نقل اور اصل

نقل اور اصل

نقل اور اصل
نقل اور اصل

نقل اور اصل
لکھاری
حکیم المیوات
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور

بچپن سو سکھایو جاوے ہے کہ نقل کرنو بری بات ہے۔نقل مارنو بری بات ہے۔جب سو ہوش سمنبھالو ہے نقل اور اصل کا چکر میں پڑا ہویا ہاں،جب چھوٹا چھوٹا سا بالک ہا،گھریالہ میں کھلے ہا تو کئی بار تو یا ئی بات پے مار کٹائی اور ہاتھ تپائی ہووے ہے کہ ای میری نقل چڑھارو ہے۔ایمان سو جے میری نقل اتاری تو میں اپنی سو کہہ دئینگو۔فلانا کو تو ایسو ہے اُو ہر کائی کی نقل اتارے ہے۔فلانو آپ تو نکچو سو ہے پر ایسو اوگن گارو ہے سبن کی نقل اتارے ہے۔
جب کچھ اُوکسواں سا ہویا تو مدرسہ یا سکولن میں داخل ہویا تو ہون بھی نقل نے گیلو نہ چھوڑو ۔سارا استاد نوں ای سمجھاوے ہا کہ نقل مارنو بہت بری بات ہے۔جانے نقل ماری او کدی کامیاب نہ ہووے ہے۔کتاب اے دھیان سو سمجھ کے پڑھو،جاسو تم امتحان میں کامیاب ہوسکو۔اگر پرچہ دیکھتے وقت ممتحن اے شک ہوجاوے ہوکہ نقل ماری ہے تو یائی بات پے فیل کردیوے ہو۔آج بھی امتحان گاہ میں نقل پکڑن کا ماہر تعینات کراجاواہاں۔لیکن بالک اور پاڑھو ایسا کہان ہاں کہ نقل سو رک جاواں۔
جب مروجہ تعلیم سو فارغ ہویا تو آسائینمنٹ میں بھی یہی رولو رہو کہ فلاں کی اسائینمنٹ فلاں کی طرح نہ ہونی چاہے۔ ان باتن سو جب فارغ ہویا تو تحقیق و تدقیق میں ہاتھ پائوں مارن لگا۔ھین بھی وہی چکر کہ کتاب کائی کی نقل نہ ہونی چاہے۔میو تو کہوے ہا ۔ہوڈے ہوڈ گوڈے پھوڑ۔
ای نقل اصل کو چکر صدا سو چلتو آئیو ہے اور ایسے ای چلتو رہو ہے۔اور جب تک دنیا قائم ہے ایسے ای نقل چلتی رہے گی ایسے ای نقل ماری جاتی رہے گی۔نقل مارنا کو لفظ بھی عجیب ہے مارنو(ختم کرنو/مُکانو)لیکن جتنی نقل ماریجاوے ہے اتنی ای آگے بڑھے ہے۔سیانا کہوا ہاں نقل کے مارے بھی عقل کی ضرورت رہوے ہے۔ای کیسے ہوسکے ہے کہ جائے تم سو چ راہو یا جو کام تم نے کرو ہے یاسو پہلے کائی نہ کرو ہوئےگو؟ای تو ناممکن ہے۔ہم نے اتنو پتو ہے جو خیال یا آئیڈیا کائی کا ذہن میں پیدا ہوے ہے واکی کہیں نہ کہیں جڑ ضرور رہوے ہے۔کہیں نہ کہیں یاکی پنیری اُگی رہوے ہے جہاں سو تم یائی اُپاڑ کےاتنا ذہن کی کھیتی میں لگائو ہو۔۔
