاوش ومحنت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے متاخرین کی کتابوں مثلا لسان العرب ، تاج العروس ،المخصص ، المحکم البنات اور المفردات لا بن بیطار وغیرہ کی مطبوسہ وم خطوطہ میں چالیس ضخیم جلدات کے ہزاروں صفحات کو سطر بہ سطر پڑھا اور ان میں جہاں کہیں ” قال الدینوری به نظر آیاء اس اقتباس کونقل کر لیا۔ جس کے نتیجہ میں خود فاضل مرتب کے الفاظ میں بحذف مکر رات کوئی دو ہزارفل سکیپ صفحات ہوئے ۔ ان میں آخری حصہ یعنی س،سے ی۔تک کی ابجدی لغت پانچ سو صفحے میں آئی۔ اس آخری حصہ کوفرانسیسی حکومت نے اپنے مصارف پر چھایا ہے۔ جو اہل علم کے شکر یہ کی بجا طور پرمستحق ہے۔
اس کتاب کی پہلی جلد میں جو ڈاکٹر برنبار ڈلیوین نے مرتب کی تھی الف تازے کے ۴۸۲ پودوں کا ذکر تھا اور زیرنظر کتاب، حرف س سے شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ ۲۸۳ نمبر کا پہلا پودا ساج ملتا ہے ، جس کے بارے میں مصنف رقمطراز ہے:
والساج خشب يجلب من الهند واحدته ساجة والساج شجر يعظم جدأ ويذهب طولا وعرضا وله ورق امثال التراس الو يلمية ينغطى الرجل بورقة منه فتكنه من المطر وله رائحة طيبة نشاركه رائحه ورق الجوز، مع رقة ونعمة حكاه ب والفيل معجبة بورقه ورق الموزومنية بالهند والزنج (4) (لسان وتاج: سورج نقص ا/۱۹ صیدے البیرونی ،ساج ورق ۲ے الف)
ساگوان ایک لکڑی ہے جو ہندوستان سے لائی جاتی ہے اس کا واحد ساجہ ہے، اس کا درخت بہت بڑا ہوتا ہے ۔ طول میں بھی اور عرض میں بھی، اس کے پے ویلم والوں کی ڈھالوں کے سے ہوتے ہیں ۔ اس کا ایک ہی پتہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کو چھتری بنائے تو بارش سےبچ سکتا ہے، اس کے پتوں کی بُو جور کے پتے کی بو سے مشابہ ہوتی ہے لیکن زیادہ رقیق اور زیادہ ملائم جیسا کہ ابوحنیفہ دینوری نے بیان کیا ہے، ہاتھی اس کے اور کیلے کے پتے پسند کرتے ہیں ۔ ساگوان ہندوستان اور بلا دز (حبش) میں اگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختلف مصادر میں جو خفیف اختلاف الفاظ ہے وہ بھی حاشیہ میں بتایا گیا ہے کتاب النبات کے زیرنظر حصہ میں آخری پود ۱۲۰ 1نمبر کا پیر ہے، آخر کتاب میں کئی انڈکس بھی شامل ہیں جو مرتب کی محنت و زحمت اور ساتھ ہی جدید طريقہ ترتیب و تدوین سے ان کی مہارت و واقفیت پرشاہد عدل ہیں۔
اس کتاب کے مقدمہ ہی سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ڈاکٹر حمید الد صاحب کے پاس ابھی چار جلد یں اور ہیں ۔ جو دینوری کے اقتباسات پر باب دارمشتمل ہیں ، ان میں سے دوسو صفحے تو کتاب الالواء ( مینی بارش کے ستاروں کے متعلق ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک ہزار سے زائد پودوں کی تصویر میں بھی ہیں جو پرانے عربی مخطوطات سے حاصل کی گئی ہیں ۔ اگر یہ تصویر میں البم کے طور پر شائع ہو جائیں تو مختلف پودوں کوپہچاننے میں بڑی مدد مل سکے گی ، زیر نظر کتاب کے تمام محاسن کے با وجود ایک کی بیسوس ہوتی ہے کہ جس طرح کتاب کے آخر میں ۵۷ صفحات کا ایک طویل مقد مہ فرانسیسی زبان میں شامل ہے، اسی طرح اگر شروع میں عربی زبان میں بھی اس کا خلاصہ دے دیا جاتا تو فرانسیسی زبان سے ناواقف لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ستر سال کی عمر میں جس تلاش تحقیق اور محنت و کاوش کا ثبوت دیا ہے ۔ وہ جوانوں کے لیے بھی باعث عبرت و بصیرت ہے۔ خدا دنیا کے علم و فن کو ادراک چراغ سے روشن رکھے۔
(شکر یہ معارف ستمبر1975ء)
حواشی و حوالہ جات
ا۔
یہ کتاب مطبع یسوبین بیروت سے ۱۸۹۸ء میں طبع ہوئی، تعداد صفحات ۳۸۔ ۲۔ بغية الوعاة
۱۳۲ نجم الادباء ، ج ا ص ۱۳۵ خزانة الادب، جامی ۲۰۔ ۳۔
فہرست هم الادباء ، الغیر ست الاعلام اور بغية الوعاة سے تیار کی گئی ہے۔ ۴۔ (لسان العرب تاج العروس مادة سوچ خصص لابن سیدہ جلدا اس
۹ ارصدت البیرونی لفظ ساج مخطوطہ بروصہ ورق – الف)
275

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

GIPHY App Key not set. Please check settings

    کتاب النبات (دو جلد) ابو حنیفہ دینوری