نیند اور بیداری. انسانی ضرورت قران و طب نبویﷺ کی روشنی میں

نیند اور بیداری

انسانی ضرورت قران و طب نبویﷺ کی روشنی میں

 

نیند اور بیداری
نیند اور بیداری

 

نیند اور بیداری
انسانی ضرورت قران و طب نبویﷺ کی روشنی میں
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سرد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور
سوناجاگناضروریات زندگی کے لئے نہایت اہم ہے۔ اس میں کمی بیشی صحت کے بگاڑ کاموجب بن جاتی ہے۔ نیز ظاہر بدن کوسرد اور اندرونی بدن کو گرم کرتی ہے۔اگر نیندکمی کے ساتھ ہوتو تری پیدا کرتی ہے اور زیادتی کے ساتھ سردی خشکی پیدا کرتی ہے۔ نیند کو سکون سے زیادہ مشابہت ہے۔ نیند میں روح اندر کودھنس جاتی ہے اور اسی وجہ سے بیرونی بدن ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اکثر کپڑا اوڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

نیند ،انمول نعمت، عظیم نشانی

نیند کے دوران روح کا بدن سے نکلنا

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَo(الزمر، 39 : 42)
اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتاہےاور اُن (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے اُن کی نیند کی حالت میں، پھر اُن کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہوچکاہواوردوسری (جانوں) کو مقرّرہ وقت تک چھوڑے رکھتا ہے۔بے شک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں.
“اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، نیند کو سکون اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔” قرآن: (سورۃ ۲۵ آیت۴۷)
نیند اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس سے دماغ کو سکون ملتا ہے اورانسان سونے کی بدولت تازہ دم ہوجاتاہے۔ نیند صحت کو برقرار رکھنے کیلئے اشد ضروری ہے۔ جو لوگ نیند پوری نہیں کرپاتے وہ مختلف بیماریوں اور مشکلات سے دوچارہوجاتے ہیں ۔ نیند کے حوالے سے قرآن کریم میں جو کچھ آیا ہے، وہ جدید معلومات کے تناظر میں قرآنی معجزہ ہے۔ نیندسےمتعلق قرآن کریم میں مختلف آیات آئی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ الروم کی آیت نمبر 23میں ارشاد فرماتا ہے: “اور اللہ کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونااورتمہارااس کے فضل کو تلاش کرنا ہے، یقینااس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاںہیںجو غور سے سنتے ہیں۔” علامہ ابن کثیر ؒ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ: “رات اور دن کے وقت سونا اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
نیند سے انسان کو آرام ملتا ہے۔ سکون حاصل ہوتا ہے۔ تکان اور کلفت دور ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےرزق کی تلاش میں جدوجہداور دن میں اسباب رزق کے حصول کیلئے بھاگ دوڑ کابندوبست کیا ہے۔یہ نیند کی ضد ہے۔” سچ اور حق یہی ہے کہ نیند بھی خلاق عالم کی ان نشانیوں میں سے ایک ہے جو اس کی ربوبیت،خلاقیت اور حکیمیت کا پتہ دیتی ہیں۔انسان مسلسل محنت نہیں کرسکتا،اسے ہر چند گھنٹے محنت مشقت کے بعد چند ساعتوں کیلئے آرام درکار ہوتاہے۔ اس غرض کے لئے خالق حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کااحساس اور صرف آرام کی خواہش پیدا کردینےپرہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے نیند کا ایسا زبردست داعیہ انسان کے وجود میں ودیعت کردیا ہےجوانسان کےارادے کے بغیر حتیٰ کہ اسکی جانب سے نیند کی مزاحمت کے باوجود خود بخودہر چند گھنٹے کی بیداری اور محنت کے بعد اسے آدبوچتا ہے اور چند گھنٹے آرام کرنے پر اسے مجبور کردیتا ہے۔

باب ما يقوله الإنسان عندما يرى في منامه ما يكره

(648)ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، کہا مجھ کو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“البخاري من عدة طرق في عدة مواضع، في الطب باب 39 النفث في الرقية ) 10 / 208 ،)
وفي بدء الخلق باب 11 صفة إبليس وجنوده ) 6 / 338 (، وفي تعبير الرؤيا باب 4 الرؤيا۔الصالحة جزء من ست وأربعين جزء من النبوة ) 12 / 373 (، وباب 10 من رأى النبي .في المنام ) 12 / 383 (، وباب 14 الحلم من الشيطان فإذا حلم فليبصق عن يساره وليستعذ۔بالله ) 12 / 393 ( مع الفتح.۔( 3 ( أعرى منها: أي يصيبه البرد
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النبا ء کی آیت نمبر 9میں بھی نیند جیسی انمول نعمت عطا کرنے پر اپنا احسان جتایاہے، ارشاد الٰہی ہے : وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (9) ۔”اور ہم نے تمہارے لئے نیند کو سکون کا باعث بنایا۔” نیند کی ماہیت اور کیفیت اوراسکے حقیقی اسباب کو سمجھنے کیلئے انسان برسہا برس سے کوشش کررہا ہے۔اس حوالےسے انسان یہ دریافت کرنے میں تو کامیاب ہوگیا کہ نیند انسا ن کے جسم میں مختلف تبدیلیوں کے نتیجے میں طاری ہوتی ہے لیکن اس کے حقیقی اسباب آج تک دریافت نہیں کرسکا۔
نیند قطعاً ایک فطری اور پیدائشی چیزہے اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا اس بات کی شہادت دینے کیلئے بہت کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ خالق حکیم کے سوچے سمجھے منصوبے کی عطا ہے۔ نیند کس طرح آتی ہے؟نیند کا سبب کیا ہے؟
اسکی بابت 3 نظریات سامنے آئے ہیں: (1)ایک نظریہ تو یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک صنوبری غدہ ہوتا ہے، یہ اعصابی نقل و حمل کا وظیفہ انجام دیتا ہے۔
یہ غدہ خون میں فضلہ ڈالتارہتاہے۔ یہ آنکھوں کی پتلی کے اطراف پڑنے والی روشنی کے اثرات سےاعصابی گرد ش کی اطلااعات حاصل کرتا ہے۔ اس غدے میں ملاٹونین نامی مادہ تشکیل پاتا ہے جو 1958ء میں دریافت ہوا۔ یہ دماغ پر نیند طاری کرتا ہے۔
(2)دوسرا نظریہ نیند کے کیمیکل سسٹم کا ہے۔ اسکا حاصل یہ ہے کہ بیداری کے دوران انسانی جسم کے عضلات اوراعصاب محنت کرتےہیںکیمیکل آپریشن اور توانائی خرچ ہونےسے فضلات اورزہریلےمواد بنتے ہیں۔ یہ رفتہ رفتہ خون میںبڑھتےجاتےہیں۔یہ اعصابی نظام یا دماغ کے پاس جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخر دماغ پر اونگھ اور سستی طاری کردیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اسکا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے اور نیند آجاتی ہے ۔
(3) تیسرا نظریہ پرانا ہے ۔اسکا قصہ یہ ہے کہ گزشتہ صدی میں اعصاب کے جراح دماغ کا آپریشن انسان کو بے ہوشکئے بغیر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے آپریشن کرتے ہوئے دیکھا کہ آپریشن کےدوران مریض بیدار ہے اور وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی دوران وہ کیا دیکھتے ہیں کہ مریض پر اچانک اس وقت نیند طاری ہوجاتی ہے جب انکے آلات جراحت دماغ کے اندر موجود بعض عمیق حصوں کے خلیوں کے کسی مرکز کو چھو لیتےہیں۔ اس مشاہدے سے جراحوں نے فرض کرلیا کہ دماغ میں ’’نیند والے مراکز‘‘ پائے جاتے ہیں۔

نیند سے محرومی کے نقصانات:

انگلینڈ کے وسطی علاقے میںلوپرو گ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ماتحت نیند پرریسرچ کرنےوالےایک سینٹر کے ماہرین نے نیندسے محرومی کے نقصانات کا جائزہ لیکر بتایا کہ نیند نہ ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل نقصانات ریکارڈ پرآئے ہیں:
اول تو انسانی نشاط میں اضمحلال آجاتاہے۔بے خوابی،بے چینی اور تناؤ کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔اعصابی ہیجان کاحملہ ہوتاہے اور ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔ مرگی اور پاگل پن کے دورے پڑنےکاامکان بھی رہتاہے۔ نظر کمزورہوجاتی ہے۔ نگاہ میں گڑبڑ پیدا ہوجاتی ہے بعض اوقات چیزیں دہری نظر آنے لگتی ہیں۔
امریکہ کی اوہائیو یونیورسٹی میں نیند پر ریسرچ کرنے والے سینٹر نے بعض افراد کو مسلسل 5روز تک نیند سے محروم رکھا پھر بے خوابی کے اثرات کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ مسلسل 5دن تک نہ سونے والوں میں سے بعض خود کو حرکت دینے سے تقریباً قاصر ہوگئے۔ سوچنے کی صلاحیت کمزور ہوگئی۔ فیصلے کرنے کی اہلیت معمولی سطح تک گر گئی۔بخار زدہ انسان کی طرح فضول باتیں کرنے لگے۔ سوتے ہوئے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اب وہ دیکھیں۔ سوتے ہوئے نبض کی رفتار دھیمی ہوجاتی ہے۔ خون کا دباؤ20تا 25ملی میٹر کے تناسب سے کم ہوجاتاہے۔ تنفس کی رفتار ہلکی ہوجاتی ہے البتہ تنفس زیادہ گہرا اور زیادہ لمبا ہوجاتا ہے۔ خون میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ رات کے وقت نیند کے دوران جسم 33فیصد اور دن کے وقت 67فیصد آکسیجن جذب کرتا ہے۔ جسم رات کےوقت سونے کے دوران 42فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دن میں سوتے وقت 58فیصد خارج کرتا ہے۔
درجہ حرارت میں معمولی کمی واقع ہوتی ہے۔نیند کے دورا ن عضلات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ نیند کے دوران ہضم کا نظام آرام کرتاہےمعدے اور آنتو ں کی حرکت ہلکی ہوجاتی ہے۔ہاضم موادکی تشکیل کم ہوجاتی ہے۔ جگر اوربنکریاس کا عمل مدھم ہوجاتا ہے۔ بعض غدوں کا عمل ہلکا پڑ جاتا ہے۔

نیند امراض کا علاج ہے ۔

بیفلوف نے کئی امراض کا علاج نیند کے ذریعے کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وہ مریض کو گدگدے بستر پر لٹاتا۔ روشنی اور شور سے دور رکھتا ۔ مخصوص مقدار میں خواب آور دوا دیتا۔ مریض گہری نیند میں چلاجاتا۔3 ہفتے تک نیند کا سلسلہ جاری رکھتا۔ مریض کو کھانے پینے اور قضائے حاجت کیلئے جگاتا اور پھر سلادیتا۔ مریضوں نے بیفلوف سے کہاکہ وہ خود کو چاق و چوبند محسوس کررہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ انکی عمر کئی برس کم ہوگئی ہے۔

دن کی روشنی اور رات کی نیند

کائنات میں فطری نظام قائم ہے جس کے مطابق تمام جاندار اشیاء اپنے کام و راحت کے اوقات کا تعین کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے رات دن کے گھائو کو قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ شہد مکھی ہو ایک عام گھریلو مرغیاں وہ سور کی آمد کے وقت کو پہنچان کر اپنے اعمال میں مشغول ہوجاتی ہیں۔شہد کی مکھیاں پالنے والوں کا کہنا ہے مگس بانی کے فارموں میں جو ڈبے رکھے جاتے ہیں ان کے سوراخ کا رخ مشرق کی طرف رکھا جاتا ہے جیسے ہی صبح کی پو پھوٹتی ہے مکھیاں کام کے لئے مستعد ہوجاتی ہیں۔گھریلو مرغیوں کواگر رات کے وقت روشنی میں رکھاجائے تو وہ آرام نہیں کرتیں بلکہ دن کی سی مصروفیات جاری رکھتی ہیں۔اسی طرح پوری کائنات کو قیام کرلیں سمجھ لیںدن کی روشنی رات کی نیند کے لئے ضروری ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)الفرقان :اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایااُٹھنے کے لیے
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (9)
اور تمہاری نیند کو راحت کا باعث بنایا۔
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا (10)
اور رات کو پردہ پوش بنایا۔
وَجَعَلْنَا النَّـهَارَ مَعَاشًا (11) سورۃ النباء
نیند بھی غذاکی طرح ہے زیادہ کھائو تب نقصآن کم کھائو تب نقصان۔زیادہ سونا انسانی سلاحیتوں کو کمزور کردیتا ہے اسی طرح
انتہائی کم عرصے کے لیے بھی نیند سے محرومی ہماری صحت کو متاثر کر سکتی ہے
سونے اور بیداری کا عمل اہم انسانی رویوں میں سے ایک ہے۔ ہم اپنی زندگی کاتقریباً ایک تہائی حصہ سوتے گزار دیتےہیںاور اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
سوتے وقت ہمارا دماغ معلومات کویاد کرتا اور اس پر کام کرتا ہے۔ ہمارا جسم نامیاتی مادے کو صاف کرتا اور اپنی مرمت کرتا ہے جس سے ہم جاگنے کے بعد صحیح طرح سے کام کر سکتے ہیں۔
اکثر لوگوں کا ایک رات نہ سونے کے باعث برا حال ہوجاتاہےاور نیند کے بغیر تین راتوںکے بعد ہمارا کام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ایک مطالعے کے مطابق 17 سے 19 گھنٹے جاگنے سے بہت سے معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت بالکل ویسے ہی متاثر ہوتی ہے جیسے ایک شراب پینے والے کی۔یہ اثرات وقت کے ساتھ بد سے بدتر ہوتے جاتے ہیں۔ نیند کے بغیر گزارا گیا سب سے طویل ترین وقت گیارہ دن سے زیادہ تھا جس کے نتیجے میں شدید نفسیاتی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پوری توجہ سے کام کرنے اور قلیل مدتی حافظے سمیت دماغ میں خلل جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔لیکن جہاں سائنس دان ایک عرصہ قبل نیند کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں وہیں اس میں قدرتی روشنی کے اہم کردار کو کبھی کبھی نظرانداز بھی کیا جاتا ہے۔

نیند کے لئےباڈی کلاک کو ترتیب دینا

روشنی کے اہم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں میں موجود خصوصی سینسرز کے ذریعے ہمارے روزمرہ کے معمول یا ہماری باڈی کلاک یعنی جسم کی گھڑی کو ترتیب دیتی ہے۔
ہماری آنکھ ہمارے ماحول میں روشن اور تاریک دورانیے کاپتہ چلالیتی ہے اور ہمارے جسم کے معمول کو ترتیب دیتی ہے تاکہ آپ کے جسم اور دن کے اوقات میں مطابقت پیدا ہو۔
اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی آنکھوں کو کوئی شدید نقصان پہنچتاہےوہ اپنے باڈی کلاک کو بری طرح سے متاثر محسوس کررات کو کام کرنے والے خاص طور پر نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں
روشنی تک رسائی کے بغیر انسانی جسم کا نظام معمول سے ہٹ جاتا ہے۔
ہوائی جہاز کے سفر کی تھکان روشنی کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔ نئی جگہ اور نئے ٹائم زون میںروشنی سے سامنا ہمارے جسم کو مقامی وقت کے مطابق ترتیب دینے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں سونے کا صحیح وقت بتاتا ہے۔
اٹھارویں صدی میں، دنیامیں زیادہ تر لوگ کھلے آسمان تلے کام کرتے تھے اور انھیں دن سے رات کی تبدیلی کا پتہ ہوتا تھا۔
آج، ہم میں سے اکثر ان ماحولیاتی اشاروں سے محروم رہتے ہیں کیونکہ ہم عمارتوں کے اندر کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اب زراعت اور ماہی گیری کی نوکریاں صرف ایک فیصد ہیں۔
ترقی کے ساتھ ساتھ ہم روشنی سے محروم نوع بن چکے ہیں، جس کا ہماری نیند کے معیارپر فرق پڑرہاہے اور اس کے نتیجے میں صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ روشنی کی یہ مناسب مقدار ہر انسان میں مختلف ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کو روشنی کی ضرورت ہے جو کہ عمارتوں کے اندر کام کرنے والے بہت سے افراد کو دستیاب نہیں ہوتی۔
ایک قابل توجہ منفی اثر سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر( SAD) ہے، جو کہ ذہنی دباؤ کی ایک قسم ہے۔ایک اندازے کے مطابق دو سے آٹھ فیصد یورپی شہری اس میں مبتلا ہیں اور اس کو سورج کی روشنی کی عدم فراہمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی جگہوں پر قدرتی روشنی کی کمی مسائل پیدا ہونے کی وجہ بنی ہے۔رات میں کام کرناہم میںسے اکثر خاطر خواہ قدرتی روشنی حاصل نہیں کر رہے اور رات کی ڈیوٹی کرنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ مسئلہ ہے۔
انھیں ایسے وقت پر کام کرنا پڑتا ہے جب باڈی کلاک جسم کو سونے کے لیے تیار کر چکی ہوتی ہے اور چستی اور کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ وہ بے شک دن میں سونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اکثر کم دورانیے یا اچھی نیند نہیں ہوتی۔
درحقیقت جب وہ نیند میں ہوتے ہیں تو کام کرتے ہیں اور تب سوتے ہیں جب انھیں نیند نہیں آتی اور اس کے صحت پر ایسے منفی اثرات ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں اب معلوم ہو رہا ہے۔
رات کی ڈیوٹی کرنے والے 97 فیصد ملازمین کئی سال کام کرنے کے باوجود بھی اپنے کام کے انداز میں ڈھلنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔اس سے فوری طور پر غیر معمولی جذباتی ردعمل اور معلومات کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
رات کی شفٹ میں کام کرنے سے صحت کے بہت سے پہلو متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے انسان کی زندگی میں سےچھ سال تک کاعرصہ کم ہو سکتا ہے ۔ وہ اپنی جسمانی صحت کوبدلنےمیںناکام رہتےہیں کیونکہ ان کے دفتر یا فیکٹری میں مہیا کی جانے والی مصنوعی روشنی ماحولیاتی روشنی کے مقابلے میں بہت مدہم ہوتی ہے، ایک روشن دن میں دوپہر کی قدرتی روشنی، دفتر کی روشنی کے مقابلے میں 250 مرتبہ زیادہ روشن ہوتی ہے۔جب رات کو کام کرنے والا گھر جانے کے لیے نکلتاہےاور قدرتی روشنی کے سامنے آتا ہے تو اندرونی نظام کو اشارے ملتے ہیں کہ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے۔