کائی کی زبان و قلم سو کوئی ملتو جلتو جملہ نکل جاوے ہے تو شور مچان لگ جاوے ہے کہ جناب فلانا نے میری تحقیق چرالی ہے۔۔جب کہ حقیقت ای ہے کوئی خیال ایسو نہ ہے جو پہلے نہ سوچو گئیو ہوئے۔کوئی کہانی/بات ایسی نہ ہے جو پہلے سنائی نہ گئی ہوئے۔تم دیکھو نہ ہو کوئی بھی زبان یا ادب ہوئے۔کوئی بھی کتاب یا تحقیق ہوئے،ان سبن کی تربیب و ترکبین میں وہی لفظ استعمال ہووا ہاں۔جو وا زبان کا حروف تہجی رہوا ہاں۔ان الفاظ کو ہیر پھیر ہی تو ہے جائےکوئی ذہین انسان اپنی کتاب یا تحقیق میں لکھے ہے۔ ہاں سلیقہ مندی اور ترتیب اور رکھ رکھائو سبن کو اپنو اپنو رہوے ہے۔اصل میں ہم نے کچھ حدود و قیود مقرر کرلی ہاں کہ ان کا دائرہ میں رہ کے جو کام کرو جائے گو اُو نقل ہوئے گوجو یا دائرہ سو باہر ہوئے گو واسو نقل نہ کہی جائے گی۔حالانکہ ان میں کوئی خاص فرق نہ ہے۔
سچی بات تو ای ہے کہ یا کائنات میں کوئی بھی بات نئی نہ ہے، نہ کوئی خیال نئیو ہے،اگر فنکاری ہے تو برَ وقت اور صحیح جگہ پے بات کہنو ہے۔بات کائی بھی ہوئے،کائی نے بھی کہی ہوئے۔سہیرو واکے سر بندھے گو جو واسو برَ وقت فائدہ اٹھا لئیگو۔
دیکھو ایک موسیقار جب کوئی دھن بناوے ہے یا کوئی گویو گاوے ہے تو واکو اپنو اپنوانداز رہوے ہے۔کیونکہ کوئی دھن ایسی نہ ہے جو پہلے کائی نے نہ بجائی ہوئے۔کوئی لفظ ایسو نہ ہے جو پہلے نہ بولو گئیو ہوئے۔کوئی کتاب ایسی نہ ہے جو پہلے پڑھی نہ گئی ہوئے۔مختلف تجربات اور دوسران نے دیکھ کے جو خیالات اور آئیڈیاز پیدا ہووا ہاں ضروری تو نہ ہے یہ خیالا ت سبن سو پہلےکائی دوسرا کا ذہن میںآیا ،اُن سو تم نے دیکھا یا پڑھا تہارا مغز نے ان کی خاص ترتیب لگا دی ساتھ ہی تہارا ذہن میں ای خمار چھاگئیو کہ ای خیال تو سبن سو پہلے میرا ذہن میں آئیو ہے ،میں ای یاکو مالک ہوں۔جب کہ خیال تو پہلان کا ذہن کی پیدا وار ہو التبہ نوں کہو جاسکے ہے کہ جو ترتیب تہارا ذہن مین ہے، ای دوسران کا ذہن میں نہ ہی۔ای بات ضروری نہ ہے کہ سبن سو پہلے جاکا ذہن میں کوئی خیال آئے ضروری نہ ہے کہ اُو خیال اپنی تکمیل کا لحاظ سو بھی مکمل ہوئے۔یا پھر ایسے بھی کہہ سکو ہو جب کائی کا ذہن میں نئیو خیال جنم لیوے ہے تو وا وقت کی ضرورت کے مطابق مکمل رہوے ہے۔لیکن بعد والان کے مارے او ادھورو اور کمزور ثابت ہووے ہے۔اگر بعد میں یا خیال کی تکمیل کرن والا دعویٰ کراں کہ ای ہماری ملکیت ہے؟ تو برُی بات ہے ۔یعنی ای بھی نقل کی ایک صورت ہے۔۔کچھ لوگ چیختا چلیاتا دکھائی دیواہاں کہ جناب فلاں نے میری تحریر چرالی۔میرا سٹیٹس پے سو میرو خیال چرالئیو۔ای تو میری ملکیت ہی۔میں یاکو خالق ہو۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔
بھائی ہر چیز پہلے سو موجود ہے۔اگر کوئی ایسی چیز تہارا ذہن میں آ موجود ہوئی جا کو دور دور تک کائی اے علم نہ ہو۔اُو تم نے دُبکا کے دھرلی،تو ایسا خیال یا اچھوتا پن کو تم کہا کروگا؟جب بھی کوئی نئی چیز سامنے آوے ہے تو واکی نقل ماری جاوے ہے۔اگر نقل نہ مارنن دئیوگا تو واکو ہونو یا نہ ہونو برابر ہے۔یا تحقیق اور نیا خیال/آئیڈیا کو فائدہ جب ہی مل سکے گو جب یاکی نقل ماری جائے گی۔جب تک نقل نہ ماری جائے گی وا وقت تک یاسو فائدہ نہ آتھائیو جاسکے ہےمثلاََ کاگ کاگلی کی بات۔پیاس اکوا۔ابو بن ادھم کی کہانی ۔ ہمارا نصاب تعلم کاحصہ ہاں۔یابالک کورَٹوائی جاواہاں۔بالک بھی رٹ رٹ کےہلکان ہوجا واہاں / یاسو کوئی بھی نقل نہ کہوے ہے۔یاکو نام تعلیم دھردئیو ہے۔
یاد راکھو جب ایک خیال میرا ذہن میں قلم اور کاغذ کا راستہ سو کتاب کی صورت اٹیار کرگئیو اور میں اُو آگے بھیج دئیو۔چھاپ دئیو۔سوشل میڈیا پے پوسٹ کردئیو۔اب میرا اختیار سو بات باہر ہوگئی ہے۔جو لوگ جملہ حقوق بحق مصنف کی مہر لگاواہاں بہت نامناسب بات ہے۔کیونکہ جب تک تہاری لکھائی کوئی پڑھے گو نہ واکو اور واکے ساتھ تم کو فائدہ کیسے پہنچے گو؟اگر تم نے مغز ماری کری ہے اور سرمایہ لگاکے کوئی کتاب چھاپ دی ہے تو تم یاکا مالک نہ رہا ہو۔یاکا مالک وے لوگ ہاں جنن نے تہاری محنت کو معاوضہ ادا کرکے کتاب خریدی ہے۔جملہ حقوق اگر یابات سو کہو جائے کہ،خبردار کوئی تحریر میری اجازت کے بغیر میرا نام سو نہ چھاپی جائے۔یا کوئی بات بغیر میرو نام لیکے نہ کہی جائے۔یعنی کائی کی بات مووسو منسوب نہ کری جائے،نہ میری بات موسو منسوب کری جائے۔جملہ حقوق یہی ہاں۔اگر کوئی میری تحریر کو اپنے طورپے کوئی مطلب نکالنو چاہے تو واکی ذمہ داری موپے نہ ہے۔ای ہے جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں ۔
کائی بات اے اپنی ملکیت بتانو/کائی کتاب اے اپنی طرف منسوب کرنو۔یا کائی ایجاد اے اپنا سینہ پے لگاکے رکھنو سب کچھ کائیں مارے؟ اتنی ساری ملکیتن نے پال کے کہا کروگا؟جب تم نے کوئی کتاب لکھی چاہے وامیں کتنی بھی محنت لگی ہوئے۔تم نے بھی بہت سی کتابین میں سو نقل مارے کے کتاب لکھی ہے۔اگر کوئی تہاری کتاب کی کچھ سطرن نے اپنی تحریر میں شامل کردئیو گو کونسی قیامت آجائے گی؟ ای تو فطری عمل یا پے تم کدی بھی پہرہ نہ بٹھا سکو ہو۔
خدا ایک آخری رسول ایک ۔ملک کو قانون ایک۔لباس پہننا کو طریقہ سو لیکے کھانا پینا تک سب کچھ ملتو جلتو تو کہا تم یا سارا عمل اے روک سکوگا ؟کدی بھی نہ لوگ چھوٹی چھوٹی سی باتن پے حق ملکیت جتاوا ہاں بنیادی طورپے تخلیق کار نہ ہاں۔یہ تو بونا ہاں۔جو یا بات پے جھگڑ را ہاں کہ دوسران سو ہمارو قد چھوٹو کیوں ہے ۔دوسران کو ہم سو گھنو قد کائیں کو ہے؟ تم نے خوش ہونو چاہے کہ خدا نے تم سو کوئی ایسو کام لئیو ہے جاکی لوگ نقل مارفن کی کوشش کراہاں/دنیا میں جیسو چلتو آئیو ہے ایسے ای چلتو رہے گو۔ای بات تو نہ ہوسکے ہے۔کہا جو تم نے کردئیو یا لکھ دئیو وہی اصلی ہے باقی سبن کی کوشش نقلی ہاں۔مثلاََ انسانیت کی پیداش ایک طرز سو ہوتی آئی ہے وہی ایک سر دو ہاتھ پائوں۔وغیرہ اب اگر تہارے بالک ہووے تو او اصلی باقی سبن کا بالک نقلی ہاں؟۔ایک ہی طریقہ سو کھاواہاں۔تم کھائو تو اصلی دوسرا کھاواں تو نقلی؟تم سوئو تو اصلی دوسرا سوواں تو نقلی؟
کچھ تو سوچو ۔جو خدا نے تم سو کام لیو ہے واپے شکر ادا کرو وائی پے مت جھکا رہو۔آگے بڑھو،اگر تم نے حقوق ملکیت والی رَٹ لگائی راکھی تو آگے کچھ نہ کرسکوگا۔جتنو خدا نے تم سو کام لئیو ہے شکر ادا کرو اور یاسو بہتر سوچ سوچو۔یاسو بھی بہتر کرن کی کوشش کرو۔زیادہ لگن اور محنت سو کام کرو۔جب تہارے کمزور کوشش لوگن نے اتنی پسند آئی کہ واکی نقل اتارن لگ پڑا خیال کرو جب تم یاسو بھی بہتر چیز دنیا کے سامنے پیش کروگا۔ تو تہاری جے جے کار کو کہا علم ہوئے گو۔لوگ تم کو کتنی عزت دینگا؟کدی یابارہ میں ضرور سوچئیو؟دماغ کی بہت سی کھڑکی کھل جانگی۔
جب انسان کوئی کارنامہ سر انجام دیوے ہے تو سب سو زیادہ فائدہ واکی اپنی ذات کو ہووے ہے،جو کرنو ہو اُو تو کرلئیو لیکن واکو یا جدو جہد کا نتیجہ میںجو تجربہ اور حوصلہ ملے ہے اُو کہیں دوسری جگہ سو نہ مل سکے ہو ، جب کام مکمل ہوگئیو تو سمجھ جائو تم یاپے کھگی کڑائی مت بیٹھا رہو آگے بڑھو تم یا مقام اور کام سو بہت آگے نکل چکا ہو۔اگر تم نے پائون کی مانٹی نہ چھوڑی تو اگلی منزل پے کدی نہ پہنچ سکو گا۔یا کوشش یا تجربہ کو فائدہ کہا ای کم ہے کہ لوگ یا کا مہیں دھیان دین لگ پڑا۔دوست احباب دیکھ کے سہان لگ پڑا۔ای کوئی معمولی قیمت نہ ہے۔بہت بڑو انعام ہے،جوکام قدرت نے تم سو لئیو ہے واکو شکر کر و کہ نظر انتخاب تم پے پڑی ہے نہیں تو جب دنیا میں تم نہ ہاں کام تو جب بھی دنیا کا چل راہا،اور جب تم نہ رہوگا،پھر بھی دنیا یاسو بہتر چلے گی۔
محنت جدو جہدسو انسان ہر لمحہ سیکھے ہے،سبن سو بڑو استاد زندگی خود ہے ۔ای ایسا سبق پڑھاوے ہے جائے باقی کی زندگی میں انسان بھول نہ سکے ہے۔نقل مارو یا نہ مارو۔تم کائی کی نقل مارو یا تہاری کوئی نقل مارے،بات ای ہے کہ کچھ کر دکھائو۔کوئی ایسی خدمت جاسو قوم کو فائدہ ملے۔چاہے اُو نقل ای کیوں نہ ہوئے؟کردو کام چھوٹو ہوئے یا بڑو۔کام کام ای ہے،

 

 

 

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *