نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں

نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں

نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں

نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں
نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں

نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں
از:مجدد الطب

تحریر: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

نباتاتی اغذیہ میں مکمل غذائیت نہیں

نباتات میں ہر قسم کے میوہ جات،پھل،اناج،دالیں،سبزیاں اورجڑیں سب شامل ہیں۔ نباتاتی اغذیہ حیوانی اغذیہ کے مقابلے میں بالکل ایسی ہیں جیسے بھوسہ ، یعنی پیٹ بھرنا ورنہ جہاں تک غذائیت کاتعلق ہےان میں مکمل غذائیت نہیں ہےان میں افضلیت میوہ جات اورپھلوں کو حاصل ہےکیونکہ ان میں اجزائے لحمیہ،اجزائے روغنیہ،اجزائے شکریہ اور نمکیات کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔جس طرح پھل اورمیوہ جات حیوانی اغذیہ کامقابلہ نہیں کرسکتے اسی طرح ا ناج ودالیں اورسبزیاں وجڑیں،پھلوں اورمیوہ جات کامقابلہ نہیں کرسکتے۔

میوہ جات اور پھل

میوہ جات میں بادام،پستہ،ناریل،اخروٹ،مونگ پھلی،چلغوزہ اورکھاجایہ سب غذائے دوائی ہیں اپنے اندرکافی حرارت اورقوت رکھتے ہیں۔ان کا دوائی اثربھی غیرمعمولی شدت پیداکردیتاہے لیکن غذائی علاج میں ان سب کوبہت اہم مقام حاصل ہے۔سردیوں میں ان کا استعمال بے حدمفیدہے۔ پھلوں میں کھجور،انگور،آم،سیب،مالٹا، امرود، ناشپاتی، لیچی،کیلا،جامن،فالسہ،انجیر،انار،میٹھا،آلوچہ،آڑواورآلو بخارا وغیرہ۔ان میں بعض گرم ہیں جیسے کھجور،انگور،آم اور انجیر وغیرہ۔بعض اپنے اندرغذائیت رکھتے ہیں جیسے سیب، امرود، کیلا، جامن، خوبانی، شہتوت،لیچی،آلوبخارا،انار،میٹھا،انناس،تربوز،رس بھری،آلوچہ ،گنا اور سنگترہ وغیرہ۔

اناج ودالیں اور سبزیاں وجڑیں

اناجوں میں گہیوں کواولیت کادرجہ حاصل ہے۔اس کے بعد چاول پھرچنے اور دیگر دالیں ،م کئی ،باجرہ،جواراورجو وغیرہ۔ان میں درجہ بدرجہ نشاستہ اور غذائیت پائی جاتی ہے۔سبزیوں میں میتھی،پالک،کریلے،آلو،مٹر،گاجر، مولی، گوبھی،کھیرا ،ککڑی،شلغم،کدو،کچنار ،چقندر،سیم ،بینگن،بھنڈی،اروی ،ٹینڈے ،سرسوں کاساگ،ادرک،پیازان میں گرم و سرد دونوں اثررکھنے والی سبزیاں ہیں۔یہ دراصل دوائے غذاہیں۔ان میں غذائیت بہت کم پائی جاتی ہے۔ بہرحال پیٹ بھرنے کےلئےاستعمال کی جاتی ہیں اوربوقتِ ضرورت مختلف امراض کا علاج بھی ہیں۔