قدرت کا ایسا انتظام ہے جسکے اثرات ہمہ گیر ہوتے ہیں۔دھوپ میں جس قدر روشنی ہوتی ہے وہ انسان کسی نہ کسی حد تک برداشت کرتا ہے اوراس میں راحت محسوس کرتا ہے،اتنی ہی مقدار میں مصنوعی روشنی انسان برداشت نہیں کرسکتا۔مان لیا کہ کسی طریقے سے سورج جتنی روشنی پیدا کربھی لی جائے تو وہ قوت برداشت سے باہر ہوگی۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ‌ؕاَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ۞
آپ کہیے یہ بتاؤ !اگر اللہ تمہارے لیے قیامت تک کی مسلسل رات بنا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ کیا پس تم نہیں سنتے۔
قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ‌ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ‏ ۞
(آپ کہیے یہ بتاؤ اگر اللہ تمہارے لیے قیامت تک کا مسلسل دن بنا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو تمہارے لیے رات لے کر آئے جس میں تم آرام کرسکو ؟ کیا پس تم نہیں دیکھتے(القرآن –القصص آیت نمبر 72
ہارورڈ کے ایک مطالعے کے مطابق کام کی جگہ چمکتی روشنی میں رہنے اور دن میں قدرتی روشنی سے دور رہنے کی وجہ سے رات کی ڈیوٹی کرنے والے ملازمیں مکمل طور پر رات کو جاگنے والے بن جاتے ہیں۔
نرسنگ ہومز میں رہنے والے بھی اکثر سورج کی روشنی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ار دیواری کے اندر روشنی انتہائی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہاں رہنے والے اکثر بہت کم قدرتی روشنی حاصل کر سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بری نیند کی شکایت عام ہے۔
ایک ڈچ مطالعے نے نرسنگ ہومز میں روشنی کی مقدار کو بڑھایا، جبکہ ممکنہ حد تک سونے کے کمروں کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی۔اس سے دن کے اوقات میں سونے میں کمی جبکہ رات کی نیند کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی جس سے ذہنی صلاحیت میں بہتری آئی۔
روشنی سے محرومی صرف قدرتی روشنی کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ یہ صحیح وقت پر روشنی کی فراہمی سےمتعلق بھی ہے۔رات میں استعمال ہونے والی لائٹ سے ہماری باڈی کلاک سست روی کاشکار ہوجاتی ہے جس کے باعث ہم اگلے روز تاخیر سے جاگتے ہیں صبح کی روشنی باڈی کلاک کو متحرک کرتی ہے جس کی وجہ سے ہم جلدی اٹھ جاتے ہیں۔جب انسان کھلے آسمان کےنیچے کام کر تے تھے تویہ مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ ہمیں صبح اور رات دونوں کا سامنا رہتاتھا۔
دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے بہت سے لوگ اپنی نیند کو بہتربنا سکتےہیںلیکن آج کل ہم میںسے زیادہ تر طلوع آفتاب یاغروب آفتاب کے سائیکل کے کچھ حصے کا ہی تجربہ کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر یونیورسٹی کے طلبا کے بارے میں درست ہے جو دیرسے دن کا آغاز کرتے ہیںاور پھر شام میں زیادہ وقت باہر گزراتے ہیں۔
رات کی تاریکی میں استعمال ہونے والی روشنی ان کے باڈی کلاک کو تاخیر کا شکار کر دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ دیر سے بیدار ہوں گے اور دیر سے سوئیں گے۔ یہ نوجوانوں اور بالغوں میں ہارمونل تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جس سے باڈی کلاک دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہو جاتا

