نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج

نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج

نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج

نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج
نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج

 

نیم کے چھلکوں کا قہوہ۔۔آرتھرائٹس کا شافی علاج
۔

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

۔یہ انٹی بائیوٹک ہے جسم سے زہریلے فضلات کو خارج کرکے پھوڑے پھنسیاں اور بہتے زخموں کو ٹھیک کرتا ہے۔جن لوگوں کے منہ سے بدبو آتی ہو اس قہوہ کے استعمال سے معدہ سے اٹھنے والے گیس کے بھبھکارے بند ہوجاتے ہیں۔کھانے کے بعد معدہ کی گرانی دور ہوجاتی ہے۔پیٹ کیڑے مر جاتے ہیں ۔
نیم کاایک طبی تجربہ۔!..نیم ایک معجزاتی دوا
ڈیلٹاکورٹرل کا قدرتی متبادل..؟جی ہاں۔نیم کو آپ “ لائف سیونگ ڈرگ ” کہہ سکتے ہیں۔
ایک بہن گزشتہ کئی سال سے
آرتھرائٹس کی مریضہ ہیں۔سارے جسم کے جوڑ درد کرتے تھے۔خاص طور پر ہاتھوں کی انگلیاں، انگوٹھے، کلائیوں،میں شدید درد رہتا تھا۔،یہ کیفیت ہوگئی تھی کہ پانی کا گلاس ۔چائے کا کپ پکڑنا مشکل ہوگیا تھا،کسی بوتل کا ڈھکن کھولنا تو تقریباً ناممکن تھا۔اسی طرح دن بھر کے کام کاج برتن، کپڑے دھوناانتہائی دشوار تھا،ڈاکٹرز کے کہنے پرآر. اے. فیکٹر آرتھرائٹس کا ٹیسٹ کرایا گیا،جو پازیٹو آیا اور ایلوپیتھک کی مشہور دوا ڈیلٹاکورٹرل جسے لائف سیونگ ڈرگ۔۔کہا جاتا ہے شروع کر دی گئی( دوا کا نام مجبوراً لکھنا پڑا ہے )
ایک ٹیبلٹ سے فرق نہ ہوا تو دو ٹیبلٹ۔کھانے کو کہا گیا مگر فائدہ نہ ہوا۔پھر تین، چار، پانچ اور آخر میں۔روزانہ چھ گولیاں کھانے کے بعد بھی،!..درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی،ہماری بہن جو خود تعلیم یافتہ ہیں تحقیقی مزاج رکھتی ہیں، اس مرض کا قدرتی علاج تلاش کرتی رہیں کسی !..نے نیم کے پتوں کا قہوہ تجویز کیاحیرت انگیز طور پرپہلی بار نیم کے پانچ پتوں کا قہوہ بنا کر پینے سے درد میں کمی محسوس ہوئی
بہن نے اس تجربے کا مجھ سے تذکرہ کیا میں نے گزارش کی اس قدرتی نسخے کو جاری رکھیںاور ہر تبدیلی کو نوٹ بک میں لکھتی جائیں۔
!الحمدللہ! الحمدللہ! الحمدللہ
صرف ایک ہفتے میںڈیلٹاکورٹرل کی ٹیبلٹ کم ہوتے ہوتےصرف ایک رہ گئی ہے،ہاتھوں کا درد اور سوجن، ورم تقریباً ٹھیک ہوگیا ہے
ایک ٹیبلٹ صرف اس لئے کھا رہیں کہ ڈاکٹرز کے مطابق یہ دوا ساری عمر کھانی ہو گی ورنہ ضرورت محسوس نہیں ہو رہی ہم اپنی بہن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہےغذائی پرہیز کے ساتھ ساتھ فیملی کے مزید افرادجنہیں جوڑوں کا درد آرتھرائٹس کی تکلیف تھی یہ نیم کا قہوہ دن میں ایک کپ پلایا گیاخود میں نے تقریباً ایک ہفتہ اس کا تجربہ کیاذاتی طور مجھے بھی بیحد فائدہ ہوا جسم کے جوڑوں کے درد تقریباً گم ہوگئے۔
آج تقریباً دو ماہ مسلسل مشاہدے کے بعداس تجربے کو اعتماد کے تحریر کر رہا ہوں۔
آرتھرائٹس جوڑوں کے درد کے مریض اپنے ڈاکٹرز کی بتائی ہوئی ادویات کے ساتھ ساتھ یہ قدرتی نیم کا قہوہ شروع کریں تبدیلی نوٹ کرتے جائیں بہتری آنے پر دوا کم کرتے جائیںہر ایک ماہ بعد ٹیسٹ بھی کراتے رہیںکسی منفی اثرات، الرجی، ری ایکشن کی صورت میںفوری بند کر دیں فائدہ محسوس ہونے پر آہستہ آہستہ اپنے ڈاکٹر کی مشاورت سے دوا کم کر کے اس معجزاتی قدرتی دوا کو متبادل بنا
سکتے ہیںاس کے علاوہ بھی نیم کے بے شمار فوائد ہم صدیوں سے جانتے ہیں
:ترکیب۔۔صبح نہار منہ۔۔نیم کے پانچ تازہ پتے۔۔ایک بڑے کپ پانی میں پانچ منٹ ابال کر مناسب گرم .پی لیجیے اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے…مفید بنا دے آمین یا رب العالمین
نیم درخت کا تعارف
نیم کے درخت کی تاریخ قریب 4000 سال پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوبصورت اور گہرے سبز پتوں والا چھتری نما درخت نیم انگریزوں کا پسندیدہ درخت ہے۔ اس درخت کو انگریزی میں Margosa Tree کہتے ہیں اور اس کانباتاتی نام Melis Azedarach ہے۔ عربی و فارسی میں نیب اور پنجابی میں اسے نم کہتے ہیں۔جبکہ ویدک سنسکرت میں اس کا نام نمبا (NIMBA) ہے۔