بھوک

بعض حکماءنے لکھاہےبھوک بھی ایک مرض ہے اس کاعلاج غذاہےاس کا مطلب یہ ہےکہ جب تک مرض کی طرح تکلیف نہ ہوتو غذانہیں لینی چاہئے ہم یہ کہتے ہیں کہ جب غذاکھانے سے امراض پیداہوں توغذاکھاناچھوڑدیناچاہئے۔ کیونکہ سوائے چوٹ و گر پڑنے اور بیرونی حادثات کے کوئی مرض بغیرضرورت غذا و اشیاء اور دوااورزہرکھانے پینے کے پیدانہیں ہوتا۔انتہائی بھوکا انسان کمزوری کااحساس تو ضرور کرئے گامگریہ نہیں کہے گاکہ وہ مریض ہے۔اس حقیقت سے یہ ظاہر ہےکہ صحت اورمرض کی حدفاصل بھوک ہے۔ بھوک کی شدت ہی غذاکی ضرورت کااظہارہے اور یہی ثقیل اورزیادہ سے زیادہ غذاکوہضم کرادیتی ہے۔بھوک دراصل ایک زبردست قوت اوراللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔بھوک کے یہ معنی نہیں ہیں کہ چندلقمےکھالئے جائیں بلکہ ایسی بھوک ہوجوانسانی معدے کے خلا (Capacity)کوپوری طرح بھر دے تاکہ طبیعت میں ہضم کادبائو(Pressure)پورے طورپرکام کرےمثلاً ایک انسان کے پیٹ میں اندازاًدرمیانہ درجہ کی تین روٹیاں پڑتی ہیں تویہی اس کی بھوک ہے۔اگرتین روٹیوں سے پیٹ بھرنے والاایک یا نصف روٹی کھائےگ اتویہ اس کی بھوک نہ ہو گی۔ یونہی بغیر ضرورت صرف خواہش یاشوق سے کھا لیاہےتوایسی غذامیں ہضم کاد بائوپورانہیں بنے گا اورغذاپڑی رہے گی اورمتعفن ہوجائے گی جس کانتیجہ امراض کاپیداہونا ہے ۔

کم کھانا

غذاکم کھانے کےمتعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی پیداہوچکی ہے لیکن اس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہے۔بعض لوگ اپنی کم خواراکی پر فخرکرتے ہیں کہ وہ صرف چند لقمے کھاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پیٹ میں بہت سی غذاغیرمنہضم پڑی رہتی ہےجس میں خمیر اورتعفن پیداہوتارہتاہےجوان کوکھانے نہیں دیتا۔جب تک پورے معدے کی بھوک نہ ہوکھانا نہیں چاہئے۔کم کھانااس کو کہتے ہیں کہ بھوک توتین چار روٹیوں کی ہومگر نصف یا ایک روٹی کھائی جائے ۔ اسی بھوک کی روشنی میں ہم نے چند اصول ترتیب دئیے ہیں تاکہ ہرشخص فائدہ اٹھاسکے۔کیونکہ تجربہ نے بتایاہے کہ ہرشخص بھوک کی ضرورت نہیں سمجھ سکتا اور کھا لیتا ہے ۔ پھرتکلیف اٹھاتاہے۔

1۔ہرایک غذاکے بعد دوسری غذاکم از کم چھ گھنٹے بعدلینی چاہئے کیونکہ پوری غذابارہ گھنٹوں میں ہضم ہوتی ہے۔چھ گھنٹوں میں وہ معدہ اور چھوٹی آنتوں میں سے گزرکربڑی آنتوں میں پہنچ جاتی ہےاس طرح دوہضم سے جوغذاخراب ہوجاتی ہے اس سے بچ جاتاہے۔

2۔ چھ گھنٹے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ بھوک شدید ہونی چاہئے ورنہ اور وقفہ بڑھادینا چاہئے البتہ اس وقفہ میں پانی پیا جاسکتاہے۔

3۔غذاخوب پُختہ گلی ہوئی اور ذائقے کے مطابق ہونی چاہئے۔اگرطبیعت نے پسندنہ کی توہضم نہ ہوگی۔

غذابطوردوا
غذا کی اہمیت وضرورت اور حقیقت کو سمجھنے کے بعد یہاں پریہ مقام آتاہے کہ غذاکوبجائے خوارک کے دواکےطور پر استعمال کیاجائے یعنی جس غذاکی مرض میں ضرورت ہے اس کواستعمال کیاجائے اور جوغذا نقصان دہ ہے اس کو استعمال نہ کیاجائےاس طرح مفید اغذیہ کے استعمال اورغیرمفیداغذیہ کونکال دینے سے مرض رفع ہوجاتاہےاس طرح خون میں ایسی طاقت پیداہوجاتی ہےجس سے ہرقسم کے مشکل اورپیچیدہ امراض بھی چند دنوں میں رفع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔کیونکہ مکمل ومقوی اور مصفی خون ہی جسم ونفس اور روح کےلئے زندگی وقوت اور صحت ہے اور یہی علاج بالغزاکا راز ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.