قرآن و سنت میں نیند کے حوالے سے ہدایات:

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ! کیا میری یہ اطلاع صحیح ہے کہ تم(روزانہ)دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور بغیر روزے بھی رہو۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔صحيح البخاري ،كِتَاب النِّكَاحِ۔ومسلم (1159)
قرآن و سنت میں نیند کے بارے میں مندرجہ ذیل ہدایات ہمیں دی گئی ہیں : نیند کا وقت رات ہی کو رکھا جائے (القران)لیکن دوپہر کے وقت کچھ دیر سستانے میں کوئی مضائقہ نہیں(قیلولہ)آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو(شعب الایمان للبیہقی)روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:تم لوگ قیلولہ کیاکرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتامستدرك سفينة البحار – (ج / ص 1)الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير (2/ 288)كنز العمال (7/ 802)
رات کو جلد سونے کا اہتمام کیا جائے اور صبح سویرے اٹھنے کی عادت ڈالی جائے۔(حدیث)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر مبارک چمڑے کا بنا ہوا تھا،جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأصحابہ وتخلیھم من الدنیا، 5 / 2371، الرقم : 60۹1، ومسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب التواضع في اللباس والاقتصار علی الغلیظ منہ والیسیر في اللباس والفراش وغیرہما وجواز لبس الثوب الشعر وما فیہ أعلام، 3 / 1650، الرقم : 2082، والترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في فراش النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 4 / 237، الرقم : 1761، والبیہقي في السنن الکبری، 7 / 47،
بستر نہ تو زیادہ نرم ہواور نہ ہی اتناسخت ہو کہ نیند ہی نہ آئے۔خالی پیٹ سونے سےپرہیزکیاجائے۔ سونے سے قبل مسواک ضرور کرلی جائے۔ سونے سے قبل ہاتھ اورمنہ دھو لیا جائے۔ نشہ آور اور خواب آور دواؤں سے اجتناب برتا جائے۔

سونے سے پہلے بستر جھاڑنا

بستر پر بیٹھنے سے پہلے اسے جھاڑ جھنک لیا کروگرم مرطوب علاقوں اور بڑی بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں میں جن کے آس پاس بانغ ہوتے ہیں،یہ احتیاط بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ کوئی موذی جانور بستر میںچلاجاتاہے اور بے احتیاطی میں سونے والے کو کاٹ لیتا ہے۔ اس کا مجھے خود کئی دفعہ تجربہ ہوا ہے۔نواری پلنگوں میں چوہے تو اکثر اور بعض دفعہ سانپ بھی گھس جاتے ہیں ۔ اسی طرح نیوارسیٹ میں بھی ایسے جانور انڈے بچے دے کر وہاں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔
کچھ عرصہ ہوا ہمارے علاقہ میں ایک زمیندار کے ڈیرے پر جو گاؤں سے باہر بھی دور تھاایک المناک حادثہ پیش آیا۔ان کی تیرہ چودہ سال کی بچی ایک رات اپنے بستر پر بیٹی ہی تھی کہ چلا اٹھی ماں! دیکھنا کوئی چیز میرے کرتے میں گھس گئی ہے اور مجھے کاٹ کھایا ہے۔ مال دوڑ کر پہنچی جلدی سے اس کا کرتہ اتار دیا۔ مگر اس کا کرتہ اتارتے اتارے اس چیزنے اسے کاٹ کھایا۔ لڑکی کو دو تین گھنٹہ بعد مرگئی، اور ماں بیچاری ہسپتال میں پندرہ روز پڑھی رہی ۔ کاٹنے والی چیز نہایت زہریلی تم کا سپوایا تھا۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو اپنا بستر جھاڑے، اس لئے کہ وہ نہیں جانتاہے کہ کیا چیز اس کے پیچھے اس میں داخل ہوگئی ہے۔ پھر کہے باسمک رب وضعت جنبي وبک أرفعه إن أمسکت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادک الصالحين یعنی اے پروردگار تیرے ہی نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا، اور تیری ہی مدد سے میں اسے اٹھاؤ نگا۔ اگر تو میری روح کو قبض کرے تو اس پر رحم فرما اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کی حفاظت کر جس طرح کہ تو نیکوکاروں کی حفاظت کرتاہے ۔ صحیح بخاری:جلد سوم)
سائنس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیل بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جوانتہائی چھوٹےہونےکے سبب نظر نہیں آتے۔اگر بستر کو بغیر جھاڑے اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تویہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کاسبب بنتے ہیںاور سائنسنے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلوں کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سوتے ہوئے دائیں کروٹ پر لیٹنے کا حکم بھی دیاہے اور اس ضمن میںسائنس کا کہناہے کہ ایسا کرنے سے دل پر دباؤ بہت کم ہوتا ہے جس کے باعث دل صحیح بہتر طریقے سے کام کرتاہے اور سونےکے دوران بھی پورے جسم کو خون کی سپلائی بہترین انداز میں ہوتی ہے جبکہ دل کے دورے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ دائیں کروٹ پر سونے سے معدہ بھی اوپر کی جانب ہوتا ہے اور اسے رات میں کھائی جانے والی غذا کو ہضم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ رات
سونےکے دوران معدے میں موجود غذا اچھی طرح ہضم ہوتی ہے جس کے باعث انسان بیدار ہونے پر خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہے اور تیزابیت بھی نہیں ہوتی۔

سونے کا طریقہ:

رسول کریم کا ہر عمل ہمارے لئے حسین نمونہ ہے۔ پیغمبر اسلام کا معمول تھا کہ سخت بستراستعمال کرتےتھے۔دائیں کروٹ لیتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتےتھے۔پیغمبر اعظم و آخر الٹا لیٹنا پسند نہیں کرتے تھے۔
طبی لحاظ سے بھی دائیں جانب لیٹنا ضروری ہے کیونکہ معدے کا اخراج بھی دائیں جانب ہوتاہے۔ بائیں جانب لیٹنےسے دل پر بوجھ پڑتا ہے اسی طرح الٹا لیٹنا بھی مفید نہیں۔ رخسار کے نیچے ہاتھ رکھنے سے نچلے جبڑے کو راحت ملتی ہے، جس سے نیند کے دوران ڈھیلا ہوجانے کےباوجود منہ نہیں کھلتا اور خراٹے نہیں نکلتے۔سیدھا لیٹنےسےخراٹوںکاامکان زیادہ رہتاہے چنانچہ دائیں جانب لیٹنا ا حسن عمل ہے۔ طبی تجربات و مشاہدات نے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ سخت بستر استعمال کرتے ہیں انہیں کمر کا درد بیحد کم ہوتا ہے۔ لیٹنے کے دوران کروٹ لیتے رہنا چاہئے۔ قرآن پاک میں اصحاب کہف کا ذکر آیا ہے جو کئی سو سال تک سوتے رہے تھے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الکہف کی آیت نمبر 18میں بتاتا ہے: “ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور انکا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔” قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ سے پتہ چلتاہے کہ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف کو 309برس تک دائیں اوربائیں مسلسل کروٹ دلاتارہتاتھا کروٹ دلانےمیںبڑی مصلحت پوشیدہ ہے ۔
جدید طب سے پتہ چلا کہ مسلسل ایک کروٹ پر لیٹے رہنے سے جسم کے کئی حصوں میں زخم پیدا ہوجاتے ہیں چنانچہ فالج، ریڑھ کی ہڈی اور کولہوںمیں ٹوٹ پھوٹ اور طویل کومے والے مریضوں کے لواحقین پر لازم ہے کہ وہ انہیں چند گھنٹوںکیلئے کروٹ دیدیا کریں۔ اس سے یہ حکمت بھی معلوم ہوئی کہ اگراللہ تعالیٰ اصحاب کہف کو صرف دائیں طرف کروٹ دیتاتوبائیں جانب زخم ہوجاتے اور اگر صرف بائیں طرف کروٹ دیتا تودائیں جانب زخم ہوجاتے۔اگر ایک ہی طرف کمر پر لیٹارہنے دیتاتو کمر میں زخم ہوجا تے اطباء کو اس عمل کی حکمت عصر حاضر میںجاکر اب معلوم ہوئی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ نیند خلاقِ عالم کی انمول نعمتوں اور عظیم الشان نشانیوںمیںسے ایک ہےاور پھرنیند کااسلامی طریقہ بھی انسانوں کیلئے اپنے اندر بہت ساری حکمتیں سموئےہوئےہے۔یہ سارے حقائق 1400 برس قبل کسی کو معلوم نہ تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی امی نے سونےسے متعلق جو کچھ قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ کے ذریعےبتایاوہ اللہ تعالیٰ کےعطا کردہ علم کا ثمرِجمیل تھا