یہ ایک سدا بہار درخت ہے اور ہر طرح کے موسم کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ نیم کا درخت بذات خود تو کڑوا ہوتا ہے لیکن اس کا بیج نمولیاں میٹھی ہوتی ہیں۔ شاخیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔ جون کی گرمی میں اس کا بیج بخوبی پک جاتا ہے۔ یہ بیج جنہیں نمولیاں بھی کہا جاتا ہے پکنے کے بعد بیج بن جاتا ھے جو اسی وقت لگا دینا چاہیے۔ بیج لگانے کے بعد ایک ہفتے میں پودا نکل آتا ہے۔
نیم کے پیڑ 30 سے 40فٹ اونچے اور خوب سایہ دار ہوتے ہیں۔ یہ سائے کے لحاظ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس کے پتے نوک دار لمبوترے دو ڈھائی انچ لمبے کنارے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پتے نہایت خوبصورت ہوتے ہیں۔ ٹہنی چھ سے دس انچ لمبی جن پر پتوں کے چھ سے گیارہ جوڑے لگتے ہیں۔ موسم بہار کے شروع میں پتے جھڑتے اور نئے سرخ رنگ کے ملائم چمک دار اور خوبصورت پتے نکلتے ہیں۔ جو نکلتی دھوپ میں بڑا ہی خوبصورت نظارہ دیتے ہیں۔
اس کا تنا اور شاخیں سیاہی مائل سبز ہوتی ہے۔ موسم بہار کے آخر میں بہت چھوٹے سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں اور پھولوں کے بعد پھل گچھوں میں جوپہلے سبز رنگ کے نیم گول لمبے پتلے پکنے پر ان کا رنگ پیلا ہوجاتاہے۔اور پھل جون میں پک جاتے ہیں جس کو بچے اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ان پھلوں کے اندر تخم ہوتے ہیں۔جن کو نمبولی کہتے ہیں۔اس سے تیل نکالا جاتا ہے جوکہ ادویات اور صابن بنانے کے کام آتا ہے۔ نیم نر درخت کے تنے میں سے ایک قسم کا گاڑھا مادہ خارج ہوتاہے اس کو ہندی میں نیم کا مدھ کہتے ہیں۔ اس درخت کی عمر دو سو برس سے پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔ اس درخت کے تمام اجزاء پتے پھول تخم چھال پھل اور گوند بطوردواء استعمال ہوتے ہیں۔
نیم میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
قدرت کے بے بہا قیمتی تحائف میں سے نیم کا درخت ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا ایک ایک ذرہ انوکھے فوائد کا حامل ہے۔ خواہ پھل ہو، پتے ہوں، ڈالیاں ہوں، ان میں بے شمار فوائد ہیں مگر نقصانات سے بالکل پاک ہے۔ نیم ایک اینٹی بیکٹیریل ہے۔اینٹی پیراسائٹک ہے، اینٹی فنگل ہے، اینٹی انفلامیٹری ہے،نیم میں موجود ”وٹامن سی“ جلدی امراض میں نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ مانع وائرس ہے۔ جو سوزش، پیچش،دست اور بخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ نیم جراثیم کش ہونے کے سبب اس کے تیل میں 135 کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterol جراثیم اور پھپوند کے علاج کے لئے مفید ہیں ۔نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے، جو جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔
نیم کی 1250 ایم جی خوراک کھانے سے گلوکوز 15 فیصد،یوریا 13 فیصد،کریٹنین 23 فیصد اور چکنائی 15 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چکنائی، ٹرائی گلیسرائڈ اور کولیسٹرول کی مقدار میں کمی بلڈ پریشر،امراض قلب،فالج اور ذیابیطس،جب کہ یوریا اور کریٹنین کی کمی امراض گردہ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
نیم کے بعض اجزاء جراثیم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ ممکنہ طور پر نیم مختلف خامروں (Oxidative Enzymes) کو متحرک کرتا اور جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ضد حیوی ادویہ (Antibiotics) بھی جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ کر ان کے خاتمے کا باعث بنتی ہیں۔ کسی بھی فرد میں بیماری کا ایک ممکنہ سبب آزاد اصلیے (Free Radicals) بھی ہوتے ہیں۔ آزاد اصلیے اوکسیجن کے متحرک یا ایکٹیو عناصر کو کہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.