قیلولہ کے فوائد

اللہ تعالی نے انسانی صحت کے لیے نیند بھی اہم اور نہایت مفید بناتی ہے۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ ، دھندوں اور جھمیلوں سے چور انسان کی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ آرام حاصل کرے تا کہ دوسرے دن تازہ دم ہو کر پھر زندگی کی تگ و دو میں لگ جائے ۔ اور یہ خواہش صرف نیند سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔ اس سے ساری تکان اور کوفت دور ہو جاتی ہے۔ اور بدن کی کھوئی ہوئی قوتیں عود کر آتی ہیں ۔
اگر چند دن نیند ترک کر دی جائے یا کسی کو جبرا سونے سے روک دیا جائے تو تھوڑے ونوں بعد یا تو وہ ہلاک ہو جائے گایا اسے کوئی خطرناک مرض لاحق ہو جائے گا۔ بعض ممالک میں مجرموں سے اقبال جرم کرانے کی غرض سے کئی کئی دن مسلسل انہیں بیدار رکھنے کاحربہ کام میں لایا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں متعدد بار نیند کو موجب راحت و آرام قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا ترک کر دینا مناسب وقت سے کم کر دینا اسلام میں ہرگز پسندیدہ بات نہیں ہے۔ چنانچہ اسلام کی ابتداء میں ہی حضرت بانی اسلام علیہ التحيۃ والسلام کو جب آپ رات کا بیشتر حصہ بیداری اور عبادت میں گزارتے تھے، اللہ تعالی نے تاکیدی حکم دیا ’’آپ مناسب وقت تک ضرور سویا کریں۔ بے شک رات کا جاگتا نفس کو قابو میں لانے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن اگر آپ طول دیں گے اور تکان سے اپنے آپ کو چور کر لیںگے لیکن اپنی صحت برباد کر لیں گے)تو دن کے کام اور دنیا کی ہدایت سے متعلق مہمات جلیلہ جو محنت شاقہ چاہتی ہیں،کیسے انجام پائیں؟(سورہ مزمل)
حضورﷺ کا معمول تھا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر استراحت فرماتے۔ یہ آرام کرنا عربی میںقیلولہ کہلاتاہے۔قرآن کریم میںگواس کی نسبت کوئی واضح ہدایت نہیں سکتی، لیکن ضمنا اس کا ذکر آیا ہے۔ سورہ نور کے آٹھویں رکوع میں جہاں گھر میں داخل ہونے کے لیے خدام اورباشعور نابالغ بچوں کواجازت حاصل کرنے کا علمہے، تین ایسے اوقات بیان کیےگئے ہیں، عشاء کی نماز بعد صبح کی نمازسے پہلے اوردوپہرکے وقت جب کپٹرے اتاررکرآ رام کیا جاتا ہے۔
قیلولہ کی سرد ممالک میں تو کم ضرورت پیش آتی ہے ،لیکن گرم علاقوںمیں کھانا ہضم کرنے اور گرمی کی کوفت اورتکان دور کرنے کے لیے یہ بہت مفید ہوتا ہے اور اس کے اختیار کرنے سے طبیعت میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ شب بیدار لوگوں کی صحت کے قیام کے لیے تو یہ ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات مسلمہ اور تجربہ شدہ ہے کہ بہت زیادہ تکان اوردماغی محنت کے بعد دن میں چند منٹ کی نیند بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔

زیادہ سونے کا نقصان۔

زیادہ سونا بدن میں بہت زیادہ رطوبت پیدا کرتاہے اور پھر اس میں سردی کی زیادتی،سرودی خشکی پیداکردیتی ہےجس سےخون میںغلظت اور سوداویت ( گاڑھا اور سیاہ خون)پیداہوجاتی ہے۔ گویاخون اور دماغ دونوںپربرا اثر پڑتاہے نیند غذا کو ختم کرتی ہے۔ جس سے بدن میں گرمی پیدا ہوتی ہے۔ اور جب بدن میں غذانہیں ہوتی تو روح اور جسم کو کھیل کر کے ٹھنڈا کر دیتی ہے۔دن کے وقت سونا نہایت برا ہے۔ اس سے جسم کا رنگ خراب ہو جاتاہے۔ تلی(حال)میں نقص پڑ جاتاہے جس سے وہ خون کو اچھی طرح صاف نہیں کرسکتی منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ تمام جسمانی قوتیں سست ہوجاتی ہیں ۔
ذہن کند ہو جاتاہے۔اس لئے دن کے وقت ہونے کی عادت کو آہستہ چھوڑ دینا چاہئے۔البتہ جولوگ رات کو جاگتے ہیں یا عبادت گزار ہیںیادماغی محنت کرتے ہیں،ان کے لئے قیلولہ کرنا بہت ضروری اور مفید ہےکیونکہ رات کی تھوڑی نیندسے ان کی غذا پوری طرح ہضم نہیں ہوتی،اس لئے قیلولہ کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔
بیداری کااثرتمام باتوں میں نیند کے برعکس ہوتا ہے یعنی بیداری کی مشابہت حرکت سے ہے اور اس سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔
بے خوابی (یعنی ایسی حالت جس میں پوری طرح نیند نہ آ ئے اور بھی بیداری بھی دونوں کی درمیانی حالت میں نیند چونکہ حرارت کو بدن کے اندر کی طرف لے جاتی ہے اوربیداری باہر کی طرف تو اس کشمکش میں طبیعت گھبرا جاتی ہے اور ساتھی کیونکہ وہ پوری طرح اندر کی طرف متوجہ ہو کر غذا کو ہضم کر سکتی ہےاور نہ ہی باہر کی طرف پوری طرح رجوع کر کے فضلات کا اخراج کرسکتی ہے،اس لئے غذافاسدہو جاتی ہےاور شکم میںتلخی ریاح اورقراقرپیداہوجاتے ہیں نیند کے
تعلیمی صورت یہ ہے کہ جوانی میں دن رات کی چوتھائی (یعنی چھ گھنٹے )کافی ہے۔ البتہ بچوں،بوڑھوںاورمریضوں کو زیادہ سونا چاہئے

Leave a Reply

Your email address will not be published.